ماہ محرم اور مسلمانوں کا طرز عمل – قسط : 2/2

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ماہ محرم اور مسلمانوں کا طرز عمل

قسط : 2/2

از قلم : ابو عدنان محمد طیب السلفی

{پیشکش:مکتب توعیۃالجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مصنوعی قبر:

اسی ڈھانچے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مصنوعی قبر بھی بنائ جاتی ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر کے متعلق اللہ رب العزت سے دعافرمایا کرتے تھے،( اللھم لاتجعل قبری وثنا یعبد ) “ اے اللہتومیری قبر کو بت نہ بنا کہ اس کی عبادت کی جائے” ( مئوطاء امام مالک ج۱/ ۱۷۲/ ۴۱۴)

جس طرح بت پرست بتوں وغیرہ کو سجدہ کرتے ہیں اور ان کو حاجتوں کاپورا کرنے والا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں، اسی طرح مسلمان میری قبر کے ساتھ نہ کرنے لگیں۔

معزز ناظرین! یہ حکم تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اصلی قبروں کے متعلق تھا پھر فرضی قبریں یعنی تعزیہ وغیرہ تو اس حکم میں بطور اولی ہیں لہذا ان کے لئے ہر سال ایک دن مقرر کرکے اجتماع کرنا بہت ہی بڑا گناہ ہے، چنانچہ کتاب السراج میں خطیب کی روایت ہے (لعن اللہ من زار بلا مزار ولعن اللہ من زار شبہا بلاروح) “ یعنی اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے بلامزار کے زیارت کی اور اس پر بھی اللہ کی لعنت ہو جس نے بے جان جسم کی زیارت کی ” تعزیہ بھی جسم بے جان بلا مزار ہے۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ روح کو تعزیہ میں حاضر ناظر سمجھنا:

یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی روح پاک اس مصنوعی قبر میں حاضر ہوتی ہے حالانکہ یہ عقیدہ سراسر لغو اور غلط ہے،شریعت مطہرہ میں اس کا کچھ ثبوت نہیں، نہ بزرگان سلف میں سے کوئ اس کا قائل ہے بلکہ یہ عقیدہ عقل کے بھی خلاف ہے، کیوں یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک دفعہ لاکھوںکروڑوں تعزیوں میں حضرت حسین کی روح آسکے، بلکہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تو صاف موجود ہے کہ مرنے کے بعد کسی شخص کی روح واپس نہیں آسکتی، پھر اگر وہ روح نیک ہے توہمیشہ ہمیش اعلی علیین میں رہتی ہے، اور اگر بد ہے تووہ سجین میں داخل کردی جاتی ہے جہاں سے وہ ہرگز ہرگز چھٹکارا نہیں پاسکتی ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت حسین کی روح ہرگز ہرگز اس بانس اورکھپچیوں کے ڈھانچے میں نہیں آسکتی ، بلکہ فقہ حنفیہ میں تو یہاں تک لکھا ہوا ہے کہ جو شخص بزرگوں کی روح کو حاضر مانے وہ کافر ہوجاتا ہے۔

حضرت حسین کے نام کی نذرونیاز اور سبیلیں لگانا :

اس مہینہ میں ناواقف اور ناعاقبت اندیش مسلمان یہ حرکت بھی کرتے ہیں کہ حضرت حسین کے نام نذریں اور منتیں چڑھاتے ہیں حالانکہ اللہ تعالی کے سوا اور کسی کی نذرومنت ماننی قطعا حرام ہیں حدیث میں ہے کہ( لا نذرالا فیما ابتغی بہ وجہ اللہ) “ نذر صرف اس چیز میں ہے جس میں اللہ کی رضامندی چاہی جائے” نیز ان کے نام کی بازاروں اور گلی کوچوں میں بہت ہی زور وشور سے سبیلیں لگاتے ہیں یہ سب بدعت اور ناروا کام ہیں اور یہ اللہ کے مال کوغیر اللہ کے نام پر صدقہ وخیرات کرنا ہے جو صریحا شرک ہے فرمان باری تعالی ہے (وما اھل بہ لغیر اللہ)“ جوچیز اللہ کے نام کے سوا غیر اللہ کے نام پر پکاری جائے وہ حرام ہے”

ان کاموں سے بجز گناہ کوئ فائدہ نہیں ہوگا نہ اس میں کسی قسم کا ثواب ملے گا نہ اس سے اللہ راضی ہوگا نہ رسول کی خوشنودی حاصل ہوگی نہ حضرت حسین کی پیاس بجھے گی، نہ اس سے کوئ فائدہ پہنچے گا۔

ڈھول تاشے اور نقارے بجانا:

اس مہینہ میں ڈھول اور تاشے بجاکر سوگ وماتم کا اظہار کیا جاتا ہے ، اگر واقعی اظہار غم کا یہ اچھا اور بہتر طریقہ ہے تو یہ نام نہاد مسلمان اپنی ماں یاباپ یا اولاد یا کسی رشتہ دار کی وفات پر اظہار غم کے لئے ڈھول اور تاشے کا سہارا کیوں نہیں لیتے؟ غرضیکہ آج مسلمان اسلام کے نام پر وہ کام انجام دے رہے ہیں جو ہندو دسہرہ اور رام لیلا تیوہار کے موقع پر انجام دیتے ہیں،جبکہ ڈھول اور تاشے بجانا مطلق حرام ہے چہ جائیکہ ماہ محرم الحرام میں، اس لئے اس سے بالکل اجتناب کرنا چاہئے حدیث میں آیا ہے کہ“ جس جگہ باجا بجایا جائے وہاں پر شیطان کا تسلط ہوجاتا ہے اور وہاں سے رحمت کے فرشتے دور ہوجاتے ہیں” ایک دوسری حدیث میں آیا ہوا ہے آپصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ“ میں باجے گاجے مٹانے کی غرض سے بھیجا گیا ہوں”نیز ایک اور حدیث میں آیا ہوا ہے کہ“ گانابجانا لوگوں کے دلوں میں نفاق وشقاق اس طرح اگادیتا ہے جیسے پانی کھیتی کو”۔

مرثیہ خوانی کرنا:

یہ تمام امور بھی حرام ہے ہر مسلمان کو ان سے اجتناب کرنا چاہئے چنانچہ سنن ابن ماجہ میں ہے (نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن المراثی)“یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرثیہ خوانی سے منع فرمایا” نیز مبالغہ آمیز اشعار کہنے کی سخت وعید آئ ہوئی ہے، دوسر اس مرثیہ خوانی کے پردے میں شیعہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دیتے ہیں اور تبرا بازی کرتے ہیں اور ان کی بہت زیادہ توہین کرتے ہیں حالانکہ حدیث بخاری میں آیا ہے( لاتسبو اصحابی ) “میرے صحابیوں کو گالی مت دو” اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کو گالیاں دینا بالکل حرام ہے بلکہ بعض کے نزدیک تو ایسا شخص کافر اور واجب القتل ہے ۔

سنی بھائیو! نہایت ہی افسوس کا مقام ہے کہ تم ایک ایسی رسم کو رواج دے رہے ہو جو تمہارے مذہب کے سراسر خلاف ہے اور شیعوں کی ایجاد کی ہوئ رسم ہے ۔

تعزیہ سازی وغیرہ میں فضول خرچی:

تعزیہ کا بنانا مذہبی نقطہ نظر سے ممنوع اور حرام ہے چونکہ اس کی بدولت بہت سے شرکیہ وبدعیہ افعال اور فسق وفجور کاارتکاب ہوتا ہے اور نیز اسراف بے جا اورفضول خرچی کی جاتی ہے جس سے نہ کوئ دین کا فائدہ ہے اور نہ دنیا کا اور یہ فضول خرچی شرعا حرام ہے فرمان الہی ہے، [إِنَّ المُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ ] {الإسراء:27}

“ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائ ہیں ” دوسری جگہ ارشاد ہے[وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ المُسْرِفِينَ] {الأنعام:141 }“ فضول خرچی مت کرو اللہ تعالی فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ” نیز حدیث میں آیا ہے (نھی رسول اللہ عن اضاعۃ المال) “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کےضائع کرنے سے منع فرمایا ہے”

مسلمان بھائیو! اس سے بڑھ کر اسراف کیا ہوگا کہ تم رب العزت کے دئیے ہوئے مال کو اس ڈھانچے میں برباد کرتے ہو جس کو تم چند دنوں کے بعد توڑ مڑور کر ایک ویران جگہ میں پھینک دیتے ہو اور پھر اس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی نہایت درجہ کی توہین ہے، اور کسی بزرگ ہستی کی توہین کرنا کبیرہ گناہ ہے، نیز اقتصادی اور معاشی نقطہ نظر سے بھی تعزیہ کا بنانا ناجائز ہے چونکہ مسلمان اپنی جہالت کی بدولت اس تعزیہ پر اپنا ہزاروں نہیںبلکہ لاکھوں کروڑوں روپیہ غارت کردیتے ہیں جس سے ان کی معاشرت کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے ، مسلمانوں کی اقتصادی حالت بہت خراب ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اس قسم کی فضول رسمی کو فورا بند کردیں اور ایک پیشہ بھی ان رسموں پر خرچ نہ کریں، یہی وہ رسمیں ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو برباد کردیا اور ان کی زندگی کو ان پر تنگ کردیا ہے ، اس لئے مسلمانوں کو اس طرف فوری توجہ کرنی چاہئے اور ان فضول رسموں کو خیر باد کہہ کر اصل اسلام کی پابندی کرنی چاہئے کیوں کہ ہماری دونوں جہاں کی کامیابی اسی میں ہے، اللہ تعالی ہم سب کو نیک سمجھ کی توفیق عطافرمائے ۔آمین یارب العالمین ۔

{پیشکش:مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

ختم شدہ