118

اللہ کے فضل وکرم سے میرے پاس مفید اور مراجع کی کتا بوں کا اچھا خاصہ ذخیرہ ہے ، لیکن میں اسے پڑتا نہیں ہوں ، ہاں کبھی کبھی کوئی پسندیدہ کتاب دیکھ لیتا ہوں ۔ دوسرے لوگ مجھ سے کتابیں لے جاتے ہیں اور استفادہ کے بعد لوٹادیتے ہیں ۔ کیا ان کتابوں کو اپنے گھر میں رکھنے کی وجہ سے مجھے گناہ ہوگا ؟

اللہ کے فضل وکرم سے میرے پاس مفید اور مراجع کی کتا بوں کا اچھا خاصہ ذخیرہ ہے ، لیکن میں اسے پڑتا نہیں ہوں ، ہاں کبھی کبھی کوئی پسندیدہ کتاب دیکھ لیتا ہوں ۔ دوسرے لوگ مجھ سے کتابیں لے جاتے ہیں اور استفادہ کے بعد لوٹادیتے ہیں ۔ کیا ان کتابوں کو اپنے گھر میں رکھنے کی وجہ سے مجھے گناہ ہوگا ؟
جواب السؤال
مفید کتابیں جمع کرنا ، اور انہیں لائبریری میں محفوظ رکھنا جائز ہے ، تا کہ ان سے فائدہ اٹھا یا جا سکے، اور انہیں زیارت کی غرض سے آنے والے اہل علم کو دی جائے تا کہ وہ ان سے مستفید ہوں ، اور اگر ان میں سے اکثر کتابیں نہ بھی پڑھی جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ معتبر اور اہل علم لوگوں کو استفادہ کی غرض سے کتابیں دینا مشروع اور اللہ کی قربت کا ذریعہ ہے ۔ اس لئے کہ اس سے علم حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ اور یہ کام اللہ تعالی کے اس حکم میں داخل ہے کہ :{وتعاونو ا علی البر والتقوی }نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو، [المائدہ2] اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق ہے کہ : اللہ تعالی اس بندے کی مدد میں رہتا ہے جو اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ۔

{مرسل : قیصر محمود، مأخوذ از : فتاوی علامہ عبد العزیز بن باز ص 404}

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں