362

گناہ فارمیٹ پروگرام / حديث نمبر :248

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :248

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی  الغاط

بتاریخ :21/ رجب 1435 ھ، م  20،مئی 2014م

گناہ فارمیٹ پروگرام

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ – صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ ». قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ».         صحیح مسلم:251الطهارة، سنن الترمذي:51 الطهارة، سنن ابن ماجة:143 الطهارة.

 ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں  ایسے اعمال نہ بتلادوں جن کے کرنے سے اللہ تعالی گناہوں کو مٹا دے اور  درجات کو بلند کردے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : ضرور کیوں نہیں  اے اللہ کے رسول  ، آپ ﷺ نے فرمایا : ناگواری کے باوجود کامل طریقے سے وضو کرنا ، مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنا ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظا کرنا ، بس یہی رباط [ سرحدوں پر مورچہ زنی ] ہے یہی رباط ہے ۔ { صحیح مسلم ، سنن النسائی ، سنن الترمذی } ۔

تشریح : ارشاد باری تعالی ہے : [قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا,وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا] {الشمس:10-9} “کامیاب ہوگیا وہ شخص  جس نے نفس کو پاک کرلیا اور ناکام ہوا وہ شخص  جس نے اسے خاک میں ملا دیا ،یعنی جس نے اپنے نفس کو کفر و شرک سے دور رکھا ، فاسد عقائد اور گندے اخلاق سے پاک کیا ، گناہ اور نافرمانی کے کاموں  سے بچائے رکھا  ، عبادت و ریاضت کے ذریعہ اسے سنوارا ، فرائض و نوافل کی پابندی کرکے اس کا تزکیہ  کیا تو ہ  کامیاب ہوا ، اس کے برخلاف جس شخص نے اپنے نفس کو آزاد چھوڑا ، طاعت الہی کا پابند نہ بنایا اور نہ ہی   رذائل و گندے اخلاق سے پاک کیا تو وہ ہلاک و برباد ہوا ۔

نفس کا تزکیہ  ایک ایسا عمل ہے جو نبی ﷺ کے بعثت کے مقاصد  میں سے ایک ہے ، یہی وجہ ہے کہ  نبی ﷺ نے اس کی طرف خصوصی توجہ دی ہے ، زیربحث  حدیث  اسی نبوی تربیت کی ایک کڑی ہے ، چنانچہ پہلے تو نبی ﷺ نے تزکیہ کا ایک نتیجہ  اور اجر  بیان کرکے صحابہ  کی توجہ اپنی طرف مبذول کی یعنی گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کی لالچ دلائی  پھر صحابہ کے سوال پر آپ نے تین اہم عمل کی طرف رہنمائی  فرمائی جن سے یہ فائدے حاصل  ہوتے ہیں ۔

[۱] ناگواری کے باوجود مکمل وضو : وضو بڑی اہم عبادت اور رب کی رضامندی کا ایک بڑا ذریعہ ہے ، وضو  صرف ظاہر کی صفائی اور پاکیزگی ہی کا عمل نہیں بلکہ اس کے عوض بندے کا باطن بھی پاک ہوتا ہے ،  لیکن اس فائدے کے حصول کو حدیث  میں دو شرطوں کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے ۔

پہلی شرط تو یہ ہے کہ وضو مکمل  اور اچھی طرح سے کیا جائے ، اور یہ   اسی صورت میں ہوگا جب وضو کے صرف فرائض  نہیں بلکہ  سنن و آداب  کو بھی مد نظر  رکھا جائے، چنانچہ وضو  اطمینان سے  کیا جائے ، ہر جوڑ کو  رگڑ  رگڑ کر اور تین تین بار دھویا جائے۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس شخص نے وضو کیا اور اچھے طریقے  سے وضو کیا تو اس کے جسم سے گناہ نکل جاتے ہیں حتی کہ اس کے ناخونوں  کے نیچے سے بھی ۔ { صحیح مسلم }

دوسری شرط یہ ہے کہ صرف ساز گار حالت  ہی میں نہیں بلکہ  ناسازگار حالت میں بھی وضو کو مکمل کیا جائے ، جیسے پانی کی کمی  ہے ، سخت سردی کا موسم ہے ، پانی بہت ہی ٹھنڈا ہے ، وقت کی تنگی ہے یا موسم کی گرمی سے پانی گرم ہوگیا ہے ، یا مشغولیت زیادہ ہے  وغیرہ وغیرہ ہر وہ حالت جس  میں بندے کے لئے اطمینان  اور کامل طرح سے وضو کرنا مشکل ہوتا ہے ، لیکن ان تمام حالات سے نپٹ کر اگر کوئی  بندہ  اچھی طرح وضو کرتا ہے تو یہ وضو اس کے ماسبق گناہوں کی معافی اور مزید یہ کہ درجات کی بلندی کا سبب ہے ۔

[۲] مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنا : مسجد اللہ کا گھر اور  سچے مومن کے لئے  جاِئے سکون ہے ، جو شخص مسجد سے اپنا تعلق  جوڑے رکھتا ہے وہ اللہ کا محبوب ہے ، مسجد میں بیٹھنا   نیکی اور گناہوں سے بچے رہنے کا سبب ہے ۔ اس حدیث میں مسجد میں بکثرت قد م  بڑھانے کی فضیلت بیان ہوئی  ہے ، یہ بکثرت بکثرت  قدم بڑھانے کی ایک صورت تو یہ ہے کہ بندے کا گھر مسجد سے دور ہے لیکن  اس کے باوجود  ہر نماز  کے لئے وہ مسجد  پہنچتا ہے ، جس طرح کہ عہد نبوی  کا ایک واقعہ ہے کہ ایک نوجوان  کا گھر مسجد سے دور تھا اس کے باوجود  سردی و گرمی میں اس کی  کوئی جماعت نہ  چھوٹتی تھی ، کسی نے اسے مشورہ دیا کہ اندھیرے کے خطرات اور  دھوپ کی شدت سے بچنے کے لئے ایک گدھا سواری کے لئے  خرید لے لیکن اس  نے جواب دیا : میں تو یہ چاہتا ہوں کہ مسجد کی طرف میرا چل کر جانا اور واپس  آنا  میرے حساب میں لکھا جائے ، جب نبی ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ نے اسے خوشخبری دیتے ہوئے  فرمایا : اللہ تعالی نے یہ سب تیرے  لئے جمع فرمادیا ہے ۔ { صحیح مسلم } ۔

مسجد کی طرف زیادہ قدم چلنے  کی دوسری صورت  یہ ہے کہ بندہ مومن  مسجد کی طرف بار بار اور بکثرت  آتا جاتا رہے، ہر نماز کے لئے جاتا رہے ، جب فرصت ملی  تو اللہ کے ذکر  کیلئے   یا نفل نماز کے لئے  مسجد کا رخ کرلیتا ہے بلکہ وہ بہانہ تلاش کرتا ہے کہ کوئی  بہانہ ملے کہ وہ مسجد میں داخل ہو ، یہ عمل  بھی گناہوں  کی معافی اور درجات کی بلندی کا بڑا اہم سبب ہے ۔

[۳] نماز کا انتظار : نماز کے بعد نماز کے انتظار کی بھی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :  ایک صورت  تو یہ کہ بندہ مومن ایک نماز کو پڑھ کر دوسری نماز کے انتظار میں مسجد یا اپنی جائے نماز میں  اس کے بعد والی  نماز  کے انتظار میں  بیٹھا رہے، جیسے مغرب کی نماز پڑھ کر عشا کے انتظار میں بیٹھا رہے ،یا ظہر پڑھ کر عصر کے انتظار میں بیٹھا رہے ، یا فجر  کی نماز پڑھ  کر اشراق کی نماز کے لئے اپنی جگہ بیٹھا رہے ، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں  اس  پوری مدت میں نماز  پڑھنے  کا اجر لکھا جاتا ہے  اور اللہ تعالی انہیں دیکھ کر فرشتوں پر فخر کرتا ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ نماز سے فارغ ہو کر اگرچہ وہ  اپنے گھر چلاجاتا  یا دیگر کاموں میں مشغول ہوجاتا ہے لیکن اس کا دل مسجد سے لگا  رہتا ہے او ر اس انتظار میں رہتا ہے کہ جیسے ہی نماز  کا وقت  ہو اسے ادا کرے  اور اس کے لئے  مسجد کا رخ کرے ، یہی وہ لوگ ہیں جن سے متعلق اللہ تعالی فرماتا ہے کہ : ”  [رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ  ] {النور:37}یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں تجارت  اور خرید سو فروخت  اللہ کے ذکر  اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ  ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی ۔  ۔۔۔ حدیث کے آخر میں آپﷺ نے یہ فرمایا کہ “یہی عمل سرحد میں مورچہ زنی ہے ، یہی عمل سرحد پر مورچہ  زنی ہے ” یعنی  جو اجر سرحد پر موچہ زنی کا ہے وہی اجر  ایسے عمل کرنے والوں  کا بھی ہے ، یا جس طرح سرحد پر مورچہ  زنی سے ملک کی حفاظت ہوتی ہے اسی طرح ان اعمال کا  اہتمام  کرنے سے ایمان و عقیدہ  کی حفاظت  ہوتی ہے ، یا جس طرح  سرحد پر مورچہ زنی سے دشمن کے حملے کا خطرہ نہیں رہتا اسی طرح ان اعمال میں مشغولیت سے شیطان  کے حملے  کا خطرہ نہیں رہتا ۔ واللہ اعلم