345

جنت کا منکر ؟ / حديث نمبر :01

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :01

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :14/15/ صفر 1428 ھ، م 05/04،مارچ 2007م

جنت کا منکر ؟

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَأْبَى قَالَ مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى.

( مسند احمد2/361، صحيح البخاري:7280 الاعتصام.)

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس شخص کے جو [ جنت میں جانے سے ] انکار کردے ، آپ سے پوچھا گیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! [ جنت میں جانے سے کون انکار کرےگا ؟ ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی کہ جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے [ گویا جنت میں جانے سے ] انکار کیا ۔

{ صحیح بخاری و مسند احمد } ۔

تشریح : کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں جنت میں داخلے کی دعوت دی جاتی ہے لیکن وہ انکار کردیتے ہیں ان پر جنت پیش کی جاتی ہے لیکن وہ اس سے دور بھاگتے ہیں ، آپ حضرات کو تعجب ہوگا کہ کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ جنت جیسی دائمی و ابدی نعمت کو قبول کرنے سے کوئی شخص منکر ہو اور ہر قسم کے راحت و عیش سے آباد گھر میں داخلے سے اعراض کرے ، یقینا یہ بات قابل تعجب ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوبھی اس پر تعجب ہوا ، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : میری بعثت کے بعد جنت میں داخلہ اسی وقت ممکن ہے کہ میری اتباع اور پیروی کی جائے تو جو شخص میری اتباع کرتا ہے ، میری سنت پر عمل کرتا ہے اور میری لائی ہوئی تعلیمات کو علما و عملا قبول کرتا ہے وہ شخص جنت میں داخل ہوگا ، البتہ جو شخص میری نافرمانی کرتا ہے ، میرے اوپر ایمان نہیں لاتا ، یا ایمان اگرچہ لاتا ہے لیکن ایمان کے تقاضے کو پورا کرتے ہوئے میری سنت پر عمل نہیں کرتا تو گویا وہ شخص جنت میں جانے سے انکار کررہاہے ۔

بعینہ یہی امر حدیث میں ایک مثال سے واضح کیا گیا ہے ، چنانچہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ چند فرشتے خدمت نبوی میں حاضر ہوئے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے تھے ، ان میں سے ایک نے کہا کہ یہ سورہے ہیں تو دوسرے نے جواب دیا کہ ان کی آنکھ تو سورہی ہے لیکن دل بیدار ہے ، فرشتوں نے کہا کہ تمہارے اس ساتھی [ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ] کی ایک مثال ہے وہ مثال ان کے لئے بیان کرو ، اس پر ایک فرشتے نے کہا کہ وہ سورہے ہیں تو دوسرے نے کہا کہ آنکھیں سورہی ہیں لیکن دل بیدار ہے ، فرشتے نے کہا کہ ان کی مثال اس شخص جیسی ہے کہ کسی نے گھر بنایا اور اس میں دعوت کا انتظام کیا ، پھر ایک بلانے والے کو بھیج دیا ، تو جس نے بلانے والے کی دعوت پر لبیک کہا وہ گھر میں داخل ہوا اور دعوت کا کھانا کھایا اور جس نے داعی کی بات پر لبیک نہ کہا تو نہ وہ گھر مین داخل ہوا اور نہ ہی دعوت کا کھانا کھایا ، پھر فرشتوں نے کہا کہ ا س مثال کی شرح بیان کرو تاکہ اسے سمجھ لیں ، تو ان فرشتوں میں ایک نے کہا کہ یہ سورہے ہیں ، لیکن دوسرے نے کہا کہ آنکھ سورہی ہے لیکن ان کا دل جاگ رہا ہے ، فرشتوں نے اس مثال کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ گھر سے مراد جنت ہے اور بلانے والا محمد [صلی اللہ علیہ وسلم ] ہیں تو جس نے محمد کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالی کی اطاعت کی اور جس نے محمد [صلی اللہ علیہ وسلم ] کی نافرمانی کی اس نے اللہ تعالی کی نافرمانی کی [ لہذا وہ نہ گھر[ جنت] میں داخل ہوگا اور نہ ہی جنت کی لذتوں سے لطف اندوز ہوگا ] اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان فرق کرنے والے ہیں ۔

{ صحیح بخاری : 7281 – سنن ترمذی : 2860 } ۔

سچ فرمایا اللہ تعالی نے : وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (13) وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ (14)النساء۔

” اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرےگا وہ اسے ایسے باغات میں [ جنتوں میں ] داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے ، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اللہ کی حدود سے آگے نکل آئے تو وہ اسے دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اسے رسوا کرنے والا عذاب ہوگا ۔

فوائد :

۱- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کی گواہی دینے کا تقاضا ہے کہ آپ کی اطاعت کی جائے ۔

۲- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت دخول جنت کا سبب اور آپ کی نافرمانی جہنم میں داخلہ کا سبب ہے ۔

۳- جنت اور جہنم میں داخلہ اس دنیا میں نیک عمل اور برے عمل پر منحصر ہے ۔

۴- جنت میں داخل نہ ہونے کی دو شکلیں ہیں :

[ا] کبھی بھی جنت میں داخلہ نہ ملے گا بلکہ اس کے اوپر جنت حرام اور جہنم واجب ہے ، یہ اس شخص کا بدلہ ہے جوا للہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آپ کی اطاعت کا کلیۃ منکر ہے ، کیونکہ ایسا شخص کافر ہے ۔

[ب ] رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا منکر تونہیں ہے لیکن اطاعت میں کوتاہی سے کام لیتا ہے ایسا شخص فاسق ہے ، یہ جنت میں داخل تو ہوگا لیکن اللہ تعالی کی مغفرت اور اپنے گناہوں کی سزا چکھ لینے کے بعد ۔

ختم شدہ