90

اے حاجی سن لے ذرا !!!!

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اے حاجی سن لے ذرا !!!!

{خصوصی پیشکش :مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

حج کا قصد کرنے والو ، اے وہ لوگو ! جو حج کے لئے اپنا سامان سفر باندھ رہے ہو ، اپنی سواری تیار کررہے ہو تاکہ حرم تک پہنچ جاؤ ، ملتزم کے پاس کھڑے ہو ، زمزم کا پانی پیو ، ذرا ٹھہرو اور میری بھی ایک بات سن لو ، پھر اللہ کا نام لے کر روانہ ہو ، آپ سفر کی مشقتیں برداشت کررہے ہیں ، اہل وعیال کی جدائی پر راضی ہو رہے ہیں ، مال خرچ کررہے ہیں تاکہ اللہ تعالی کے اجر سے سرفراز ہوں ، قیامت کے دن کے لئے نیکیاں جمع کرلیں تو سفر سے قبل یہ جان لیں کہ حج دو قسم کے ہیں

ایک حج مبرور جس کے بارے میں متعدد صحیح حدیثیں وارد ہیں کہ اس کا بدلہ صرف جنت ہے اور ایسا حاجی جب حج سے واپس ہوتا ہے تو گناہوں سے ایسے ہی پاک صاف ہوتا ہے جسے اس کی ماں نے اسے ابھی جنا ہو ، اور دوسرا حج وہ ہے جس میں مال کے خرچ ، جسمانی مشقت اہل و اقارب کی جدائی کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے ، تو پھر حج کس طرح کریں کہ آپ کا حج آپ کو اللہ تعالی تک پہنچائے اور آپ کے منہ پر مارنہ دیا جائے ۔

میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں ! کیا وہ جہاز پرواز کرسکتا ہے جس پر اس کی طاقت سے زیادہ لوہا لاد دیں اور اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ لاد ھ کر لوہے کی زنجیروں سے پتھر کی چٹانوں میں جکڑ دیں ؟ ہرگز نہیں ! وہ جہاز ا س وقت تک پرواز نہیں کرسکتا جب تک کہ اس کا بوجھ آپ ہلکا نہ کردیں ، اس کی زنجیریں کاٹ نہ دیں ، بعینہ یہی مثال آپ کے نیک کاموں کی ہے لہذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا حج اوپر اٹھایا جائے تو اپنے کندھوں پر سے گناہوں کا بوجھ ہلکا کریں اور ان رسیوں کو کاٹ پھینکیں جو آپ کو شہوتوں کی زمین پر گاڑ رکھا ہے ۔

اے میرے حاجی بھائی ! راہ حج پر پہلا قدم رکھنے سے قبل ذرا ٹھہریں ، تنہائی میں اپنی عقل و فکر سے کام لے کر سوچیں اپنا محاسبہ کریں اور یہ دیکھیں کہ آپ کی زندگی کیسے گزرتی ہے ، اہل وعیال کے ساتھ آپ کے تعلقات کیسے ہیں ، اپنے ساتھیوں کے ساتھ آپ کا معاملہ کس طرح کا ہے ، اپنی نوکری اور اپنی تجارت میں آپ کا معاملہ کیسا ہے ، آپ کی آمدنی کہاں سے اور آپ کا خرچ کس جگہ ہے ان تمام معاملات پر غور کریں ، شریعت کے معیار پر پر کھیں ، جس چیز کو حرام دیکھیں اسے چھوڑ دیں اور حج کے لئے نکلتے سے قبل اپنے ساتھیوں سے معافی تلافی کرلیں ۔

یہ بھی دیکھ لیں کہ آپ کسی فریضے کے تارک تو نہیں ہیں ، آپ کسی حرام کام کے مرتکب تو نہیں ہیں ، اہل وعیال میں سے جو آپ کی زیر رعایت میں کہیں آپ ان کے ساتھ بدسلوکی تو نہیں کرتے ، کیا آپ نے اپنی بیوی پر ظلم تو نہیں کیا ہے جس سے وہ آپ کو ناپسند کرتی ہے اس کی جائز و ناجائز خواہشات کے پیچھے پڑ کر آپ نے کہیں اپنے رب کو ناراض تو نہیں کرلیا ہے ، آپ کے بچے نماز کے تارک ہیں ، کہیں آپ اس عمل پر راضی تو نہیں ہیں ، کیا آپ نے اپنے بچوں کو کافرں کے اسکولوں میں داخل تو نہیں کر رکھا ہے ، کیا آپ نے کسی کا مال تو نہیں کھایا ہے ، کسی پر ظلم تو نہیں کیا ہے ، کیا آپ کے ذمے کسی کا قرض ہے جسے آپ نے ابھی تک ادا نہیں کیا ہے ، کیا آپ پر کیس کا کوئی حق ہے جسے آپ نے ادا نہیں کیا ہے ، اگر آپ نوکری پیشہ ہیں تو اپنے کام میں کوتاہی تو نہیں کرر رہے ہیں ، کیا آپ رشوت تو نہیں لیتے ، اگر تاجر ہیں تو کیا لوگوں سے سودی معاملہ تو نہیں کرتے ، کیا خلاف شرع کوئی کاروبار تو نہیں کرتے ، ان کاموں اور ان جیسے دیگر تمام امور پر غور کریں اور فورا توبہ کریں ، اور صرف یہی کافی نہیں ہے کہ گناہ چھوڑنے کی دل سے نیت کریں یا زبان سے توبہ کا اعلان کریں بلکہ اس کے لئے صحیح اسباب و ذرائع کا استعمال کریں چنانچہ اگر آپ سودی کاروبار کرتے ہیں اور اسے چھوڑنا چاہتے ہیں اور اس کی طرف دوبارہ لوٹنا نہیں چاہتے تو گاہکوں کا حساب صاف کردیں ان سے اپنے تعلقات توڑ لیں ، اپنی اصل پوجی لے کر باقی فائدہ سود کو چھوڑ دیں ، اس دھوکے میں نہ رہیں کہ سود کا نام فائدہ رکھ دیا گیا ہے کیونکہ حدیث میں وارد ہے کہ آخری زمانے میں لوگ نام بدل کر حرام چیزوں کو حلال کرلیں گے ۔

اگر آپ کی کمائی حرام کی ہے جیسے آپ کسی ایسے کلب میں کام کرتے ہیں جس میں شراب پیش کی جاتی ہے ، مرد و زن کا اختلاط ہے ، یا کسی سودی بینک میں کلرک ہیں ، یا کسی ایسے شعبے میں یا فارم میں کام کررہے ہیں جو الحاد پھیلاتے ہیں یا مسلمانوں کو اذیت پہنچاتے ہیں اور آپ اس سے توبہ کرنا چاہتے ہیں تو اسے چھوڑ کر کوئی دوسرا ذریعہ معاش تلاش کرلیں ورنہ آپ کی توبہ کسی کام کی نہیں ہے ، اور یقین رکھیں کہ اللہ تعالی ہی رازق ہے اور جو شخص اس کا خوف رکھتا ہو اور اس کی نافرمانی نہ کرے تو اللہ تعالی اس کے لئے کوئی سبیل پیدا کردیتا ہے اور ایسی جگہوں سے روزی مہیا کرتا ہے جو اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا ، یہی معاملہ گناہ کا ہے ۔

حاجی بھائی ذرا دھیان دیں ! حج دل کو گناہوں کے میل کچیل سے پاک کرتا ہے تو کیا کوئی شخص اپنے جسم کی میل کچیل کو گندے پانی سے صاف کرسکتا ہے ، تو حرام مال سے حج کرکے آپ اپنے گناہوں سے کس طرح چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں ،

یاد رکھیں ! اللہ تعالی پاک و صاف ہے اور پاک ہی مال کو قبول کرتا ہے لہذا حج کی تیاری کا پہلا مرحلہ یہ ہونا چاہئے کہ آپ کے حج کے مصروفات حلال مال سے ہو ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

{پیشکش :مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں