ذبح کے طریقے/حديث نمبر :239

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :239

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ :10/ جمادی الاولی 1435 ھ، م 11،مارچ 2014م

ذبح کے طریقے

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى فَقَالَ اعْجَلْ أَوْ أَرِنْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ۔

صحیح البخاری:5509، صحیح مسلم:1968۔

ترجمہ : حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگوں نے [ ایک سفر جہاد میں ] نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کل دشمن سے ہماری مڈبھیڑ ہونے والی ہے [ اور ہمیں جانور ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئے گی جب کہ ] ہمارے پاس چھری نہیں ہے ، تو کیا ہم [ دھا ردار ] بانس وغیرہ سے ذبح کرسکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر وہ چیز جو خون کو بہائے اور جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے کھاو، سوا دانت کے اور ناخون کے ، اور اس کی وجہ ہم یہ بتلاتے ہیں کہ دانت تو ہڈی ہے اور ناخون حبشہ والوں کی چھری ہے ۔

{ صحیح بخاری ، صحیح مسلم } ۔

تشریح : اسلام میں شکار کرنا اور جانوروں کا گوشت حلال ہے جس کے لئے شرط یہ ہے کہ اولا : تو وہ جانور حلال ہوا اور شریعت نے اس کے کھانے سے منع نہ کیا ہو، ثانیا : اسے شرعی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہو ، اس طرح کہ تیز چھری کو اس کے گلے پر اس طرح چلایا جائے کہ گلہ ، کھانے اور پینے کی نلی اور گلے کے دائیں بائیں کی دونوں موٹی رگیںکٹ جائیں ، ثالثا : ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے اور رابعا : ذبح کرنے والا مسلمان یا اہل کتاب ہو ۔ شکار و ذبیحہ سے متعلق شریعت کی یہ بنیادی تعلیم ہے جو کسی بھی حلال جانور کے شکار کرنے یا ذبح کرنے سے متعلق دی گئی ہے ،لیکن بعض حالات ایسے پیش آتے ہیں کہ چھریموجود نہیں ہوتی، یا جانور کا ذبح کرنا ممکن نہیں ہوتا تو اسلام نے اس سے متعلق بھی ہدایات دی ہیں ، ان میں سے بعض کاذکر زیربحث حدیث میں آیا ہے :

[۱] پہلی بات : تو یہ ہے کہ اگر ذبح ممکن ہو اور چھری موجود نہیں ہے تو ہر وہ چیز جو دھار دار ہو اور اس سے تیزی سے خون بہہ جائے تو اس سے ذبح کرنا جائز ہے ، خواہ وہ اوزار بانس جیسی لکڑی کا ہو ، یا دھار دار پتھر ہو یا شیشہ ہو وغیرہ ،بلکہ ہر وہ چیز جس سے جانور کا ذبح کرنا ممکن ہوذبح کے لئے اس کا استعمال کیا جاسکتا ہے ، اس بارے میں صرف تین چیزوں سے روکا گیا ہے ، دانت ، ہڈی اور ناخن ، خواہ یہ چیزیںانسان کی ہو یا کسی اور جانور کی ، جسم کے ساتھ لگی ہوں یا اس سے علحدہ ۔چنانچہ عہد نبوی میں یہ واقعہ پیش آیا کہ سلع پہاڑ کے پاس ایک لونڈی بکریاں چرارہی تھی، اچانک بھیڑئے نے ایک بکری پر حملہ کیااور اسے اس طرح زخمی کردیا کہ وہ موت کے قریب ہوگئی ، اس لونڈی نے ادھر ادھر دیکھا کہ جب کوئی چیز نظر نہ آئی تو ایک دھار دار پتھر سے اسے ذبح کردیا ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے اس ذبیحہ کو جائز قرار دیا اور کھانے کا حکم دیا ۔

{ صحیح بخاری : 5501 } ۔

البتہ وہ جانور جن کا ذبح کرنا ممکن نہ ہو خواہ جنگلی جانور ہوں جن کا شکار کیا جاتا ہے ، یا پالتو جانور ہوں جو بدک جائیں اور انہیں پکڑا نہ جاسکے تو ان کے حلال ہونے کے لئے ذبح کرنا شرط نہیں ہے بلکہ اس کے لئے صرف خون کا بہانا کافی ہے، خواہ گلے سے ہویا جسم میں کسی اور حصے سے ، بشرط یہ کہ وہ آلہ دھار دار یا نوکیلا ہونے کی وجہسے تیزی سے جسم میں پیوست ہوجائے اور خون بہہ جائے ، البتہ اگر آلہ نوک دار نہیں ہے

جیسے عام پتھر وغیرہ جس سے چوٹ لگتی ہے اور جسم کچل جاتا ہےاور اندر کی طرف پیوست نہیں ہوتا تو اس کا کھانا جائز نہیں ہے، خواہخون بہہ جائے ،جیسے بجلی کا شاک دینا ، سر پر وزنی ہتھیار سے مارنا یا گرم پانی میں ڈال دینا وغیرہ ۔ ۔۔

زیر بحث حدیث کے آخر میں ہے کہ صحابہ کرام کو ایک اونٹ مال غنیمتمیں ملا تھا جب اسے ذبح کرنے کے لئے تیار ہوئے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا ، اور ایسا بھاگا کہ اس کا پکڑنا مشکل ہوگیا ، ایک صحابی نے اسے تیر مارا جو اسے لگا اور وہ گر گیا نبیصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جانور جنگلی جانوروں کی طرح بدکتے ہیں ، جب یہ بدکیں تو ان کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرو ۔

{ صحیح بخاری : 5498 } ۔

[۲] دوسری بات : یہ ہے کہ بعض ایسے جانور ہوتے ہیں جنہیں شکار کے لئے تیار کیا جاتا ہے ،جیسے باز ، چیتے اور کتے وغیرہ تو اگر انہیں شکار کی تعلیم دی گئی ہے اور اللہ کا نام لے کر انہیں شکار پر چھوڑا گیا ہے اور وہ شکار کو اس طرح زخمی کررہے ہیں کہ خون بہہ جا رہا ہے ،نیز وہ خوداس سے نہیں کھاتے ہیں تو ان کے شکار کردہ جانور کو ذبح کرنے کا موقعہ نہ بھی ملے تو بھی انکا کھانا جائز ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عدی بن حاتم سے فرمایا :جب تم اپنے کتے کو اللہ کا نام لے کر شکار پر چھوڑو تو اگر وہ تمہارے لئے پکڑ کر لائے اور شکار زندہ ہو تو اسے ذبح کردو اور اگر تمہیں اس حال میں ملے کہ وہ مرچکا ہے اور تمہارے شکاری کتے نے اس میں سے کھایا نہیں ہے تو اسے کھاو ۔

{ صحیح بخاری وصحیح مسلم } ۔

[۳] تیسری بات : بندوق کے ذریعہ شکار کئے گئے جانورسے متعلق ہے کہ کیا اس شکار کا ذبح کرنا ضروری ہے یا اگر بندوق کی گولی لگنے سے مرجائے تو اس کے لئے ذبح کی ضرورت نہیں ہے ؟ اس سلسلے میںراجح قول یہ ہے کہ اگر بندوق کی گولیاں اور چھرے پتھر کے اور گول ہیں جو نوک دار نہیں ہوتے بلکہ صرف چوٹ مارتے ہیں اور قوت کی وجہ سےبسا اوقات اندر بھی داخل ہوجاتے ہیں تو اس کے لئے ذبح شرط ہے ،یعنیاگر شکار ذبح سے قبل مرجائے تو اس کا کھانا جائز نہیں ہے ، البتہ اگر آج کل کی طرح وہ بندوق میں استعمال کئے جانے والی گولیاں لوہے یا بارود کی ہیں جو نوک دار اور جسم کو تیزی سے چیرتی ہوئی اندر پیوست ہوجاتی ہے تو اس کے ذریعہ شکار کئے گئے جانوروں کو ذبح کرنے کا موقعہ نہ بھی ملے تو اس کا کھانا جائز ہے ، چنانچہ حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض [ ایک قسم کا تیر ہے جس میں نوک نہیں ہوتا یا وہ چھڑی اور سوٹا جس کے کنارے لوہا لگا ہو ] سے شکار کئے گئے جانور کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر دھار کی طرف سے شکار کو لگا ہے تو اسے کھاو اور اگر عرض کی طرف سے لگا ہو تو اسے نہ کھاو کیونکہ وہ مردار کے حکم ہے ۔

{ صحیح بخاری }

فوائد :

1) دین اسلام آسان مذہب ہے اور اس میں ہر مسئلے کا حل موجود ہے ۔

2) اصل یہ ہے کہ حلال جانور وں کو گلے سے ذبح کیا جائے ، لیکن جن جانوروں کا ذبح کرنا ممکن نہ ہو تو ان کے حلال ہونے کے لئے جسمکے کسی بھی حصے سے خون بہنا کافی ہے ۔

3) غیر قوم کی مشابہت جائز نہیں ہے ۔

4) ذبح کے لئے چھری ہی ضروری نہیں ہے بلکہ ہر وہ چیز جو دھار دار اور تیزی سے کاٹتی ہو اس سے ذبح جائز ہے بجز ناخن ، دانت اور ہڈی کے ۔

ختم شدہ