703

وصیت ایک چھوٹی ہوئی سنت/حديث نمبر :226

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :226

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :01/02/ ذو القعدہ 1433 ھ، م 18/17،ستمبر 2012م

وصیت ایک چھوٹی ہوئی سنت

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ

{ صحیح بخاری:2738 ، الوصايا – وصحیح مسلم :1628، الوصية }

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی چیز ہو جس کے متعلق وہ وصیت کرنا چاہتا ہے تو وہ دو راتیں بھی ایسی گزارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود نہ ہو ۔

{ صحیح بخاری:2738 وصحیح مسلم :1628}

تشریح :” وصیت” کا اصل معنی عہد لینا یا تاکیدی حکم کرنا ہے ، البتہ شرعی اصطلاح میں وصیت وہ خاص قسم کا عہد یا تاکیدی حکم ہے جو کوئی شخص اپنے پس ماندگان کو کرتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس پر عمل کیا جائے ، خواہ وہ کسی مال کی بابت ہو یا قول و قرار سے متعلق ۔وصیت ایک ایسا عمل ہے جو انبیاء اور اللہ کے نیک بندوں کی سنت رہی ہے وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (132)،اللہ تعالی نے قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمودات میں وصیت کی اہمیت کو واضح کیا ہے ۔ زیر بحث حدیث اس کا بین ثبوت ہے جس کا مفہوم یہ ہے چونکہ کسی بھی فرد بشر کو اپنی موت کا وقت معلوم نہیں ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ اس کے دروازے پر موت کا فرشتہ کب دستک دینے والا ہے اور یہ بھی یقینی طور پر معلوم ہے کہ جب موت کا فرشتہ دستک دے دیگا تو وہ ایک لمحہ کے لئے بھی مہلت دینے والا نہیں ہے لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ اگر اس کے پاس کوئی چیز قابل وصیت ہے تو اسے لکھ کر رکھ لے اور اس معاملے میں سستی اور تاخیر سے کام نہ لے ، یہی وجہ ہے کہ روای حدیث حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے میرے اوپر ایک رات بھی ایسی نہیں گزری الا یہ کہ میری وصیت میرے سراہنے موجود رہتی ہے ۔ { صحیح مسلم }

شرعی وصیت کو اسلام نے قانونی حیثیت دی ہے اور اس کے کچھ شرائط آداب ہیں جس کالحاظ رکھنا ہر شخص پر ضروری ہے :

اولا : وصیت کے اقسام : علماء کہتے ہیں کہ وصیت کی تین قسمیں ،واجب ، حرام اور جائز ہیں ۔

۱- واجب : اگر انسان کے اوپر قرض یا کسی اور شکل میں لوگوں کے حقوق ہیں تو اس کے ادائیگی کی وصیت کرنا واجب ہے ۔ [ب] اگر اس کے اوپر کچھ شرعی واجبات و فرائض رہ گئے ہیں جیسے قسم کا کفارہ ، حج یا اسی کے قسم کے دیگر فرائض جنہیں ورثہ ادا کرسکتے ہیں تو ان کی وصیت بھی ضروری ہے ۔

[ج] بعض علماء کاخیا ل ہے کہ اگر کسی کے پاس وافر مقدار میں مال موجود ہے تو بعض ان رشتے داروں کے لئے بھی کچھ مال کی وصیت کرکے جائے جن کا حق میراث میں نہیں ہے ، ارشاد باری تعالی ہے : كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ (180)البقرہ۔” تم پر فرض کردیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کوئی مرنے لگے اور مال چھوڑ جاتا ہو تو اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے لئے اچھائی کے ساتھ وصیت کرجائے پرہیزگاروں پر یہ حق اور ثابت ہے ” ۔اس آیت میں ” خیرا ” سے مراد وافر مقدار میں مال ہے ۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسر قرآن حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آیت میراث سے والدین اور ہر وہ قرابت دار نکل گئے جن کا حق متعین ہے البتہ جن کا حق میراث متعین نہیں ہے ان کے بارے میں اس آیت کا حکم باقی ہے ۔اگر اس مسئلے کو سمجھ لیا جائے اور اسے اہمیت دے دی جائے تو جو آج ہمارے یہاں پوتے یا بھتیجے کی وراثت کا مسئلہ کھڑا ہوتا ہے اور اسکی وجہ سے بہت سے اختلافات جنم لیتے ہیں و ہ مسئلہ حل ہوجائے گا ۔

{ دیکھئے فتاوی شیخ الحدیث :2/474، 475 }

[د ] اسی طرح اگر ورثہ کی بے دینی کا خطرہ ہو اور قوی امید ہو کہ میرے بعد یہ لوگ غیر شرعی رسومات کا ارتکاب کریں گے اور دین کی پرواہ نہ کریں گے تو ایسی صورت میں بھی وصیت کردینی واجب ہے ، حدیث : “میت کو اس کے ورثہ کے نوحہ کرنے کے عوض عذاب دیا جاتا ہے” ۔

{ بخاری و مسلم }

کی ایک توجیہ علماء نے یہ بھی کی ہے ۔

[۲] حرام : شریعت کے خلاف کی گئی وصیت حرام ہے اور اس کی تنفیذ بھی جائز نہیں ہے ، مثلا کسی حرام کام کی وصیت یا ظلم و ناانصافی کی وصیت ، یا اپنے مال میں سے ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت ، یہ سب وصیتیں حرام ہیں ، چنانچہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بیوی یا ایک بیٹا باپ کی زیادہ خدمت کرتے ہیں اور دوسرا بیٹا نافرمان ہے تو فرمانبردار بیٹے اور اطاعت شعار بیوی کے لئے ان کے شرعا مقرر حصے سے زیادہ کی وصیت کرنا حرام وصیت میں داخل ہے ، اسی طرح نرینہ اولاد نہ ہونے کی صورت میں اپنی بیٹی یا لے پالک بچے کو اپنے سارے مال کی وصیت کرنا بھی حرام وصیت میں داخل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ایک مرد یا عورت ساٹھ سال تک اللہ کی اطاعت کرتے رہتے ہیں پھر جب موت کا وقت آتا ہے تو وصیت میں ظلم سے کام لیتے ہیں جس کی وجہ سےان پر آگ واجب ہوجاتی ہے ۔ الحدیث

{ ابو دواد : 2867 – الترمذی : 2117 }

[3]جائز وصیت : اپنے مال میں سے کسی شخص کو کچھ دینے کی وصیت کردے ، یا کسی دینی ادارے کے لئے اپنی وفات کے بعد کوئی چیز وقف کردے ، یہ بھی ایک نیک کام اور وصیت کرنے والے کے لئے موت کے بعد بھی اجر و ثواب کا ذریعہ ہے ، البتہ اس کے جواز کے لئے تین شرطیں ہیں :

۱- ایک تہائی مال یا اس سے کم کی وصیت ہو ۔

۲- جس کے لئے وصیت کررہا ہے اس کا وارثت میں کوئی حصہ نہ ہو ۔

۳- اس وصیت سے ورثہ کو ضرر پہنچانا مقصود نہ ہو۔

ثانیا : صحابہ کرام وصیت لکھتے تو ابتدا اس طرح کرتے : بسم اللہ الرحمن الرحیم ، یہ فلاں بن فلاں کی وصیت ہے جو “لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ: کی گواہی دے رہا ہے اور یہ بھی گواہی دے رہا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور یہ کہ قیامت کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہے اور یہ کہ اللہ تعالی لوگوں کو قبروں سے اٹھائے گا ، میں اپنے اہل و عیال کو اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ وہ اللہ تعالی سے ڈرتے رہیں ، آپس میں ایک ہوکر رہیں ، اگر مومن ہیں تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں ، اور میں انہیں ان باتوں کی وصیت کرتا ہوں جن کی وصیت حضرت ابراہیم و یعقوب علیہما السلام نے اپنے بیٹوں کو کی تھی : وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (132) البقرۃ

{ مصنف عبد الرزاق – سنن دارمی – دارقطنی وغیرہ }

۔ اس کے بعد جو وصیت کرنا چاہت اہے لکھے ۔

ثالثا : بہتر یہ ہے کہ وصیت لکھ کر رکھ دیا جائے، اور اس پر گواہ بنالیا جائے ،تا کہ کسی کو شبہ یا انکار کی گنجائش نہ رہے ، جیسا کہ اس حدیث میں اس کی طرف اشارہ ہے ۔

رابعا : اگر غریب اور قلیل الایمان انسان ہے یا بچے زیادہ ہیں اور محتاج ہیں تو ایسے شخص کے لئے یہی بہتر ہے کہ اپنے مال کی وصیت نہ کرے ،کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : تیرا اپنے وارثوں کوخوشحال چھوڑنا انہیں مفلس چھوڑ جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ۔

{ صحیح بخاری و صحیح مسلم }

فوائد :

۱- وصیت ایک ایسا شرعی مسئلہ ہے جسے آج لوگوں نے ترک کردیا ہے ۔

۲- ہر انسان کو موت کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے ۔

۳- ہر مومن کو یہ فکر رہنی چاہئے کہ وہ دنیا میں کچھ ایسا کام کرکے جائے جس کا اجر وفات کے بعد بھی ملتا رہے ۔

ختم شدہ