186

قرآن بھی عجیب چیز ہے – قسط :2/2

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قرآن بھی عجیب چیز ہے

قسط :2/2

ازقلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ

{ناشر :مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

جسکی مثال دنیا کی تاریخ میں موجود نہیں ہے اور نہ ہی قرآن مجید کے علاوہ کسی اور کتاب کو یہ امتیاز حاصل ہے ۔

قرآن مجید کی تعلیم خاصکر اسکے معانی کی وضاحت :

قرآن مجید کی تعلیم و تعلم بھی حفاظت قرآن مجید کا ایک بڑا ذریعہ ہے ، تعلیم وتعلم کے دو پہلو ہیں {1} ایک قرآن مجید کے حروف وکلمات کی تعلیم جسے ہماری اصطلاح میں ناظرہ تعلیم کہا جاتا ہے {2}اسکے معانی و مفہوم کی تعلیم اور اسی ضمن میں ہم قرآن کے علوم سے متعلق تالیف کو بھی لے سکتے ہیں ۔

نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ابدائے نزول ہی سے ان دونو ں کا م کا خصوصی اہتمام فرمایا ہے ،بلکہ اللہ تعالی نے قرآن کے الفاظ اور اسکے معنی ومفہوم کی تعلیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت کا ایک حصہ قراردیا ہے :

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ {الجمعہ:2}وہی ہے جس نے نا خواندہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انھیں اسکی آیتیں پڑ ھکر سناتا ہے ، اور انکو پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے ، یقینا یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے ۔

اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تین منصب کا ذکر ہے ، [1]قرآن کریم کی آیات کو تلاوت کرکے سنانا تاکہ لوگ اسے یاد کرلیں ، [2]اس کتاب کے مفہوم کی وضاحت تاکہ اس پر عمل کرسکیں ،[3]اس کتاب کے عمل پر تربیت اور اسکے مخالفت سے بچانا ۔

اسی چیز کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا : خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ {صحیح البخاری :5027،فضائل القرآن ،بروایت عثمان}تم میں کا سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن کو سیکھے اور سکھائے ،

حضرت عقبہ بن عامر  بیان کرتے ہیں کہ ہملوگ صفہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا :تم میں سے کسکو یہ پسند ہے کہ وہ وادی بطحان یا وادی عقیق جائے اور وہاں سے دو بڑے کوہاں والی اونٹنیاں لائے ،جن کے حصول میں نہ گناہ کا دخل ہو اور نہ ہی قطع رحمی کا ؟ ہم میں سے ہر ایک نے کہا کہ اے اللہ کے رسول : یہ تو ہم میں سے ہر ایک کو پسند ہے ، آپ نے فرمایا :پھر تم میں سے کوئی مسجد جاکر قرآن مجید کی دویا تین آیتیں کیوں نہیں پڑھ پڑھا لیتا جو اسکیلئے ایک یا دو اونٹنیوں سے بہتر ہے ، تین یا چار آیتوں کا سیکھنا سکھانا تین اور چار اونٹنیوں سے بہتر ہے ، اسی طرح جتنی آیتیں سیکھی جائیں گی وہ اسی قدر اونٹنیوں سے بہتر ہونگی ۔{صحیح مسلم :803}

تاریخ کے اوراق شاھد ہیں کہ صحابہ وتابعین سے لیکر آج تک مسلمانوں نے قرآن کی تعلیم وتعلم پر خصوصی توجہ دی ہے حضرت عثمان اور حضرت علی جیسے صحابہ کے تربیت یافتہ حضرت ابو عبد الرحمن السلمی رحمہ اللہ ہیں انہوں نے بھی حضرت عثمان  سے قرآن مجید کے تعلیم وتعلم سے متعلق وہ حدیث روایت کی ہے جسکا ذکر ابھی اوپر ہوا ، اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد وہ کہتے ہیں کہ اسی حدیث ہی نے مجھے اس جگہ بیٹھا یا ہے ، حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ وہ عہد عثمان سے لیکر حجاج بن یوسف کے دورامارت تک اسی جگہ بیٹھ کر قرآن مجید کا درس دیتے رہے ، حافظ ابن حجر مزید لکھتے ہیں کہ خلافت عثمان کی ابتدا اور امارت حجاج بن یوسف کی انتہا کے درمیان 72 سال کا فاصلہ ہے ۔ اور خلافت عثمان کی انتہا اور امارت حجاج کی ابتدا کے درمیان 38 سال کا فاصلہ ہے ، اب یہ تو نہیں معلوم ہوسکا کہ حضرت ابو عبد الرحمن السلمی نے ا پنے درس قرآن کی ابتدا کب سے کی ہے ۔{فتح الباری 9 ص76}

بڑے تعجب کی بات تو یہ ہے کہ بڑے سے بڑے ملحد اور ظالم حاکم کا ظلم وجبر بھی مسلمانوں کو اس کام سے نہیں روک سکا ، جسکی سب سے واضح دلیل روس کی ملحد حکومت اور اسکا ظلم ہے ، چنانچہ وہاں کے کسی صوبے کا رہنے والاایک نوجوان جو ایک کھاتے پیتے کھرانے سے تعلق رکھتا تھا ، کھانے پینے اور رہنےسہنے کی ہر سہولت اسےمیسر تھی ،گھر میں تمامرہائشی ضروریات کے ساتھ ایک کمرہ اسکے لئے خاص تھا ، جو سوویت یونین میں اس وقت کم ہی لوگوں کو میسر آتاتھا ، لیکن قرآن حکیم کا یہ معجزہ دیکھئے کہ اس نوجوان نے جب پوشیدہ طور پر قرآن پڑھ لیا تو اسکے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اس کتاب کو دوسروں تک بھی پہنچا نا چاہئے ، اور ظاہر بات ہے کہ آبادی میں رہکر اس وقت یہ کام ممکن نہ تھا ، لہذا اس نے اس کام کیلئے بکریاں چرانے کا پیشہ اختیار کیا تاکہ حکومت اور اسکے جاسو سوںسے دور رہ کر اپنے علاقے کے بچوں کو قرآن سکھلا سکے ، اس طرح وہ جوان سالوں سال تک بھوک ، پیاس اور سردی ودھوپ برداشت کرتا رہا اور آبادی سے دور رہکر بہت سارے بچوں کو قرآن کی تعلیم دیتا رہا ، یہاں تک کہ اس علاقے کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اسکے ذریعے قرآن اور حفظ کی تعلیم حاصل کی ۔{جریدۃ الجزیرہ عدد 13767 بتاریخ 25/6/ 1 14ھ }

ناظرہ تعلیم کے ساتھ مسلمانوں نے قرآن کے معنی اور مفہوم اور اسکے اندر تدبر پربھی کافی زور دیا بلکہ تعلیم قرآن کا یہ ایک اہم جزء تھا اسلئے کہ بغیر معنی ومفہوم سمجھے قرآن کی حفاظت بے معنی تھی چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود  بیان کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمسے قرآن سیکھتے تھے ، جب ہم دس آیتیں سیکھ لیتے تو اسکے بعد والی آیتوں کی طرف اس وقت تک نہ بڑھتے جب تک کہ ان دس آیتوں کے مقصد نزول وغیرہ کو نہ سمجھ لیتے ۔ {مسند ابویعلی [انحاف المہرۃ ج1ص404 276}مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ دس آیتوں سے آگے ہم اس وقت تک نہ بڑھتے جب تک ان آیتوں سے متعلق عمل و علم کو سیکھ نہ لیتے { انحاف المہرۃ 1 ص204 275 }

مشہور تابعی او ر مفسر حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے پورا قرآن تیس بارپڑھا تھا اور تین بار اسطرح پڑھاکہ ہر آیت پر ٹہرتے اور پوچھتے کہ یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی اور کسطرح نازل ہوئی ۔{ سیر اعلام النبلا 4 ص 450}

بفضلہ تعالی علماء نے معانی قرآن کو واضح کرنے اور قرآن کی تفسیر و تاویل کی طرف خصوصی توجہ دی ، اہل لغت نے قرآن مجید کے مشکل الفاظ پر کتابیں لکھیں ، نحویوں نے وجوہ اعراب کی وضاحت کی ، علمائے بلاغت نے قرآن مجید کے اعجاز اور اسکی فصاحت و بلاغت کو واضح کیا ، علمائے شریعت نے عقائد ی ، فقہی اور اخلاق ومعاملات سے متعلق مسائل کا استنباط کیا ، حتی کہ دنیا میں جس قدر کتابیں قرآن مجید سے متعلق لکھی گئی ہیں وہ کسی اور کتاب سے متعلق نہیں لکھی گئیں اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے ، اور قابل تعجب یہ بات ہے کہ قرآن کے عجائب ابھی تک ختم نہیں ہوئے ، ایک بات اور بھی قابل غور ہے کہ بعض مولفین نے قرآن سے متعلق متعدد کتابیں لکھی ہیں ، اور ایسے بھی مفسر گزرے ہیں جنہوں نے قرآن مجید کی کئی کئی تفسیریں کی ہیں ۔

خود ہمارے علامہ ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے قرآن مجید کی چار تفسیریں لکھیں ، ایک تفسیر عام مسلمانوں کیلئے ، البتہ اس تفسیر میں جگہ جگہ عسائیوں ، منکرین حدیث ، قادیانیوں اور دہریوں کا رد بھی کیا ہے ، دوسری تفسیر عربی میں ہے جو قرآن کی تفسیر خود قرآن سے کی گئی ہے اسکا نام تفسیر القرآن بکلام الرحمن ہے ، تیسری تفسیر بیان القرآن علی علم البیان ہے یہ بھی عربی زبان میں ہے لیکن مکمل نہ ہو سکی ، چوتھی تفسیر تفسیر بالرائے ہے یہ تفسیر اردو زبان میں ہے اور خاصکر قادیانیوں ، چکڑالیوں ، نیچریوں اور ان دیگر فرق باطلہ کی تردید میں ہے جو قرآن کریم کا غلط ترجمہ اور غلط تفسیر کر کے اپنا مدعا ثابت کرنا چاہتے ہیں ، اسی طرح قرآن سے متعلق مولانا مرحوم کی متعدد اور کتابیں بھی ہیں جو تقریبا سب کی سب قرآن میں تحریف معنوی کی تریدید میں ہیں جیسے برہان التفاسیر برائے اصلاح سلطان التفاسیر ، بطش قدیر ، بر قادیانی تفسیر کبیر، قرآن اور دیگر کتب ، کتاب الرحمن ، القرآن العظیم اور الہامی کتاب وغیرہ ۔

ناظرین : یہ متاخرین میں سے صرف ایک خادم قرآن کریم کی تالیفات کا تذکرہ ہے اسی پر دنیا سے دیگر علماء اہل سنت اور انکی خدمت قرآن کا قیاس کیا جاسکتا ہے ۔ [ قیاس کن زگلستان من بہارمرا ]

قرآن کریم سے محبت وشفقت :

قرآن مجید کی حفاظت کا ایک ذریعہ اللہ تعالی نے یہ رکھا کہ اس کتاب کی محبت اسکے ماننے والوں کے دل میں ڈال دی ہے ، چنانچہ جسقدر اہل قرآن قرآن سے محبت کرتے ہیں اسقدر محبت کسی اور کتاب کے ماننے والوں نے اپنی مقدس کتاب سے نہیں کرتے ، اورم یہ بات بھی حقیقت پر مبنی ہےکہ جس چیز سے جس قدر زیادہ محبت ہوتی ہے اسی قدر اسکی حفاظت کا بھی لحاظ رکھا جاتا ہے ، ماضی قریب و بعید کی تاریخ بتلاتی ہے کہ اہل قرآن کے دلوں میں قرآن کی عجیب وغریب محبت ہے ، صحابہ کرام کا قرآن سے محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک صحابی کسی سفر میں رات کے وقت نماز میں کھڑے کوئی سورت پڑھ رہے ہیں کہ دشمن نے تیر مارا لیکن صحابی نے تیر کو اپنے جسم سے نکال کر نیچے رکھ دیا ، دشمن نے دوسرا تیر مارا ،اسے بھی جسم سے نکال کر نیچے رکھ دیا ، پھر تیسرا تیرا مارا اور اسے بھی نکال کربغل میں رکھ دیا اور اس وقت تک رکوع نہیں کیا جب تک کہ سورت کو مکمل نہ کرلیا ، بعد میں ساتھی کے پوچھنے پر بتلایا کہ مین ایک سورت کی تلاوت کرہاتھا اور اسے نا مکمل چھوڑنا مناسب نہ سمجھا ۔

{سنن ابو داود :198 الطہارۃ ، مسند احمد :3 ص 344 بروایت جابر }

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قاتل انکے سرپر کھڑے ہیں اور وہ ہیں کہ قرآن مجید کی تلاوت جاری رکھے ہوئے ہیں ، حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کی قرآن سے محبت وشفقت کا یہ عالم تھا کہ اسکو چہرے پر رکھ کر بے قراری کے ساتھ کتاب ربی ،کتاب ربی ، کہکر روتے تھے {مسند الدارمی :3350 فضائل قرآن ، مستدرک الحاکم 3 /243 }

بعد کے لوگ صحابہ رضوان اللہ علیہم کی محبت کو تو نہیں پاسکتے لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ اس امت کا ایک فاجر و فاسق آدمی بھی اس کتاب سے وہ محبت کرتا ہے جو کسی دوسری کتاب کا ماننے والا دیندار آدمی بھی اپنی کتاب سے نہیں کرتا ، حجاج بن یوسف کو کون نہیں جانتا کہ اسکا نام آتے ہی ظلم وبربریت اور سفاکی کئی ہزار دستا نہیں سامنے آجاتی ہیں لیکن اسکے باوجود وہ قرآن سے شدید محبت رکھتا اور اسکی بے انتہا تعظیم کرتا تھا{سیر اعلام النبلاء 4ص 343} اور یہ بھی مشہور ہے کہ قرآن میں اعراب لگانےکا کام حجاج بن یوسف ہی کا ہے ۔

اس مبارک کتاب سے محبت ہی کا کرشمہ ہے کہ اس کتاب کے ماننے والوں نے اسکے حروف وکلمات تک کا شمار کرڈالا ہے ، پھر سوچنے کی بات ہے کہ جس کتاب کے حروف وکلمات تک شمار میں ہوں اس کتاب کو کسطرح سے مٹایا یا اسمیں تحریف کی جاسکتی ہے ، اور حق تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس کتاب کی الہی حفاظت کا نمونہ ہے ۔

[ایں سعادت بزور بازو نیست ” تانہ بخشد خدا کے بخشندہ ]

اس کتاب سے محبت و شفقت کی اس سے بڑی مثال کہاں ملے گی کہ حتی کہ جس قوم پر نصف صدی سے زیادہ اسطرح حکومت کی گئی کہ اس کتاب کا نام لینے والوں ،اسے اپنے گھر میں رکھنے والوں کی سزا بلامقدمہ قتل تھی ، یہاں تک کہ اس کتاب کو پڑھنے اور یاد کرنے والی نسل ختم ہو جاتی ہے پھر دوسری نسل آتی ہے ، تیسری نسل آتی ہے پھر بھی اس کتاب کو پڑھنے اور یادکرنے کی بات تو چھوڑ دیجئے اس کتاب کے دیکھنے کی بھی اجازت نہیں ملتی ، اسکے باوجود اس کتاب کی محبت انکے دلوں سے چھینی نہ جاسکی ۔

سویت یونین کے کسی پارک میں چند کویتی طلبہ ہفتہ واری چھٹی کے موقعہ پر ٹہل رہے تھے ، اچانک دیکھتے ہیں کہ ایک عورت ان سے مخاطب ہونا چاہتی ہے ، البتہ اسکی حالت عجیب ہے ، کپڑے پھٹے ہوئے ہیں ، فقر ومسکنت کی آثار نمایاں ہیں وہ خوف وپریشانی کی حالت میں ہے اور اس قدر چوکنا ہے کہ کوئی اسے دیکھ تو نہیں رہا ہے ، لڑکوں نے سمجھا یہ کچھ مالی مدد چاہتی ہے چنانچہ لڑکے اسکی طرف متوجہ ہوئے اور سبب پوچھا ، لڑکے اس انتظار میں تھے کہ وہ کچھ مبلغ طلب کرے گی لیکن خلاف توقع وہ ان سے قرآن مجید کا ایک نسخہ مانگتی ہے ،ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہتی ہے کہ میری اس بات کو کسی پر ظاہر نہ ہونے دینا ، اور مکمل طور پر راز میں رکھنا ، لڑکے اس پر بہت خوش ہوئے اور اگلے ہفتے اسے ایک کاپی قرآن کریم کی لاکر دینے کا وعدہ کیا ، اگلے ہفتہ اسی جگہ پر وہ عورت اسی کیفیت سے پھر حاضر ہوتی ہے اور حسب وعدہ لڑکوں نے اسے قرآن کریم کی ایک کاپی پیش کردی ، لیکن ان لڑکوں کے تعجب کی انتہا نہ رہی کہ اس عورت نے اپنے ہاتھوں سے اپنے کنگن وہ بھی سونے کے کنگن اتار کر ان لڑکوں کو دے دیتی ہے لڑکے اصرار کرتے ہیں کہ اس نسخے کو ہدیہ کے طور پر قبول کرلو لیکن اس نے بلا مقابل اپنی محبوب ترین چیز کو لینے سے انکار کیا ، کنگنوں کوانکی طرف پھینکا ،قرآن کریم کے نسخے کو اپنے سینے سے لگایا اور وہاں سے رخصت ہوگئی ، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ ساری دنیا کی دولت لیکر جارہی ہے ۔{مواقف نسائیہ مشرقہ از نجیب خالد العامر ص 16/17 }

سچ ہے [دو عالم سے کرتی ہے بے گانہ دل کو-عجب چیز ہے لذت آشنائی]اقبال

ناظرین :اب سوال ہے کہ کیا دنیا کی تاریخ کسی اور کتاب سے محبت کی ایسی مثالیں پیش کر سکتی ہے ؟ نہیں ہر گز نہیں ،تو پھر وہ کتاب کس طرح مٹائی جاسکتی ہے جس سے محبت کر نے والے ایسے لوگ موجود ہوں ۔

وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم

ختم شدہ