458

گستاخ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا/حديث نمبر :227

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :227

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :08/09/ ذو القعدہ 1433 ھ، م 25/24،ستمبر 2012م

گستاخ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا

عن علي رضي الله عنه : أن يهودية كانت تشتم النبي صلى الله عليه و سلم وتقع فيه فخنقها رجل حتى ماتت فأبطل رسول الله صلى الله عليه و سلم دمها .

( سنن ابوداود:4362الحدود. )

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی تھی اور آپ بارے میں غلط باتیں کرتی تھی جس پر ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر مارڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا ۔

{ سنن ابو داود} ۔

تشریح : نبی اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق کسی مغربی دانشور نے کہا ہے کہ ” محمد [صلی اللہ علیہ وسلم ] وہ اکیلے نبی ہیں جن کی پیدائش سورج کی روشنی میں ہوئی ہے ” ۔

گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے والوں کو بھی اعتراف ہے کہ آپ اپنی ذات میں کامل ، صفات بے مثال ، اعمال و کردار میں اعلی نمونہ اور ہر قسم کے تصرفات میں بے عیب واقع ہوئے ہیں ، سچ فرمایا اللہ تعالی نے : وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (4)القلم۔” بیشک تو بہت بڑے عمدہ اخلاق پر ہے ” ۔

وجہ اس کی یہ تھی کہ بچپن ہی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالی کی خصوصی رعایت رہی ہے ، جہاں اللہ تعالی نے آپ کو ظاہری حسن سے نوازا تھا وہیں آپ کو باطنی و قلبی طہارت کا خصوصی انتظام فرمایا تھا جس کے لئے ایک سے زائد بار آپ کے سینے مبارک کو چاک کرکے آپ کے دل کو باہر نکالا اور ہر قسم کی غیر مرغوب انسانی آلائشوں سے اسے پاک کیا ، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے رب نے میری تربیت کی اور بہترین تربیت کی ۔

{ دیکھئے الضعیفہ : 2185 } ۔

اس ربانی رعایت اور الہی عنایت کا اثر یہ رہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بالکل صاف ستھری ، ہر قسم کے ظاہری و باطنی عیوب سے پاک اور ہر انسانی کمال کا مجموعہ رہی ہے۔ سچ کہا تھا شاعر رسول حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے : واحسن منک لم تر قط عینی = واجمل منک لم تلد النساء ۔

” آپ سے بڑھ کر خوبیوں والا کبھی بھی میری آنکھوں نے نہیں دیکھا = اور آپ سے زیادہ خوبصورت کسی ماں نے جنا ہی نہیں ” ۔

تاریخ شاہد ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان نہیں فرمایا تھا اور جب تک آپ نے دعوت کا کام شروع نہیں کیا تھا آپ پورے معاشرے کے آنکھوں کا تارہ ، سب کے نزدیک صادق و امین اور ان کی امیدوں کے مرکز رہے ہیں ، لیکن جب سے آپ نے دعوت کا کام شروع کیا تب سے شیطان کے چیلے اور انسانیت کے دشمنوں نے آپ پر اعتراض کرنا اور آپ میں عیوب تلاش کرنا شروع کیا ، اس میں سب سے پیش پیش ابو جہل ، ابو لہب اور اس کی بیوی ام جمیل ہے ، اول الذکر دونوں بدبختوں نے آپ کو جھوٹا کہا اور ام جمیل نے محمد کے بجائے آپ کا لقب مذمم [ نعوذ باللہ ] رکھا۔ ان تینوں کا حشر کیا ہوا وہ سب کچھ تاریخ کے اوراق میں مدون ہے ، انسانی تاریخ کا یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ جس قدر صاف رہی ہے اور آپ کے مخالفین و معاونین کو جس قدر رسوا کن انجام سے سابقہ پڑا ہے ، اسی قدر ابو جہل وام جمیل کے وارثوں نے آپ کی شخصیت کو نشانہ بنایا ہے ، حال اور

ماضی قریب میں جو کچھ ہورہا ہے وہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ، سلمان رشدی کی آیات شیطانیہ ، ڈنمارک کی صحافت کی ہرزہ سرائیاں اور امریکا کی فلمی انڈسٹری سے شائع ہونے والی فلم اس کا بین ثبوت ہیں ، مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نادر شخصیت کو داغدار کرنا ہے ، جس پر روک لگانے کی سخت ضرورت ہے اور ایسے لوگوں کا انجام کیا ہونا چاہئے زیر بحث حدیث سے اس کا حکم واضح ہے ، لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں کی سیاسی و اقتصادی کمزوری ایسے لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں حائل ہے ، لہذا ضرورت ہے ہر مسلمان حاکم و محکوم ، عالمو عامی ، تاجر و خریدار اور مالدار و فقیر بلکہ ہر وہ شخص جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اس کا یہ حق بنتا ہے کہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری محسوس کرے ، جس کی درج ذیل شکلیں ہوسکتی ہیں :

۱- ہر مسلمان آپ کی سیرت کا مطالعہ کرے ، آپ کی زندگی اور خصوصا آپ کے شمائل و عادات سے متعلق خصوصی معلومات حاصل کرے ۔

۲- حکام کو چاہئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو نشانہ بنانے والے کو کیفر کردار تک پہنچائیں اور اس پر شرعی قانون نافذ کریں ، اور جو لوگ ان کے دسترس سے باہر ہیں دیگر حکومتوں سے ایسے بدبخت کو سزا دینے کا پر زور مطالبہ کریں ۔

۳- اہل قلم حضرات اپنے قلم کو حرکت میں لائیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اٹھنے والے اعتراضات کو علمی اور منطقی جواب دین ۔

۴- خطیب و مقرر حضرات اپنی عام تقریروں ، جمعہ کے خطبوں اور عام مجلسوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کے ان پہلووں کو خوب واضح کریں جنہیں بنیاد بنا کر ظالم آپ پر اعتراض کرتے ہیں ہیں ۔

۵- مدرسین و معلمین مدرسوں اور اسکولوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر بچوں میں انعامی مقابلہ رکھیں تاکہ بچوں میں سیرت کے مطالعہ اور اس پر غور کا جذبہ پیدا ہو ۔

۶- تاجر و اہل ثروت حضرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے متعلق مختصر کتابیں ، رسالے ، کیسٹیں ، سیڈیاں وغیرہ مفت یا کم از کم رعایتی قیمت پر اور ہر زبان میں تقسیم کرنے کے لئے اپنے پیسے خرچ کریں ۔

۷- اہل علم اور متعدد زبان جاننے والے حضرات کو چاہئے کہ غیر مسلم مولفین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو عدل و انصاف پر مبنی باتیں کہیں ہیں ان کا ترجمہ اپنی اپنی زبان میں اورپھر معترض کی زبان میں شائع کریں ۔ کیونکہ ” الحق ما شھدت بہ الاعداء ” حق وہ ہے جس کی گواہی دشمن بھی دیں ۔

۸- والدین کو چاہئے کہ اپنی نجی ، گھریلوں مجلسوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کثرت سے کریں اور آپ کی گھریلو زندگی کے پہلووں کو اپنے بچوں کے سامنے رکھیں ۔

فوائد :

۱- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ایک ناقابل معافی جرم ہے جس کی سزا قتل ہے ۔

۲- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام وہ ہے اگر کوئی شخص آپ کے دفاع میں کسی کو قتل بھی کردے تو اس پر حد قائم نہ ہوگی ۔

۳- واضح رہے کہ حد کا قیام حاکم کا کام ہے لہذا ایسی جگہ جہاں گستاخ رسول پر حملہ مسلمانوں کے لئے بڑے ضرر کا سبب بن سکتا ہے وہاں کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جو وہاں کے نظام کے خلاف ہو ۔

ختم شدہ