يتیموں کے حقوق – سلسلہ حقوق: 17

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خلاصہ درس : شیخ ابو کلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 22 / رمضان المبارک 1429ھ م 22/ستمبر 2008م

يتیموں کے حقوق

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال النبي صلى الله عليه وسلم : اللهم إني أحرج حق الضعيفين اليتيم والمرأة .

( مسند النسائي : الكبرى ، 9150/ 5/363 ،

مسند أحمد : 2/439 ،

ابن ماجه : 3678، الأدب )

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! میں لوگوں کو دو ضعیفوں کے حق سے بہت ڈراتا ہوں [ کہ ان میں کوتاہی مت کرنا ] ایک یتیم اور دوسری عورت ۔ [ نسائی کبری ، سنن ابن ماجہ ، و مسند احمد ]

تشریح : وہ بچہ کہ اس دنیا میں آنکھ کھولنے سے قبل یا آنکھ تو کھولا لیکن ابھی جسمانی و عقلی قوت کا مالک نہ ہوا کہ اس کا والد اس دنیا سے رخصت ہوگیا ، عمومی طور پر ایسا بچہ لا وارث اور حقیقی سرپر ست سے محروم ہوتا ہے، بہت سے بے غیرت ، ظالم اور دنیا پر حریص لوگ انکے حقوق ہڑپ لیتے اور انہیں لا وارث چھوڑدیتے ہیں ، اسلئے اسلام نے انکے بارے بڑے سخت انداز میں کچھ تاکیدی احکام نازل فرمائے اور کچھ حقوق متعین فرمائے جنکی ادائیگی مسلمانوں پر واجب قرار دی ، ارشاد باری تعالی ہے :

وَآتُواْ الْيَتَامَى أَمْوَالَهُمْ وَلاَ تَتَبَدَّلُواْ الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ وَلاَ تَأْكُلُواْ أَمْوَالَهُمْ إِلَى أَمْوَالِكُمْ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا ( سورة النساء : 2 )

اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو۔ اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ۔ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے

اس سورت میں چند آيات کے بعد فرماتا ہے : إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا ( سورة النساء : 10 ) جولوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے

اسی قسم کی متعدد آیات و احادیث میں یتیم کے حقوق کی تاکید وارد ہے ، قرآن و حدیث میں یتیم کے جن حقوق کا خصوصی ذکر ہے ، ان میں بعض درج ذیل ہیں :

[ ۱ ] حسن سلوک : ارشاد باری تعالی ہے : وبالوالدین احسانا و بذی القربی و الیتامی وا لمساکین ۔۔۔ الآیۃ ۔ اور ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے ۔

صفحہ : 2/1

فاما الیتیم فلا تقہر ۔۔ [ الضحی : ۹ ] پس یتیم پر تو بھی سختی نہ کیا کر ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : اور جو شخص کسی یتیم بچی یا بچے کے ساتھ احسان سے پیش آئے گا، میں اور وہ جنت میں اسطرح ہونگے یہ کہتے ہوئے آپ نے اپنی شہادت اور درمیان والی انگلی کو ملایا ۔ [ مسند احمد : 5/250 ، بروایت ، ابو امامہ ][ ۲ ] محبت و شفقت : باپ کی محبت و شفقت سے محروم ہونے کے بعد یتیم اس بات کا حقدار ہیکہ کہ ہر مسلمان اسے پیار و محبت کا تحفہ پیش کرے ، ارشاد باری تعالی ہے :

أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ ( سورة الماعون : 1 ) بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو (روزِ) جزا کو جھٹلاتا ہے؟

فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ …… یہ وہی (بدبخت) ہے، جو یتیم کو دھکے دیتا ہے

ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دل کی سختی کی شکایت کرنے لگا تو آپ نے فرمایا : یتیم کے سر پر شفقت و محبت کا ہاتھ پھیر اور مسکین کو کھانا کھلا ۔ [ مسند احمد ، بروایت ، ابو ہریرہ ] [ ۳ ] مالی مدد : چونکہ یتیم کا حقیقی ولی و وارث اس دنیا سے جا چکا ہے اسے کما کر کھلانے والا کوئی نہیں ہے ، اسلئے ہر مسلمان کا حق ہیکہ اسکی مالی مدد کرے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :

وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا ( سورة الدهر: 8 ) اور باوجود یہ کہ ان کو خود طعام کی خواہش (اور حاجت) ہے فقیروں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اسطرح ہونگے یہ کہتے ہوئے آپ نے شہادت والی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا اور دونوں کے درمیان معمولی فاصلہ رکھا ۔ [ بخاری ، ابو داود ، بروایت سہل بن سعد ] [ ۴ ] معاشی تحفظ : مراد یہ ہیکہ اگر اسکے باپ کی متروکہ جائداد ہے یا اسکے پاس کوئی اور مال ہے تو اسکے بالغ ہونے اور سن رشد کو پہنچ جانے تک اسکی ویسے ہی حفاظت کی جائے ، جیساکہ اپنی جائداد کی حفاظت کی جاتی ہے ، یتیم کا نگران اگر مالدار ہے تو اسمیں سے کچھ نہ کمائے اور اگر فقیر ہے تو حسب ضرورت استعمال کرسکتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : وَلاَ تَقْرَبُواْ مَالَ الْيَتِيمِ إِلاَّ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ……… اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے

ایک اور جگہ ارشاد ہے : اور یتیموں کو انکے بڑے اور بالغ ہونے تک سدھارتے اور آزماتے رہو ، پھر اگر ان میں ہوشیاری اور حسن تدبیر دیکھو تو انہیں انکا مال سونپ دو اور انکے بڑے ہوجانے کے ڈرسے انکے مالوں کو جلدی جلدی فضول خرچیوں میں تباہ نہ کردو ، مالداروں کو چاہئے کہ انکے مال سے بچتے رہیں ، ہاں مسکین و محتاج ہو تو دستور کے مطابق واجبی طور سے کھالے ، پھر جب انہیں انکے مال سونپو تو گواہ بنالو ، در اصل حساب لینے والا اللہ تعالی ہے ۔ [ سورۃ النساء : 6 ] [ ۵ ] تعلیم وتربیت : یتیم کے ساتھ حسن سلوکی اور محبت کا حق اس وقت تک ادا نہیں ہو سکتا جب تک اسکی صحیح تعلیم و تربیت کا اہتمام نہ کیا جائے ۔

عبد الرحمان بن ابزی رضی اللہ عنہ نامی ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ حضرت داود علیہ السلام کی یہ وصیت رہی ہیکہ یتیم کے ساتھ شفقت و رحمت والے باپ جیسا معاملہ رکھو ۔ [ الادب المفرد للبخاری ]

صفحہ : 2/2

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے یتیم کو ادب دینے کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا : ادب سکھانے کے لئے اسے اتنا مارو کہ وہ ڈھیر ہو جائے ۔ [ الادب المفرد ]

ختم شدہ