112

فضائل ماہِ محرم اور اس کی بدعات

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فضائل ماہِ محرم اور اس کی بدعات

از : شیخ اصغر علی سلفی حفظہ اللہ ، وطنیہ

{ناشر :مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

الحمد للہ رب العالمین والصلاة والسلام علی رسولہ الکریم أما بعد ………

قال اللہ تعالی :٫٫ ان عدة الشہور عند اللہ اثنا عشر شہراًفی کتاب اللہ یوم خلق السموات والأرض منہا أربعة حرم ،، ا للہ تعالی فرماتا ہے:

٫٫ مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے ،اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا کیا ہے ان میں سے چار حرمت وادب کے ہیں ،، .( سورئہ توبہ :٣٦)

ابتداء آفرینش سے ہی اللہ تعالی نے بارہ مہینے مقرر فرمائے ہیں جن میں چار حرمت والے ہیں اور وہ چار مہینے یہ ہیں :رجب، ذو القعدة ،ذوالحجة اور محرم. یہ چاروں مہینے اللہ تعالی کے نزدیک حرمت اور تعظیم کے لائق ہیں ، ان مہینوں میں خصوصیت سے اللہ تعالی کے حکم کے خلاف کوئی کام نہیں کرنا چاہئے اور نہ کوئی گناہ کرنا چاہئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے خطبہ میں ارشاد فرمایا ٫٫ ان الزمان قد استدارکہیئتہ یوم خلق السموات والأرض ،السنة اثنا عشر شہراً منہا أربعة حرم ، ثلاث متوالیات ذو القعدة و ذوالحجة و المحرم ورجب مضر الذ بین جمادی وشعبان ،، ٫٫زمانہ گھوم گھام کر اپنی اصلیت پر آگیا ، سال کے بارہ مہینے ہوا کرتے ہیں جن میں سے چار حرمت و ادب والے ہیں تین تو پے در پے ذوالقعدہ،ذوالحجہ اور محرم چوتھا رجب مضر جو جمادی الآخرہ اور شعبان کے درمیان میں ہے ،،.

(بخاری حدیث نمبر :٤٦٦٢)

محر م کے مہینے کو محرم اس کی تعظیم کی وجہ سے کہتے ہیں .اسلامی سال کی ابتداء محرم الحرام کے مہینہ سے شروع ہوتی ہے اور اس مقدس ماہ کی عظمت ابتداء آفرینش عالم سے ہے اس ماہ میں مسنون عمل روزے ہیں ، حدیث میں رمضان کے علاوہ نفلی روزوں میں محرم کے روزوں کو سب سے افضل قرار دیا گیا ہے . حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:٫٫أفضل الصیام بعد رمضان شہر اللہ المحرم ،،٫٫رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں ،،.

(مسلم حدیث نمبر :١١٦٣)

بالخصوص عاشوراء (دس محرم ) کے روزے کی فضیلت سے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :٫٫یکفر السنة الماضیة،، ٫٫ عاشوراء کا روزہ یہ ایک سال گزشتہ گناہ کا کفارہ ہے ،،.

(مسلم حدیث نمبر : ١١٦٢)

اسلام سے پہلے بھی مشرکین عرب عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ٫٫کانت قریش تصوم عاشوراء ف الجاہلیة ، وکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصومہ، فلما ہاجر لی المدینة صامہ وأمر بصیامہ ، فلما فرض شہر رمضان قال: ٫٫من شاء صامہ ، ومن شاء ترکہ ،، ٫٫زمانہ جاہلیت میں قریش کے لوگ عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی روزہ رکھتے تھے تاہم جب آپصلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی رکھنے کا حکم دیا پھر جب رمضان کے مہینے کا روزہ فرض ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :٫٫جو چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے ،،.

(مسلم حدیث نمبر :١١٢٥)

اسی طرح مشرکین مکہ کے علاوہ مدینہ کے یہود بھی عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور اس دن وہ عید مناتے تھے چنانچہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ٫٫أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قدم المدینة فوجد الیہود صیاما یوم عاشوراء فقال لہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :٫٫ما ہذا الیوم الذ تصومونہ ؟فقالوا: ہذایوم عظیم أنجی اللہ فیہ موسی وقومہ وغرق فرعون وقومہ وصامہ موسی شکراًفنحن نصومہ ، فقال : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :٫٫فنحن أحق وأولی بموسی منکم ،،فصامہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وأمر بصیامہ ،، ٫٫نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو عاشوراء کا روزہ رکھتے ہوئے پایا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:٫٫اس دن تم لوگ روزہ کیوں رکھتے ہو ؟تو وہ کہنے لگے یہ بہت بڑا دن ہے اس میں اللہ تعالی نے موسی اور اس کی قوم کو نجات دی ، فرعون اور اس کی قوم کو غرق آب کیا تو موسی علیہ السلام نے اللہ کے لئے شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھا تھا تو ہم بھی (اسی لئے ) رکھتے ہیں .رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:٫٫حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ ہم تم سے زیادہ موافقت رکھنے کے حقدار ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ ا اور لوگوں کو بھی رکھنے کا حکم دیا ،،.

( مسلم حدیث نمبر :١١٣٠)

مگر چونکہ عبادات ومعاملات میں یہود ونصاری کی موافقت شریعت اسلامیہ میں درست وجائز نہیں اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے روزہ کے ساتھ ان کی مخالفت کا حکم دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:٫٫صوموا یوم عاشوراء وخالفوا الیہود ، صوموا قبلہ یوما أو بعد ہ یوما،،٫٫عاشوراء (دس محرم ) کا روزہ رکھو لیکن یہود کی مخالفت بھی بایں طور کرو کہ اس کے بعد یا اس کے قبل ایک روزہ اور ساتھ ملا لیا کرو ،،یعنی ٩۔١٠محرم یا ١٠۔١١ محرم کا روزہ رکھا کرو.

(مسند احمد حدیث نمبر :٢١٥٤)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ماہ محرم میں نفلی روزوں کے علاوہ اور کسی قسم کی عبادت یا کارخیر قرآن وسنت سے ثابت نہیں اس کے باوجود آج ہمارے مسلم معاشرے میں ترقی زمانہ کے ساتھ ساتھ نت نئی بدعات نے رواج پالیا ہے ، میں یہاں ماہِ محرم سے متعلق چندمشہور بدعات مروجہ کا ذکر قارئین کرام کو متنبہ کرنے کی غرض سے کر کررہا ہوں :

(١) شیعوں کی طرح واقعہ کربلا کو مبالغے اور رنگ آمیزی سے بیان کرنا .

(٢) حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور یزید رحمة اللہ علیہ کی بحث کے ضمن میں جلیل القدر صحابہ کرام (خاص کر حضرت معاویہ اور مغیرہ رضی اللہ عنہما )کو ہدف طعن وتشنیع بنانے میں بھی تأمل نہ کرنا .

(٣) ماہ محرم کو سوگ کا مہینہ سمجھ کر اس مہینے میں شادی بیاہ نہ کرنا .

(٤) دس محرم کو تعزیے نکالنا ،انہیں قابل تعظیم وپرستش سمجھنا ، ان سے مرادیں اور منتیں مانگنا.

(٥) کھیچڑا پکانا ،حلیم پکانا اور پانی کی سبیلیں لگانا ، اپنے بال بچوں کو ہرے رنگ کے کپڑے پہنا کر انہیں حسین رضی اللہ عنہ کا فقیر بنانا.

(٦) دس محرم کو تعزیوں اور ماتم کے جلوس میں ذوق وشوق کے ساتھ شرکت کرنا اور کھیل وکود سے ان محفلوں کی رونق میں اضافہ کرنا .

(٧) ذوالجناحین (دو پر والے گھوڑے) کے جلوس میں ثواب کا کام سمجھ کر شرکت کرنا .

(٨) دس محرم کو مرثیہ خوانی اور سینہ کوبی کرنا ، ماتم اور نوحہ میں شرکیہ کلمات ادا کرنا.

(٩) دس محرم کو اظہار غم کی خاطر زیب و زینت اور عمدہ لباس کو چھوڑ کر ننگے سر ،ننگے پاؤں اور ننگے بدن رہنا .

(١٠) دس محرم کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر فاتحہ اور نذر ونیاز دینا .

بطور مثال میں نے مذکورہ چند مروجہ بدعات کا ذکر کیاہے ورنہ یہ اور اس جیسی بے شمار واہیات اعمال ماہ محرم میں آج مسلمانوں کا ایک طبقہ کارخیر اور ثواب سمجھ کر انجام دے رہاہے حالانکہ انہیں اس بات پر غوروفکر کرنا چاہئے کہ ہر وہ عمل جس کی قرآن وسنت اور خلفاء راشدین نیز خیر القرون میں کوئی دلیل نہ ہو وہ عمل لایعنی اور بے کار ہے اور یہ بات گزر چکی ہے کہ ماہ محرم میں نفلی روزوں کے علاوہ اور کوئی عبادت ثابت نہیں پس روزہ کے علاوہ ہرعمل قابل رد ہوگا جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:٫٫من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فہورد،،٫٫جس نے کار خیر سمجھ کر کوئی کام کیااور اس کا میں نے حکم نہیں دیا تو وہ عمل مردود ہے ،،.

(مسلم حدیث نمبر :١٧١٨)

ایک مسلمان کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کی اتباع ہی کافی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:٫٫فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المہدیین ، تمسکوا بہا وعضوا علیہا بالنواجذ ویاکم ومحدثات الأمور ، فن کل محدثة بدعة ، وکل بدعة ضلالة ،،وفی روایة النسائی ٫٫وکل ضلالة فی النار،،٫٫مسلمانو!تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقے ہی کو اختیار کرنا اور اسے مضبوطی سے تھامے رکھنا اور دین میں اضافہ شدہ چیزوں سے اپنے کو بچاکررکھنا اس لئے کہ دین میں نیا کام ( چاہے وہ بظاہر کیسا ہی ہو) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ ہر گمراہی جہنم تک لے جانے والی ہے ،،

( ابو داود حدیث نمبر : ٤٦٠٧ اور نسائی حدیث نمبر :١٥٧٦)

اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو عاشوراء کا روزہ رکھنے کی توفیق دے اور بدعات وخرافات سے محفوظ رکھے آمین یا رب العالمین .

ختم شدہ

{ناشر :مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں