334

ماہ رمضان اور دعا

بسم الله الرحمن الرحيم

ماہ رمضان اور دعا

سورئہ بقرہ میں جہاں پر اللہ تعالی نے رمضان المبارک کے احکام ومسائل کو ذکر کیا ہے وہیں درمیان میں دعا کا مسئلہ بیان کرکے یہ واضح کر دیا ہے کہ رمضان میں دعا کی بھی

بڑ ی فضیلت ہے .چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے

( وَاِذاسَألَکَ عِباَدیِْ عَنِّیْ فَاِنِّی قَرِیْب اُجِیْبُ دَعْوَةَالدَّاعِ اِذاَ دَعاَنِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤمِنُوابِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ)

٫٫جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہدیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے ، قبول کرتا ہوں ، اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے ،،.(سورئہ بقرہ:١٨٦)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:٫٫تین اشخاص کی دعائیں رد نہیں کی جاتی ہیں: امام عادل کی دعا،روزہ دار کی دعا یہاں تک کہ وہ افطاری کرلے ، مظلوم کی دعا ،اس کی دعا کو تو اللہ تعالی قیامت کے دن بدلیوں کے اوپراٹھائیگا ، اور آسمان کے دروازے اس کیلئے کھول دئے جاتے ہیں ، اور اللہ تعالی فرماتاہے :میری عزت کی قسم میں ضرور تمہاری مدد کروںگا دیر ہی سہی،،( ابن ماجہ کتاب الصیام باب:٤٨حدیث:١٧٥٢).

خصوصا افطاری کے وقت کو قبولیت دعا کا خاص وقت بتلایا گیا ہے جیسا کہ عبد اللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:٫٫للصائم عند فطارہ دعوة مستجابة،،٫٫روزہ دار کی افطاری کے وقت کی دعا قبول ہوتی ہے،،

(مسند ابو داؤد طیالسی حدیث:٢٢٦٢ بحوالہ تفسیر ابن کثیرحدیث:٧٩٩).

تاہم قبو لیت دعا کے لئے ضروری ہے کہ ان آداب وشرائط کو ملحوظ رکھا جائے جو قرآن وحدیث میں بیان کئے گئے ہیں ،ان میں سے چند کا یہاں ذکر جاتا ہے :

١ ۔ اللہ تعالی پر صحیح ایمان وعقیدہ ہو.( مذکورہ آیت:وَلْیُؤمِنُوابِی)

٢۔ اللہ تعالی کا اطاعتگزار وفرمابردارہو.

(مذکورہ آیت: فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ)

٣۔ دعا مانگنے سے پہلے اللہ تعالی کی حمد وثنا اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا چاہئے. جس آدمی نے حمد وثنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج کر دعا مانگی اس کے بارے میں آپۖنے فرمایا:٫٫ أیہا المصل ادع تجب،،٫٫اے نمازی !دعا کر تیری دعا قبول کی جائے گی،،(ترمذی کتاب باب:حدیث:٢٧٦٥).

٤۔ دعا دلجمعی اور دو ٹوک الفاظ میں کرنی چاہئے.نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:٫٫جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اللہ سے پختہ ارادے کے ساتھ سوال کرے اور یوںنہ کہے ٫٫اے اللہ اگر تو چاہے تو عطا کر،،اس لئے کہ اللہ تعالی پر کوئی زبردستی نہیںکرسکتا،،(جو اسے دعا قبول کرنے سے روک لے )

(صحیح بخاری کتاب الدعوات باب:٢١حدیث:٦٣٣٨).

کیوںکہ ایسا سوال اللہ تعالی کے نہ چاہنے کا وہم پیدا کرتاہے، اور اللہ تعالی کا نہ چاہنا اس کے اوپر جبر کرنے کا ہم معنی ہے .

٥۔ دعا کی قبولیت کا پورا یقین ہو ،اور پوری توجہ کے ساتھ دعار کرنی چاہئے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:٫٫اللہ تعالی سے قبولیت کے مکمل یقین کے ساتھ دعا کرو،اور یاد رکھو کہ اللہ تعالی غافل اور بے دھیان دل کی دعا قبول نہیں کرتا،،

(سنن ترمذی کتاب الدعوات باب:٦٥حدیث:٣٤٧٩)

٦۔دعا میں اعتراف گناہ اور اس پر ندامت ہو ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:٫٫جب بندہ کہتا ہے ٫٫تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اپنے ،آپ پر ظلم کیا ہے میرے گناہ معاف فرما ، تیرے سوا کوئی گناہ معاف کرنے والا نہیں،،تو اللہ کو یہ بات بہت اچھی لگتی ہے اور اللہ فرماتاہے ٫٫میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو معاف بھی کرتا ہے اور سزا بھی دیتاہے ،،

(الصحیحة للألبانی حدیث:١٦٥٣)

٧۔دعا کے اندر جلدی بازی نہیں کرنی چاہئے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:٫٫تم میں سے کسی کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تم وہ جلدی نہ کرے ، یعنی وہ کہتا پھرے٫٫میں نے دعا کی مگر قبول نہیںہوئی،،

(سنن ترمذی کتاب الدعوات باب:١٢حدیث:٣٣٨٧)

٨۔ دعا کے عدم قبولیت پر طرح طرح کے گلے اور شکوے نہ کریں کیونکہ رسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایا : ٫٫کوئی بھی مسلمان جب اللہ سے دعا کرتا ہے ایسی دعا کہ جس میں کوئی گناہ اور رشتہ ناطہ سے قطع تعلق نہ کیا گیاہو تو اللہ انہیں تین چیزوں میں سے ایک چیز ضرور عطا کرتا ہے ١۔فوری طور پر اللہ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے . ٢۔ یا آخرت کیلئے اس کو ذخیرہ بناد یتا ہے . ٣۔ یا اس کے اوپر آنے والی مصیبت کو دعاکے بقدر ٹال دیتا ہے ، صحابئہ کرام نے عرض کیا تو پھرہم زیادہ دعا کر یں گے آ پ نے فرمایا اللہ زیادہ عطا کر نے والاہے ،،.

(مسند احمدج٣/١٨حدیث:١١١٤٩)