38

طاق راتوں میں شب بیداری کا مسنون طریقہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

طاق راتوں میں شب بیداری کا مسنون طریقہ

از افادات : علامہ محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ

{پیشکش :شعبہ توعیۃ الجالیات الغاط www.islamidawah.com }

رمضان المبارک کے آخری عشرے میں پانچ طاق راتیں آتی ہیں 21، ،23 ،25 ، 27 ، 29 ویں شب ان پانچ راتوں میں سے کسی میں شب قدر کا احتمال غالب ہے جس کو اللہ تعالی نے اس لئے مبہم رکھا ہے کہ مسلمان اس کی تلاش و جستجو کے شوق میں پانچ راتوں میں خصوصا اللہ تعالی کی عبادت میں منہمک ہوں ، نوافل پڑھیں ، تلاوت کریں استغفار اور ذکر الہی میں مصروف رہیں ۔

چنانچہ صحابہ و تابعین کے دور خیر القرون میں ان پانچوں راتوں میں مسلمان کثرت سے عبادت و ذکر الہی کا اہتمام کرتے کہ شاید وہ اس شب قدر سے حظ پاسکیں جس کی عبادت ہزار مہینوں [83 سال سے زائد مدت ] سے افضل ، ” لیلۃ القدر خیر من الف شھر ” { القدر } ۔

یہ عبادت و ذکر اور شب بیداری کا اہتمام انفرادی طور پر ہوتا تھا یعنی فردا فردا ہر شخص اپنے طور پر قیام اور تلاوت کرتا مگر شب بیداری کی مروجہ اجتماعی صورتیں خیر القرون میں نہیں تھیں ، یعنی ان طاق راتوں میں وعظ و تقریر کا اہتمام ، شبینوں کے بعض علاقوں میں ہوتا ہے ، بالخصوص اس رات کو وعظ کا اہتمام کیا جاتا ہے جس رات میں قرآن مجید ختم ہوتا ہے ، افسوس کہ ہم اہلحدیثوں میں بھی ختم قرآن کے ساتھ ساتھ وعظ کے ذریعہ شب کا رواج بڑھتا جارہا ہے حالانکہ صحابہ وتابعین کےدور میں ایسی چیزوں کا وجود نہیں تھا ، چنانچہ چھٹی صدی ہجری کے مالکی امام ابو بکر محمد بن الولید طرطوشی {متوفی 520ھ } لکھتے ہیں :

” لم یرووا فی شیئ من ذلک احدثہ الناس من ھذہ البدع من نصب المنابر عند ختم القرآن و القصص و الدعاء بل قد حفظ النھی عن ذلک

{ کتاب الحوادث و البدع ،ص:52 }

” محدثین نے {صحاح ستہ وغیرہ کتب حدیث میں } ایسی کوئی روایت بیان نہیں کی کہ رمضان میں ختم قرآن کے موقع پر وعظ کئے جائیں اور اس کے بعد بلند آواز سے لمبی لمبی دعائیں کی جائیں بلکہ ائمہ سلف سے تو ان چیزوں کی ممانعت منقول ہے پھر امام مالک کے متعلق یہ لکھ کر انہوں نے ان چیزوں کو ناپسند کیا اور اس سے روکا ہے ، لکھتے ہیں :

ان الامر المعمول بہ فی المدینۃ انما ھو الصلاۃ من غیر قصص و لا دعا ء ۔

کہ مدینہ میں بغیر وعظ اور مروجہ دعا­ؤں کے صرف نماز کا معمول تھا ” ۔

امام مالک کا یہ فتوی الموونۃ الکبری ،ص:194 ، طبع مصر سن1312ھ ، میں موجود ہے ، ان کے شاگرد امام ابن القاسم لکھتے ہیں :

سمعت مالکا یقول الامر فی رمضان الصلاۃ ولیس بالقصص بالدعاء لکن الصلاۃ ۔ انتہی ۔

آگے چل کر وہ سوال و جواب کی صورت میں لکھتے ہیں : فان قیل فھل یا ثم فاعل ذلک ” ۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا ایسا کرنے والا گنہگار ہوگا ؟فالجواب ان یقال اما ان کان ذلک علی وجد السلامۃ من اللغط ولم یکن الا الرجال آگے چل کر وہ سوال و جواب کی صورت میں لکھتے ہیں : فان قیل فھل یا ثم فاعل ذلک ” ۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا ایسا کرنے والا گنہگار ہوگا ؟ فالجواب ان یقال اما ان کان ذلک علی وجد السلامۃ من اللغط ولم یکن الا الرجال أو الرجال و النساء منفردین بعضھم عن بعض یستمعون الذکر ولم ینتھک فیہ شعائر الرحمن فھذہ البدعۃ التی کرھھا مالک {ص:68 } ۔

تو ” اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی مجلسیں شور وشغب اور مرد وزن کے بے پردہ اجتماع سے پاک ہوں اور شعائر اللہ کی بے حرمتی بھی ان میں نہ ہو تو اس بدعت کو امام مالک نے مکروہ جانا ہے ۔

چھٹی صدی ہجری یعنی آج سے آٹھ سو سال قبل { اندلس کے } قیرون شہر میں ایسا ہوتا تھا تو اس وقت محقق علماء نے اس فعل پر نکیر اور اسے بدعت قرار دیا ، چنانچہ شیخ ابو شامہ شافعی { متوفی 665 } انہی امام طرطوشی کی نکیر اہل قیروان کے متعلق نقل کرتے ہیں ۔

” وقد انکر الامام الطرطوشی علی أھل القیروان اجتماعھم لیلۃ الختم فی صلوۃ التراویح فی شھر رمضان ونصب المنابر وبین أنہ بدعۃ ومنکر و أن مالکا رحمہ اللہ تعالی کرھہ

{ الباعث علی انکار البدع و الحوادث ،ص:25 ، مطبع مصر } ۔

” امام طرطوشی نے اہل قیروان کی اس بات پر سخت نکیر کی کہ وہ رمضان میں ختم قرآن والی رات میں وعظ و تقریر کے لئے جمع ہوتے ہیں اور اسے انہوں نے بدعت قرار دیا ” ۔

بہر حال شب بیداری کے مروجہ طریقے صحابہ وتابعین کے دور میں نہیں تھے ، لہذا ان طریقوں سے اجتناب کرنا ضروری ہے ، اہلحدیث مساجد میں خصوصا اس رواج کو بند ہونا چاہئے کہ اس سے بدعات کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے ، البتہ انفرادی طور پر ان راتوں میں تلاوت قرآن { نفلوں میں یا ویسے } کا اہتمام کیا جائے اور شب قدر کی فضیلت و سعادت حاصل کرنے کی پوری سعی کی جائے ۔

ختم شدہ

{بشکریہ ہفت روزہ اعتصام لاہور ،

جلد نمبر :47 ، شمارہ نمبر :07 ، صفحہ :11- 12 } ۔

{پیشکش :شعبہ توعیۃ الجالیات الغاط www.islamidawah.com }

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں