119

آپ حج کیسے کریں – قسط نمبر :2/1

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آپ حج کیسے کریں

قسط نمبر :2/1

از قلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ

{ناشر:مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

حج سے نکلنے سے قبل کے آداب :

1 : حلال کمائی کا اہتمام :

ارشاد نبوی ہے : إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لاَ يَقْبَلُ إِلاَّ طَيِّبًا ۔ اللہ تعالی پاک ہے اور پاکیزہ ہی چیز کو قبول فرماتا ہے ۔

{ صحیح مسلم : 1015 الحدیث }

2 : ماسبق گناہوں سے توبہ اور حقوق العبادسے چھٹکارا ۔

ارشاد باری تعالی ہے : وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۔{النور :31}اے مومنو ” تم سب کے سب اللہ تعالی سے توبہ کرو تا کہ کامیاب ہو جاو ۔

عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ فَمَنْ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا. فَكَانَ يَقُولُ « لاَ حَرَجَ لاَ حَرَجَ إِلاَّ عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ فَذَلِكَ الَّذِى حَرِجَ وَهَلَكَ ».۔

حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیلئے روانہ ہوا ، چنانچہ لوگ آپ کے پاس آتے تھے تو جس نے بھی کہا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے طواف سے پہلے سعی کرلی ہے ، یا کوئی کام پہلئے کر لیا ہے یا موخرکردیا ہے تو آپ فرماتے تھے :کوئی حرج نہیں ، کوئی حرج نہیں ، ہاں مگر جو شخص کسی مسلمان کی عزت ریزی کرے {غیبت کرے ، طعن وتشنیع کرے }تو وہی شخص حرج میں پڑا اور ہلاک ہو ۔

{ابوداود :2015 ا ، ابن خزیمہ : 2774}

3 : اچھے ساتھیوں کی تلاش ۔

عَنْ أَبِى سَعِيدٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تُصَاحِبْ إِلاَّ مُؤْمِنًا وَلاَ يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلاَّ تَقِىٌّ ».

حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :صرف مومن آدمی کا ساتھ کرو اور تیرا کھانا بھی کوئی متقی آدمی ہی کھائے {الحدیث}

{سنن ابو داود:4832، سنن الترمذی :2395}

4 : نیت صادقہ اوراخلاص ۔

ارشاد باری تعالی ہے مَن كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لاَ يُبْخَسُونَ()أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ إِلاَّ النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُواْ فِيهَا وَبَاطِلٌ مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ (ھود16,15)

جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انہیں دنیا میں ہی دے دیتے ہیں اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی … یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آتش (جہنم) کے سوا کوئی چیز نہیں اور جو عمل انہوں نے دنیا میں کئے سب برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے، سب ضائع

5 : حج کا طریقہ سیکھے ۔ اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے سفر حج سے قبل مسجد نبوی میں ایک خطبہ دیا اور حج کے بارے میں ہدایات فرمائی۔

{صفہ حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم للالبانی ص46 }

عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَفَاضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ ، وَأَمَرَنَا بِالسَّكِينَةِ ، ثُمَّ قَالَ : خُذُوا مَنَاسِكَكُمْ لِعَلِّي لاَ أَلْقَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا ۔

حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقعہ پر عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ پر اطمینان وسکون کی کیفیت تھی ،۔۔۔۔۔ پھر آپ نے فرمایا :مجھ سے اپنے حج وعبادت کا طریقہ سیکھ لو شاید اس سال کے بعد تم لوگوں سے میری ملاقات نہ ہو سکے ،

{سنن ابن ماجہ :3023}

6 : اہل خانہ کو تقوی اور دین داری کی وصیت کرے ۔ اور اسکے اوپر کسی کاقرض ہے یا اسکا کسی پر قرض ہے تو اسے لکھ کر رکھ دے ۔

سفر کی ابتدا :

1 : سفر حج سے قبل کی جو بد عات ہمارے یہاں ایجاد ہیں ان سے پر ہیز کریں جیسے حاجیوں کو رخصت کرتے ہوئے جلوس لیکر چلنا ، انھیں پھولوں کا ہار پیش کرنا ، عورتوں کا غیر محرم مردوں کےساتھ حج کیلئے نکلنا ، فرضی نکاح پڑھانا ، حج کے سفر میں انبیاء وصالحین کی قبروں کی زیارت کوشامل کرنا وغیرہ ۔

2 : دعائے سفر کا اہتمام جیسے :

حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمجب سواری پر قدم رکھتے تو تین بار اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعا پڑھتے :« سُبْحَانَ الَّذِى سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِى سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِى السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِى الأَهْلِ اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِى الْمَالِ وَالأَهْلِ ». اور جب سفر سے واپس ہوتے اس دعا کو پڑھتے اورع مزید کہتے :« آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ».

{صحیح مسلم : 1342}

بلندی پر چڑھتے اور بلندی سے اتر تے وقت اللہ اکبر اور سبحان اللہ کہے

{حضرت ابو ہریرۃ سے روایت ہے کہ ایک شخص کو سفر کیلئے رخصت کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم تمہیں اللہ تعالی سے ڈرنے اور بلندی پر چڑھتے ہوئے تکبیر کہنے کی وصیت کرتے ہیں }

{ احمد 2/ص325 ، الترمذی ، ابن ماجہ عن ابی ھریرہ }

حضرت جابر بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ ہم جب بلندی پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب نیچے اتر تے تو سبحان اللہ کہتے ،

کسی جگہ پرنازل ہونے کی دعا :

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ار شاد فرمایا : « مَنْ نَزَلَ مَنْزِلاً ثُمَّ قَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ. لَمْ يَضُرُّهُ شَىْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ ».

جو شخص کسی جگہ پر اترے اور یہ دعا پڑھ لے تو اس جگہ جب تک ٹھہرارہے گا کوئی چیز تکلیف نہ دے گی ،

{ مسلم :2708، بروایت خولۃ بنت حکیم}

3 : کسی کو اپنا امیر بنا لے ۔

ارشاد نبوی ہے : « إِذَا كَانَ ثَلاَثَةٌ فِى سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ ».

{ابو داود، 2607 بروایت ابوہریرۃ }

جب تین آدمی کسی سفر میں نکلیں تو اپنے میں سے کسی ایک آدمی کو اپنا امیر بنالیں ۔

4 : اپنے ساتھ بعض کتابچے ، کیسٹیں ، اور کچھ مفید چیزیں رکھ لیں ، اہل علم کا ٹلیفون نمبر اپنے ساتھ رکھنا نہ بھولیں ۔

میقات پر ۔

میقات کیا ہے ؟ میقات کے لغوی معنی ہیں کسی عمل کیلئے کوئی متعین جگہ یا وقت معین ،

شرعی اصطلاح کے لحاظ سےمیقات دوطرح کی ہیں[1]میقات زمانی [2]میقات مکانی ،

میقات زمانی یعنی وہ وقت جسمیں حج کا احرام باندھا جاسکتا ہے اور وہ تین مہینے ہیں ۔ شوال ۔ ذی القعدۃ ۔ اور ذی الحجہ کے دس دن ۔

میقات مکانی وہ جگھیں ہیں کہ حج وعمرے کا ارادہ کرنے والے کے لئے وہاں سے آگے بغیر احرام باندھے گزرنا جائز نہیں ہے ۔ خطبنا رسوال اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال :مهل أهل المدينة من ذي الحليفة{ابیار علی} ومهل أهل الطريق الأخرى من الجحفة{رابغ}ومهل أهل العراق من ذات عرق{الفریبۃ}ومهل أهل نجد من قرن {السیل }ومهل أهل اليمن من يلملم{السعدیہ} {مسلم واحمد عن جابر ،}فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمُهَلُّهُ مِنْ أَهْلِهِ وَكَذَاكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا.

{متفق علیہ عن ابن عباس }

حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : اہل مدینہ کے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ {ابیار علی } ہے دوسرے راستے {شام } سے آنے والوں کے احرام کی جگہ جحفہ {رابغ} ہے ، اہل عراق کے احرام باندھنے کی جگہ ذات عرق{الضریبہ}ہے ، اہل نجد کے احرام باندھنے کی جگہ قرن المنازل {سیل کبیر} ہے اور اہل یمن کے احرام باندھنے کی جگہ یلملم {سعدیہ} ہے ،{صحیح مسلم :1183 الحج} ۔ نیز فرمایا : جو شخص ان جگہوں کے بعد ہے اسکے احرام باندھنے کی جگہ اسکا گھر ہے حتی کہ اہل مکہ اپنے گھر سے احرام باندھیں گے ،

{بخاری :1524 الحج ،مسلم : 1181 الحج }

میقات پر اعمال :

1: غسل کرنا ، سلے ہوئے کبڑوں کو اتاردینااور غیر ضروری بالوں وناخنوں کاکاٹنا ۔

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھنے کیلئے اپنے {سلے ہوئے }کپڑے اتارے اور غسل فر مایا {سنن الترمذی : 830}

{واضح رہے کہ ناخون اور بال وغیرہ کا کاٹنا احرام کیلئے سنت نہیں ہے لیکن چونکہ پہلے زمانے میں حالت احرام میں کئی کئی ہفتوں تک رہنا پڑتا تھا اسلئے علماء نے اسے مستحب کہا ہے لیکن آج کل اسکی ضرورت نہیں ہے ،واللہ اعلم}

2: دوچادروں میں احرام باندھے بہتر ہے کہ سفید ہوں ،

حدیث میں ہے : انْطَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ بَعْدَ مَا تَرَجَّلَ وَادَّهَنَ وَلَبِسَ إِزَارَهُ وَرِدَاءَهُ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ نے صحابہ کنگھی کیا ، تیل لگا یا ، احرام کےلئے چادر اورتہبند پہنا پھر مدینہ منورہ سے روانہ ہوگئے ۔

{البخاری }

3: خوشبو وغیرہ کا استعمال کرسکتا ہے بشرطیکہ خوشبواحرام کے کپڑوں پر نہ لگائے ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے : كنت أطيب رسول الله صلى الله عليه و سلم لإحرامه قبل ان يحرم ولحله قبل ان يطوف بالبيت ۔۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش بو لگا تی تھی آپ کے احرام کیلئے احرام باندھنے سے قبل اور آپ کے حلال ہونے کیلئے طواف افاضہ سے قبل ۔

{صحیح البخاری : 539 الحج }

4: اگر طبعی امور کی شکار عورتیں ہیں تو انکے لئے غسل کرنا سنت ہے ۔

حضرت جابر بیان کرتے ہیں : حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِى بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَيْفَ أَصْنَعُ قَالَ « اغْتَسِلِى وَاسْتَثْفِرِى بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِى ».۔{ مسلم } جب ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں حضرت اسماء بنت عمیس نے محمد بن ابو بکر کو جنم دیا ، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوال کرنے کیلئے بھیجا کہ اب ہم کیا کریں ؟ آپ نے فر مایا نہا کر کسی کپڑے کا لنگوٹ کس لو اور احرام باندھ لو ۔

{صحیح مسلم :1281 }

5 : اگر کسی نماز کاوقت ہے تو وہ نمازپڑھے ،ورنہ تحیۃ الوضوء کی نیت سے دورکعت نفل پڑھے ۔

6 : نماز سے فارغ ہونے کے بعد یاسوا ری پر بیٹھ کر احرام میں داخل ہونے کی نیت کرے اور جس قسم کا حج کر نا چاہتا ہے اسکا تلبیہ پکارے۔

میقات سے رخصتی :

خضوع و خشوع اور سکینت ووقار سےتلبیہ پکارتے ہوئے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو اور راستے میں برابر تلبیہ پڑھتا رہے ،

ایک حدیث میں ہے : ما من مسلم يلبي إلا لبى من عن يمينه أو عن شماله من حجر أو شجر أو مدر حتى تنقطع الأرض من هاهنا و هاهنا۔{ التر مذی وابن ماجہ } جب بھی کوئی مسلمان تلبیہ پڑھتا ہے تو اسکے دائیں اور بائیں جو پتھر ، درخت اور مٹی ہوتے ہیں وہ تلبیہ پڑھنا شروع کردیتے ہیں حتی کہ اس طرف اور اس طرف سے زمین کے آخر تک پہنچ جاتے ہیں ۔

{سنن التر مذی ، سنن ابن ماجہ}

ایک اورحدیث میں ہے : أتاني جبريل فأمرني أن آمر أصحابي أن يرفعوا أصواتهم بالإهلال والتلبية۔۔ { سنن ابوداود ، سنن الترمذی } وفی روایۃعند ابن ماجہ عن زید بن خالد}۔۔۔۔فانہامن شعار الحج ۔

میرے پاس حضرت جبریل تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے صحابہ کو حکم دے دوں کہ وہ تلبیہ پڑھتے وقت اپنی آواز کو بلند کریں کیونکہ یہ حج کا شعار ہے ۔

مکہ میں داخلہ:

1: اگر مکہ میں داخلہ سے قبل رات گزارنے کا موقعہ مل جائے اور میسر ہو تو مکہ مکرمہ داخل ہونے سے قبل غسل کرے ،

جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہماکا عمل تھا اور وہ بیان کرتے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول تھا ۔ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :یفعل ذلک ۔

{ صحیح بخاری ومسلم }

طواف :

2: سیدھے مسجد حرام جائے ،عام مساجدمیں داخلےکے آداب کو یہاں بھی ملحوظ رکھے ۔

3: مسجد حرام میں داخلے کیلئے کوئی خاص دعا نہیں ہے ، عام مساجد میں داخلے کی دعاہی یہاں پڑھی جائے ۔

بسم الله والصلاة والسلام على رسول الله اللَّهُمَّ افْتَحْ لِى أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ.

4: حجر اسود کے پاس پہنچ کر تلبیہ بند کر دے اور اضطباع کر لے ، شرط یہ ہے کہ طواف شروع کرنے سے قبل باوضوہو،

5: حجر اسود کو چومنا ، چھونا اور اشارہ کرنا جو بھی ممکن ہو کرے اور بِسْمِ اللهِ اللَّهُ أَكْبَرُ ، کہکر طواف شروع کرے ، {اللہ اکبر }اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے،اور بسم اللہ حضرت ابن عمر سے ۔

6: اس طواف کے تین چکروں میں رمل کرے ۔

7: ہر چکر میں رکن یمانی کو چھوئے اور اگر ممکن نہ ہو تو اشارہ کرنے ضرورت نہیں ہے بلکہ ویسے ہی آگے بڑھ جائے ۔

8: رکن یمانی اور حجر اسود کے بیچ میں ۔رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔پڑھے۔

9: ہر چکر کیلئے الگ الگ دعا خاص کرنا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ ، اور ائمہ کرام سے ثابت نہیں ہے ۔

10: سات چکر پورے کر لینے کے بعد اپنے کندھے کو ڈھک لے ۔

11: پھر مقام ابراہیم کے پاس جا کر اسکے پیچھے دورکعت نماز پڑھے ، پہلی رکعت میں سورہٴ کافرون اور دوسری میں سورہٴ اخلاص پڑھے

{مسلم /1218}۔

12: پھر حجر اسود کا استلام کرے اور اگر ممکن نہ ہو تو صرف اشارہ کرکے صفا کی طرف روانہ ہو جائے ۔

اس طواف کی بڑی فضیلت وارد ہے : إن استلامهما يحط الخطايا قال وسمعته يقول من طاف أسبوعا يحصيه وصلى ركعتين كان له كعدل رقبة قال وسمعته يقول ما رفع رجل قدما ولا وضعها الا كتبت له عشر حسنات وحط عنه عشر سيئات ورفع له عشر درجات ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس شخص نے شمار کر کے سات چکر طواف کیا اور اسکے بعد دورکعت نماز پڑھی تو اسے ایک غلام آزاد کرنے کا اجر ملے گا ۔

ایک اور حدیث میں ہے طواف ک

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں