202

ماہ شعبان سے متعلق علامہ ابن عثیمین رحمۃ اللہ علیہ کے ایک خطبہ کا خلاصہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ماہ شعبان سے متعلق علامہ ابن عثیمین رحمۃ اللہ علیہ

کے ایک خطبہ کا خلاصہ

اسلامی بھائیو! ہم لوگ شعبان کے مہینہ میں سانس لے رہے ہیں ، ماہ شعبان سے متعلق

چھ اہم پوائنٹس پر ہم آپ سے گفتگو کریں گے، ماہ شعبان میں ہمیں کیا کرنا چاہئے اور کیا

نہیں کرنا چاہئے، اللہ تعالی سےدعا ہے کہ وہ مجھے اور آپ سب کو علم نافع اور عمل

صالح کی توفیق مرحمت فرمائے۔

پہلا پوائنٹ: شعبان کا روزہ:

کیا شعبان نفلی روزوں کی باعث دوسرے مہینوں سےالگ اور ممتاز مہینہ ہے؟

جواب: جی ہاں شعبان نفلی روزوں کی باعث دیگر مہینوں سے ایک الگ اور ممتاز مہینہ

ہے، اس مہینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے روزہ رکھا کرتے تھے، اس

لئے سنت یہ ہے کہ مسلمان اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور

پیروی میں ماہ شعبان میں بکثرت روزہ رکھے۔

دوسرا پوائنٹ: خاص پندرہویں شعبان کا روزہ : اس سلسلہ میں جتنی احادیث آئی ہوئی ہیں

وہ سب کی سب ضعیف ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پرثابت نہیں

، اس لئے وہ احادیث قابل عمل نہیں ، کیوں کہ ہر وہ چیز جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

سے ثابت نہ ہو کسی انسان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اسے اللہ کی عبادت سمجھے ،

بنابریں خاص پندرہویں شعبان کا روزہ نہ رکھا جائے کیوں کہ خاص اس دن کا روزہ

رکھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے اورجو چیز آپ سے ثابت نہ ہو وہ

بدعت ہے۔

تیسرا پوائنٹ: شب براءت کی فضیلت:

اس بارے میں بھی ضعیف احادیث آئی ہوئی ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے

صحیح طور پرمنقول اور ثابت نہیں، اس لئے شعبان کی پندرہویں رات ربیع الاول، ربیع

الثانی، جمادی الاول ،جمادی الثانی، رجب،اوردیگر مہینوں کی پندرہویں رات کی طرح

ہے، اس رات یعنی شب براءت کوکوئی بھی خصوصیت اورامتیاز حاصل نہیں ہے بلکہ یہ

رات دیگر راتوں کی طرح ہے ، اس سلسلہ میں وارد شدہ تمام احادیث ضعیف ہیں۔

چوتھا پوائنٹ: پندرہویں شب کوعبادت کے لئے خاص کرنا: یہ بھی بدعت ہے، کیوں کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ منقول نہیں کہ آپ نے اس رات کو عبادت کے لئے

خاص فرمایا ہو، بلکہ یہ رات دیگر راتوں کی طرح ہے ،اگرانسان قیام اللیل کا عادی ہے

تو وہ دیگر راتوں کی طرح اس رات میں بھی قیام کرے اور اگر قیام اللیل اس کا معمول

نہیں تو اسے چاہئے کہ وہ اس رات کو قیام کے لئے خاص نہ کرے، کیوں کہ اس رات کو

عبادت کے لئے خاص کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔

اور اس سے بھی زیادہ عجیب وغریب بات یہ ہے کہ بعض لوگ اس رات کو چند رکعات

والی عبادت کے ساتھ خاص کرتے ہیں جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی

کوئی عبادت منقول نہیں ہے تو ہمیں اس رات کو کسی عبادت کے ساتھ خاص نہیں کرنا

چاہئے۔

پانچواں پوائنٹ: کیا اس رات سال میں ہونے والے تمام امور کا فیصلہ کیا جاتا ہے؟

جواب : جی نہیں، یہ شب قدر نہیں ہے، شب قدر تو رمضان میں ہوتی ہے فرمان الہی ہے

[إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (1) وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ (2) لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ (3) ]

القدر: [1- 3) ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ، آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر

کیا ہے،شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے

نیز فرمان الہی ہے [شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ ] [البقرة: 185) رمضان وہ مہینہ

ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا معلوم ہوا کہ شب قدر رمضان میں ہوتی ہے، اس لئے کہ

یہ وہ رات ہے جس میں اللہ تعالی نے قرآن کریم کو نازل فرمایا اور قرآن رمضان کے

مہینہ میں نازل ہوا ہے، اور شب قدر کا رمضان میں ہونا یقینی ہے نہ کہ کسی اور مہینے

میں، تو شعبان کی پندرہویں رات قدر کی رات نہیں ہے اور نہ ہی اس رات میں پورے سال

میں رونما ہونے والے امور کا فیصلہ کیا جاتا ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ دیگر راتوں کی

طرح ایک رات ہے ۔

چھٹواں پوائنٹ: پندرہ شعبان کو کھانا بنانا: بعض لوگ اس دن فقیروں اور محتاجوں میں

کھانا تقسیم کرنے کے لئے کھانا بناتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ماں کی طرف سے ہے یہ باپ

کی طرف سے ہے اور یہ ماں باپ دونوں کی طرف سے ہے، اس دن کھانا بنانا یہ بھی

بدعت ہے کیوں ایسا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم

اجمعین سے ثابت نہیں ہے۔

یہ چھ اہم بنیادی پوائنٹس ہیں، ممکن ہے اور بھی ہوں جس کا مجھے علم نہیں،اللہ تعالی

سے دعا ہے کہ وہ مجھے اور آپ سب کو سنت کی نشرواشاعت کرنے والوں اور بدعت

کو ترک کرنے والوں میں سے بنائے، مجھے اور آپ سب کو ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل

فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

ابوعدنان طیب السلفی

مکتب الدعوۃ بالمجمعہ

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں