502

رمضان اور روزہ کے فضائل و مسائل

بسم اللہ الرحمن الرحیم

رمضان اور روزہ کے فضائل و مسائل

از قلم : شیخ نصیر الدین جامعی حفظہ اللہ

{ ناشر : www.islamidawah.com }

فضیلتِ رمضان: اسی مہینہ میں قرآن کریم نازل ہوا، اس پورے مہینہ کے روزے فرض کئے گئے [سورۃ البقرہ ۱۸۵]۔ اسی ماہ میں ایک رات ہے جو خیر و برکت میں ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے [سورۃ القدر]۔ اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں، مردود شیطانوں کو جکڑدیا جاتا ہے۔ [بخاری ۱۸۹۹، مسلم ۱۰۷۹ بروایت ابو ہریرہ]۔ رمضان کی ہر رات اللہ بے شمار روزہ داروں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے [ترمذی ۶۸۲]۔

رمضان کے اعمال:jروزہ رکھنا [البقرہ ۱۸۵]۔

kبہت زیادہ قرآن کریم کی تلاوت کرنا۔

lبہت زیادہ صدقہ و خیرات کرنا [بخاری ۶، مسلم ۲۳۰۸]۔

mہر دن تراویح کا اہتمام کرنا اس سے پچھلے گناہ معاف ہونگے [بخاری ۳۷، مسلم ۷۵۹]، ترایح کا باجماعت اہتمام کرنا ساری رات تہجد ادا کرنے کے برابر اجر ہے [ابوداود ۱۳۷۵، ترمذی ۸۰۶]۔

nروزہ داروں کو افطار کروانا روزہ رکھنے کے برابر اجر ہے۔ [ترمذی ۸۰۷، ابن ماجہ ۱۷۴۶]۔

oلیلۃ القدر کو پانے کے لئے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں جاگ کر بہت زیادہ عبادت کرنا [بخاری ۲۰۲۴، مسلم ۱۱۷۴]۔

pاس ماہ میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہے [مسلم ۱۲۵۶]۔

qپورے رمضان میں بالعموم نیکیوں میں محنت اور برائیوں سے اجتناب کرنا کیونکہ جنت و رحمت کے دروازے اس ماہ میں کھولے جاتے ہیں بالخصوص فرشتہ نازل ہوکر نیکی کی طرف آگے بڑھنے کی دعوت دیتا ہے [ترمذی ۶۸۲]، خاص کر آخری عشرے میں اپنی ساری محنت عبادت کے لئے مخصوص کردی جائے کیونکہ نبی کریم ^ کی سنت ہے: آپ آخری عشرہ میں جس قدر محنت کرتے {عبادت کے لئے کمر کس لیتے} اس قدر دوسرے دنوں میں نہ کرتے۔ [مسلم ۱۱۷۵]۔

روزہ کا معنی: روزہ کو عربی میں صوم کہتے ہیں، جس کے معنی کسی کام سے رُک جانا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں صوم سے مراد ہے: اللہ کی عبادت کی غرض سے صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے، پینے اور دیگر روزہ توڑنے والی چیزوں سے باز رہنا۔

روزہ کی اہمیت، فرضیت اور فضیلت: یہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے [بخاری ۸، مسلم ۱۶]، جان بوجھ کر ایک روزہ توڑنے والا اس کے بدلے زندگی بھر بھی روزے رکھے تو بھی پورا نہ ہوگا۔ بلکہ وقت سے پہلے افطار کرنے والے کو جہنم میں سر کے بل لٹکایا جائےگا اور اس کا منہ پھاڑا جائےگا جس سے خون بہتا ہوگا۔ [بیہقی، ابن خزیمہ] اس کی فرضیت کو نہ ماننے والا مسلمان نہیں، جس پر تمام علماء امت کا اجماع ہے۔ شعبان سن دو ہجری میں رمضان کے روزے فرض ہوئے۔ اس کی فرضیت کی سب سے واضح دلیل سورہ البقرہ ۱۸۳، ۱۸۵۔ اس کی فضیلت میں کئی حدیثیں ہیں جن میں سے تین کا خلاصہ بغور پڑھیں:

jجنت کے ایک دروازہ کا نام ‘الریان’ ہے اس میں صرف روزہ دار ہی داخل ہونگے جب وہ داخل ہوجائینگے تو اسے بند کردیا جائے گا پھر کوئی دوسرا داخل نہ ہوسکے گا۔ [بخاری ۱۸۹۶، مسلم ۱۱۵۲ بروایت سہل بن سعد]۔

kجو شخص ایمان اور نیکی کی امید کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ معاف کردئیے جائینگے۔ [بخاری ۳۸، مسلم ۷۶۰ بروایت ابو ہریرہ]۔

lاللہ تعالی کے راستے میں ایک دن کا روزہ رکھنے والے کے چہرے کو ستر سال کے لئے جہنم کی آگ سے دور رکھا جائے گا۔

[بخاری ۲۸۴۰، مسلم ۱۱۵۳ برایت ابو سعید خدری]۔

روزہ کے فائدے: گندے اخلاق، سطحی سوچ سے نفس کی پاکی، جس کی طرف اشارہ سورۃ البقرہ ۱۸۳ کے لفظ ‘تتقون’ میں ہے۔ خواہشات اور دنیا سے بے رغبتی، جس کی طرف اشارہ بخاری اور مسلم کی روایت میں شادی نہ کرسکنے والے نوجوانوں کو دئیے گئے روزہ رکھنے کی ترغیب میں ہے۔ مسکینوں اور کمزوروں کی حالت پر ترس کھانا اور ترحم کا جذبہ، جس کا ذکر ابو داود میں صدقہ فطر کے فائدہ میں آیا ہے۔

چاند کی دعا: رمضان کا ہو یا کوئی اور نیا چاند دیکھ کر یہ دعا پڑھیں: اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ [ترمذی ۳۴۵۱]۔ {اے اللہ اس کو ہم پر برکت و ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ نکال، اے چاند! میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔

رمضان کا روزہ کن پر فرض ہے؟ اس بات پر علماء امت کا اجماع ہے کہرمضان کا روزہ ہر عاقل، بالغ، تندرست، مقیم مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ [بدایۃ المجتہد]۔ نابالغ بچہ، پاگل پر فرض نہیں ہے۔ البتہ بیمار، مسافر، حیض و نفاس والی عورت، بوڑھے مرد و عورت، حاملہ اور دودھ پلانے والے عذر ختم ہونے کے بعد روزہ رکھینگے۔ البتہ جس کی بیماری کے شفایابی کی امید نہیں اور جو بہت زیادہ بوڑھا ہونے کی وجہ سے روزہ رکھ ہی نہیں سکتا وہ ہر ایک روزہ کے بدلے ایک مسکین کو ایک وقت کا کھانا کھلائینگے، اگر وہ ایک ہی وقت میں تیس مسکینوں کو کھلادیں تو بھی درست ہے۔

روزہ کے فرائض: ۱- نیت: کسی بھی نیکی کے لئے نیت کرنا ضروری ہوتا ہے، چنانچہ فرض روزے کی نیت طلوع فجر سے پہلے پہلے ہوجانی چاہئے [ابوداود ۲۴۵۴، ترمذی ۷۳۰ بروایت حفصہ <]۔ یاد رہے کہ زبان سے نیت کرنا نبی کریم^، صحابہ، تابعین اور ائمہ کرام سے ثابت نہیں۔ ۲- طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور ان تمام امور سے دور رہنا جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

روزے کے سنن و مستحبات: jسحری کھانے کا اہتمام کرنا کہ اس میں بڑی برکت ہے [بخاری ۱۹۲۳، مسلم ۱۰۹۵ بروایت انس بن مالک]، سحری فجر کی اذان سے کچھ پہلے کھانی چاہئے اسی کی فضیلت ہے [بخاری ۱۹۵۷، مسلم ۱۰۹۸ بروایت سہل بن سعد]۔ kسورج غروب ہوتے ہی فورا افطار کرنا [بخاری ۱۹۵۷]، تازہ کھجور یا خشک کھجور یہ نہ ہو تو پانی سے افطار کرنا مستحب ہے[ترمذی ۶۹۶]، افطار کے وقت ابوداود کی دعا “اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ” بہت مشہور ہے لیکن ضعیف ہے، اس کی جگہ یہ دعا پڑھی جائے: “ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتْ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللهُ” {پیاس بجھ گئی رگیں سیراب ہوگئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ضرور ملے گا} [ابوداود۲۳۵۷]۔ lروزہ کی حالت میں بہت زیادہ دعا کرتے رہنا کیونکہ اس حال میں دعا رد نہیں کی جاتی [بیہقی، الصحیحہ للالبانی ۱۷۹۷]۔ mجھوٹ، غیبت، چغلی، فحش، ظلم و زیادتی سے زبان کی حفاظت کرنا اگر کوئی جھگڑا یا فحش گوئی پر اتر آئے تو کہہ دینا کہ میں روزہ دار ہوں [بخاری ۱۹۰۴، مسلم ۱۱۵۱]۔ nروزہ صرف پیٹ کا ہی نہ ہو بلکہ کوشش کرے کہ دل، اور سارے اعضاء بدن کا روزہ ہو ، نبی ﷺ نے فرمایا: کھانے پینے کو چھوڑدینا اصل روزہ نہیں روزہ تو لغو اور بے حیائی کو چھوڑدینے کا نام ہے [بیہقی، صحیح الجامع ۵۳۷۶]، سلف صالحین اس کا بہت زیادہ اہتمام فرماتے تھے چنانچہ حضرت جابر فرماتے ہیں: جب تم روزہ رکھو تو چاہئے کہ تمہارا کان، آنکھ، جھوٹ اور محرمات سے زبان بھی روزہ رکھے، پڑوسی کو تکلیف دینا چھوڑدو، روزہ والے دن تمہارے اوپر وقار و سکینت چھایا رہے اور تم اپنے روزہ کا دن اور بغیر روزہ کا دن دونوں برابر نہ ہونے دو دونوں میں فرق ضرور ہونا چاہئے۔ [لطائف المعارف]۔

روزہ کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے:lkjبغیر کسی عذر کے جان بوجھ کر کھانے پینے سے اور جماع کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس پر قضاء واجب ہے۔ قضاء: یعنی بعد میں ایک روزہ کے بدلے ایک روزہ رکھنا۔ البتہ جماع کی صورت میں کفارہ بھی دینا ہوگا۔ کفارہ: یعنی ایک غلام آزاد کرنا، ممکن نہ ہوتو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ mجان بوجھ کر قئے کرنا۔ n عمدا وقت سے پہلے افطار کرنا، یا طلوع فجر کے بعد جان بوجھ کر کھاتے پیتے رہنا۔ o حیض و نفاس کا شروع ہونا چاہے وہ افطار سے کچھ پہلے ہی ہو۔ p جلق یا کسی اور طریقہ سے منی نکالنا۔ q روزہ توڑنے کی نیت کرلینا۔ r کوئی چیز نگل لینا چاہے وہ غذا کے طور پر استعمال نہ بھی ہوتی ہو۔ s غذا ئیت والا یا طاقت پہنچانے والا انجکشن لگوانا۔

روزہ کن چیزوں سے نہیں ٹوٹتا: مسواک کرنا، باربار نہانا، گرمی کی شدت یا پیاس کی وجہ سے سر پر پانی ڈالنا، کلی کرنا، ناک میں پانی چڑھانا مگر اس میں احتیاط ضروری ہے کہ اتنا زیادہ اندر نہ کھینچے کہ حلق میں جانے کا اندیشہ ہو، سرمہ لگانا، اپنی ذات پر اعتماد رکھنے والے میاں بیوی کا بوسہ لینا بشرطیکہ انزال کا اندیشہ نہ ہو، ایسا انجکشن لگوانا جو بطور غذا کے استعمال نہ ہوتا ہو، احتلام کا ہوجانا، جنابت کی حالت میں صبح کرنا خواہ جنابت جماع کی وجہ سے ہو یا احتلام کی وجہ سے البتہ فجر سے پہلے پہلے نہالے کہ نماز میں دیر نہ ہوجائے۔ ناک میں کوئی دوا لینا بشرطیکہ وہ حلق میں نہ جائے۔ کان، آنکھ میں دوا لینا۔ ٹیسٹ کے لئے تھوڑا سا خون دینا، نکسیر پھوٹنا، دانت یا زخم سے خون نکلنا،

لیلۃ القدر: جو شب قدر کے نام سے عوام میں معروف ہے ، اسی رات اللہ نے قرآن نازل کیا، اس رات فرشتے اور جبریل امین نزول فرماتے ہیں، وہ رات طلوع فجر تک سلامتی والی ہوتی ہے، اس کی فضیلت و شان میں اللہ نے پوری ایک سورت اتاری۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے لیلۃ القدر کا قیام کیا تو اسکے پچھلے سارے گناہ معاف کئے گئے[بخاری ۱۹۰۱، مسلم ۷۶۰]۔ اور سورۃ القدر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رات ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ اجر و ثواب والی ہے۔

نبی اکرم ^ نے شب قدر کی تعیین نہیں فرمائی، بلکہ آپ ^ کا یہ ارشاد مبارک ہے: کہ لہلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ [بخاری ۲۰۱۶، مسلم ۱۱۶۵]۔

حضرت عائشہ صدیقہ < نے نبی کریم ^ سے عرض کیا کہ کہ اگر میں شب قدر کو پالوں تو کیا دعا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: یہ دعا پڑھو: “اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي“۔ {اے اللہ بے شک تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند فرماتا ہے، پس مجھے معاف کردے}۔ {ترمذی}۔

اعتکاف: اللہ کی عبادت و اطاعت کے لئے اپنے آپ کو دنیوِی کاموں سے فارغ کرکے مسجد میں رہنے کو اعتکاف کہتے ہیں [سورۃ البقرہ ۱۸۷]۔ رمضان کے آخری عشرہ میں ہمیں اس کا اہتمام کرنا چاہئے کہ یہ نبی کریم ^ کی سنت ہے۔ آپ ہر رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے [بخاری۲۰۲۵]۔ {مختلف قسم کی عبادات کے لئَے} اپنی کمر کس لیتے، اپنے گھر والوں کو جگاتے اور ساری ساری رات جاگ کر {عبادات میں} گزارتے[بخاری ۲۰۲۴]۔

ضروری مسائل: جس مسجد میں باجماعت نماز اور جمعہ ہوتی ہو اسی میں اعتکاف کرے، اعتکاف کرنے والا ۲۰ رمضان کا سورج ڈوبتے ہی اعتکاف کے ارادہ سے مسجد میں داخل ہو، اور عید کا چاند دیکھنے کے بعد مغرب کے بعد مسجدِ اعتکاف سے نکلے۔ دوران اعتکاف اپنے وقت کو تلاوت و تدبر قرآن، ذکر الہی، نفل نمازوں کی ادائیگی جیسے نیک کاموں میں گزارے اور کوئی ضروری علمی مجلس جو مسجد میں ہی قائم ہو تو اس میں شریک ہو، اپنے اہل و عیال سے جو اس سے ملاقات کے لئے آئیں کچھ دیر بات کرنے میں کوئی حرج نہیں البتہ دیگر نمازیوں، دوست و احباب کے ساتھ غیر ضروری اور لمبی لمبی گفتگو میں لگے رہنا آدابِ اعتکاف کے خلاف ہے، دوران اعتکاف غیبت، چغلی، جھوٹ اور لایعنی باتوں سے بہت زیادہ پرہیز کرے، بیوی کے ساتھ صحبت یا دوسری شہوت والی حرکات حرام ہیں۔ کسی بیمار کی عیادت کرنا، جنازہ کے ساتھ شریک ہونا بھی درست نہیں، البتہ اگر کھانا لاکر دینے والا کوئی نہ ہو تو کھانا لانے کے لئے جایا جاسکتاہے، اگر حمام کی سہولت نہ ہو تو قضاء حاجت کے لئے مسجد سے باہر جاسکتا ہے۔ اور علاج معالجہ کی ضرورت کے تحت بھی باہر جاسکتاہے۔ دیگر صورت میں نہیں۔

صدقۃ الفطر کی فرضیت، حکمت و مسائل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور جو میں سے ایک صاع بطور صدقہ فطر غلام و آزاد، مرد و عورت، چھوٹے و بڑے ہر مسلمان پر فرض کیا ہے [بخاری ۱۵۰۳، مسلم ۹۸۴]۔ رسول اللہ ^ نے صدقہ فطر روزہ دار کی لغویات اور فحش گوئی سے روزے کو پاک کرنے کیلئےاور مسکینوں کو کھانا کھلانے کیلئے مقرر کیا ہے[ابوداود ۱۶۰۹، ابن ماجہ ۱۸۲۷]۔ نیز روزہ کے اختتام پر یہ اللہ کا شکریہ بھی ہے۔ اسے عید کے لئے نکلنے سے پہلے ادا کردینا چاہئے [بخاری ۱۵۰۲]، اس کے ادا کرنے کا افضل وقت عید کا چاند دیکھنے سے شروع ہوتا ہے، لیکن ایک یا دو دن پہلے ادا کرنا بھی صحابہ کرام سے اجماعا ثابت ہے [بخاری ۱۵۱۱]۔ اگر کوئی عید سے پہلے نہ نکال سکے تو بعد میں ادا کرنا ضروری ہے اسے عام صدقہ کا ثواب ملےگا۔ [ابوداود ۱۶۰۹]۔ بغیر عذر شرعی کے دیر کرنے کی وجہ سے گناہ ہوگا۔ گھر کا سربراہ افراد خانہ کی طرف سےجو غذا وہ عادۃ کھاتے ہیں اس میں سے فی کس ایک صاع فطرانہ فقیروں اور مسکینوں کو دیگا۔ ایک صاع گیہوں، چاول وغیرہ تقریبا پونے تین کلو ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ^ کے زمانہ میں اناج کے علاوہ دینار و درہم کی شکل میں کرنسی، سکے چلا کرتے تھے، اس کے باوجود آپ ^ نے اناج کی شکل میں ہی فطرانہ ادا کرنے کا حکم دیا اور اس کی متعین مقدار بھی بتلادی لہذا فطرانہ سنت نبوی کے خلاف ادا کرنا جائز نہیں۔ [مجموع فتاوی شیخ ابن عثیمین ۱۸/۲۷۷- ۲۸۰]۔

البتہ جس جگہ فطرانہ نکالا جائے وہاں فقراء و مساکین نہ ہوں تو اس مقدار کی کرنسی نکال کر کسی ایسے شخص کو بھیج کر اسے اپنا وکیل بنائے جو فقراء و مساکین میں اناج کی شکل میں اسے دے

ختم شدہ

{ ناشر : www.islamidawah.com }

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں