182

رمضان کی تیاری کیسے کریں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

رمضان کی تیاری کیسے کریں؟

از قلم : ابوعدنان محمد طیب السلفی

ناشر: www.islamidawah.com

ماہِ رمضان کی آمد آمد ہے، ماہِ رمضان آیا ہی چاہتا ہے، اللہ تعالی نے ایک بار پھر ماہ رمضان کو ہم سے قریب کردیا ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کوماہ ِرمضان نصیب فرمائے، اور ماہ رمضان کی فیوض وبرکات سے فائدہ اٹھانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔

دینی وملی بھائیو!یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی کی طرف سے خیروبرکت نازل ہوتی ہے، یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ کی رحمتوں کی برکھا برستی ہے، یہ وہ مہینہ ہے جس میں لوگوںکو جہنم سےآزاد کیا جاتا ہے،یہ وہ مہینہ ہےجس کی آمد پر جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے ، جہنم کے دروازوں کو بند کردیا جاتا ہے اور سرکش شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے، ارشاد ہےمحمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا( إذا دخَل رمضانُ فُتِّحَتْ أبوابُ الجنةِ وغُلِّقَتْ أبوابُ جهنَّمَ ، وسُلسِلَتِ الشياطينُ)” جب رمضان کا مہینہ  شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازےبند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑدیئے جاتے ہیں”(ٍصحیح بخاری وٍصحیح مسلمٍٍ)

ایک اورروایت میں ہے(فتحت أبواب الرحمة)” رحمت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں ”( متفق عليه)

یہ وہ مہینہ ہے جس میں ایک رات ایسی ہے جس کی عبادت کا ثواب ہزارمہینوں کی عبادت کے ثواب سے بڑھ کرہے، یہ وہ مہینہ ہے جس کی ہر رات اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے جہنم سےآزادی کا پروانہ نصیب کرتا ہے،فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : « إذا كان أول ليلة من شهر رمضان صفدت الشياطين ومردة الجن وغلقت أبواب النار فلم يفتح منها باب وفتحت أبواب الجنة فلم يغلق منها باب وينادى مناد يا باغي الخير أقبل ويا باغي الشر أقصر ولله عتقاء من النار وذلك كل ليلة »”جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے توسرکش جنوں اور شیطانوں کو جکڑ دیاجاتاہے اورجہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں ان میں سے (سارا مہینہ) کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا اور جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں ان میں سے( سارا مہینہ) ایک دروازہ بھی بند نہیں کیا جاتا اور ایک منادی یہ اعلان کرتا ہے اے نیکی کے طالب ! آگے بڑھ اور اے برائی کے طالب! رک جا اور اللہ کی طرف سے لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کیا جاتا ہے اور یہ اعلان رمضان کے مہینے میں ہرارات کو ہوتا ہے”   ( سنن ترمذي)

اب دیکھنا ہے کون اپنے آپ کو جہنم سے آزادی کا حقدار بناتا ہے, ظاہر ہے اللہ تعالی اُسی آدمی کو جہنم سے آزادی کاپروانہ عطاکرے گا جو رمضان کےدن ورات کو اسکی مرضیات پر چلنےمیں لگائے گا، یہ مہینہ شھرالصیام والقرآن ہے، یہ مہینہ شھر الرحمۃ والغفران ہے، یہ مہینہ شھر الخیروالبرکات ہے، یہ مہینہ شھر التوبۃ ہے، یہ مہینہ شھر الصدقہ والجود ہے ،یہ مہینہ شھر الانفاق فی سبیل اللہ ہے، یہ مہینہ شھر الصبر ہے، یہ مہینہ شھر الطاعۃ ہے یہ مہینہ شھر المواساۃ (ہمدردی اور غمخواری )کا ہے یہ وہ مہینہ ہےجسمیںبرائیاں مٹادی جاتی ہیں،درجات بلند کردئیے جاتے ہیں، یہ وہ مہینہ ہے کہ جس میں گناہیں دُھل دی جاتی ہیں،یہ مہینہ اللہ تعالی کی طرف سےعطاوں اور بخششوں کا مہینہ ہے، قابلمبارکباد ہیں وہ لوگجو اپنے رب کی نوازشوں، بخششوں اوراس کے جودوکرم اورفضل واحسان سےفیضیاب ہوکرخوش نصیبی اورسعادت مندی اختیار کرتے ہیں، یہ وہ مہینہ ہےکہ جس کی آمد کا انتظارسلف صالحین چھ ماہ پہلے ہی سے کیا کرتے تھے، معلی بن فضیل رحمہ اللہ کہتے ہیں:(کان السلف الصالح یدعون اللہ ستۃ اشھر ان یبلغھم رمضان )” سلف صالح چھ ماہ پہلے ہی سےیہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ تو ہمیں رمضان نصیب فرما” سلف صالحین چھ ماہ پہلے ہی اس ماہ کو پانے کی تمنا اور دعا کرتے تھے، یحی بن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں( کان من دعائھم اللھم سلمنی رمضان وسلم لی رمضان وتسلمہ منی متقبلا)”سلف صالحین کی یہ دعا ہوا کرتی تھی کہ اے اللہ تو مجھے رمضان صحیح سالم نصیب فرما ،ایسا نہ ہو کہ رمضان سے پہلے مجھے اچانک موت آجائے اور مجھے ایسی کوئی بیماری لاحق ہوجائے جو مجھے روزہ رکھنے اور تراویح پڑھنے سے روک دے، اورمجھے رمضان اس طرح نصیب فرما کہ مجھ سے کوئی ایسا کام نہ ہوجائے جس سے روزہ کو نقصان پہنچے اور روزہ متاثر ہو، رمضان متاثر ہو، اوررمضان میں جو کچھ نیکیاں میں نے کی ہے اے اللہ تو اسے قبول ومنظور فرما۔

محترم قارئین!ماہ ِرمضان کا پانا،اس کا ملنا اور نصیب ہونا،ایک عظیم نعمت ہے جسے پاکرمسلمان خوش ہوتے ہیں اور ماہ رمضان ملنے پرمسلمان کو خوش ہونابھی چاہئے کیوں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے(قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُون﴾(سورہ یونس آیت: 58)” آپ کہہ دیجئےکہ انہیں اللہ کے اس فضل اور اس رحمت پرخوش ہونا چاہئے یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنہیں وہ جمع کرتے ہیں”

ماہ ِ رمضان کا پانا، اس کا ملنا اور نصیب ہونا یہ اللہ کا فضل وکرم اور اس کی رحمت ومہربانی نہیں تواورکیا ہے، اس لئے ماہ رمضان پانے پرایک مسلمان کو خوش ہونا چاہئے۔

ماہ رمضان ,اللہ اکرم الاکرمین غنی وحمید کے ساتھنفع بخش تجارت کرنے کا ایک عظیم موسم ہےجس کے ہاتھ بھرے ہوئے ہیں خرچ کرنے سے خالی نہیں ہوتے، اگر تمام مخلوق جنات وانسان ایک میدان میں جمع ہوجائیں اورہرکوئی اللہ سےمانگے تو اللہ کے پاس جوکچھ ہے اسمیں کوئی کمی نہیں ہوگی، جیسےسوئی سمندر میں ڈبو کر نکالنے سے سمندر کے پانی میں کوئی کمی نہیں ہوتی ۔(ياعِبَادِي : لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ ، قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي ، إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْر) (صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب تحریم الظلم)

” اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے انسان وجنات سب مل کر ایک میدان میں کھڑے ہوکر مجھ سے مانگے اور میں ہرشخص کا مانگ پورا کردوں ( توسب کا مانگ پورا کرنے پر) میرے خزانوں میں سے صرف اتنی سی کمی آئےگی جتنا سوئی کو سمندر میں ڈبوکر باہر نکالا جائے ”

جب تاجر حضرات ان موسموں کے لئے تیاری کرتے ہیں جن میں ان کو دوگنا نفع حاصل ہوتا ہےتوایک بندہ کو چاہئے کہ وہ اس عظیم موسم کے لئے تیاری کریںجس میں نیک اعمال کرنے پربلا حدوحساب اجروثواب دیا جاتا ہے، فرمان الہی ہے[إِنَّمَايُوَفَّىالصَّابِرُونَأَجْرَهُمْبِغَيْرِحِسَابٍ]{الزُّمر:10 ) ” بےشک صبرکرنےوالوں کو ان کے صبرکا بے حساب اجردیا جائے گا” صبرمیں یہ بھی شامل ہے کہ اللہ رب العالمین کی اطاعت پر صبر کیا جائے۔

 نیزحدیث میں یہ بھی آیا ہوا ہے کہ روزہ رکھنے پر بلاحد وحساب اجروثواب ملتا ہے ،فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے)كل عملِ ابنِ آدمَ يُضاعفُ الحسنةَ بعشرأمثالها إلى سبعمائةِ ضعفٍ . قال اللهُ عزَّ وجلَّ : إلا الصومُ . فإنَّهُ لي وأنا أجزي بهِ . يَدَعُ شهوتَه وطعامَه من أجلي(”ابن آدم کے ہرعمل کا ثواب دس گنا سےسات سو گنا تک بڑھادیا جاتا ہے ،لیکن اللہ عزوجل کا فرمان ہےروزہ  کے سوا  کیوں کہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا کیوں کہ روزہ داراپنی خواہشات اور کھانے پینے کو میری خوشنودی کے لئے چھوڑتا ہے”

معلوم ہوا کہ ماہ رمضان میں نیک اعمال کا ثواب بڑھاکر دس گنا سےسات سو گنا تک کردیا جاتاہے سوائے روزہ کے کیوں کہ اس کا اجروثواب بلا حد وحساب دیا جائے گا۔

آئیے اب ہم جانتے ہیں کہ اس مبار ک اور معززمہینہ کی تیاری کیسے کریں، اور اس کی تیاری درج ذیل امور کو اپنا کرکریں:

♦سب سے پہلے سچی توبہ کرکےاس مہینہ کے لئے تیاری کریں، کیوں کہ جب بندہ اور خیر کے کام کے درمیان گناہ حائل رہتا ہے تویہ گناہ بندہ کو نیک اعمال کرنے سے روکے رکھتا ہے اورجب بندہ اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے تو پھربندہ کی طبیعت نیکیاں کرنے کےلئے آمادہ اور تیار رہتی ہے،(جاء رجل إلى الحسن البصري – رحمه الله – وقال له يا أباسعيد : أجهز طهوري وأستعد لقيام الليل ولكني لا أقوم , ما سبب ذلك ؟فقال له الحسن : قيدتك ذنوبك(”حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص آیا ، اس نے کہا اے ابوسعید (یہ حسن بصری رحمہ اللہ کی کنیت ہے)میں وضو کاپانی ریڈی رکھ کر قیام اللیل کے لئےتیاررہتاہوں لیکن قیام اللیل کے لئے اٹھ نہیں پاتا ،اس کی وجہ کیا ہے؟ توحسن بصری رحمہ اللہ نے اس شخص سے فرمایا : تمہارے گناہوں نے تمہیں باندھ رکھا ہے” جی ہاں گناہ ومعصیت ہر خیر وبھلائی سے محرومی کا باعث ہے، آپ دیکھیں گے کہ لوگ کس طرح اپنا وقت ضائع اوربرباد کر رہے ہیں اور رمضان جو نیکیوں کا موسم ہے اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے جب کہ وہ ماہ رمضان کےفضائل وبرکات سےاچھی طرح واقف ہوتے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گناہوں نے انہیں جکڑلیا ہوتاہے جس کی بناپر وہ رمضان کے خیر وبھلائی سے محروم رہتےہیں۔

 فرمان الہی ہے)يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَىاللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ﴾” اے ایمان والو! تم اپنے رب کے حضور صدق دل سے توبہ کرو، امید ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ معاف کردے گا ،اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کردے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی” (سورہ تحریم آیت:  8)

ہم سب گنہگار ہیں اس لئے ماہ رمضان کو خیر وبھلائی کا کام انجام دینے کے لئے نقطہ آغازسمجھئے، خیروبھلائی شروع کرنےکا مرکزجانئےاور اس مہینہ میں انواع واقسام کی نیکیاں انجام دے کر اپنے دل کو نیکیوں کے انوار سے مالا مال کرلیجئے،اور ماضی میں جوکوتاہیاں ہوئی ہیں اس کی تلافی کیجئے اور اللہ کی طرف متوجہ ہوجایئےتواللہ آپ کی طرف متوجہ ہوگا، کیوں کہ ماہ رمضان میں ایسے اعمال پائے جاتے ہیں جوگناہوں کی مغفرت کا باعث ہیں، جنہیں بجالانےسے گناہیں معاف ہوجاتی ہیں، فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے)من صام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه)” جس نے ایمان اورحصول ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھےاس کے سابقہ تمام گناہ معاف کردئیے گئے” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :من قام رمضان إيمانا واحتسابا، غفر له ما تقدم من ذنبه.( متفقعليه)” جس نے ایمان واحتساب کے ساتھ  اس مہینہ کا قیام کیا،راتوں کو تراویح کی نماز پڑھی تواس کے گزشتہ گناہ معاف کردئیے گئے ‘‘نیز فرمایا(من قام ليلة القدر إيماناً واحتساباً غُفِر له ما تقدم من ذنبه)’’جس نے ایمان واحتساب کے ساتھ  شب قدر کا قیام کیا تواس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کردئیے گئے‘‘ ( متفق عليه(

وقال صلى الله عليه وسلم: ” أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ , فَقَالَ : ” رَغِمَ أَنْفُه،رَغِمَ أَنْفُه رَغِمَ أَنْفُه  قيل من يا رسول الله ؟ قال مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ , فَقُلْتُ : آمِين((آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اس شخص کاناک خاک آلود ہو، ایسا اس نے تین مرتبہ کہا ، آپ سے پوچھا گیا  یارسول اللہ کون شخص ؟فرمایا وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنی مغفرت نہ کرالی ،  تومیں نے اس پر آمین کہا‘‘

صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«الصَّلواتُ الخَمْسُ والجمعةُ إلى الجمعةِ ورمضانُ إلى رمضانَ مُكفِّراتٌ مَا بينهُنَّ إذا اجْتُنِبت الْكَبَائر )’’ پانچ نمازیں اورایک جمعہ سےدوسرے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک گناہوں کو مٹادینے والے ہیں جب کہ کبائر سے اجتناب کیا جائے‘‘

ماہ رمضان میں گناہوں کی مغفرت کے یہ عظیم اسباب ہیں جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنے گناہوں کی مغفرت نہ کرالی تووہ خسارہ اور نقصان میں رہا اور بہت ساری بھلائیوں سے محروم رہ گیا۔

   اس لئے میرے بھائیو! سچی توبہ کرکے اس مہینہ کی تیاری کریں اور یقین جانئےسچی توبہ کی بدولت اللہ تعالی اپنے بندے سے اس سوارمسافر سے بھی زیادہ خوش ہوتاہے جو ایک بیابان سنسان وادی کی طرف سفر کررہا ہوتا ہے، راستہ میں وہ آرام حاصل کرنے کے لئے ایک درخت کے سایہ میں لیٹ جاتا ہے اور پاس ہی وہ اپنی اونٹنی کو بھی باندھ دیتا ہے جس پر اس کا سامان ِسفر ہوتا ہے ،اور پھر وہ سوجاتا ہے جب اس کی آنکھ کھلتی ہے تودیکھتا ہے کہ اس کی وہ سواری موجود نہیں جس پر اس کا سامان سفر بھی ہے اب تو وہ حیران وپریشان ہوتا ہے اور جگہ جگہ چھان مارتا ہے لیکن اس اس کی اونٹنی سواری نہیں ملتی اب اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اب تو مرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، تو وہ مرنے کے لئے اسی جگہ آکر لیٹ جاتا ہے جہاں وہ پہلی بار لیٹا ہوتا ہے جب وہ دوبارہ سوکر اٹھتا ہے تودیکھتا ہے کہ اس کی وہ سواری جو غائب تھی اپنی جگہ کھڑی ہے یہ دیکھ کر وہ خوشی سے پاگل ہوجاتا ہے حدیث کے الفاظ ہیں اخطا من شدۃ الفرح شدت خوشی سے وہ بالکل پاگل ہوجاتا ہے اور یہ کہدیتا ہے اللھم انت عبدی واناربک اے اللہ تو میرا بندہ اور میں تمہارا رب ہوں جب کہ کہنا چاہئےاللھم انت ربی  وانا عبدک’’اے اللہ تو میرا رب ہے اور میں تمہارا بندہ ہوں”

 چنانچہ حدیث کے الفاظ ہیں صحیحین میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اپنے بندے کی توبہ سے خوش ہوتا ہےجب  بندہ اللہ کی جناب میں توبہ کرتا ہے( لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلَاةٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَأَيِسَ مِنْهَا فَأَتَى شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةً عِنْدَهُ فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ )’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر، جب وہ (بندہ) اس کی طرف توبہ کرتا ہے، تم میں سے کسی ایسے شخص کی نسبتکہیں زیادہ خوش ہوتا ہےجو ایک بے آب و گیاہ صحرا میں اپنی سواری پر (سفر کر رہا) تھا تو وہ اس کے ہاتھ سے نکل (کر گم ہو) گئی، اس کا کھانا اور پانی اسی (سواری) پر ہے۔ وہ اس (کے ملنے) سے مایوس ہو گیا تو ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے سائے میں لیٹ گیا۔ وہ اپنی سواری (ملنے) سے ناامید ہو چکا تھا۔ وہ اسی عالم میں ہے کہ اچانک وہ (آدمی) اس کے پاس ہے، وہ (اونٹنی) اس کے پاس کھڑی ہے، اس نے اس کو نکیل کی رسی سے پکڑ لیا، پھر بے پناہ خوشی کی شدت میں کہہ بیٹھا، اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔ خوشی کی شدت کی وجہ سے غلطی کر گیا۔”(صحیح مسلم كِتَابُ التَّوبَةِبَابٌ فِي الْحَضِّ عَلَى التَّوْبَةِ وَالْفَرَحِ بِهَا )

اس مہینہ کی تیاری اللہ تعالی سے سچی توبہ کرکے کریں  جو روف ورحیم اور تواب وغفورہے۔

♦دوسرا یہ کہ اس مہینہ کی تیاری نیکیوں کی بجا آوری میں محنت کرنے پرسچی نیت اورارادہ کرکےکریں، کیوں کہ نیک نیتی کے باعث بندہ کو اللہ کی مدد اور اس کی توفیق نصیب ہوتی ہے، فرمان الہی ہے﴿إِنيَعْلَمِاللَّهُفِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِّمَّا أُخِذَ مِنكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗوَاللَّهُغَفُورٌرَّحِيمٌ ﴾) سورۃ الانفال آیت : 70)” اگراللہ تعالی تمہارے دلوں میں نیک نیتی دیکھے گا تو جوکچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں دے گا اور پھر گناہ بھی معاف فرمائے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ہی”

ایک جگہ اورفرمایا:﴿ لَّقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا ﴾(سورۃ الفتح آیت:18)”یقینا اللہ تعالی مومنوں سے خوش ہوگیا جب کہ وہ درخت تلے تجھ سے بیعت کررہے تھےان کے دلوں میں جو تھا اس نے معلوم کرلیا، اور ان پر اطمنان نازل فرمایا اورانہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی”

یہ دونوں آیات اس بات پردلیل ہیں کہ نیک نیتی بندہ کےلئے اللہ کی توفیق کا سبب ہےاس لئے ایک مسلمان آدمی کو چاہیے کہ وہ ماہ رمضان میں نیکیاں بجالانے اور اس میں محنت کرنے پر پختہاور سچی نیت کریں، گویا اپنی زبان حال سے کہے اگر میں نے رمضان کا مہینہ پالیا تو اللہ تعالی میری کار کردگی کو دیکھے گا، بندہ کو چاہئے کہ وہ کثرت سے دعا کرے کہ اللہ اس مہینہ میں اسے اپنی مرضیات پرچلانےمیں اس کی اعانت ومدد فرمائے گا،کیوں کہ رمضان کا مہینہ مل جانا یہ کمال نہیں بلکہ اس مہینہ میں نیکیوں کی توفیق نصیب ہونا یہ کمال ہے ، کتنے انسان ایسے ہیں جن کو رمضان کا مہینہ نصیب ہوتا ہے لیکن اسے خیر کی توفیق نصیب نہیں ہوتی بلکہ وہ اس مہینہ میں کبائر بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب بھی کرتے ہیں، ایک مسلمان کو چاہئے کہ یہ دعا بکثرت پڑھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو سکھائی تھی،( اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك)“اے اللہ تو مجھے اپنا ذکر شکر اور اچھی طرح عبادت بجالانے پرمیری اعانت ومدد فرما” یہ دعا رمضان اور غیر رمضان سب میں پڑھی جائے، لیکن رمضان میں اس کی ضرورت واہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے غور کیا تومعلوم ہوا کہ سب سے زیادہ نفع بخش دعا وہ ہے جس میں اللہ تعالی سے اس کی مرضیات پر چلنے کی اعانت ومدد طلب کی جائے۔

♦اس مہینہ کی تیاریقرآن کریم کی تلاوت اوراس میں تدبروتفکرکرکے کریں، دوستو یہ مہینہ شہر القرآن ہے، اسی مہینہ میں اللہ کے نبی محمدﷺ پر قرآن نازل کیا گیا اوراسی مہینہ میں آپ نبوت ورسالت کے دولت سے سرفراز کئے گئے ،جب رمضان کا مہینہ ہوتا تو جبریل امین آپ کے پاس آتے اور قرآن کا مدارسہ مذاکرہ اور مراجعہ فرماتے ، جس سال آپ کی وفات ہوئی اس دفعہ رمضان میں جبریل دو دفعہ آپ کے پاس مدارسہ قرآن کے لئے آئے ، اس لئے اس مہینہ میں قرآن کی تلاوت بکثرت کریں، قرآن حفط کریں ،قرآن کا مراجعہ کریں، قرآن میں تدبروتفکر کریں ، لیکن آج مسلمانوں نے تو قرآن کو بالکل ہی چھوڑ رکھا ہے ، بتلائیے کتنے مسلمان  ایسے ہیں جنہوں نے گزشتہ رمضان سے اب تک قرآن مجید ایک بار ختم کیا ہے ، کتنے ایسے ہیں جنہوں نے اب تک قرآن کریم کا ایک پارہ بھی ختم  نہیں کیا ہے، اور کتنے ایسے ہیں جن کو اب تک قرآن اٹھا کر پڑھنے کی بھی توفیق نصیب نہیں ہوئی، اسی لئے کل قیامت کے دن اللہ کے نبی حضرت محمدﷺ اللہ تعالی سے کہیں گے[وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا القُرْآَنَ مَهْجُورًا]{الفرقان:30}” اور رسول کہے گا اے میرے رب بیشک میری امت نے  اس قرآن کو چھوڑ  رکھا تھا”

جب کہ ہمارے اسلاف ہر تین دن میں ایک ختم قرآن کیا کرتے تھے ان کی بلند ہمتی کا کیا پوچھنا، وہ دنیا اور آخرت کو اچھی طرح پہچانتے تھے، اس لئے انہوں نے دنیا پر آخرت کوترجیح دی تھی، فرمان الہیہے(وَلَلآخِرَةُخَيْرٌلَّكَمِنَالأولى)’’اور یقیناً آخرت آپ کے لئے دنیا سے بہتر ہے‘‘

♦اس مہینہ کی تیاری کثرت دعاءکےذریعہ کریں، کیوں کہ کثرت دعاء کی وجہ سے آدمی کو اللہ تعالی اطاعت کی توفیق مرحمت فرماتا ہے اور اس کے وقت میں برکت ڈالدیتا ہے اور مختلف قسم کی نیکیوں کے کام اللہ تعالی اس کے ہاتھ سے کروادیتا ہے ، کیوں تمام امور اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے اور اسی کی طرف سے توفیق ملتی ہے ، اس لئے اس ماہ کے آنے سے پہلے اورآنے کے بعد بھی ہر لمحہ اورہرآن اس رب کریم کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہئے۔

 اس مہینہ میں زیادہ سے زیادہ دعاءکرکے فائدہ اٹھائیے، کیوں کہ یہ دعا کا مہینہ ہے، اور دعا کی آیت روزہ کی آیات کے درمیان ذکر ہوئی ہے جس سے دعا کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے، دعا کرنے کی قرآن کریم میں بڑی فضیلت اور ترغیب آئی ہوئی ہے ، فرمان الہی ہے(وقالربكمادعونيأستجبلكم)’’ اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا‘‘ اور ایک جگہ فرمایا﴿وَإِذَاسَأَلَكَعِبَادِيعَنِّيفَإِنِّيقَرِيبٌۖأُجِيبُدَعْوَةَالدَّاعِإِذَادَعَانِ﴾’’جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں ‘‘

علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کریمہ کے تحت فرماتے ہیں کہ اس آیت میں دعاکی ترغیب وتاکید بیان ہوئی ہے اور یہ آیت روزہ کے احکام ومسائل کے درمیان ذکر کی گئی ہے جس میں مہینہ کے اختتام تک اور ہرروز افطار کے وقت دعا میں اہتمام کرنے کی ہدایت وتلقین کی گئی ہے، انتھی كلامه ۔

اورفرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے):أفضل العبادة الدعاء)’’ دعا ءافضل ترین عبادت ہے‘‘ اور آپ  نے یہ بھی فرمایا:(ليس شيء أكرم على الله تعالى من الدعاء)’’ اللہ سبحانہ وتعالی کی نظر میں دعا سے بڑھ کر قابل قدرکوئی چیز نہیں‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے(إن ربكم تبارك وتعالى حيي كريم يستحيي من عبده إذا رفع يديه إليه أن يردهما صفرأُ خائبتين )’’ تمہارارب بڑا شرمیلا اور کریم ہے وہ اپنے بندہ کے اٹھائے ہوئے ہاتھوں کو خالی اور نامراد واپس کرنے سے شرماتا ہے‘‘

پورا ماہ رمضان دعا کرنے کا محل وموقع اورموسم ہے، بالخصوص افطار سے پہلے کی گئی دعا قبول کرلی جاتی ہے، فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے(ثلاثة لا ترد دعوتهم: الصائم حتى يفطر، والإمام العادل، ودعوة المظلوم)’’ تین شخصوں کی دعا ء رد نہیں کی جاتی ،افطار کے وقت روزہ دار کی دعا، منصف امام کی دعا اورمظلوم انسان کی دعا‘‘  (رواه الترمذي)

اس لئےماہ رمضان میں دعا ءکرنے کا اہتمام کیجئےاور یہ یقین رکھئےجوبرابردروازہ کھٹکھٹائےاسکےلئے دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔

محترم قارئین !

رمضان ہمارا معززمہمان ہے ہمیں اپنے معزز مہمان کی قدر کرنا چاہئے، اوراپنے اعضاء وجوارح کو اللہ کی معصیت ونافرمانی سے محفوظ رکھ کر اس ماہ کی تقدس وعظمت کا خیال رکھنا چاہئے۔

 لیکن آپ کو سخت تعجب ہوگا کہ آج رمضان تو ڈراموں کا موسم بنا ہوا ہے جن کے ذریعہ لوگوں کو اللہ کے دین سے برگشتہ کیا جارہا ہے اور ان کو فتنہ وفساد سے دوچار کیا جارہا ہے، اس بڑے جرم (گناہ) کے ذمہ دار وہ گنہگار فضائی چینلوں کے مالکان ہیں جو زمین میں شرو فساد پھیلاتے ہیں، ایسے گند فضائی چینلوں کے مالکان کو اللہ کے اس فرمان سے ڈرجانا چاہئے﴿إِنَّالَّذِينَيُحِبُّونَأَنتَشِيعَالْفَاحِشَةُفِيالَّذِينَآمَنُوالَهُمْعَذَابٌأَلِيمٌفِيالدُّنْيَاوَالْآخِرَةِۚوَاللَّهُيَعْلَمُوَأَنتُمْلَاتَعْلَمُونَ﴾’’ جو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے ‘‘(سورت نور آیت:۱۹)

علامہ عبد الرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: یہ وعید مجرد برائیاں پھیلانے والوں کے لئے ہے۔

ایسےلوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا وآخرت میں شدید عذاب کی دھمکی دی ہے اور مسلمانوں سے کہا ہے کہ بری بات پھیلانے کے کیسے خطرناک اثرات مسلم سوسائٹی پرمرتب ہوتے ہیں، ان کا علم اللہ کو ہے، تم ان کا صحیح اندازہ نہیں کرسکتے ہو۔
 اللہ تعالی کا یہ فرمان  بھی ہے:﴿إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ ﴾’’بیشک جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو ستایا پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور جلنے کا عذاب ہے۔ (سورت بروج آیت:۱۰)

مسلمانوں کو چاہئے کہ اس مہینہ کی فضیلتوں اور عظمتوں کا خیال رکھیں اوراپنے کا ن اور آنکھ کو حرام دیکھنے اور حرام سننے سے روکے رکھیں، اسے ایسا کرنے پر اللہ تعالی کی طرف سے اجر عظیم ملے گا، فرمان الہی ہے﴿ذَٰلِكَوَمَنيُعَظِّمْحُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِندَ رَبِّهِ )’’ اور جو شخص اللہ کی احترام والی چیزوں کی تعظیم کرے تو یہ بات اس کے پروردگار کے ہاں اس کے لئے بہتر ہے‘‘ (سورت حج آیت :۳۰)  

 ایک اورجگہ اللہ نے فرمایا:﴿وَمَنيُعَظِّمْشَعَائِرَاللَّهِفَإِنَّهَامِنتَقْوَىالْقُلُوبِ﴾’’ اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یہ بات دلوں کے تقویٰ سے تعلق رکھتی ہے‘‘

جس طرح نیکیوں کے کرنے پر اجر ہے اسی طرح برائیوں کے چھوڑنے پر بھی ثواب ہے اس لئے ہم مسلمانوں کو اس مہینہ کی حرمت وعظمت کا خیال کرتے ہوئے برائیوں سے بالکلیہ اجتناب کرنا چاہئے۔

فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے) من لم يدع قول الزور والعمل به والجهل فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه ) ’’جو شخص روزہ رکھ کر جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا  اور جہالت کرنا ترک نہ کرے تواللہ کو اس کے بھوکا اور پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ‘‘ ( سنن ابن ماجہ )

اور جھوٹ بولنے اوراس پر عمل کرنے سےمرادہر جھوٹی اور حرام بات جیسے غیبت ، چغلی، فحش کلامی، لعن طعن ،جہالت اور بیوقوفی وغیرہ ہے،  تو جس نے  اللہ کی معصیت ونافرمانی سے باز رہ کراس مہینہ کی تعظیم کی ،اس مہینہ کا احترام کیا تو اللہ اس کو عظمت نصیب کرے گااوراسے خیر اور تقوی میں آگے بڑھائےگا، اس کے خیر وتقوی کو زیادہ کرے گا، اے اللہ ! تو ہمیں روزہ رکھنے، قیام کرنے اورتمام نیکیاں بجالانے کی توفیق عطا فرما اور ہماری نیکیوں کو قبول فرما اور برائیوں سے بچا ۔آمین۔

 اسی طرح  رمضان کی تیاری اس کے احکام ومسائل کو سیکھ کرکریں کیوں کہ  بعض لوگ جہالت اور لاعلمی کی بنابر  رمضان کے دنوں میں اور روزہ کی حالتوں  میں ایسے امور کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں جن کا شمار حرام،ممنوع اور مفطرات (روزہ توڑدینے والی چیزوں ) میں ہوتا ہے،اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ ماہ رمضان آنے سے پہلے روزہ کے احکام ومسائل کو سیکھ لے، اس سلسلہ میں ان کتابوں کا مطالعہ اوران ویڈیو اور آڈیو تقاریر کا سننا بیحد مفید ہوگا جوروزہ ، قیام ، شب قدر، اعتکاف اور آخری عشرہ کے فضائل ومسائل اور صدقہ فطر کے احکام ومسائل سے متعلق ہیں ، اوریہ کتابیں  اور کیسٹیں اللہ کے فضل وکرم سے باسانی دستیاب ہیں، اس طرح آپ اس  فریضہ  کوبحسن وخوبی انجام دے سکیں گے ۔

ختم شدہ 

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں