وفات سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم وصیت – قسط: 3/3

بسم اللہ الرحمان الرحیم

وفات سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم

کی ایک اہم وصیت

قسط: 3/3

از قلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ

{ناشر:مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالی تمھارے لئے تین کام مکروہ قرار دیتا [ناپسند کرتا ]ہے ، 1- قیل وقال کو ، 2- مال ضائع کرنے کو، 3- بہت زیادہ سوال کرنے کو۔

اس حدیث میں بھی مکروہ کا معنی حرام ہے ، جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک دوسری روایت میں جو اس روایت کے فورا بعد ہے اسمیں “کرہ” کی جگہ “حرم” کا لفظ ہے، نیز شارحین حدیث نے بھی اس حدیث میں وارد لفظ کرہ کا معنی حرام ہی کیا ہے۔

شبہات کا ازالہ۔

وہ حضرات جو جہالت یا ہواپرستی یا تقلید وغیرہ کے طور پر قبر پرستی اور قبروں پر مساجد و مزارات بنانے کے مرض میں مبتلا ہیں وہ قرآن وحدیث کی ان واضح تعلیمات اور علماء کی تصریحات کے مقابلے میں کچھ شبہات پیش کرتے ہیں اور انہیں دلیل بنا کر پر اپنی قبر پرستی کے لئے جواز پیدا کر رکھاہے ، ان واضح دلائل کے بعد ایک مومن کے لئے کسی شبہے کی گنجائش تو باقی نہیں رہنی چاہئے اور نہ ہی اللہ ورسول پرایمان لانے والے کے سامنے کسی اور شبہے کی گنجائش رہ جاتی ہے ، لیکن چونکہ بعض لوگ ان شبہات کے ذریعہ اہل توحید سے بحث ومباحثہ کرتے اور اپنی بدعت پر ڈٹے رہنے پر دلیل پکڑتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ انکے پیش کردہ چند اہم شبہات پر ایک نظر ڈال لی جائے ۔

پہلا شبہہ :

اصحاب کہف کا واقعہ: ارشاد باری تعالی ہے : إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِم بُنْيَانًا رَّبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا (21)

اس وقت کو یاد کرو جبکہ وہ اپنے امر میں باہم اختلاف کر رہے تھے ، کہنے لگے انکی غار پر ایک عمارت تعمیر کردو ۔ انکا رب ہی انکے حال کو زیادہ جانتا ہے، جن لوگوں نے انکے بارے میں غلبہ پایا وہ کہنے لگے کہ ہم تو انکے آس پاس مسجد بنا لیں گے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ نصاری تھے ، انکے انتقال کے بعد لوگوں کا باہمی اختلاف ہوا ، ان میں سے کچھ لوگوں نے یہ تجویز پیش کی کہ اس غار یا اسکے قریب کوئی عمارت تعمیر کردی جائے جس سے انکی یادگار باقی رہے اور نشان مٹنے نہ پائے ، لیکن ان میں جو صاحب ثروت اور زبردست قسم کے لوگ تھے انہوں نے کہا کہ ہم انکا مزار تو نہیں بناتے البتہ یہاں ایک مسجد تعمیر کردیتے ہیں ۔

بعض لوگوں کو یہاں یہ شبہہ ہوتا ہے کہ اس قصے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ولیوں اور بزرگوں کی قبروں پر مسجد و عمارت تعمیر کی جا سکتی ہے،

لیکن متعدد وجوہ سے یہ قصہ دلیل نہیں بن سکتا، جسکی تفصیل درج ذیل ہے۔

اولا- یہ عمل پہلی شریعت کا ہے اور پرانی شریعت ہمارے لئے حجت نہیں ہے ، اور جو اہل علم پچھلی شریعت کو حجت تسلیم کرتے ہیں انکے نزدیک شرط ہے کہ ہماری شریعت کے خلاف نہ ہو ، اور جب ہماری شریعت میں واضح طور پر قبروں پر مسجد اور کسی قسم کی عمارت تعمیر کرنے سے روک دیا گیا حتی کہ قبروں کو قبلہ بنانے کو حرام ٹھہرایا گیا تو اہل کہف کا واقعہ ہمارے لئے کس طرح دلیل بن سکتا ہے؟ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقاً لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِناً عَلَيْهِ، الآية، المائدة: 48.

اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کر نے والی ہے اور انکی محافظ ہے ۔

اس آیت میں وارد لفظ ” مہیمن” کا معنی محافظ ، امین ، شاہد اور حاکم وغیرہ کیا جاتا ہے ، جسکا مفہوم علماء یہ بیان کرتے ہیں کہ اگر اس کتاب میں کوئی حکم ایسا ہے جو پچھلی کتابوں کے خلاف ہے تو فیصلہ اس کتاب کا مانا جائے گا، کیونکہ پچھلی کتابوں میں چونکہ تحریف وتغییر بھی ہوئی ہے اس لئے قرآن کا فیصلہ ناطق ہوگا ، جسکو یہ صحیح قرار دے وہی صحیح ہے باقی باطل ہے۔

ثانیا – انکا مزار بنانے واالے لوگ صاحب علم و تقوی نہ تھے اور نہ ہی مسجد بنانے والے لوگ ہی متقی و پرہیزگار تھے کہ انکا عمل ہمارے لئے حجت بنے ،بلکہ قرآن کے ظاہر سے پتا چلتا ہے کہ عام لوگوں کے خلاف اپنی طاقت ونفوذ کے زور پر وہاں مسجد بنا لی گئی ، اور ایسا اس دنیا میں بہت ہوتا ہے ، چنانچہ جامعہ اشرفیہ مبارکپور میں اسکے بانی حافظ عبد العزیز کے مزار کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔

ثالثا– مفسرین کا اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ اس مسجد کو تعمیر کرنے والے لوگ آیا مسلمان تھے یا کافر ، اگر مسلمان تھے تو کیا دلیل ہے کہ انکے پاس صحیح علم بھی تھا ؟ اور اگر کافر تھے تو انکا کام ہی بتوں کی پوجا اور شخصیت پرستی تھی پھر انکا عمل ہمارے لئے کسطرح دلیل بن سکتا ہے؟

رابعا—نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان سے بتواتر یہ ثابت ہے کہ یہود ونصاری نے دین قویم اور صراط مستقیم سےانحراف کرکے اپنے نبیوں اور ولیوں کی قبروں کو مساجد ومزارات کی شکل دے دی تھی اور اسی بنیاد پر وہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان پر ملعون ٹھہرے:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ النَّجْرَانِىِّ قَالَ حَدَّثَنِى جُنْدَبٌ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِخَمْسٍ وَهُوَ يَقُولُ ……….. « أَلاَ وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ أَلاَ فَلاَ تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ إِنِّى أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ ».صحيح مسلم وغيره.

حضرت عبداللہ بن حارث النجرانی بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت جندب بن عبداللہ البجلی رضی اللہ نے یہ حدیث بیان کی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات سے صرف پانچ دن قبل سنا آپ فرما رہے تھے کہ یاد رکھنا تم سے پہلے لوگوں [یہود ونصاری] نے اپنے نبیوں اور ولیوں کی قبروں کو مسجد بنا لیا تھا ، دیکھو تم لوگ قبروں کو مسجد یں نہ بنانا، میں تمہیں اس سے منع کر رہا ہو ں۔

نیز فرمایا: ( لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مسجدا ) .

صحيح بخاري وصحيح مسلم وغيره بروايت عائشة.

اللہ تعالی کی لعنت ہو یہود ونصاری پر کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا تھا ۔

لہذا اگر انہوں نے ایسا کیا تو یہ انکی ان گمراہیوں میں سے ایک گمراہی تھی جسکی بنیادپر وہ قابل ملامت ٹھہرے ، نہ یہ کہ ان کا عمل ہمارے لئے حجت بنے۔

دوسرا شبہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر مبارک کا مسجد نبوی میں وجود۔

شبہہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اگر مسجد میں قبر بنانا یا اسکے برعکس نا جائز وحرام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر مسجد میں کیوں ہے؟

یہ اعتراض بھی نادانی یا عناد پر مبنی ہے ، درج ذیل امور پر غور کرلینے کے بعد یہ شبہہ باقی نہیں رہ جاتا۔

اولا- نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو آپ کے گھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارک میں دفن کیا گیا تھا نہ کہ مسجد میں، اور آج بھی وہ حصہ جسمیں قبر مبارک ہے مسجدسے خارج متصور ہے، اتنا حصہ مسجد میں داخل نہیں ہے۔

ثانیا – نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر مبارک کو مسجد کی حدود میں عباسی خلیفہ ولید بن عبد الملک [86ھ تا 96ھ] نے جس وقت داخل کیا تھا اس وقت مدینہ منورہ میں کوئی صحابی رسول موجود نہیں تھا کیونکہ مدینہ منورہ میں وفات پانے والے آخری صحابی حضرت جابر بن عبداللہ ہیں جنکی وفات سنۃ 78ھ ہے ،نیز اس وقت مدینہ منورہ میں موجود سید التابعین حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے ولید پر نکیر بھی کی تھی، جیسا حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایہ والنہایہ میں ذکر کیا ہے،9/75۔

ثالثا- یہ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان اور ان صحابہ کے عمل کے خلاف ہے جنکی اتباع کا ہمیں حکم دیا گیا ہے، یعنی خلفائے راشدین چنانچہ حضرت عمر عثمان رضی اللہ عنہما نے بھی مسجد نبوی کی توسیع کی تھی لیکن انہوں نے اس جانب سے کوئی تعرض نہیں کیا تھا جس طرف ازواج مطہرات کے حجرات تھے۔

رابعا – ولید بن عبد الملک کا مقصد قطعا یہ نہ تھا کہ اس طرح مسجد کی اہمیت میں اضافہ ہوگا بلکہ مسجد نبوی کی فضیلت تو پہلے ہی سے مقرر شدہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر مبارک اس میں داخل کر دینے سے اس کی فضیلت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ، ولید بن عبد الملک رحمہ اللہ نے اپنے اجتہاد سے یہی بہتر سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر مبارک کو چاروں طرف سے دیوار کھڑی کرکے گھیر دیا جائے اور باقی ازواج مطہرات کے کمروں کو مسجد میں شامل کر دیا جائے تاکہ نمازیوں کو تکلیف نہ ہو، اور آج بھی نمازیوں اور آپصلی اللہ علیہ و سلم کی قبر مبارک کے درمیان ڈبل دیوار حائل ہے۔

تیسرا شبہ۔ مسجد خیف میں ستر نبیوں کی قبر۔

معجم الطبرانی الکبیر کے حوالے سے ایک حدیث نقل کی جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ قَبْرُ سَبْعِينَ نَبِيًّا.الطبراني الكبير11/43.بروایت ابن عمر

مسجد خیف میں ستر نبیوں کی قبریں ہیں ۔

کہا یہ جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مسجدمیں خیف نماز پڑھی،حالانکہ اس میں نبیوں کی قبریں ہیں ، لہذا قبروں پر مسجد تعمیر کی جاسکتی ہے اور اسمیں نماز بھی پڑھی جاسکتی ہے۔

حالانکہ یہ استدلال کئی اعتبار سے ضعیف ہے، کیونکہ :

اولا—یہ حدیث ضعیف ،شاذ اور ناقابل استدلال ہے، حافظ السیوطی اور علامہ البانی رحمہما اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، علامہ البانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : متقدمین علماء جنکی تصحیح و تضعیف پر اعتماد کیا جائے کسی نے بھی اس حدیث صحیح نہیں قرار دیاہے اور نہ ہی اصولی اعتبار سے اسے صحیح قرار دیا جا سکتا ہے۔ بلکہ حدیث کے صحیح الفاظ اس طرح ہیں کہ صلى في مسجد الخيف سبعون نبيا منهم موسى صلى الله عليه و سلم. الطبراني الكبير11/452و453والأوسط6/194 ۔ یعنی مسجد خیف میں ستر نبیوں نے نماز پڑھی ہےجس میں حضرت موسی علیہ السلام بھی ہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھئے تحذیر الساجد ص 93 تا 99۔

ثانیا – کیا اس مسجد میں آج کسی قبر کا نشان ہے ، ان ستر قبروں میں سے کسی ایک قبر کا بھی پتا بتایا جا سکتا ہے؟ اعتبار تو قبر کے ظاہر رہنےکا ہے ، اور جب قبر کا نشان موجود نہیں ہے تو نہ یہود ونصارا کی مشابہت ہے ،نہ قبر کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی جاسکتی ہے اور نہ ہی قبروں کی تعظیم کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

ثالثا—یہ حدیث ان تمام صحیح اور متواتر حدیثوں کے خلاف ہے جن میں قبر کو مسجد بنانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے ، شاید یہی وجہ ہے کہ کسی عالم نے بھی اس حدیث کو ان صحیح حدیثوں کے مقابلہ میں پیش نہیں کیا ہے۔

رابعا—اس حدیث کے غیر محفوظ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ستر نبیوںکی اتنی بڑی تعداد جو مسجد خیف میں مدفون ہیں، وہ کہاں سے آئے ، کیاوہ باہر سے آکر یہاں وفات پائے اور مدفون ہوئے ،تو اپنی قوم اور انہیں دعوت دینے سے کیوں اعراض کیا اور اگر انکی بعثت مکہ مکرمہ کیلئے تھی تو یہ بھی قابل قبول نہیں کیونکہ حضرت ابراہیم واسماعیل علیہما السلام کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے علاوہ مکہ مکرمہ میں کسی نبی کی بعثت نہیں ہوئی ۔

چوتھا شبہ ۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبر حجر میں:

کہا جاتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبر حجر میں ہے، چنانچہ امام ابو احمد الحاکم کی کتاب الکنی 1/239 میں ہے: “ان قبر اسماعیل فی حجر”۔ یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبر حجر میں ہے۔

جب مسجد حرام میں جو دنیا کی سب سے افضل مسجد ہے اس میں قبر بنائی جاسکتی ہے تو کسی اور مسجد میں بدرجہ٫ اولی بنائی جاسکتی ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث کئی اعتبار سے قابل حجت نہیں ہے :

اولا—یہ حدیث ضعیف ومنکر ہے ، امام ذہبی ، حافظ ابن حجر اور علامہ البانی رحمہم اللہ وغیرہ نے اسے ضعیف ومنکر بتلایا ہے ، دیکھئے میزان الاعتدال 4/491، لسان المیزان 7/10، تحذیر الساجدص100 اور اسکے بعد، طبقات ابن سعد وغیرہ میں اس حدیث کی دیگر سندیں بھی ہیں لیکن کوئی سند قابل اعتماد نہیں ہے۔

ثانیا—اس حدیث کا من گھڑت ہونا ا س سے بھی واضح ہے کہ حضرت اسماعیل اور انکے بہت بعد تک حجر کا وجود ہی نہ تھا ، کیونکہ آج جسے حجر یا حطیم کہا جاتا ہے وہ اصل میں خانہ٫ کعبہ کا ایک حصہ ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کے پانچ سال پہلے تک خانہ کعبہ کا ایک حصہ رہا ہے لیکن جب قریش اس گھر کی تعمیر نو کرنے لگے اور انکے پاس اتنی کافی رقم متوفر نہ ہو سکی جس سے مکمل کعبہ کی تعمیر ہوسکے تو انہوں نے بیت اللہ کا کچھ حصہ بلا تعمیر چھوڑ دیا ، جسے بعد میں حجر کے نام سے جانا جانے لگا ۔

ثالثا – آج مسجد حرام میں نہ کہیں قبر کا نشان ہے اور نہ ہی کوئی علامت ، لہذا اس سے قبر پرستی کا شبہہ بھی نہیں ہوتا۔

پانچواں شبہ۔ حضرت ابو بصیر کا قصہ۔

صلح حدیبیہ کے موقعہ پر نبی کریمصلی اللہ علیہ و سلم نے قریش مکہ سے جو صلحنامہ طے کیا تھا اسکی ایک بند یہ بھی تھی کہ مسلمانوں کا کوئی فرد اگر کافر ہو کر مکہ واپس چلا جاتا ہے تو قریش اسے واپس کرنے کے پابند نہ ہونگے اور اگر کافروں کا کوئی فرد مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آجاتا ہے تو مسلمان اسے واپس کرنے کے پابند ہونگے، اس عہدنامہ کے بعد جب ایک کمزور مسلمان حضرت ابوبصیر مسلمان ہوکر مدینہ منورہ آئے تو کفار نے انہیں واپس لانے کے لئے دو آدمیوں کو بھیجا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حسب عہدنامہ ان دونوں کے ساتھ ابوبصیر کو واپس کردیالیکن راستے میں انہوں نے ایک شخص کو قتل کر دیا اور خود ساحل سمندر العیص نامی مقام پر آگئے ادھرابو جندل نامی انکے ایک اور ساتھی جو کافروں کے ظلم میں پس رہے تھے بھاگ ان سے آملے ، اب قریش کا جو آدمی بھی اسلام لا کر بھاگتا وہ ابوبصیر سے آملتا ، یہاں تک کہ ان کی ایک جماعت اکٹھی ہو گئی ، اب انہوں نے قریش کے قافلوں پر چھاپا مارنا شروع کردیا،قافلوں میں موجود مردوں کو مار ڈالتے اور مال لوٹ لیتے ، قریش اس صورت حال سے تنگ آگئے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ اور قرابت کا واسطہ دیتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ آپ ان لوگوں کو اپنےپاس بلا لیں اور جو بھی آپ کے پاس جائے گا ہم اسکا مطالبہ نہ کریں گے، اسکے بعد نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں بلا لیا اور وہ مدینہ آگئے۔

قصے کا اتنا حصہ ثابت اور صحیح بخاری وغیرہ کتب حدیث میں ہے لیکنمغازی موسی بن عقبہ کے حوالے سے اتنا اضافہ نقل کیا جاتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا خط ابوبصیر رضی اللہ عنہ اورانکے ساتھیوں کےپاس پہنچا تو اس وقت وہ مرض موت میں تھے انہوں نے نبیصلی اللہ علیہ و سلم کا خط اپنے ہاتھ میں لیا ،پڑھا اور اسی حال میں انکا انتقال ہوگیا ، ابو جندل رضی اللہ عنہ نے انہیں نہلایا ، انکی نماز جنازہ پڑھائی اور وہیں دفن کرکے ان کی قبر کے پاس ایک مسجد بنادی ، فتح الباری 5/351۔

یہ ہے وہ حدیث جس سے اہل قبور نے استدلال کیا ہے، لیکن یہ حدیث کسی بھی طرح انکے لئے دلیل نہیں بن سکتی ، جسکے وجوہات درج ذیل ہیں۔

اولا — اس حدیث کو امام زہری رحمہ اللہ نے مرسل روایت کیا ہے اور مرسل حدیث ضعیف کی قسم سے ہے ، خاص کر امام زہری کی مرسل حدیثیں توضعیف ترین مانی جاتی ہیں، جیسا کہ امام ذہبی وغیرہ نے لکھا ہے۔

ثانیا—یہ قصہ صحیح بخاری :2731، 2732 اور مسند احمد 4/328، 331 وغیرہ میں بھی بسند صحیح مذکور ہے لیکن مسجد بنانے کا ذکر کہیں بھی نہیں پایا جاتا۔ دیکھئے تحذیر الساجد ص 108 تا 110۔

ثالثا – اس روایت میں ہے کہـ انکی قبر کے پاس مسجد بنا دیا ـ جسکا مقصد یہ رہا ہوگا کہ تاکہ اس طرح قبر کے مکان کا پتا معلوم رہے مقصد بطور تبرک قبر پر مسجد نہیں بنائی گئی تھی جیسے آج کیا جاتا ہے، حالانکہ قبر کے پاس مسجد اور قبر پر مسجد دونوں میں فرق ہے۔

رابعا – ممکن ہے یہ اس وقت کی بات ہو جبکہ ابھی قبروں پر مسجدیں تعمیر کرنے کی حرمت کا نازل نہیں ہوا تھا۔ تحذیر الساجد ص 110۔

خامسا— حضرت ابو جندل ؓ اور انکے ساتھی مرکز اسلام سے دور تھے ،ضرور ہوگئے تھے لیکن تعلیمات اسلام مکمل رو سناش نہیں تھے ، لہاذا انکا وہ عمل جو متعدد حدیثوں کے خلاف ہو کیسے حجت بن سکتا ہے؟

خلاصہ کلام یہ کہ قبروں پر مسجدوں اور عمارتوں کی تعمیر ایک فعل قبیح اور اللہ کی لعنت کا سبب ہے۔

ختم شدہ

{ناشر:مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }