131

قرآن بھی عجیب چیز ہے – قسط :2/1

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قرآن بھی عجیب چیز ہے

قسط :2/1

ازقلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ

{ناشر :مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجَا تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا

وصلی اللہ علی نبینا محمد النبی الامی الذی قال اللہ عنہ” يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ “وعلی آلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا ۔

اما بعد :

قرآن مجید اللہ ذو الجلال کی کتاب اور اسکا مبارک کلام ہے ، اللہ کی رسی اور وہ صراط مستقیم ہے کہ جو اسے تھامے رہا اور اس پر چلتا رہا وہ کامیاب و کامران اور جسنے اسے چھوڑا دیا وہ ہلاک وبرباد ہوا ، قرآن مجید دنیا کے تمام جن و انس کیلئے رہنمائے ہدایت اور کیمائے سعادت ہے ، یہی وہ کتاب الہی ہے جو بعینہ اسی شکل میں موجود ہے جس شکل میں آج سے چودہ سو سال پہلئے رب ذو الجلا ل کی طرف سے نازل ہوئی تھی ، یہی وہ کتاب الہی ہے جسکے نازل کرنے والے نے خود ہی اسکی حفاظت کا ذمہ لیا ہے یہ وہ کتاب ہے کہ دنیا کا کوئی ادیب بھی اسے چیلنج نہیں کرسکتا ، ارشاد باری تعالی ہے : إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ {الحجر :9 } یقینا ہم نے ہی الذکر {قرآن }کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اسکے محافظ ہیں ، نیز فرمایا: قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَن يَأْتُواْ بِمِثْلِ هَـذَا الْقُرْآنِ لاَ يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا {الاسراء :88} کہہ دیجئے کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل لانا چاہیں تو ان سب سے اسکے مثل لانا ناممکن ہے گو وہ آپس میں ایک دوسرے کے مدد گار بھی بن جائیں۔

یہ وہ مبارک کتاب ہے کہ جس نے دنیا کے ادیبوں اور قادرالکلام لبیبوں کو حیرت میں ڈال رکھا ہے بلکہ جنوں نے بھی اس کتاب کی چند آیتیں سنیں تو بر جستہ یہ کہہ اٹھے : إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا – يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ {الجن 2،1}

ترجمہ تاریخ انسانیت شاھد اور حالات گواہ ہیں کہ یہ مبارک کتاب محفوظ ہے اور بحثیت مسلمان کے ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ یہ قرآن آئندہ بھی محفوظ رہے گا نہ ہی کوئی ظالم اسے بدل سکتا ہے ، نہ ہی کسی باطل پرست کے تحریف کے ہاتھ اس تک پہنچ سکتے ہیں اور نہ ہی اس مبارک کتاب کے چیلنج کو کوئی قبول کرسکتا ہے ۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اس مبارک کتاب کی حفاظت اب تک کیسے ہوتی رہیاور آئندہ کسطرح ہوتی رہے گی ؟ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اس کتاب کی حفاظت کرنے والا اللہ تعالی ہی ہے ، لیکن کیا اللہ تعالی کی حفاظت کا یہ معنی ہے کہ وہ خود اس دنیا میں آکر دشمنوں سے اس کتاب کی حفاظت کریگا ، یا اسکی حفاظت کیلئے غیب سے کسی مخلوق کو پیدا فرمائی گا ؟ یا آسمان سے فرشتوں کی صف درصف جماعت کو نازل کر کے اس کتاب کی حفاظت انھیں سونپے گا ؟ ہر مسلمان کا جواب یہی ہوگا : نہیں ہر گز نہیں ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس کتاب عزیز کی حفاظت انھی لوگوں سے لیا اور لیتا رہے گا جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اسکی حقانیت کا اقرارکرتے ہیں ۔

عزیزان گرامی ‘ یہ کتاب عزیز کسطرح سے محفوظ رہی ہے ، اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کی حفاظت کے چار ذریعے رکھے ہیں ، اگلے اور پچھلے مسلمانوں نے انھی ذرائع کا استعمال کر کے اس مبارک کتاب کی حفاظت کی ہے ۔

{1} قرآن کا حفظ کرنا :

قرآن مجید کی حفاظت کا پہلا ذریعہ یہ رہا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلمپر جب یہ قرآن نازل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فورا اسے یاد کرلیتے ، صحابہ کرام کو یاد کراتے ، حفظ قرآن کی فضیلت بیان فرماتے اور اپنے حفظ کے حفاظت کی تاکید فرماتے ، اس قرآن کے نزول کے وقت اسے جلد از جلد یاد لینے سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا کیفیت ہوتی تھی اسکا ذکر قرآن مجید میں ایک سے زائد بار آیا ہے ، ایک جگہ ارشاد باری تعالی ہے : لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ – إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ – فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ {القیامۃ :18،17،16،} آپ قرآن کو جلد یاد کرلینے کے لئے زبان کو حرکت نہ دیں اسکا جمع کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے پڑھنا ہمارے ذمے ہےاسلئے جب ہم اسے پڑھ لیں تو آپصلی اللہ علیہ وسلم اسکے پڑھنے کی پیر وی کریں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن لکھنے کے مقابلہ میں حفظ کرانے پر زیادہ زور دیا کیونکہ حفظ کیلئے پڑھے لکھے ہونے کی شرط نہیں ہے ، نیز اگر دیکھا جائے تو خود قرآن مجید میں اس کتاب عزیز کی ایک خوبی یانشان امتیاز یہ بیان کیا ہو ا ہے کہ یہ لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہے : بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ {العنکبوت :49}

بلکہ یہ قرآن تو روشن روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں ۔

گویا قرآن مجید کی تحریف وتبدیل سے محفوظ رہنے کی ایک شکل یہ ہے کہ وہ لفظ بلفظ حافظوں کے سینوں میں محفوظ ہے جہاں تک کسی ظالم کا دست خورد برد نہیں پہنچ سکتا ، درج ذیل حدیث قدسی میں اللہ تبارکوتعالی کا ارشارہ شاید اسی طرف ہے : وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لاَ يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ {صحیح مسلم :2865 صفۃ الجنۃ ، مسند احمد ج4ص162 بروایت عیاض بن حمار} اور ہم نے آپ پر ایک کتاب اتاری ہے جسے پانے نہ دھو سکے اور آپ اسے سوتے جاگتے پڑھتے رہیں گے ” یعنی چونکہ وہ حافظوں کے سینے میں محفوظ رہے گی اور صرف کتابی شکل میں نہ ہوگی کہ اسے پانی سے دھو دیا جائے یا آگ میں جلا دیا جائے ۔

یہی وجہ ہے کہ پرانی کتا بوں میں اس امت کی ایک خوبی یہ بیان ہوئی ہے کہ اس کا انجیل {قرآن }اسکے سینوں میں ہوگا ، تفسیر ابن کثیر ۔

ماضی قریب وبعید میں بہت سے ملحد اور طاغوتوں نے قرآن کو مسلمانوں کی زندگی سے دور کرناچاہا ہے لیکن تاریخ شاھد ہے کہ وہ اسمیں کامیاب نہیں ہے ، درجہ ذیل واقعہ اسکا ثبوت ہے ۔

جمیعیت تحفیظ قرآن دبی کے نائب صدر ڈاکٹر سعید بن محارب حفظہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میری اس جمعیت کے زیر اہتمام قائم کردہ حفظ قرآن کے ایک مقابلے میں سابقہ سویت یونین کا رہنے والا ایک بارہ سالہ لڑکا کامیاب ہو ا، اسکے حفظ کی پختگی حیرت انگیز تھی ، ہم لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے قرآن کو کیسے حفظ کیا ، اور اسقدر پختگی اور عمدگی کے ساتھ تمھیں کس نے یاد کرایا ؟ اس نے جواب دیا کہ میرے والد نے پڑھایا اور یاد کرایا ہے ، ہم نے پھر پوچھا کہ تمھارے والد کا استاذ کون تھا جس انہیں تجوید و حفظ کی ایسی عمدہ تعلیم دی ؟ بچے کا جواب تھا :میرے دادا نے ، اس جواب پر ہمیں بڑا تعجب ہوا اور ہم نے آگے پوچھا کہ بے دین اور ملحد دور حکومت جسمیں ہر اس مسلمان کی سزا فوری قتل تھا جو اپنے دین سے معمولی تعلق بھی رکھتا ہو، پھر ایسے سنگین حالات میں تمھارے دادا کیلئے کیسے ممکن ہوا کہ تمھارے باپ کو قرآن کے حفظ وتجوید کی تعلیم دے سکیں ؟ اس نے جواب دیا کہ میرے والد نے بتایا کہ وہ ابھی چھوٹے بچے ہی تھے کہ انکے والد یعنی میرے دادا انھیں ایک گدھے پر بیٹھا کر آبادی سے باہر کہیں دور لے جاتے اور وہاں انکی آنکھوں پر پٹی باندھکر گدھے کو ہانکتے ہوئے ایک پہاڑ کے غار یا سرنگ میں داخل کرتے جو انھیں ایک کشادہ جگہ پہنچادیتی ، وہاں پہنچ کر میرے والد کے آنکھوں کی پٹیاں کھول دی جاتیں پھر کسی پوشیدہ جکہ سے میرے دادا کچھ تختیاں نکالتے جس پر قرآن لکھا ہوتا پھر اس سے جوکچھ میسر آتا میرے والد کو قرآن یاد کراتے پھر واپسی کے وقت دوبارہ میرے والد کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر پہلی جگہ پر واپس لاتے اور انکی پٹیاں کھودی جاتیں ، یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا جب تک میرے والد نے قرآن کو اچھی طرح یاد نہ کرلیا ۔

ہم نے اس بچے سے بڑے تعجب سے پوچھا کہ تمھارے دادا تمھارے والد کی آنکھوں پر پٹیاں کس لئے باندھ دیتے تھے ؟ بچے نے جواب دیا کہ یہی سوال ہم نے بھی اپنے والد سے کیا تھا ، پوچھنے پر والد صاحب نے بتلایا کہ انکے والد کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ خدانخواستہ اگر میرے والد کو قرآن پڑھنے کے جرم میں گرفتار بھی کرلیا جاتااور انھیں سزائیں دی جاتیں تو وہ اس جگہ کا پتہ نہ بتاسکیں ، کیونکہ یہ وہ جگہ تھی جہاں بہت سے مسلمان اسی طرح اپنے بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم دیتے تھے ۔ {جریدۃ الجزیرہ عدد:13767بتاریخ 25/6/1431ھ موافق 8/6/2010ء بروز سہ شنبہ }

قرآن مجید کی کتابت : قرآن مجید کی حفاظت کا دوسرا ذریعہ اسکی کتابت وطباعت ہے ، کیونکہ بسااوقات انسان کا حافظہ خطا کرجاتا ہے تو اسکے لئے کتاب کی طرف رجوع کی ضرورت پڑتی ہے ،اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حفظ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ابتدائے نزول ہی سے کتابت قرآن کا بھی خصوصی اہتمام فرمایا ،چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس  بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جب کوئی آیت نازل ہوتی تو آپ بعض کا تبین وحی کو بلاتے اور حکم دیتے کہ اس آیت کو فلاں سورت میں رکھو جہاں فلاں چیز کا بیان ہے {سنن ابو داود :786 الصلاۃ ، سنن الترمذی :3086 التفسیر }

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پورا قرآن لکھا جا چکا تھا بلکہ بہت سے صحابہ نے اپنے لئے الگ الگ مصحف لکھ رکھے تھے لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی سورتوں وغیرہ کے ترتیب کی کوئی آخری شکل نہیں دی تھی اسی لئے جب یمامہ کی لڑائی میں بہت سے وہ صحابہ شھید ہو گئے جو پورے قرآن کے حافظ تھے تو حضرت عمر  نے حضرت ابوبکر  کو مشورہ دیا کہ قرآن مجید کے ان منتشر اوراق کو ایک کتابی اور آخری شکل دے دی جائے تاکہ یہ ضائع ہونے سے محفوظ رہ جائے ، چنانچہ کافی پس وپیش کے بعد حضرت ابو بکر صدیق  حضرت زید بن ثابت اور چند دوسرے صحابہ کو اس مہم میں لگا یا اور انہوں نے بڑی تحقیق وجستجو کے بعد قرآن مجید کو وہ شکل دی جو آج ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے ، حدیثوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کی ترتیب پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کو تقریبا اسی ترتیب سے پڑھتے تھے جو آج اس مصحف میں موجود ہے ۔

عصر نبوی کے بعد مسلمانوں میں قرآن مجید کی کتابت کا اہتمام بڑھتا ہی گیا حتی کہ آج صورت حال یہاتک پہنچ چکی ہے کہ بازار میں مختلف قسم کے چھوٹے بڑے ، قسم قسم کے چھپے ہوئے قرآن مجید کے نسخے دستیاب ہیں اور آج شاید ہی کوئی ایسا مسلمان گھر ہو جسمیں قرآن مجید کے دوچار نسخے نہ پائے جائیں بلکہ بعض گھروں میں تو قرآن مجید کے درزنوں نسخے موجود ہونگے ۔

اللہ تعالی کی لاکھ لاکھ رحمتیں نازل ہوں خادم الحرمین ملک فہد رحمہ اللہ پر کہ مدینہ منورہ میں انکا قائم کردہ قرآن کمپلکس قرآن کی طباعت کا دنیا میں سب سے بڑا مرکز ہے وہاں سے آربہا ارب نسخوں کی تعداد میں اچھے سے اچھے کاغذ پر قرآن مجید چھپ کر پوری دنیا میں پہنچ رہا ہے ، صرف قرآن مجید کی بات نہیں ہے بلکہ اس سے متعلق مختلف موضوع کی کتابوں پر بھی کام چل رہا ہے اور چالیس سے زائد زبانوں میں قرآن مجید کے معانی کا ترجمہ کڑوروں کی تعداد میں چھپ کر مختلف ملکوں میں پہنچ چکا ہے اور مزید دیگر زبانوں میں طباعت کاکام جاری ہے ، بلاشبہ قرآن مجید کی طباعت کا یہ ایسا کام ہے جسکی مثال دنیا کی تاریخ میں موجود نہیں ہے اور نہ ہی قرآن مجید کے علاوہ کسی اور کتاب کو یہ امتیاز حاصل ہے ۔

سلسلہ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں