271

انوکھا گناہ / حديث نمبر :249

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :249

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی  الغاط

بتاریخ :28/ رجب 1435 ھ، م  27،مئی 2014م

انوکھا گناہ

عَنْ جُنْدَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَدَّثَ « أَنَّ رَجُلاً قَالَ وَاللَّهِ لاَ يَغْفِرُ اللَّهُ لِفُلاَنٍ وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ مَنْ ذَا الَّذِى يَتَأَلَّى عَلَىَّ أَنْ لاَ أَغْفِرَ لِفُلاَنٍ فَإِنِّى قَدْ غَفَرْتُ لِفُلاَنٍ وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ ».

صحیح مسلم:2621 البر، صحیح ابن حبان:5681،8/220۔

 ترجمہ : حضرت جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا : ایک آدمی نے کہا کہ اللہ کی قسم ! اللہ تعالی فلاں شخص کو نہ بخشے گا ،  تواللہ تعالی فرمایا : کون ہے جو مجھ پر قسم  کھاتا ہے کہ میں فلاں شخص کو نہیں بخشوں گا ، اسکو تو میں نے بخش دیا ار تیرے عمل کو برباد کردیا ۔ { صحیح مسلم و ابن حبان } ۔

تشریح : بعض لوگوں کو اپنی نیکی ، عبادت اور زہد و تقوی پر اس قدر گھمنڈ ہوتا ہے کہ دوسروں کو اپنے سے کمتر  اور حقیر  سمجھنا شروع کردیتے ہیں ، بلکہ بسا اوقات  جذبات و خود بینی  میں اس قدر  آگے بڑھ جاتے ہیں کہ دوسروں  پر ان کے بعض  خلاف شرع کاموں کی  وجہ سے حکم لگانا شروع کردیتے ، اور اس میں اس حد تک  پڑھ جاتے ہیں کہ ان کے  قول و عمل سے باری تعالی  کے ساتھ سوء ادبی ظاہر ہوتی ہے  ، جس کا نتیجہ  یہ نکلتا ہے کہ ان کی اس جرءت کی وجہ سے اللہ تعالی ان کے تمام نیک اعمال کو رائیگاں ٹھہرا دیتا ہے۔زیر بحث حدیث میں اسی غلطی پر تنبیہ ہے،صحیح مسلم میں تو یہ حدیث مختصر ہے البتہ دیگر کتب حدیث میں اس  حدیث کا  ایک سبب و رود بیان ہوا  جس سے اس حدیث کا مفہوم سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔

مشہور تابعی  حضرت ضمضم  بن حارث الیمامی  بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں داخل ہوا ، دیکھتا ہوں کہ وہاں ایک پیلے سر والے ، خوبصورت چمکیلے  دانتوں والے بڑے میاں بیٹھے ہوئے ہیں ، ان کے ساتھ  سرمیلی آنکھوں  والا ایک خوبصورت نوجوان بھی ہے ، چنانچہ  ان بزرگ نے مجھے دیکھ کر  فرمایا : اے یمامی ادھر آو ، دیکھو کسی بھی شخص کو کبھی بھی یہ نہ کہنا کہ  اللہ تعالی  تجھے کبھی معاف نہ کرے گا ، اور  نہ  یہ کہنا کہ اللہ تعالی تجھے  کبھی بھی جنت میں داخل نہ کرے گا ۔حضرت ضمضم کہتے ہیں کہ  [ یہ سن کر مجھے بڑا تعجب ہوا ]  ہم نے پوچھا کہ آپ پر اللہ کی رحمت ہو ، آپ کون ہیں ؟ اس بزرگ نے جواب دیا : میں ابو ہریرہ ہوں ، ہم نے کہا : اے ابو ہریرہ ، ایسی باتیں تو ہم میں سے کچھ لوگ اپنے اہل  وعیال اور خادم کو حالت غضب میں کہہ دیتے ہیں ،

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایسا ہرگز نہ کہو کیونکہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا آپ فرمارہے تھے ، بنی اسرائیل کے دو آدمی  تھے  جن میں  آپس میں  بھائی چارگی تھی ، ایک تو بہت عبادت گزار  اور  دوسرا  گنہگار تھا ، چنانچہ ایک بار  عبادت گزار نے گنہگار کو کوئی  گناہ کا کام کرتے دیکھا تو اس سے کہا : اس کام سے باز آجاو ، اس  نے جواب دیا کہ مجھے چھوڑ  دو  ،یہ میرے اور میرے رب کے بیچ کا معاملہ ہے ۔ [ پھر جب بھی عبادت گزار اسے کسی گناہ کے کام پر دیکھتا تو ] اس سے یہی کہتا  کہ اس سے باز آجاو،  اور گنہگار کہتا :

میرے معاملہ کو میرے رب پر چھوڑ دو ، یہاں تک کہ ایک دن اسے کسی  بڑے گناہ پر دیکھا جسے بہت بڑا تصور کیا تو اس سے کہنے لگا ، برا ہو تیرا ، گناہوں سے باز آو ، گنہگار نے جواب دیا : میرا معاملہ میرے رب پر چھوڑ دو ، کیا تم مجھ پر نگراں بنا کر بھیجے گئے ہو ؟  وہ شخص  [ بڑے غصے میں آیا اور ] کہا : اللہ کی قسم وہ تجھے کبھی  بھی معاف نہیں کرےگا ، یا یہ کہا کہ : وہ تجھے  کبھی بھی جنت میں داخل نہ کرے گا ، چنانچہ اللہ تعالی نے ان دونوں کی طرف فرشتے کو بھیجا جس نے ان کی روحوں کو قبض کرلیا  اور دونوں کو اللہ تعالی  کے سامنے حاضر کیا ، اللہ تعالی نے عبادت گزار سے سوال کیا : کیا تجھے میرے بارے میں علم تھا  کہ فلاں  کو جنت میں داخل نہ کروں گا ، میرے پاس جو کچھ ہے  کیا  اس پر تجھے قدرت حاصل تھی ؟  یا تو میری رحمت  کو میر بندے سے روک دیگا ؟ [ اللہ تعالی نے گنہگار سے فرمایا ]  جا جنت میں داخل ہوجا اور دوسرے سے فرمایا : اسے لے جاو اور جہنم میں ڈال دو ۔ [ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ ]  اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس نے ایک ایسی بات کہی جس سے اس کی دنیا و آخرت برباد ہوگی ۔ { مسند احمد : 2/323- 363 – ابو داود : 4901 خ الادب – صحیح ابن حبان : 221/8 ، 5682 تحقیق الالبانی } ۔

مذکورہ حدیث اور اس کے سبب ورود  سے درج ذیل اہم سبق ملتے ہیں :

[۱]  وہ فیصلے جو اللہ تعالی  کے ہاتھ میں ہیں اس میں  دخل دینا اللہ تعالی کے ساتھ سوء ادبی ہے ، اور سوء ادبی بندے کے عمل کے رائیگاں ہوجانے کا سبب بنتی ہے ، چنانچہ کسی کو معاف کرنا ، کسی کو عذاب دینا ، کسی کی نیکیوں کو قبول کرنا کسی کے اچھے اعمال کو رد کردینا  ،یہ خالص اللہ تعالی کا حق ہے اس میں نہ کسی نبی  کا دخل ہے اور نہ کسی  ولی کا ، وہ جسے چاہے بخش  دے اور جس کو چاہے سزا دے ، یہی وجہ ہے کہ روح اللہ حضرت عیسی علیہ السلام  کا قول قیامت کے  دن یہ ہوگا کہ :[إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ] {المائدة:118}اگر تو انہیں سزا دے تو  وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف فرمادے تو بلا شبہ تو غالب اور دانا ہے ۔

[۲] ایک مسلمان کو اپنے نیک اعمال کی بربادی کا خوف ہمیشہ لاحق رہنا چاہئے،  کیونکہ بسا اوقات انسان کو احساس نہیں ہوتا  اور اس سے ایسے اعمال صادر ہوجاتے ہیں جو اس کی ہلاکت کا سبب بنتے ہیں ، نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ بندہ زندگی بھر جنت  میں جانے کا عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک  اس کے اور جنت کے درمیان  ایک ہاتھ  کا فاصلہ رہ جاتا ہے  تو وہ  جہنم  میں جانے کا عمل  کردیتا ہے جس سے وہ جہنم میں چلا جاتا ہے ۔ { بخاری ومسلم } یہی وجہ ہے کہ مشہور تابعی  ابن  ابی ملیکہ  بیان کرتے ہیں کہ میری ملاقات ایسے تیس صحابہ سے ہوئی ہے جو اپنے اوپر نفاق سے ڈرتے تھے ۔ { صحیح بخاری } ۔

[۳] بھلائی  کا حکم دینے  اور برائی سے روکنے میں حکمت کو مد نظر  رکھنا بہت ضروری ہے  ، ارشاد باری تعالی ہے : [ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالحِكْمَةِ وَالمَوْعِظَةِ الحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ] {النحل:125}

اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت سے اور بہترین نصیحت  کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے  سے بحث کیجئے ۔ اس حکم الہی کو مد نظر نہ رکھنے کی وجہ ہے  بسا اوقات  نصیحت فضیحت بن جاتی ہے ۔