حج میں قصر/حديث نمبر :231

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :231

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :06/07/ ذی الحجہ 1433 ھ، م 23/22،اکٹوبر 2012م

حج میں قصر

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ عَامَ نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَيْفَ تَصْنَعُ فِي الْمَوْقِفِ يَوْمَ عَرَفَةَ فَقَالَ سَالِمٌ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَهَجِّرْ بِالصَّلَاةِ يَوْمَ عَرَفَةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ صَدَقَ إِنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السُّنَّةِ .

{ صحیح بخاری : 1662 ، الحج – السنن الکبری : 5/114 } ۔

ترجمہ : حضرت سالم بن عبد اللہ بن عمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جس سال حجا بن یوسف عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑائی کے لئے مکہ آیا [ اور حضرت عبد اللہ بن زبیر کی شہادت کے بعد حج کا امیر بنا ] تو اس نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ عرفہ کے دن میدان عرفات میں آپ کے کیسے کریں گے ؟ جواب میں سالم نے پہل کی اور کہا : اگر تم سنت کا طریقہ چاہتے ہو تو عرفہ کے دن سورج ڈھلتے ہی نماز پڑھ لو ، حضرت عبد اللہ بن عمر نے فرمایا : سالم سچ کہتا ہے ، مسلمان [ صحابہ و تابعین ] سنت کے مطابق ظہر اور عصر کو جمع کرکے پڑھتے تھے ۔

{ صحیح بخاری : 1662 ، الحج – السنن الکبری : 5/114 } ۔

تشریح : عرفہ کا دن سال کا بہترین دن اور حج کا اہم ترین رکن ہے ، اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے بعد خلفائے راشدین کا معمول ہوتا تھا کہ نوویں ذی الحجہ کو چاشت کے وقت جب منی سے عرفہ کے لئے رخصت ہوتے تو وادی نمرہ میں جہاں آج مسجد نمرہ واقع ہے قیام کرتے ، کچھ دیر آرام کرلینے کے بعد سورج ڈھلتے ہی خطبہ دیتے جسے خطبہ حج کہا جاتا ہے ، خطبہ کے فورا بعد اذان دی جاتی اور ظہر و عصر کی نماز ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ جمع اور قصر سے ادا کی جاتی ، اس کے بعد میدان عرفات میں قیام فرماتے اور سورج ڈوبنے تک تلبیہ ، دعا اور تکبیر و تہلیل میں مشغول رہتے ، سورج ڈوبنے کے فورا بعد نماز مغرب ادا کرنے سے قبل عرفہ سے مزدلفہ کے لئے باطمینان و سکون روانہ ہوجاتے اور مزدلفہ پہنچ کر اپنا سامان اتارنے سے قبل ہی ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشا کی نماز پڑھتے ۔

جن صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے حج کا طریقہ نقل کیا ہے ا ن کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ و سلم نے میدان عرفات میں ظہر و عصر اور مزدلفہ میں مغرب و عشاء کی نماز جمع اور قصر کے ساتھ پڑھی ہے ۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہئے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ وہ لوگ بھی تھے جو آپ کے ساتھ مدینہ منورہ اور اس کے اطراف سے آئے تھے ، وہ لوگ بھی تھے جو راستے میں آپ کے ساتھ ہولئے تھے اور وہ لوگ بھی تھے جو مکہ مکرمہ اور اسکے اطراف کے باشندے تھے اور آپ کے ساتھ حج کررہے تھے ، اور سبھی نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نمازیں پڑھی ہے اور قصر و جمع کےساتھ ہی پڑھی ہے ۔

اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس بڑے مجمعہ میں کچھ ایسے لوگ بھی یقینا رہے ہوں گے کہ کسی حاجت کے پیش نظر آپ کے ساتھ ان کی نماز چھوٹ گئی ہوگی ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں کوئی ایسی ہدایت نہیں دی کہ وہ اپنی نمازیں آپ کے طریقے سے مختلف کسی اور طریقے سے پڑھیں بلکہ معقول بات اور واقع یہی ہے کہ سارے مسلمان اپنے تمام اعمال حج میں حتی المقدور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ہی اتباع کرتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عبد اللہ بن زبیر شہید ہوگئے اور قیادت عبد الملک بن مروان کے ہاتھ میں آئی تو اس نے حجاج بن یوسف سے کہا کہ حج کے کاموں میں حضرت عبد اللہ بن عمر کی مکمل پیروی کرو کیونکہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اتباع سنت کے شیدائی اور اس پر سختی سے عمل پیرا تھے

اس تفصیل سے دو اہم فائدے حاصل ہوئے ۔

[۱] جو شخص بھی حج کررہا ہے وہ مکہ مکرمہ میں رہائش پذیر ہے یا کہیں دور سے آیا ہو ، مزدلفہ و عرفات میں وہ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں جمع اور قصر کے ساتھ پڑھے گا، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفائے راشدین کے پیچھے اہل مکہ پڑھا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفائے راشدین نے انہیں یہ حکم نہیں دیا کہ تم لوگ اپنی نمازیں پوری کرلو، جب کہ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ نے فتح مکہ کے موقعہ پر اہل مکہ کو اپنی نمازیں پوری کرنے کا حکم دیا تھا ۔

{ سنن ابو داود ، صحیح ابن خزیمہ } ۔

[۲] جو شخص امام حج کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکے خواہ بھیڑ کی وجہ سے ہو، جیسے آج کل کی صورت حال ہے یا کسی اور وجہ سے ،وہ بھی حج کے دوران عرفہ و مزدلفہ میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں جمع و قصر کے ساتھ پڑھے گا ، کیونکہ کسی بھی حدیث اور کسی بھی صحابی کے قول میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ امام کے ساتھ نماز پڑھتے اور تنہا پڑھتے یا امام حج کے ساتھ نماز پڑھنے اور غیر امام حج کے ساتھ نماز پڑھنے میں فرق کیا گیا ہو ، اس کے بر خلاف صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بار ے میں متعدد سندوں سے وارد ہے کہ اگر امام کے ساتھ ان کی نماز [ میدان عرفات میں ] چھوٹ جاتی تو اپنی قیام گاہ پر آکر دونوں نمازیں جمع کرکے پڑھتے ۔ { صحیح بخاری مع الفتح : 3/513 } ۔

اس کے برخلاف کسی بھی صحابی سے یہ وارد نہیں ہے کہ اس نے امام کے ساتھ اور اکیلے نماز پڑھنے میں فرق کیا ہو ۔

فوائد :

۱- میدان عرفات میں نماز قصر و جمع سے پڑھنا نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفائے راشدین کی سنت رہی ہے ۔

۲- امام خواہ ظالم ہی کیوں نہ ہو اس کے پیچھے نماز ، جمعہ ، عیدین حتی کہ حج بھی ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

۳- قرون اولی کی فضیلت کہ ایک شخص فسق و فجور کے باوجود سنت رسول کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے تھے ۔

سعادت بڑی اس زمانے کی یہ تھی –

کہ جھک جاتی گردن نصیحت پہ سب کی

ختم شدہ