ماہ محرم اور مسلمانوں کا طرز عمل – قسط : 1/2

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ماہ محرم اور مسلمانوں کا طرز عمل

قسط : 1/2

از قلم : ابو عدنان محمد طیب السلفی

{پیشکش:مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

‏پیر‏، 21‏ دسمبر‏، 2009 — ‏04‏/01‏/1431

قارئین کرام ! ماہ محرم اسلامی سال نو کا پہلا مہینہ ہے اسی مہینہ سے اسلامی سنہ ہجری کا آغاز ہوتا ہے، یہ مہینہ بھی ان مہینوں میں سے ہے جسے اسلام نے حرمت والا مہینہ قرار دیا ہے، جن میں گناہوں سے بچنے کی بہت زیادہ تاکید آئ ہوئ ہے، لیکن قرآن وحدیث سے عدم واقفیت کی بناپربہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس مہینہ کی عزت وحرمت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی وجہ سے ہے جبکہ اس مہینہ کی حرمت اسی دن سے ہے جس دن سے اللہ عزوجل نے زمین وآسمان کی تخلیق فرمائ ہے،

فرمان باری تعالی ہے “ بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد اللہ کی کتاب میں اس دن سے بارہ ہے جس وقت آسمان وزمین کی تخلیق ہوئ ہے ان میں سے چار مہینے حرمت کے ہیں یہی سیدھا دین ہے”

( سورۃ التوبہ آیت: ۳۶ )

ان چار مہینوں میں سے ایک مہینہ محرم الحرام بھی ہے۔

اس مہینہ کی عظمت و فضیلت اس سے بھی واضح ہے کہ اس ماہ میں روزہ رکھنے کی بڑی فضیلت ہے ، ایک حدیث میں ماہ محرم کے روزے کو رمضان المبار ک کے روزوں کے بعد افضل ترین قرار دیا گیا ہے ،جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (افضل الصیام بعد رمضان شھر اللہ المحرم) “ر مضان المبارک کے روزوں کے بعد افضل ترین روزےمحرم کےہیں ”

(صحیح مسلم ح: ۱۱۶۵۳ )

نیز حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوم عاشوراء کے دن سے بڑھ کر کسی اوردن کے روزے کو فضیلت دیتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی ماہ رمضان سے بڑھ کر کسی اور مہینہ کوفضیلت دیتے ہوئے”

( بخاری ح: ۲۰۰۶، مسلم ح: ۱۱۳۲)

حدیث ابوقتادہ میں ہےآپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے سے کس قدر ثواب ملتا ہے توآپ نے فرمایا کہ اللہ رب العزت ایک سال گزشتہ کا گناہ معاف فرمادیتا ہے ”

(صحیح مسلم)

حدیث بخاری ومسلم میں ہے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لا ئے تو یہودیوں کو محرم کی دسویں تاریخ کاروزہ رکھتے ہوئے دیکھا تو دریافت فرمایا کہ تم اس دن کیوں روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ وہ مبارک دن ہے جس میں اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون سے نجات دی تھی تو اس کے شکریہ میں حضرت موسی علیہ السلام نے یہ روزہ رکھا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت موسی علیہ السلام کی اتباع کا میں تم سے زیادہ حقدارہوں چنانچہ آپ نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا ”

( بخاری ح:۲۰۰۴مسلم ح: ۱۱۳۰)

اس لئے جو شخص اس مہینہ میں روزہ رکھنا چاہے اسے دسویں کے ساتھ نویں تاریخ کا یاگیارہویں تاریخ کا روزہ رکھنا چاہئے تاکہ یہودیوں سے مشابہت نہہونےپائے، علامہ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر نویں دسویں اور گیارہویں تینوں دنوں کا روزہ رکھا جائے تو اور بہتر ہے۔

قارئین کرام! مذکورہ بالا سطور سے آپ کو یہ معلوم ہوگیا ہوگا کہ کتاب وسنتکی نظر میں یہ مہینہ کس قدر مقدس اور محترم ہے اور یہ کہ اس مہینہ میں روزہ رکھنے کی کس قدر فضیلت آئ ہوئ ہے،لیکن مذہب سے ناواقف مسلمان اس نیک عمل کوترک کرکےاس میں وہ نازیبا کام کرتے ہیں جن سے اسلام پر بہت بڑا دھبہ آتا ہے، اور اسلام اغیار کی نظروں میں بدنما نظر آتا ہے جیسے:

تعزیہ بنانا:

تعزیت کے معنی مرنے والوں کے گھر والوں کوغمخواری اور تسلی دینے کے ہیں، لفظ تعزیت کوتعزیہ بنالیا گیا اورآج تعزیہ اس ڈھانچے کو کہا جاتا ہے جو ہر سال کاغذ اور کھپچیوں، ابرک بانس وغیرہ کا خود اپنے ہاتھوں سے تیار کرتے ہیں اور پھر محرم کی دسویں تاریخ کو بہت ہی اہتمام سے اسے نکالتے ہیں، اور اس ڈھانچے کے ارد گرد ہزاروں مرد عورتوں کا ہجوم ہوتا ہے، اور پھر اس ڈھانچے کے سامنے بہت سے مرد عورتیں سر جھکاتے، ناک رگڑتے نظر آتے ہیں، کوئ اس سے اولاد مانگتا ہے تو کوئ روزی کی درخواست کرتا ہے اور کوئ اس کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتا ہے اور کوئ اس پر چڑھاوے چڑھاتا ہے یہ بعینہ وہی شرک ہے جو مشرکین مکہ کرتے تھے، آج کے مسلمانوں اور مشرکین مکہ میں اتنا ہی فرق ہے کہ جس چیز کو مشرکین مکہ پوجتے تھے اس کانام وہ بت رکھا کرتے تھے اورآج کا مسلمان اسلامیت کا لیبل لگاکر جس چیز کوپوجتے ہیں اس کانام مزار یا مشہد رکھتے ہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ نام کے بدلنے سے کسی چیز کی حقیقت نہیں بدلتی۔

غرضیکہ اس مبارک مہینہ میں نام کے مسلمان کام کے مشرک حیا سوز کام اور افعال شنیعہ کے مرتکب ہوتے ہیں جن کا اسلام اور مسلمانی سے سوکوس کا بھی لگاؤ نہیں۔

مسلمان بھائیو! اس تعزیہ داری کا ثبوت نہ تو قرآن پاک میں ملتا ہے اور نہ حدیث رسول میں اور نہ کسی صحابہ اور تابعی نے حکم دیا اور نہ چاروں اماموں نے اس کے متعلق اجازت دی بلکہ یہ تو ان تمام بزرگوں کے بہت زمانے بعد کی ایک ایجاد کی ہوئ رسم ہے جس کا موجد کوئ شیعہ بادشاہ تھا، تمام علماء اسلام ہمیشہ سے انہیں حرام اور ناجائز کہتے چلےآرہے ہیں اور سب کے فتوے شائع ہوچکے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں لیکن پھر بھی مسلمان اپنی حالت درست کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

بھائیو! یہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ یہ تعزیہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی یاد میں منایا جاتا ہے، حالانکہ تاریخ اسلام میں آپ کو ایسے بیسوں واقعات ملیں گے، بلکہ بعض واقعات تو کربلا سے بھی بڑھے ہوئے ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ اس کی یاد ہر سال تازہ کی جاتی ہے، حالانکہ اس سے زیادہ اہم وجگر خراش واقعات کو بالکل فراموش کردیا جاتا ہے ،کیا آپ نے حضرت عمر فاروق کی شہادت کا واقعہ نہیں سنا کہ ابو لو لؤ نے کس بے رحمانہ طریقہ سےعین نماز کی حالت میں برچھا مار کر آپ کو ہمیشہ ہمیش کے لئے آرام کی نیند سلادیا، نیز حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ کیسی بے بسی کے عالم میں ہوا کہ جس کے یاد کرنے سے کلیجہ منہ کو آتا ہے اور اسی طرح حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کاواقعہ بھی بھلادینے کے قابل نہیں جن کو دشمنان دین اسلام نے اس بے رحمی کے ساتھ شہید کیا کہ ان کے ہاتھ پیر ناک کان کاٹ دیئے گئے، ان کے کلیجے کے کباب بنائے گئے اور ان کو دانتوں سے چبایا گیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ بھی کیا کچھ کم درد انگیز ہے کہ ایک دن آپ صبح نماز پڑھنے کی غرض سے مسجد جارہے تھے کہ اچانک آپ پر ابن ملجم حملہ کرتا ہے اور آپ کو اس زور سے تلوار مارتا ہے کہ آپ کاچہرہ کنپٹی تک کٹ جاتا ہے اور تلوار دماغ پر جاکر ٹہرتی ہے، اور اس کے دو روز بعد جام شہادت نوش فرماتے ہیں۔

افسوس صد افسوس ! اسلام کے بڑے بڑے نامور مجاہدین، خلفائے راشدین، اعلی درجہ کے فاتحین متفرق وقتوں میں شہید ہوئے مگر ان کی سچی اور اصلی شہادت پر کوئ شور وغل، کوئ چرچا اور تیوہار وبرسی منانے کا دستور نہیں،مگرحضرت حسین رضی اللہ کی شہادت پر تیرہ سو برس سے بھی زیادہ گزرچکے لیکن اب تک رنج وغم کی داستان اور اس میں خرافات وبہتان کا طومار ختم نہیں ہوا، مسلمانو! اللہ کے لئے عقل ودانشمندی سے کام لو اس فضول رسم اور بیہودہ طریقہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکو اور جس طرح ہوسکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسے دفن کردو۔

مسلمانو ! اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ صاف وصریح حکم ہے کہ جسے اللہ پر اور قیامت پر ایمان ہو اسے حلال نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ ورنج کرے مگر عورت کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اپنے شوہر کی وفات پر چار مہینہ دس دن تک سوگ کرے ”

(صحیح بخاری ومسلم )

مردوں کے لئے تو بالکل اس قسم کا سوگ منانا اسلام میں ثابت نہیں ہے، صرف عورتوں کے لئے دومواقع پر ثابت ہے اگر شوہر مرجائے تو چار مہینہ دس دن اور اگر شوہر کے علاوہ اور کوئ رشتہ دار مرجائے تو صرف تین دن ، اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مسلمان کو درست نہیں کہ کسی میت پر خواہ شہید پر تین دن سے زیادہ رنج کرے۔

اسلام نے کسی نبی یا کسی ولی کی وفات یا شہادت پر سالانہ “یوم غم”مقرر کرنے کی ہر گز ہرگز اجازت نہیں دی بلکہ برعکس ان افعال پر شدید وعید آئ ہے، کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر سالانہ “یوم غم ”مقرر کیا؟ ہرگز نہیں کیوں کہ صحیح حدیث میں ہے کہ کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ کسی مسلمان کے مرنے پر تین دن سے زیادہ غم منائے۔

{پیشکش:مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔