178

نازک درخت / حدیث نمبر: 246

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :246

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی  الغاط

بتاریخ :29/ جمادی الآخر 1435 ھ، م 29 اپریل 2014

نازک درخت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَثَلُ المُؤْمِنِ كَمَثَلِ خَامَةِ الزَّرْعِ يَفِيءُ وَرَقُهُ مِنْ حَيْثُ أَتَتْهَا الرِّيحُ تُكَفِّئُهَا، فَإِذَا سَكَنَتِ اعْتَدَلَتْ، وَكَذَلِكَ المُؤْمِنُ يُكَفَّأُ بِالْبَلاَءِ، وَمَثَلُ الكَافِرِ كَمَثَلِ الأَرْزَةِ صَمَّاءَ مُعْتَدِلَةً حَتَّى يَقْصِمَهَا اللَّهُ إِذَا شَاءَ»

( صحيح البخاري : 7466، التوحيد – صحيح مسلم : 2809 ، صفة القيامة )

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومن کی مثال کھیتی کے اس نئے پودے کی ہے کہ ہوا جس طرف سے بھی آتی ہے  اسے جھکا دیتی ہے ، پھر جب ہوا  رک جاتی ہے تو وہ سیدھا کھڑا ہوجاتا ہے ، اسی طرح مومن بلاء  و مصیبت سے متاثر ہوتا رہتا ہے ، اور کافر کی مثال صنوبر کے درقت کی ہے جو  بالکل سیدھا ٹھوس ہوتا ہے ، جب اللہ چاہتا ہے تو ڑ کر رکھ دیتا ہے ۔ { صحیح بخاری و صحیح مسلم } ۔

تشریح : اسدنیا میں مسلم وکافر کے بود باش میں واضح فرق ہوتا ہے،زیر بحث میں اس چیز کون  نبی ﷺ نے ایک مثال کے ساتھ بیان کیا ہے ، چانچہ آپ نے  مومن و مخلص اور دیندار بندوں کی مثال کھیتی  کے ایک  نئے پودے سے دی ہے جو ابھی ابھی زمین  سے باہر آیا ہے ، اس کا تنا کمزور  اور پتے نازک ، جب کبھی  معمولی  ہوا بھی چلتی ہے تو اسے جھکا دیتی ہے ، ہلکی سی ہوا بھی اسے  دائیں بائیں جھکنے پر مجبور کردیتی ہے ، بلکہ یہی ہوا جب تیز چلتی ہے تو وہ پودا زمین سے بھی چھو جاتا ہے ، لیکن  ہوا جیسے ہیں رکی وہ پیدا پھر  سیدھا اپنے تنوں پر کھڑا ہوجاتا ہے ، بعینہ یہی مثال ایک مومن بندے کی ہے کہ وہ دل کے لحاظ سے نرم اور جسم کے لحاظ سے اس قدر سادا اور سیدھا  ہوتا ہے کہ ہر حالت سے متاٴثر ہوجاتا ہے ، لوگوں کا حق بآسانی  دے دیتا ہے لیکن اس کا اپنا حق مارا جاتا ہے ، اللہ تعالی اسے بیماریوں  اور دنیاوی مصائب و آلام  سے زیادہ  دو چار کرتا ہے ، ہر طاقتور و متکبر  شخص  اسے تنگ کرتا اور اس پر اپنا رعب جماتا ہے ،لیکن وہ ان تمام حالات میں صبر  و احتساب سے کام لیتا ہوا اپنی زندگی کے ایام بسر کرتا رہتا ہے ۔

بر خلاف مومن کے فاجر ، فاسق اور کافر کی مثال شمشاد و  صنوبر کے اس درخت کی ہے جو ٹھوس ، سیدھا اور سخت ہوتا ہے ، تیز سے تیز ہوابھی  اسے   نہیں جھکا پاتی  ،وہ اپنے مضبوط تنے پر اس قدر مضبوطی سے کھڑا  ہوتا ہے کہ  طوفان بھی آتا ہے تو  اس سے کم ہی متاٴثر ہوتا ہے، البتہ جب اللہ چاہتا ہے تو تیز ہوا کا ایک جھونکا اسے توڑ کر رکھ دیتا ہے ، بعینہ اسی طرح فاسق و فاجر و منافق شخص سخت دل ، اڑیل اور متکبر ہوتا ہے ، اس کے سینے میں گوشت و خون کا ٹکڑا نہیں بلکہ لوہے و  پتھر کا جگر ہوتا ہے ،  وہ اپنے مظہر  کا  اس قدر اہتمام  کرتا ہے کہ عام لوگ نہ صرف اس سے متاٴثر  بلکہ ہیبت کھاتے رہتے ہیں  ، اپنے ارد گرد پیش آنے والے  حالات و واقعات سے نہ متاثر ہوتا ہے اور نہ ہی اپنے جیسوں کا بد انجام دیکھ کر عبرت حاصل کرتا ہے ، حتی کہ  ناگہانی موت یا قضائے الہی سے وہ دار فانی  کی طرف  روانہ ہوجاتا ہے ۔

اس حدیث  میں قابل غور چیز یہ ہے کہ مومن اور نئے کھیتی کے پودے میں وجہ مشابہت کیا ہے  ؟ اور کافر اور بڑے  موٹے درخت کو ایک دوسرے سے کیا نسبت ہے ؟

[۱] نیا پودا عموما کمزور ہوتا اور کمزور سمجھا جاتا ہے،  جوہوا پانی اور کسان کی  خصوصی رعایت  کا محتاج ہوتا ہے ،اسی طرح سچا مومن  دل کے لحاظ سے نرم ہوتا  اور مصیبت و آلام کی زد میں زیادہ  آتا ہے ، جو اللہ کی خصوصی حفاظت  و رعایت کا محتاج ہوتا ہے ، برخلاف اس کے بڑا  درخت طاقتور اور رعایت کا زیادہ محتاج نہیں  ہوتا ہے ، اسی طرح منافق و کافر دل کا سخت ، جسم کا تندرست ہوتا ہے اور اللہ تعالی اس کے دین و ایمان کی حفاظت نہیں کرتا ۔

[۲] کھیتی تک  ہر آدمی  کا ہاتھ بآسانی پہنچ جاتا ہے ، کمزور  سے کمزور جانور بھی اس سے اپنی روزی  حاصل کرتا ہے ، حتی کہ چوری کرنے والے بھی  بآسانی  اپنا مقصد پورا کرلیتے ہیں ، بر خلاف بڑے درخت  سے جس کا فائدہ محدود اور اس کے پھل  کا حصول مشکل ہوتا ہے ، اسی طرح مومن نرم خو نرم مزاج ہوتا ہے ، ہر شخص اس سے اپنی بات کہہ سکتا  اور فائدہ حاصل کرلیتا ہے برخلاف فاسق و فاجر کے ۔

[۳] جس طرح کمزور کھیتی پر ہر  ہوا اثر انداز ہوتی ہے ، معمولی ہوا بھی  اسے حرکت میں لا دیتی ہے حتی کہ بسا اوقات زمین  میں گر پڑتا ہے ، لیکن پھر سیدھے کھڑا ہو جاتا ہے ، برخلاف بڑے درخت  کے کہ   وہ ہلکی  ہوا سے متاٴثر  نہیں ہوتا لیکن جب گرتا ہے توپھر اٹھتا نہیں ، اسی طرح مومن بلا و  مصیبت سے جلدی متاثر ہوتا ہے ، حالات سے عبرت حاصل کرتا ہے ، صبر و احتساب سے کام لیتا ہے ، اوربالآخر  اسے  ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ ہوا ہی نہیں ، برخلاف کافر کے کہ وہ ہلکی سی مصیبت  اور  چھوٹی آزمائش  پر بھی واویلا مچانا شروع کردیتا ہے ۔

[۴]کھیتی کے دانوں کے جو فوائد ہیں وہ درخت کے پھلوں کے نہیں ہیں ، وہ انسانوں کی غذا ہے ، جو غذائیت اللہ تعالی نے کھیتی کے دانوں میں رکھی ہے وہ پھلوں میں نہیں ہے ، اسی طرح اللہ کی مخلوق ایک مومن بندے  سے جس قدر مستفید ہوتی ہے ، کافر سے نہیں ہوتی ۔

[۵] کھیتی کے کٹ جانے کے بعد بھی اس کا فائدہ باقی رہتا ہے ، بلکہ  سال بھر حتی کہ اس سے بھی زیادہ  کئی سالوں تک اس کا فائدہ باقی رہتا ہے ،جب کہ عمومی طور پر پھل  وقتی  اور  موسمی ہوتے ہیں ، اسی طرح مومن کا فائدہ  اس کی  وفات کے بعدبھی  صدقہ جاریہ وغیرہ کی شکل میں باقی رہتا ہے اور کافر مرنے کے بعد اپنے کسی عمل سے فائدہ نہیں اٹھاتا ۔

فوائد :

اللہ تعالی اپنے مومن بندے کو مصیبت و بلا میں مبتلا کرتا ہے، تاکہ  یہ چیزیں  اس کے گناہوں کا کفارہ بنیں ۔

جس طرح ایک پودا ہوا کے اثر سے دائیں بائیں مائل ہوتا ہے لیکن ہوا کے ٹھہرتے ہی  فورا سیدھے کھڑا ہوجاتا ہے ، ایسے ہی مومن بندہ  خواہشات و جذبات سے متاثر ہوکر گناہ تو کرتا ہے لیکن فورا ہی توبہ کرلیتا ہے ۔

مومن کو اپنی کمزوری اور غربت پر اور کافروں کی ترقی پر افسوس نہیں کرنا چاہئے، بلکہ یہ یقین رکھنا چاہئے کہ  انجام کار مومن کے حق میں ہے ۔