احسان بنام حیوان/حديث نمبر :242

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :242

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ :1 / جمادی الآخرہ 1435 ھ، م 01،اپریل 2014م

احسان بنام حیوان

عَنْ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ ».

صحيح مسلم:1955 الصيد, سنن ابي داود:1815 الأضاحي وبقية السنن الأربعة۔

ترجمہ : حضرت شداد بن اوسؓ روایت ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سےدو باتیں یاد رکھی ہیں، آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے ہر چیز کے بارے میں احسان کا حکم دیا ہے ، لہذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو ، نیز تم میں سے ہر شخص کو چاہئے کہ اپنی چھری تیز کرلے اور ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچائے ۔

{ صحیح مسلم – سنن ابو داود – سنن الترمذی }

تشریح : احسان کا معنی ہے نیک عمل کرنا ، کسی چیز کو اچھی طرح بنانا اور کسی ذمہ داری کو بحسن و تمام انجام دینا ۔اللہ تعالی فرماتا ہے :[الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ وَبَدَأَ خَلْقَ الإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ] {السجدة:7}جس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی اور انسان کی بناوٹ مٹی سے شروع کی ۔

زیر بحث حدیث میں اللہ تعالی نے ہمیں جس احسان کا حکم دیا ہے اس کامعنی بھی اسی کے قریب قریب ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ جو کام بھی کرے بالکل ٹھیک ، درست اور تمام وکمال کے ساتھ انجام دے ، اس طرح زیر بحث حدیث میں جس احسان کا حکم ہے اس کا تعلق کبھی اللہ تعالی کے ساتھ ہوتا ہے اور کبھی اس کی مخلوق کے ساتھ، اللہ تعالی کے تعلق سے احسان یہ ہے کہ اس کی عبادت میں احسان سے کام لیا جائے ۔

اللہ کی عبادت میں احسان یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالی کے حقوق کو خیر خواہی کے جذبے سے کامل طریقے سے انجام دے ، عبادت کا جو کامبھی کرے اسے پورے اہتمام اور اس کی شرطوں اور رکنوں کے ساتھ بجالائے ، یہی وجہ ہے کہ حدیث جبریل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے کہ” تم اللہ کی ایسے عبادت کروگو تم اسے دیکھ رہے ہو ، پس اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے” ۔ کیونکہ جب کوئی شخص اس ذات کو دیکھ رہا ہوگا یا وہ اسے دیکھ رہی ہوگی جس کے حکم سے کام کررہا ہے تو اس کام کو بہت اچھے انداز سے بجا لائے گا ۔

احسان کی دوسری صورت کا تعلق اللہ کی مخلوق کے ساتھ ہے ، وہ یہ ہے کہ کسی مخلوق کے جو حقوق کسی بندے پر ہیں اسے پورا پورا اور انصاف کے ساتھ اسی طرح ادا کرے جس طرح وہ خود چاہتا ہے اس کے حق اسے پورے پورے ملیں ، احسان کی یہ صورت کبھی واجب ہوگی اور کبھی مستحب ۔

واجب احسان : یہ ہےکہ بندے پر بعض انسانوں کے جو واجبی حقوق ہیں انہیں پورا پورا ادا کریں ، جیسے والدین کے ساتھ حسن سلوک ، رشتہ داروں ،پڑوسیوں اور دیگر متعلقین کے حقوق کی ادائیگی ، ارشاد باری تعالی ہے : [وَاعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي القُرْبَى وَاليَتَامَى وَالمَسَاكِينِ وَالجَارِ ذِي القُرْبَى وَالجَارِ الجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ] {النساء:36}

اور اللہ تعالی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی [ بیوی ، رفیق سفر اور شریک کار وغیرہ ] سے اور راہ کے مسافر سے اور ان سے جن کے تمہارے ہاتھ مالک ہیں ۔ اس آیت میں تقریبا وہ تمام لوگ آگئے ہیں جن کے ساتھ حسن سلوک واجب ہے ، اس بارے میں صرف انسان ہی نہیں بلکہ حیوانوں کے ساتھ بھی حسن سلوککا حکم ہے تبھی تو اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ حیوان جن کا قتل کرنا واجب ہو ان کے قتل میں بھی احسان کو ملحوظ رکھنا واجب ہے ، لہذا ضروری ہے کہ قتل کرتے وقت اسے عذاب کی نیت سے قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی ایسے طریقے سے قتل کیا جائے جس سے وہ شدید تکلیف سے دو چار ہو ، جیسے باندھ کر چھوڑ دینا کہ بلا کھا ئے پئے مر جائے ، یا نشانہ بازی کے ذریعہ اسے مارنا وغیرہ ، بلکہ ایسے طریقے سے قتل کیا جائے جس سے اس کی روح جلد نکل جائے ، اسی طرح اگر کوئی حلال جانور ذبح کرتا ہے تو اس کے ذبح کرنے پر بھی احسان کو مد نظر رکھا جائے اور تیز و دھار دار چھری سے گردن کی طر فسےنہیں بلکہ گلے کی طرف سے ذبح کیا جائے ، اور مقصد یہ ہو کہ کس قدر جلدی اور آرام سے اس کی روح نکلے ۔

حیوان کے قتل اور ذبح میں اگر احسان کو مد نظر نہ رکھا گیا تو یہی چیز کسی انسان کے جہنم میں جانے کا سبب بن سکتی ہے ، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک عورت صرف ایک بلی کی وجہ سے آگ میں گئی ، جسے اس نے قید کر رکھا تھا ،نہ اسے چھوڑا کہ وہ خود زمین کے کیڑے مکوڑے کھالے اور نہ اسے کھلایا پلایا ۔

{ صحیح بخاری و صحیح مسلم } ۔

مستحب احسان : یہ ہے کہ واجب حق کے علاوہ اپنے مال ، بدن ، زبان ، اور علم کے ذریعہ کسی انسان یا حیوان کو فائدہ پہنچایا جائے ،اسی چیز کو شریعت نے بسا اوقات صدقہ سے تعبیر کیا ہے ، اور اس کا اتنا بڑا اجررکھا ہے کہ اس کے ذریعہ بندہ اللہ تعالی کی رحمت و مغفرت کا مستحق ٹھہرتا ہے ، چنانچہ ایک صحابی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول جب میںبکری ذبح کرتا ہوں تو اس پر رحم کھاتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بکری پر رحم کرنے کی وجہ سے اللہ تعالی تمہارے اوپر رحم کرے گا ۔

{ الادب المفرد : 373 – مسند احمد : 3/436 } ۔

اسی طرح ایک فاحشہ عورت نے ایک پیاسے کتے پر رحم کرکے اسے پانی پلا دیا تو اللہ تعالی نے اسے بخش دیا ۔

{ صحیح بخاری وصحیح مسلم } ۔

سچ فرماتا ہے اللہ تعالی :[ إِنَّ رَحْمَةَ اللهِ قَرِيبٌ مِنَ المُحْسِنِينَ] {الأعراف:56} بلا شبہ اللہ کی رحمت احسان کرنے والے کے قریب ہے ۔

فائدے :

1) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جوامع الکلم عطا کیا گیا تھا ،یعنیبہت سارے معانی کو آپ مختصر الفاظ میں ادا فرماتے تھے ،اور یہ حدیث اسی میں سے ایک ہے ۔

2) اسلام صرف عدل ہی کا نہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر احسان کا بھی حکم دیتا ہے :[إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي القُرْبَى {النحل:90}

3) احسان ایک ایسا جامع لفظ ہے جس میں ہر مخلوق کے ساتھ حسن سلوک داخل ہے، خواہ بے جان مخلوق ہی کیوں نہ ہو ۔

ختم شدہ