1,712

بارش اور جمع بین الصلاتین/حديث نمبر :232

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :232

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :12/13/ محرم 1434 ھ، م 27/26،نومبر 2012م

بارش اور جمع بین الصلاتین

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ فِى غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ مَطَرٍ.

( صحيح مسلم : 705، المسافرين – سنن أبوداود : 1211، الصلاة )

ترجمہ : حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں بلا کسی خوف اور بارش کے ظہر و عصر کو اور مغرب وعشاء کی نماز کو اکٹھا کرکے پڑھا ۔

{ صحیح مسلم ، سنن ابو داود } ۔

تشریح : اللہ تعالی نے دین اسلام کو ایک آسان اور لچکدار مذہب بنایا ہے جو معاشرے کے ہر فرد بشر ، زندگی کے تمام مراحل اور زمانے کے ہر حالات سے یگانگت رکھتا ہے ، یہ مذہب جہاں اصول و مقاصد کے لحاظ سے ثابت وغیر متزلزل ہے وہیں فروع و وسائل کے لحاظ سے اپنے اندر ایسی لچک رکھتا ہے جو ہر قسم کے حالات و ظروف سے میل رکھتی ہے ، اس کی ایک بڑی واضح مثال نماز ہے جس کی ادائیگی میں کوتاہی کے سلسلے میں کسی بھی قسم کی نرمی و تاخیر کو اسلام قبول نہیں کرتا ہے ، جب تک انسان کی عقل باقی ہے نماز کو ہر حالت میں ادا کرنا ہے ، بیماری ، مشغولیت ، لوگوں کی رعایت اور موسم کے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر اسے نہ ترک کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے موخر کیا جاسکتا ہے ، البتہ حالات و ظروف کے پیش نظر نماز کے شرائط و آداب میں لچک رکھی گئی ہے ، علی سبیل المثال قیام نماز کا رکن ہے ، وضو نماز کے لئے شرط ہے قبلہ رخ ہونا نماز کے لئے اشد ضروری ہے لیکن اگر کوئی شخص بیماری یاکسی اور وجہ سے کھڑا نہیں ہوسکتا ، یا کسی سبب سے وضو نہیں کرسکتا یا کسی ایسی جگہ ہے کہ قبلہ کا رخ معلوم نہیں ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ نمازہی کو چھوڑ دے یا بعد میں پڑھنے کے لئے اسے موخر کردے ، نہیں ہر گز نہیں بلکہ نماز کو اس کے محدود وقت میں پڑھنا ہے کھڑا نہیں ہوسکتا تو بیٹھ کر پڑھے ، وضو نہیں کرسکتا تو تیمم سے پڑھے اور قبلہ کا رخ معلوم نہیں تو سوال و تحقیق کے بعد جس سمت قبلہ ہونے کا غالب گمان ہو اس سمت رخ کرکے نماز پڑھ لے ۔

بارش کے موسم میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرکے پڑھنے کی رخصت بھی دین کی اسی آسانی کا ایک مظہر ہے ، جیسا کہ زیر بحث حدیث کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ بارش کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو نمازوں کو جمع کرکے پڑھتے تھے ۔ نیز صحابہ و تابعین کا عمل بھی اس پر دلالت کرتا ہے ۔

[۱] حضرت نافع مولی ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ جب بارش والی شب ہوتی تو ہمارے گورنر مغرب کی نماز پڑھنے میں قدرے تاخیر سے کام لیتے پھر شفق احمر غائب ہونے سے قبل [ یعنی عشا ء کا وقت ہونے سے قبل ] مغرب کے ساتھ عشاء کی نماز بھی پڑھ لیتے اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی انہیں کے ساتھ نماز پڑھتے اور اس میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے ۔

حضرت نافع سے روایت کرنے والے روای عبید اللہ بیان کرتے ہیں کہ قاسم بن محمد اور سالم بن عبد اللہ رحمہما اللہ بھی بارش کی راتوں میں گورنروں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔

{ مصنف ابن ابی شیبہ : 3/133 ، رقم : 6321 ، موطا امام مالک : 1/12 ، رقم :357 ، مصنف عبد الرزاق : 2/556 ، رقم : 4438 } ۔

[۲] ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد عروہ ، سعید بن مسیب اور ابو بکر بن عبد الرحمن المخزومی رحمہم اللہ بھی بارش کی راتوں میں مغرب و عشاء کو ایک ساتھ پڑھتے تھے اور کوئی ان پر نکیر نہ کرتا تھا ۔

{ سنن الکبری :3/168 ، نیز :ابن ابی شیبہ :2/134 رقم :6323 } ۔

[۳] موسی بن عقبہ بیان کرتے ہیں کہ بارش کے موقعہ پر حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کرکے پڑھ لیتے تھے اور حضرت سعید بن المسیب ، عروہ بن زبیر ، ابو بکر بن عبد الرحمن اور اس زمانے کے علماء ان کے ساتھ پڑھتے اور کوئی نکیر نہ کرتا { السنن الکبری : 3/168 }۔

ان کے علاوہ اور بھی آثار ہیں جنہیں مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبد الرزاق میں میں دیکھا جاسکتا ہے ۔

ان حدیث و آثار سے پتہ چلتا ہے کہ عہد نبوی اور عہد صحابہ میں بارش کی وجہ دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرکے پڑھنا معروف رہا ہے ، لیکن اس جمع کے لئے شرط کیا اس پر نظر رکھنی چاہئے ، جس کے لئے µبنیادی شرط یہ ہے کہ بارش ایسی ہو کہ اس میں نکلنے کی وجہ سے لوگ مشقت و پریشانی محسوس کریں ، جیسے سردی کا موسم ہے اور بارش میں بھیگ جانے کی وجہ سے مشقت کا خطرہ ہے ، یا بارش اس قدر تیز ہے کہ باہر نکلنے سے کپڑوں کے بالکل تر ہوجانے یا راستے میں سخت کیچڑ وغیرہ یا بکثرت پانی جمع جانے کا خطرہ ہے ۔ µدوسری بنیادی شرط یہ ہے کہ آثار ایسے ہوں کہ بارش کا سلسلہ دیر تک جاری رہے گا اور دوسری نماز کا وقت ہونے تک بارش کے بند ہونے کی امید کم ہے ، یا اگر بارش بند بھی ہوگئی تو دیر تک راستہ چلنا مشکل ہوگا ۔

µتیسری بنیادی شرط یہ ہے ان حالات سے عام لوگوں کے متاثر ہونے کا ڈر ہے ، کسی ایک دو لوگوں کی مشقت و پریشانی سے بچنے کے لئے دو نمازوں کو جمع نہ کیا جائے گا ، البتہ ایسے ضرورت مند لوگوں کو لئے اپنے گھر میں نماز پڑھ لینا کافی ہوگا ۔

µچوتھی بنیادی شرط یہ ہے کہ یہ حکم جماعت سے نماز پڑھنے والوں کے لئے ہے اور ان مساجد کا ہے جہاں آنے کے لئے عام لوگوں کو کھلی فضا یا کھلے میدان سے گزرنا پڑتا ہے ، البتہ اپنے گھر میں نماز پڑھنے والوں ، یا اس مسجد میں نماز پڑھنے والے جن کے مسجد آنے میں بھیگنے یا کیچڑ وغیرہ کا خطرہ نہیں ہے ان کے لئے یہ رخصت نہ ہوگی ۔ ۔۔خلاصہ یہ کہ جب بھی بارش کی وجہ سے مشقت و ضرر کا خوف ہوگا دو نمازوں ظہر و عصر ، اور مغرب و عشاء کو جمع کرکے پڑھنا جائز ہوگا ، البتہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ یہ مشقت و ضرر ایک نسبی چیز ہے جو لوگوں ، جگہ اور ماحول کے لحاظ سے بدلتی رہے گی چنانچہ سردی کے موسم میں بارش کاحکم گرمی کی بارش سے مختلف ہوگا ، شہر اور جہاں کے راستے صاف اور ڈامر کے ہیں ، دیہات سے مختلف ہوگا ، اسی طرح دور کی مسجد اور کسی عمارت کے احاطے کی مسجد سے مختلف ہوگا ، یہی وجہ ہے کہ عرب دنیا کی بارش کا حکم ہمارے ہند و پاک کی بارش سے مختلف ہے کیونکہ یہاں بارش عام طور پر سردی کے موسم میں ہوتی ہے اور بارش کے ساتھ عموما ٹھنڈی ہوا س چلتی رہتی ہے جب کہ ہمارے یہاں عموما بارش کا موسم گرمی میں ہوتا ہے اور معمولی بھیگنے سے کسی ضرر کا خطرہ کم ہوتا ہے ۔

ختم شدہ