161

روزہ دار کی بعض غلطیوں پر تنبیہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

روزہ دار کی بعض غلطیوں پر تنبیہ

از قلم : فضیلۃ الشیخ عبد اللہ الجبرین

مترجم : شیخ مقصود الحسن فیضی

{ناشر شعبہ توعیۃ الجالیات الغاط www.islamidawah.com }

1) فرض روزے کی نیت طلوع فجر سے پہلے نہ کرنا اگرچہ پورے رمضان کے لئے ایک ہی نیت کافی ہے ۔

2) فجر کی اذان کے دوران یا اس کے بعد بھی کھاتے پیتے رہنا ، اگر چہ بعض موذنین کبھی کبھار وقت سے پہلے اذان دے دیتے ہیں ۔

3) فجر سے گھنٹہ یا دو گھنٹہ پہلے سحری کھالینا ، جب کہ افطار کرنے میں جلد بازی اور سحری کھانے میں تاخیر کی رغبت دلائی گئی ہے ۔

4) عام لوگوں کا کھانے پینے میں اسراف سے کام لینا جب کہ ایسا اس حکمت کے خلاف ہے جس کے لئے روزہ مشروع ہے ، یعنی بھوک جو خشوع کا سبب ہے ۔

5) نیت سستی اور غیر ضروری کاموں میں مشغولیت کے بہانے سے جماعت سے نماز ادا کرنے میں کوتاہی کرنا خاص کر ظہر اور عصر کی نماز ۔

6) روزے کے دنوں میں گپ بازی ،فحش گوئی ، جھوٹ اور غیبت و چغلی سے اپنی زبان کی حفاظت نہ کرنا ۔

7) لہو ولعب میں مشغولیت ، کھیل کود ، چٹکلوں اور فلموں کی کیسٹیں دیکھنے اور سڑکوں پر آوارہ گردی میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنا ۔

8) ذکر و دعا ، تلاوت قرآن اور بعض تاکیدی سنتوں کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام لینا جب کہ رمضان المبارک میں ان اعمال کا اجر مزید بڑھ جاتا ہے ۔۔

9) تراویح کی نماز باجماعت نہ ادا کرنا جب کہ اس کی ترغیب وارد ہے کہ جو شخص امام کے فارغ ہونے تک نماز میں شریک رہتا ہے اسے پوری رات نماز پڑھنے کا ثواب ملتا ہے ۔

10) یہ چیز ملاحظے میں ہے کہ رمضان المبارک کے ابتداء میں نمازیوں اور قرآن کی تلاوت کرنے والوں کی کثرت ہوتی ہے پھر آہستہ آہستہ کمی واقع ہوجاتی ہے حالانکہ رمضان کا آخری عشرہ اول عشرہ سے افضل ہے ۔

11) آخری عشرہ جو قیام کےساتھ خاص کیا گیا ہے اس میں قیام نہ کرنا حالانکہ جب آخری عشرہ داخل ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو جاگتے اور اپنے اہل و عیال کو بھی بیدار رکھتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم محنت کرتے اور اپنی کمر کس لیتے ۔

12) روزہ کی راتیں تو جاگتے رہنا لیکن صبح ہونے سے قبل سوجانا ، چنانچہ بہت سے لوگ فجر کی نماز چاشت کے وقت پڑھتے ہیں حالانکہ یہ اس عظیم فریضہ سے متعلق یہ بہت بڑی کوتاہی ہے ۔

13) اس مہینہ میں محتاجوں کی کثرت اور صدقہ و خیرات کے اجر میں اضافہ کے باوجود بخالت سے کام لینا اور اللہ کے راستے میں مال خرچ نہ کرنا ۔

14) اپنے مال کی پوری پوری زکات ادا نہ کرنا جب کہ یہ فریضہ نماز و روزہ کا ہم پلہ ہے اگرچہ زکات رمضان کے ساتھ خاص نہیں ہے ۔

15) حالت روزہ میں عموما اور کھانے پینے میں مشغول ہوکر افطار کے وقت خصوصا دعا سے غافل رہنا جب کہ اس بارے میں حدیث ہے کہ افطار کے وقت روزہ دار کی ایک دعا ہے جو رد نہیں کی جاتی ۔

16) رمضان میں خاص کر آخری عشر میں اعتکاف نہ کرنا جب کہ قرآن و حدیث سے اس کی مشروعیت ثابت ہے ۔

17) بہت سی عورتوں کا زیب و زینت کے لباس اور خوشبو لگا کر مسجد جانا جب کہ یہ چیزیں فتنے کا سبب بنتی ہیں ۔

18) رمضان کی راتوں میں عورتوں کا بغیر محرم اور اجنبی ڈرائیور کے ساتھ بازار جانا جب کہ عموما انہیں کوئی خاص ضرورت درپیش نہیں ہوتی ۔

19) عید کی رات ، عید کے دن نماز پڑھنے تک اور ذی الحجہ کے دس دنوں میں تکبیر سے غافل رہنا جب کہ قرآن مجید میں اس کا حکم وارد ہے ۔

20) فطرہ نکالنے میں تاخیر کرنا حالانکہ حدیث سے ثابت ہے کہ عید کے دن نماز سے پہلے فطرہ نکالنا واجب ہے ، نیز دو ایک دن پہلے بھی نکالنا جائز ہے ۔

{ناشر شعبہ توعیۃ الجالیات الغاط www.islamidawah.com }