حقیقی چار میم/حديث نمبر :243

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :243

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ :8/ جمادی الآخرہ 1435 ھ، م 08،اپریل 2014م

حقیقی چار میم

عَنْ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالْمُؤْمِنِ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذَّنُوبَ۔

صحيح مسلم:1955 الصيد, سنن ابي داود:1815 الأضاحي وبقية السنن الأربعة۔

ترجمہ : حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر فرمایا : کیا میں تمہیں حقیقی مومن کے بارے میں نہ خبر دوں ؟ مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے مال و جان کے بارے میں مطمئن رہیں ، اور حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں ، حقیقی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی طاعت کے بارے میں اپنے نفس سے جہاد کرے اور حقیقی مہاجر وہ ہے جو گناہوں اور نافرمانی کے کاموں کو ترک کردے ۔

{ مسند احمد – صحیح ابن حبان – شعب الایمان }

تشریح : مسلم ، مومن ،مہاجر اور مجاہد یہ چار شرعی مصطلحات ہیں ، جن کے معروف معنی بالترتیب یہ ہیں :

مسلم : یعنی مسلمان وہ شخص ہے جو ارکان اسلام کی ظاہرا و باطنا ً پابندی کرے ، مومن: وہ بندہ ہے جو ارکان ایمان پر ایمان لائے ، مہاجر : وہ شخص ہے جو اپنے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے اپنا ملک اور شہر چھوڑ کر کسی ایسی جگہ منتقل ہوجائے جہاں اسے اللہ کی عبادت کا موقعہ ملے اور مجاہد : وہ ہے جو اللہ تعالی کے راستے میں اپنی جان و مال سے جہاد کرے ، ان کلمات کے یہی معانی معروف و متعارف ہیں ، لیکن لغت و شرع کے لحاظ سے یہ الفاظ ایک خاص معانی پر دلالت کرتے ہیں جو مذکورہ معانی کے خلاف تو نہیں ہیں البتہ اصلی اسلام ، ایمان اور حقیقی ہجرت و جہاد کے حصول کے لئے ان کا لحاظ ضروری ہے ، اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے طرف ہماری توجہ دلائی ہے ۔

[۱] مسلم : بنا ہے سلم سے جس کے معنی حفاظت ، سلامتی اور عافیت کے ہے ، چونکہ اسلام کو مان لینے اور اس پر عمل کرلینے کے بعد بندہ اللہ تعالی کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے اس لئے اس ے مسلم کہتے ہیں، اسی طرح اسلام کے معنی میں یہ بھی داخل ہے کہ اللہ تعالی کے احکام کی پابندی کرنے والا اللہ تعالی کی مخلوق اور خاص کراشرف المخلوقات یعنی لوگوں کو اور بالاخص اپنے اپنے بھائی کواپنے شر سے محفوظ رکھے ، خاص کر اپنی زبان سے نہ انہیں گالی دے، نہ ان کی غیبت و چغلی کرے ، نہ ان پر الزام تراشی کرے اور نہ ہی ان کی ناجائز شکایتیں حاکم و ذمہ دار تک پہنچاتا پھرے ،و اضح رہے کہ حدیث میں زبان کا لفظ آیا ہے ، بات یا کلام کا نہیں ،کیونکہ بسا اوقات انسان بات کئے بغیر صرف زبان یا ہونٹ وغیرہ کی حرکت سے کسی کے بارے میں کچھ اشارے و کنایے سے کام لیتا ہے جو بات کی طرح اس کے لئے تکلیف دہ ہوتی ہے گویا کہ معمولی سی معمولی ایذاء بھی کسی کو پہنچانا اسلام کے منافی ہے ، اسی طرح مسلمان کی شان کے یہ بھی خلاف ہے کہ بلا کسی شرعی سبب کے اپنے ہاتھوں سے کسی کو تکلیف پہنچائے نہ کسی کو مارے ، نہ قتل کرے ، نہ ہی دھکا دے ، نہ ہی کسی کی کوئی چیز برباد کرکے اسے تکلیف دے ، حتی کہ لکھ کر بھی کسی کو تنگ نہ کرے ، یہ ساری چیزیں ہاتھ سے کسی مسلمان یا انسان کے محفوظ نہ رہنے میں داخل ہیں جو حقیقی اسلام کے خلاف ہیں ۔

[۲] مومن : بنا ہے امن سے، امن کا معنی ہے بے خوفی اور دل کی تصدیق ، چونکہ مومن ارکان ایمان کی تصدیق کرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالی کے عذاب سے محفوظ اور بے خوف ہوتا ہے اسی لئے اسے مومن کہتے ہیں : [الَّذِينَ آَمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ] {الأنعام:82} جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے بچائے رکھا، ایسے ہی لوگوں کے لئے امن ہے اور وہی لوگ راہ راست پر ہیں ۔

اسی طرح ضروری ہے کہ حقیقی مومن سے اللہ کی مخلوق امن میں رہے، نہ ہی اس سے کسی مومن کواپنے مال کی چوری کا خوف ہو ، نہ ہی اس میں خیانت سے کام لینے کا ڈر ہو اور نہ ہی اپنی جان اور عزت کا خطرہ ہو ، پھر یہ کوئی شرط نہیں ہے کہ یہ اطمینان اور بے خوفی صرفاپنے مسلمان بھائی کے لئے ہو بلکہ ایسا تمام بنی نوع انسان کے ساتھکرنا حقیقی ایمان ہے ، سچ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے : « الإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ لاَ يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ ».

{ سنن ابو داود : 2769 }

ایمان نے دھوکہ سے قتل کو منع کردیا ہے ،یعنی مومن دھوکے سے کسی کو قتل نہیں کرتا ۔

[۳] مہاجر : ہجرت یہ ہے کہ ایک مومن بندہ اپنے دین کی حفاظت کے لئےاپنا ملک یا شہر چھوڑ دے ، گویا ہجرت کی اصل حکمت یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالی کی اطاعت و عبادت بلاکسی رکاوٹ کے کرسکے اور ایسے لوگوں کی صحبت سے دور رہے جو برے اخلاق و اطوار کے داعی اور پھیلانے والے ہوتے ہیں ۔

پھر اگر کوئی شخص ہجرت تو کرتا ہے لیکن گناہ کے کام نہیں چھوڑتا ، واجبات کو ترک کرتا ہے ، فواحش ومنکرات کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ مہاجر کہلانے کا حقدار نہیں ہے بلکہ حقیقی مہاجر وہ ہے جو اللہ تعالی کی رضا کے لئے ہر چھوٹے بڑے گناہوں کو ترک کردے ، یہ ایسی عام ہجرت ہے جو ہر مسلمان پر فرض ہے ، جب کہ پہلی ہجرت کا موقعہ کسی کسی کو ملتا ہے ۔

[۴] مجاہد : مجاہد کہتے ہیں اللہ تعالی کے راستے میں جان ، مال اور زبان و قلم سے جہاد کرنے والے کو، اس میں سب سے اونچا مقام یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں سے لڑائی و قتال کی جائے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ جہاد کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ انسان اپنے نفس سے جہاد کرے ،اس طرح کہ اپنے آپ کو عبادت کے کاموں کا پابند بنائے ، برائیوں اور نافرمانی کے کاموں سے دور رکھے ،اور اس کام جو تکلیف پہنچے اسے برداشت کرے، پہلا جہاد تو انسان کو وقتا فوقتا پیش آتا ہے البتہ یہ ایساجہاد ہے جس کی ضرورت انسان کو ہر وقت اور ہر لمحہ ہے :[وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ] {يوسف:533} میں اپنے آپ کی پاکیزگی بیان نہیں کرتا بیشک نفس تو برائیوں پر ابھارنے والا ہے ۔ اس برائیوں پر ابھارنے والےنفس سے جہاد ہی اصل مجاہد کا کام ہے ، کیونکہ بغیر اس کے پہلا جہاد بھی کسی کام کا نہیں ہے ۔

فوائد :

1) ہر وہ چیز سے جو کسی مسلمان یا عام انسان کے لئے باعث ضرر ہو اس سے دور رہنا اسلام کا ایک حصہ ہے ۔

2) اپنے نفس کو گناہوں سے پاک وصاف کرنا کامل مسلمان ہونے کی علامت ہے ۔

3) حقیقی ہجرت یہ ہے کہ انسان گناہ و نافرمانی کے کاموں کو ترک کردے ۔

4- اصلی مجاہد وہ ہے جو اپنے پہلو کے دشمن یعنی اپنے نفس سے جہاد کرے۔

ختم شدہ