118

سوتے وقت کے اذکار :

سوتے وقت کے اذکار :

“اللَّهُمَّ باسمِكَ أحْيَا وباسمِكَ أمُوتُ”

“اے اللہ !میں تیرے ہی نام کے ساتھ زندہ رہتا ہوں، اور تیرے ہی نام کےساتھ مرتا ہوں”

(بخاری ،مسلم)

33مرتبہ سبحان اللہ،(33)مرتبہ الحمد للہ،اور (34)مرتبہ اللہ اکبر(بخاری،مسلم)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتےپھرتین مرتبہ کہتے: “اللَّهُمَّ قِنِي عذابَكَ يَوْم تبعَثُ عِبادَك” “اے اللہ! مجھے اپنے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرےگا”

(صحیح ترمذی)

ہر رات جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر بیٹھتےدونوں ہتھیلیوں کو جمع کرکے ان میں پھونکتے اور ان میں “قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ”، “قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ” اور “قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ”پڑھتے،پھر جسم کے جس جس حصے پر پھیر سکتے ہاتھ پھیرتےسر اور چہرہ او رجسم کے سامنے حصے سے شروع فرماتے،اس طرح تین دفعہ کرتے۔

(بخاری ،مسلم)

“اللَّهُمَّ خَلَقْتَ نفسي وأنتَ توفَّاها لك مماتُها ومحياها، إن أحييتها فاحفظها وإن أمتها فاغفر لها، اللَّهُمَّ إني أسألُك العافية”.

“اے اللہ !تونےہی میری جان پیدا کی،توہی اسے فوت کرے گا،تیرے ہی لئے اس کی موت اور زندگی ہے،اگر تو اسے زندہ رکھے تو اس کی حفاظت کر،اور اگر اسے موت دے تو اسے بخش دے، اے اللہ !میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں”

(مسلم)

جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر جائےتو اسے اپنی چادر کے پلو کے ساتھ تین دفعہ جھاڑے ،کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد اس پر اسکی جگہ کیا چیز آئی ہے،اور جب لیٹے تو کہے: Rباسْمِك رَبِّي وضَعْتُ جنبي وَبِك أرفعُهُ إن أمسكتَ نفسي فارْحَمْها، وإنِ أرسلتها فاحفظها بِمَا تحفظُ به عبادَك الصَّالحين”.

“تیرے ہی نام کے ساتھ اے میرے پروردگارمیں نے اپنا پہلو رکھا،اور تیرے ساتھ ہی اسے اٹھاؤں گا،پس اگر تو میری جان کو روک لےتو اس پر رحم کر ،اور اگر اسے چھوڑ دےتو تو اس کی حفاظت کرجس کے ساتھ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے”

(بخاری،مسلم)

رات کو بستر پر جانے کے بعد یہ دعا بھی ثابت ہے:

“الحَمْدُ لله الذي أطعَمَنَا وسَقَانَا وكفاناَ وآوَانَا فَكمْ مِمَّن لا كَافِيَ لَهُ ولا مُؤوِي”.
“سب تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہمیں کافی ہوگیا،اور ہمیں پناہ دی،بہت سے ایسے لوگ ہیں جہیں کو ئی کفایت کرنے والا نہیں اور نہ کوئی پناہ دینے والا ہے”

(رواه مسلم 4/2085)

بستر پر جانے سے پہلے وضو کرےپھر دائیں پہلو لیٹ کر یہ دعا پڑھے:

“اللَّهُمَّ أسْلَمتُ نفسي إليك، وفوَّضْتُ أمري إليك وألجأتُ ظهري إليك رَهْبةً ورغبةً إليك، لا مَلْجَأ ولا منجَأ منكَ إلاَّ إليك، آمنْتُ بِكِتابِك الذي أنزلت وَبِنَبيِّكَ الذي أرْسلت”. “اے اللہ میں نے اپنے نفس کو تیرے تابع کرلیا،اور اپنا کا م تیرے سپرد کردیا،اور میں نے پیٹھ کو تیری طرف جھکادیا،تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے،نہ تجھ سے پناہ کی جگہ ہے اور نہ کوئی بھاگ کر جانے کی مگر تیری طرف ،میں ایمان لایا تیری کتاب پر جو تونے نازل کیا اور تیرے نبی پر جو تونے بھیجا”

(یہ دعا پڑھ کر سونے کے بعد )اگر فوت ہوجائے تو فطرت پر فوت ہوگا۔

(بخاری ،مسلم)

اور یہ بھی پڑہنا ثابت ہے:

“اللَّهُمَّ رَبَّ السمواتِ ورَبَّ الأرضِ، ورَبَّ العرشِ العظيم، رَبَّنا وَرَبَّ كُلِّ شيءٍ، فالق الحَبِّ والنَّوى، ومُنزل التوراة والإنجيل والفُرْقانِ، أعُوذُ بِك من شَرِّ كُلِّ شيء أنت آخِذٌ بناصيته، اللَّهُمَّ أنت الأول فليس قبلك شيءٌ، وأنت الآخرُ فليس بعدَكَ شيءٌ، وأنت الظاهرُ فليس فوقَكَ شيءٌ، وأنت الباطنُ فليس دُونك شيء، اقضِ عَنَّا الدَّين وأغْنِنا من الفَقْر” .

” اے اللہ !اے (ساتوں) آسمانوں اور زمین کے رب اور عرش عظیم کے رب،ہمارے اور ہر شے کے رب،دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے،توراۃ ،انجیل اور فرقان کے نازل کرنے والے، مین ہر اس چیز کے شر سے پناہ چاہتا ہوں جس کی پیشانی تو پکڑے ہوئے ہے، اے اللہ !تو ہی اول ہے پس تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ،تو ہی آخر ہے پس تیرے بعد کوئی چیز نہیں ،تو ہی ظاہر ہے پس تجھ سے اوپر کوئ چیز نہیں ،اور توہی باطن ہے پس تیرے پیچھے کوئی چیز نہیں ،ہم سے قرض ادا کردے اور ہماری محتاجی دور کردے”

(مسلم)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک نہیں سوتےتھےجب تک (الم تنزيلُ)سورہ سجدہ اورسورہ ملک کی تلاوت نہ کرلیتےتھے۔

(رواه الترمذي والنسائي (صحيح الجامع 4/255)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:”جب تم اپنے بستر پر پہنچو توآیۃ الکرسی (اللَّهُ لا إِلَهَ إلاَّ هُوَ الحَيُّ القَيُّومُ…)آخر تک پڑھو،(اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ)پھر صبح ہونے تک اللہ کی طرف سے تم پر ایک محافظ مقرر رہے گا اور شیطان تمہارے قریب نہیں آئے گا

(البخاري (الفتح 4/478)

اور یہ دعا بھی ثابت ہے:

“اللَّهُمَّ عالم الغيب والشهادة، فاطر السموات والأرض، رب كل شيءٍ ومليكه أشهد أن لا إله إلاَّ أنت أعوذ بك من شر نفسي، ومن شر الشيطان وشركه وأن أقترف على نفسي سوءاً أو أجُرَّهُ إلى مسلم”.

“اے اللہ !غیب اور حاضر کے جاننے والے!آسمانوں اور زمین کو بے مثال پیدا کرنے والے!اے ہر چیز کے رب اور مالک!میں گواہی دیتا ہوں کہ (سچا)معبود تو ہی ہے،میں تیری پناہ میں آتا ہوں،اپنے نفس کے شر سے، اور شیطان کے شر سے،اور اس کے پھندے سے اور اس بات سے کہ اپنے ہی خلاف کسی بُرے کام کا ارتکاب کروں یا اسے کھینچ لاؤں کسی مسلمان کی طرف”

(صحيح سنن الترمذي 3/142)

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں