سلسلہ عقائد، عبادات،اخلاقیات : 18

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دروس رمضان:18

اخلاقیات :03

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 20 رمضان المبارک 1430ھ، م 10ستمبر 2009

ضمانت سے ضمانت

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏”‏ مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ ‏”‏‏.‏

{ صحیح بخاری : 6474، الرقاق }

ترجمہ : حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مجھے اپنے دو جبڑوں کے درمیان کی چیز [ زبان ] کی اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز [ شرمگاہ ] کی ضمانت دے دے تو میں اس کے لئے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔

{ صحیح بخاری }

تشریح: زبان اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے جس کی قدر وہی شخص جانتا ہے جسے اللہ تعالی نے اس نعمت سے محروم رکھا ہو ، یہ نعمت اس قدر عظیم ہے کہ اگر اس کا صحیح و جائز استعمال کیا جائے تو یہی انسان کے لئے ابدی سعادت کا ذریعہ بنتی ہے اور اگر اسے بے روک وٹوک چھوڑ دیا گیا تو دنیا و آخرت دونوں کی بربادی کا سبب بنتی ہے ، سچ فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بسا اوقات بندہ اللہ تعالی کے رضا کی ایک بات کرتا ہے ، اس کی طرف اس کی توجہ بھی نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالی اس کی وجہ سے [ جنت میں ] اس کے کتنے درجات بلند کرتا ہے اور بسااوقات بندہ اللہ تعالی کی ناراضگی والی بات کرتا ہے جس کی طرف اس کا دھیان بھی نہیں ہوتا لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں جاگرتا ہے

{ صحیح بخاری }

یہی وجہ ہے کہ قرآن وسنت میں زبان کی حفاظت اور اس کے صحیح استعمال کا حکم اور اس کے غلط استعمال اور بے لگام چھوڑ دینے کی سخت وعید آئی ہے ، زیر بحث حدیث میں بڑے بلیغ انداز میں زبان کی حفاظت کا حکم ہے یعنی جو شخص اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت اور اس کے صحیح استعمال کا حق ادا کرتا ہے اتو اس کے لئے جنت کی ضمانت ہے جس کا لازمی نتیجہ ہے کہ وہ شخص ان کے صحیح استعمال کی ضمانت نہیں دیتا اس کے لئے کسی بھی قسم کی ضمانت نہیں ہے کہ وہ شخص مومن ہوکر مرے گا یا کافر ہوکر ، وہ شخص جنت میں جائے گا یا جہنم میں ، اس کا شمار اللہ تعالی کے ولیوں میں ہوگا یا اللہ تعالی کے باغیوں میں ۔

اہل علم کہتے ہیں کہ زبان کی ضمانت میں دو چیزیں داخل ہیں :

[۱] قول وقرار سے متعلق جو واجبات ہیں انہیں زبان سے ادا کیا جائے ۔

[۲] جو چیزیں حرام ہیں ان سے اپنی زبان کو بچایاجائے ۔

سب سے پہلا واجب زبان پر یہ ہے کہ کلمۂ شہادت کا اقرار کیا جائے ، زبان سے متعلقہ جو عبادتیں ہیں انہیں بجا لایا جائے ، دعا و استغاثہ کے وقت صرف اللہ تعالی ہی کو پکارا جائے ، نیز امر بالمعرف ونہی عن المنکر کافریضہ ادا کیا جائے ، اللہ کے لئے شہادت دی جائے ، سچ بولا جائے ، دعوت وتبلیغ کا کام کیا جائے ، اور ذکر الہی سے اپنی زبان کو تر رکھا جائے وغیرہ وغیرہ ، اگر زبان کے یہ حقوق ادا نہیں کئے تو اس پر بندے کا محاسبہ ہوگا اور اس کا کی اہمیت کے پیش نظر اسے عذاب بھی ملے گا ۔

مثال کے طور پر اللہ تعالی حقیقت پر مبنی شہادت دینے کا حکم دیتا ہے ، اور اسے چھپانے کی قطعا اجازت نہیں دیتا :

[وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آَثِمٌ قَلْبُهُ] {البقرة:283} اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو اسے چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ۔

اسی طرح اگر کسی کے پاس کوئی شرعی علم ہے اور کوئی اس سے مستفید ہونا چاہتا ہے تو زبان کا حق ہے کہ اسے کھولا جائے اور سائل کے سامنے شرعی حق کھول کر بیان کردیا جائے ، لیکن اگر کوئی اس کو چھپاتا ہے تو وہ زبان کا حق واجب ادا نہیں کررہا ہے ، لہذا عذاب الہی کا مستحق ٹھہر رہا ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : جس سے کوئی علم کی بات پوچھی گئی لیکن اس نے اسے چھپا لیا تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنا دی جائے گی { ابو داود، الترمذی } اسی طرح بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا زبان کا حق ہے اب اگر کوئی شخص اس حق کو ادا کرتا ہے جس کے عوض اس کی جان بھی چلی جاتی ہے تو اللہ تعالی کے نزدیک اس کے درجات بہت بلند ہیں ، ارشاد نبوی ہے : تمام شہیدوں کے سردار حضرت حمزہ بن عبد المطلب ہیں اور وہ شخص جس نے کسی حاکم کوبھلائی کی بات بتلائی یا برائی سے روکا تو اس نے اسے قتل کردیا ۔ [ مستدرک حاکم ] ۔

زبان پر دوسرا واجب یہ ہے کہ جو چیزیں اس پر حرام ہیں اس سے بچایا جائے یعنی جھوٹ نہ بولا جائے ، غیبت و چغلی نہ کی جائے اور اس قسم کے جتنے ممنوع کام ہیں ان سے اپنی زبان کی حفاظت کی جائے اگر ایسا نہ کیا گیا تو زبان کا حق ادا ہوا ، نہ اس عظیم نعمت الہی کا شکریہ ادا کیا گیا ، لہذا ایسے شخص کے لئے کسی بھی قسم کی ضمانت نہیں ہے بلکہ وہ سخت عذاب کا مستحق ٹھہر رہا ہے ۔

سوچنے اور غور کرنے کا مقام ہے کہ روزہ اور صدقہ وخیرات قرب الہی حاصل کرنے کے بڑے اہم ذرایع ہیں لیکن اگر اپنے روزے کے دوران کوئی اپنی زبان کی حفاظت نہیں کرتا تو اس کا روزہ صرف بھوک پیاس ہی رہ جاتا ہے اس پر اسے کوئی اجر نہیں ملتا : ” جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالی کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ شخص اپنا کھانا پینا چھوڑے ۔ [ صحیح بخاری ]

” روزہ ڈھال ہے جب تک کہ اس ڈھال کو پھاڑ نہ دیا جائے ، پوچھا گیا اس پھاڑنا کیسا ہے تو آپ نے فرمایا : غیبت کرنا ” [ مسند احمد ]

ختم شدہ