78

عاشوراء روزہ کی فضیلت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عاشوراء روزہ کی فضیلت

از قلم :شیخ اصغر علی سلفی حفظہ اللہ

{ ناشر : مکتب توعیۃ الجالیات الغاط، www.islamdawah.com/urdu }

محر م کے مہینے کو محرم اس کی تعظیم کی وجہ سے کہتے ہیں .اسلامی سال کی ابتداء محرم الحرام کے مہینہ سے شروع ہوتی ہے اور اس مقدس ماہ کی عظمت ابتداء آفرینش سے ہے اس ماہ میں مسنون عمل روزے ہیں ، حدیث میں رمضان کے علاوہ نفلی روزوں میں محرم کے روزوں کو سب سے افضل قرار دیا گیا ہے . حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”أفضل الصیام بعد رمضان شہر اللہ المحرم “”رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں “.

(مسلم حدیث نمبر :١١٦٣)

بالخصوص عاشوراء (دس محرم ) کے روزے کی فضیلت سے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :”یکفر السنة الماضیة” ” عاشوراء کا روزہ یہ ایک سال گزشتہ کےگناہ کا کفارہ ہے “.

(مسلم حدیث نمبر : ١١٦٢)

اسلام سے پہلے بھی مشرکین عرب عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ “کانت قریش تصوم عاشوراء في الجاہلیة ، وکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصومہ، فلما ہاجرإ لی المدینة صامہ وأمر بصیامہ ، فلما فرض شہر رمضان قال: “من شاء صامہ ، ومن شاء ترکہ ” “زمانہ جاہلیت میں قریش کے لوگ عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی روزہ رکھتے تھے تاہم جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ۖ نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی رکھنے کا حکم دیا پھر جب رمضان کے مہینے کا روزہ فرض ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”جو چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے “.

(مسلم حدیث نمبر :١١٢٥)

اسی طرح مشرکین مکہ کے علاوہ مدینہ کے یہود بھی عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اوریہود کے بعض قبائل اس دن عید مناتے تھے چنانچہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ “أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قدم المدینة فوجد الیہود صیاما یوم عاشوراء فقال لہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :”ما ہذا الیوم الذ ي تصومونہ ؟فقالوا: ہذایوم عظیم أنجی اللہ فیہ موسی وقومہ وغرق فرعون وقومہ وصامہ موسی شکراًفنحن نصومہ ، فقال : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :”فنحن أحق وأولی بموسی منکم “فصامہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وأمر بصیامہ ” “نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو عاشوراء کا روزہ رکھتے ہوئے پایا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:”اس دن تم لوگ روزہ کیوںرکھتے ہو ؟تو وہ کہنے لگے یہ بہت بڑا دن ہے اس میں اللہ تعالی نے موسی اور اس کی قوم کو نجات دی ، فرعون اور اس کی قوم کو غرق آب کیا تو موسی علیہ السلام نے اللہ کے لئے شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھا تھا تو ہم بھی (اسی لئے ) رکھتے ہیں .رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ ہم تم سے زیادہ موافقت رکھنے کے حقدار ہیں پھر آپۖنے روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی رکھنے کا حکم دیا “.

( مسلم حدیث نمبر :١١٣٠)

مگر چونکہ عبادات ومعاملات میں یہود ونصاری کی موافقت شریعت اسلامیہ میں درست وجائز نہیں اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے روزہ کے ساتھ ان کی مخالفت کا حکم دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”صوموا یوم عاشوراء وخالفوا الیہود ، صوموا قبلہ یوما أو بعد ہ یوما””عاشوراء (دس محرم ) کا روزہ رکھو لیکن یہود کی مخالفت بھی بایں طور کرو کہ اس کے بعد یا اس کے قبل ایک روزہ اور ساتھ ملا لیا کرو “یعنی ٩۔١٠محرم یا ١٠۔١١ محرم کا روزہ رکھا کرو.

(مسند احمد حدیث نمبر :٢١٥٤)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ماہ محرم میں نفلی روزوںکی فضیلت حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ نفلی روزے رکھے البتہ عاشوراء کا روزہ جس کی فضیلت اوپر بیان کی گئی ہے ضرور رکھے یعنی ٩اور ١٠ محرم کو یاپھر ١٠ اور ١١محرم کو .اللہ ہم سب کو اس کی توفیق عطاء فرمائے ، آمین.

{ ناشر : مکتب توعیۃ الجالیات الغاط، www.islamdawah.com/urdu }

ختم شدہ

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں