91

میلادالنبی کاجشن مناناکیانبی سےمحبت کی علامت ہے؟

بسم الله الرحمن الرحيم

میلادالنبی کاجشن مناناکیانبی سےمحبت کی علامت ہے؟

علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے ایک سوال اور اس کاجواب

ترجمہ : شیخ ابو احمد حفظہ اللہ

{ناشر:مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

(1)سوال:

بہت سارےلوگ یہ کہتے ہیں کہ مَولِد(میلادالنبی منانا)بدعت نہیں اسلئے کہ اسمیں نبی کویاد کیاجاتاہے،نبی کےمجدو شرافت کااس میں تذکرہ ہے،لہوولعب اورغناسےبالکل پاک وصاف ہے،بلکہ اسمیں صرف آپ کو یاد کیا جاتا ہے۔اس صورت میں اس مولد کا کیا حکم ہے؟موضوع کےمتعلق مجھےواضح اور تشفی بخش جواب سے نوازیں۔

جواب: (علامہ فضیلة الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ)

الحمد لله رب العالمين وأصلي وأسلم على نبينا محمد وعلى آله وأصحابه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين.اسمیں کوئی شک نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قافلئہ انسانیت کےسردار ہیں،اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہم پر ہمارے ماں باپ سے زیادہ آپ کےحقوق ہیں،ہم پر واجب ہے کہ آپ کی محبت کواپنےنفس،اولاد،والدین اورتمام لوگوں کی محبت کےاوپر مقدم کریں،اوریہ امرمسلم ہےکہ جوفضیلت ومنقبت آپ کوحاصل ہےوہ دوسروں کونہیں۔

لیکن جہاں تک محفلِ میلادمنعقدکرنےکاسوال ہے تواس مسئلہ میں دوپہلو سےبحث کریں گے:

(1)تاریخی حیثیت: تو اس لحاظ سےربیع الاول کی بارہویں رات یااس کےدن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کاثبوت نہیں ملتا،بلکہ دورِحاضر کےبعض ماہرِفلکیات نےربیع الاول کی نویں تاریخ کوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کاہوناثابت کیاہے۔اس لحاظ سےبارہویں ربیع الاول یااس کی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کایومِ ولادت درجئہ صحت سےبعیدترہے۔

(2)بحیثیت عبادت: تو ہم کہتےہیں کہ جولوگ محفلِ میلادسجاتےہیں ان کاکیامقصدہے؟

کیا وہ محبتِ نبی کوظاہر کرناچاہتےہیں؟ اگران کایہ مقصدہےتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کااظہارآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پرعمل کرنے،اس کاپابندہونے،اس کادفاع کرنے،اورہرقسم کی بدعت سےاسےمحفوظ رکھنےسےحاصل ہوگا۔

یاان کامقصدنبی کویادکرناہے؟ تونبی کاتذکرہ ہرروزآذان میں ہوتاہےجب مؤذن حضرات منبروں سے”أشهد أن محمداً رسول الله” کااعلان کرتےہیں،اورنمازی حضرات ہرنمازمیں کہتےہیں:”السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته”اورکہتےہیں:”اشهد ألا إله إلا الله وأشهد أن محمداً عبده ورسوله”اور کہتےہیں:”اللهم صل على محمد وعلى آل محمد”بلکہ ہر عبادت میں آپ کاذکرموجودہےاسلئےکہ عبادت کی اساس وبنیاد دوچیزوں پرہے:

(1) خالص اللہ کےلئےہو۔

(2) اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت وپیروی ہو۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کےذریعہ آپ کی یاد دل میں ہوتی ہے۔

یاکثرت کےساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردرودوسلام بھیجنااور آپ کےفضل ومنقبت کااظہاران کامقصدہوتاہے؟

توہم اس طرح کےارادہ پران کوابھارتےہیں کہ وہ زیادہ سےزیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردرودوسلام پڑھیں،آپ کےفضائل ومناقب امت میں بیان کریں،اسلئےکہ یہ چیز اتباعِ شریعت،آپ کی تعظیم،اورکمالِ محبت تک پہنچاتی ہے۔لیکن کیایہ چیز اس دن کی قید کےساتھ ثابت ہےجوآپ کےولادت کادن ہےیاوہ ہروقت اورہرزمانہ کےلئےہے؟تواس کاجواب یہ ہےکہ یہ ہروقت کےلئےعام ہے۔

پھرہم کہتےہیں اللہ کی اس آیت کوپڑھو )وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ( (التوبة100)

(اورجومہاجرین اورانصارسابق اورمقدم ہیں اورجتنےلوگ اخلاص کےساتھ ان کےپیروہیں اللہ ان سب سےراضی ہوااور وہ سب اس سےراضی ہوئے)

توکیاہم لوگ میلادنبی کاجشن منانےمیں حضرات صحابہ مہاجرین وانصارکی پیروی کررہےہیں؟ توجواب نفی میں ہے۔اسلئےکہ خلفاءراشدین،سارےصحابہ اورتابعین اوران کےبعدائمہ مسلمین نےنہ کبھی اس جشن کااہتمام کیااور نہ ہی اس کی طرف لوگوں کوبلایا۔

توکیاہم لوگ نبی کی ولادت کاجشن منانےمیں ان حضرات سےزیادہ حقدارہیں؟ یاوہ غافل اورنبی کےاس حق میں کوتاہی کرنےوالےہیں؟ یااس بارےمیں انہیں واقفیت ہی نہیں؟

(بلکہ حقیقت یہ ہےکہ)ان سب کاکوئی وجود ہی نہ تھا،اس لئےکہ وجودِ سبب (اور وہ ہےآپ کی محبت) کےساتھ ممانعت بھی نہ ہو،ناممکن ہےکہ اس طرح کی چیز پیش نہ آئےاور اس جشن کے قیام میں صحابہ کرام کےسامنےکوئی رکاوٹ نہ تھی،لیکن انہیں معلوم تھاکہ یہ بدعت ہے اور محبتِ رسول کی سچی علامت یہ ہے کہ آپ کی کامل اتباع کی جائے نہ کہ انسان شریعت میں ایسی بدعت کا اضافہ کرےجودین سے نہ ہو،تو جب انسان نبی کی محبت میں صادق ہوگااور یہ اعتقاد بھی رکھتاہوکہ آپ سید البشرہیں تو وہ شریعت کو لازم پکڑےگاجودین میں پائےگااس پرعمل کرےگا،اورجس کاوجود نہ ہواس سے اعراض کرےگا،یہی خالص اور کمالِ محبت ہے۔

پھراس قسم کےمیلادوں میں (مردوزن کا)اختلاط ہوتاہے،نبی کی شان میں غلو کیاجاتاہےیہاں تک کہ بوصیری کی طرف منسوب قصیدہ بردہ کو ترنم کے ساتھ پڑھاجاتاہے،جس میں (نبی کی شان میں غلو کرتے ہوئے)بوصیری کہتاہے:(اےمخلوق پرسخاوت کرنےوالےمجھےکیاہواہےکہ جب بڑی مصیبت آئےآپ کےسواکسی اور کی پناہ میں جاؤں) یہ بات وہ کیسےکہ رہاہے کہ بڑی مصیبت کےوقت آپ(صلی اللہ علیہ وسلم)کےعلاوہ کیسےکسی اور کی پناہ لوں!کیایہ صحیح ہے؟

یعنی مصیبت کی گھڑی میں نہ اللہ عزوجل کی طرف رجوع کرےاور نہ اس کی پناہ چاہے!یہ توشرک ہے۔

پھربوصیری کہتاہے:(اگر بروزِقیامت آپ نےمیری دست گیری نہ کی اورہمارےگنہ گارہاتھ کونہ پکڑاتوقدم پھسل جائیں گےیعنی ہلاک ہوجائیں گے)تو کیاقیامت کےدن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کونجات دلائیں گے؟اس دن تو پل صراط سےگذرتےوقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاہوگی:اللهم سلم اللهم سلم(اےاللہ بچالیجئے،اےاللہ بچالیجئے)

اسی قصیدہ میں ایک جگہ نبی کومخاطب کرتےہوئےکہتاہےکہ:(بلاشبہ دنیاوآخرت(کاوجود)آپ(صلی اللہ علیہ وسلم)کے کرم سےہے)(یعنی)دنیاوآخرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےکرم اورسخاوت کی وجہ سےہے۔اوران دونوں کاوجودآپ کےپورےکرم کا مظہر نہیں بلکہ اس کابعض حصہ ہے،آپ تواس سےکہیں زیادہ فیاض اورسخی ہیں۔

جب اس نےدنیاوآخرت کوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فیاضی کانتیجہ بتلایاہےتو انمیں اللہ کےلئےکیاباقی بچتاہے؟اللہ کےلئے تو دنیاوآخرت میں کوئی بھی چیز باقی نہ رہی۔

اور یہ بھی کہتاہےکہ لوح وقلم کاعلم آپ کےعلوم میں سےہے ـ سبحان اللہ ـ(لوح وقلم کاعلم )آپ کےعلم میں سےہے؟ آپ کےہرعلوم میں سےیہ نہیں ہےکہ لوحِ محفوظ میں جوکچھ ہےوہ آپ جان لیں۔اس کےساتھ ساتھ اللہ نےاپنےنبی کوخاص حکم دیتےہوئےیہ فرمایاکہ:)قُل لاَّ أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَآئِنُ اللّهِ وَلا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَيَّ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَفَلاَ تَتَفَكَّرُونَ ( (الأنعام50)

(آپ کہدیجئےکہ نہ تومیں تم سےیہ کہتاہوں کہ میرےپاس اللہ کےخزانےہیں اورنہ میں غیب جانتاہوں اورنہ میں تم سےیہ کہتاہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں توصرف جوکچھ میرےپاس وحی آتی ہےاس کااتباع کرتاہوں آپ کہدیجئےکہ اندھا اوربینا کہیں برابرہوسکتاہے؟کیاتم غورنہیں کرتے)

توجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوان چیزوں کاعلم نہیں جودنیا میں آپ سےپوشیدہ ہیں تویہ کیسےکہاجائےکہ لوح وقلم کاعلم آپ کےپاس ہے؟یہی نہیں بلکہ وہ آپ کےعلوم میں سےہے!یہ وہ غلوہے جسےرسول بھی پسند نہ کریں بلکہ اس پر انکار کریں اوراس سےروکیں ۔

پھراس محفلِ میلاد میں کئی ایسےامور پائےجاتےہیں جنہیں پاگل لوگ ہی انجام دےسکتےہیں۔ میں نےسناہے کہ لوگ دورانِ جلوس اچانک اچھل پڑتےہیں اور ایک آدمی کےقیام کےلئےسب کھڑےہوجاتےہیں اوریہ دعویٰ کرتےہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس میں حاضر ہوئےہیں اس لئےلوگ آپ کےاحترام میں کھڑےہوتےہیں ۔

ایک عقلمندشخص اس طرح نہیں کرسکتاچہ جائیکہ ایک مؤمن سےاس طرح کی جنونی کیفیت صادرہو!نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی قبر میں ہیں قیامت کےدن ہی اس سےنکلیں گےجیساکہ اللہ عزوجل فرماتےہیں :)ومن ورائهم برزخ إلى يوم يبعثون( (المؤمنون:100)

(ان کےپسِ پشت تو ایک حجاب ہےان کےدوبارہ جی اٹھنےتک)

خلاصہ کلام یہ ہےکہ جشنِ میلادالنبی منانانہ تاریخی حیثیت سےدرست ہے اور نہ ہی شرعی حیثیت سےوہ تو بدعت ہے۔اور مخلوق میں سب سےزیادہ سچےاور اللہ کی شریعت کوسب سےزیادہ جاننےوالے(صلی اللہ علیہ وسلم)کاقول ہے: كل بدعة ضلالة “(ہربدعت گمراہی ہے)۔

میں اپنے مسلمان بھائیوں کو اس بات کی دعوت دیتاہوں کہ اس بدعت کو ترک کردیں ،اللہ کی طرف متوجہ ہوں اورسنتِ نبی اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کی تعظیم کریں ، اورکوئی اللہ کی شریعت میں کسی نئی چیز کااضافہ نہ کرےجواس سےمتعلق نہ ہو۔میں انہیں نصیحت کرتاہوں کہ وہ اپنےاوقات،عقل،افکاراور اپنےجسموں کی حفاظت کریں اور اس بدعتی جشن میں اپنےاموال کو ضائع نہ کریں۔

اللہ تعالیٰ سےہم اپنےاور ان کےلئےہدایت،توفیق اوراصلاحِ حال کا سوال کرتےہیں۔بلاشبہ وہ ہرچیز پر قادرہے۔

(2)سوال:

فضیلة الشیخـ الله آپ کی حفاظت کرے ـ جیساکہ آپ نےبیان کیا کہ یہ لوگ گمان کرتےہیں کہ وہ نبی سےمحبت کرتےہیں اسلئےولادتِ نبی کاجشن مناتے اورنعت خوانی کرتےہیں۔تو اس طرح کےجشنِ میلادکاجسمیں حُبِّ رسول کا دعویٰ کیاجاتاہو،کیاحکم ہے؟

جواب: (علامہ فضیلة الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ)

“جورسول سےمحبت کرےگاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےطریقے پرچلےگا”اس قاعدہ کی روشنی میں جورسول صلی اللہ علیہ وسلم سےمحبت کرےگاوہ دین میں کسی بدعت کااضافہ نہ کرےگا۔اس موضوع پرہمارےاوردوسروں کے لئےکئی تحریریں اوربیانات ہیں۔اللہ ہمارےبھائیوں کوصراطِ مستقیم پرچلنےکی توفیق عطافرمائے۔(آمین)

یاسبحان اللہ!ابوبکر،عمر،عثمان،علی،حضرات صحابہ اورائمئہ مجتہدین کہاں تھے؟کیا وہ اس محبت سے ناآشناتھے؟یا انہوں نےاسمیں کوتاہی کی؟یہ امر دو حال سےخالی نہیں:

یاتو وہ حقِ رسول سےناآشناتھےکہ انہوں نےجشنِ ولادت نہیں منایا،یا اس حق میں تقصیر اورکوتاہی کرنےوالے تھے۔

مکمل تین صدیاں گذرگئیں لیکن کسی نےبھی اس بدعت کو نہ جانا اورہم کہتےہیں کہ یہ مشروع ہے؟اللہ اوراس کےرسول کومحبوب ہے!جومحفلِ میلادسجائےاس کےلئےنفع بخش ہے!یہ کیسے ممکن ہے؟

پھراس طرح کی محفلوں میں بڑےبڑےمنکرات ہوتےہیں،شانِ نبی میں بہت زیادہ غلوکیاجاتاہے۔

ہم اللہ تعالیٰ سےاتباع کی توفیق کاسوال کرتےہیں،اللہ تعالیٰ سےایسےایمان کاسوال کرتےہیں جس کےساتھ کفر نہ ہو،اور ایسےیقین کاجس کےساتھ شک نہ ہو،اورایسےاخلاص کاجس کےساتھ شرک نہ ہو،اور ایسی اتباع کاجس کےساتھ بدعت نہ ہو۔

(اللہ حق کوحق سمجھنےاوراس پرعمل کرنے،اورباطل کوباطل سمجھنےاوراس سےبچنےکی توفیق عطافرمائے)

ختم شدہ

{ناشر:مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں