66

حج کےآداب وفضائل/حديث نمبر :97

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :97

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 21/22/ ذو القعدہ 1430 ھ، م 10/09نومبر 2009

حج کےآداب وفضائل

عن أبي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏”‏ مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْيَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ‏”‏‏.‏

( صحيح البخاري :1521، الحج – صحيح مسلم :1350 )

ترجمہ :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرمارہے تھے کہ جس شخص نے حج کیا اور اس میں اس نے کوئی شہوانی اور فحش بات کا ارتکاب کیا اور نہ اللہ تعالی کی نافرمانی کی تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوکر واپس ہوگا جیسا کہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔

{ صحیح بخاری و صحیح مسلم } ۔

تشریح : حج بیت اللہ اسلام کا ایک رکن اور اس کی ایک اہم بنیاد ہے ، اس کی ادائیگی پر دین کا کمال منحصر اور بہت بڑے اجر وثواب کا وعدہ کیا گیا ہے ، چنانچہ سنت کے مطابق حج کی ادائیگی سے جس قدر گناہ جھڑتے ہیں وہ کسی اور اعمال اسلام سے شاید ہی جھڑتے ہوں ، یہی کیا کم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج وعمرہ کرنے والے کو اللہ تعالی کا خصوصی مہمان قرار دیا ہے کہ وہ جو کچھ بھی اللہ تعالی سے مانگتا ہے اللہ تعالی اسے دے دیتا ہے { سنن ابن ماجہ و مسند احمد }عبادات میں حج ہی وہ اہم عبادت ہے کہ اس سے کبیرہ گناہوں کے مغفرت کی امید کی جاسکتی ہے بلکہ یہ بھی امید رکھی جاسکتی ہے کہ حج مبرور حقوق العباد کا بھی کفارہ بنے گا { ترغیب و ترہیب }

اللہ کی راہ میں جہاد ایک ایسا عمل ہے جس کا مقابلہ کوئی دوسرا عمل نہیں کرسکتا الا یہ کہ ضعیف ، کمزور اور عورتوں کے لئے حج مبرور جہاد فی سبیل اللہ کا بدل قراد دیا گیا ہے { صحیح بخاری وغیرہ } ۔

زیر بحث حدیث میں بھی حج کی ایک عظیم فضیلت یہ بیان کی گئی ہے کہ جس شخص کا حج اللہ تعالی کے نزدیک مقبول ہوجائے وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک وصاف ہوکر واپس ہوگا جیسا کہ وہ اپنی پیدائش کے دن بے گناہ تھا ، قابل رشک اور قربان جانے کے قابل ہیں وہ لوگ جو اس فضیلت کے حقدار ہیں ، غور کریں کہ ایک مسلمان ستر سال کا ہو، یا اس سے کم وزیادہ اور ظاہر ہے کہ اس مدت میں بہت سے گناہوں کا مرتکب ہوا ہوگا ، لیکن اگر اس نے ایسا حج کیاجو اللہ تعالی کے نزدیک مقبول ہوا تو اس کے تمام ماسبق گناہ معاف ہوگئے ،لیکن ایک بات قابل توجہ ہے کہ اس حدیث میں جہاں حج کی اس قدر عظیم فضیلت بیان ہوئی ہے وہیں کچھ آداب کا بھی بیان ہے جن کا پاس و لحاظ کئے بغیر حج کی یہ فضیلت حاصل نہیں ہوسکتی جیسے :

[۱] فحش اور شہوانی بات نہ کرے : خواہ اپنی بیوی ہی کیوں نہ ہو ، دوران حج جماع و ہمبستری تو دور کی بات ہے ، اپنی زبان سے بھی جنسی خواہش کے اظہار تک کی بھی اجازت نہیں ہے ، چہ جائیکہ غیر عورتوں کی طرف شہوت اور للچائی نظروں سے دیکھنا ہو ۔

[۲] گناہ کی بات نہ کرے : یعنی حج کے دوران اس کی ساری توجہ نیکی اور اللہ تعالی کی خوشنودگی حاصل کرنے کی طرف ہونی چاہئے ، اللہ کی نافرمانی اور گناہ کے کاموں سے خصوصی طور پر پرہیز کیا جائے ۔

[۳] لڑائی جھگڑا : چونکہ دوران حج لوگوں کا عظیم اجتماع رہتا ہے ، ہر جنس ، ہر قسم اور ہر مزاج کے لوگ ہوتے ہیں ، ہر جگہ بھیڑ بھاڑ ، تنگی اور نفسی نفسی کا عالم ہوتا ہے اس لئے اس موقعہ پر لڑائی جھگڑے کا امکان بہت زیادہ رہتا ہے اب جب باتوں بات میں جھگڑا ہوگا تو گالی گلوچ اور پھر مارپیٹ کی نوبت آئے گی جو آداب حج کے سراسر خلاف ہے ، اس لئے خصوصی طور پر دوران حج بحث وتکرار سے روکا گیا ، قرآن مجید میں بھی ان آداب کو ملحوظ رکھنے کا خصوصی حکم ہے :[الحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الحَجِّ] {البقرة:197} “حج کے مہینے مقرر ہیں ، اس لئے جو شخص ان میں حج کو لازم کرلے وہ اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے گناہ کرنے اور لڑائی جھگڑے سے بچتا رہے ۔

ان کے علاوہ بھی حج کے دوسرے بہت سے آداب ہیں ہر وہ شخص جو اس بات کا خواہش مند ہے کہ اس کا حج مبرور ومقبول ہو اسے چاہئے کہ ان کا پاس و لحاظ رکھے جیسے

[۴] خلوص نیت : یعنی حج کا مقصد رضائے الہی ہو کوئی دنیوی مقصد جیسے : ریا وغیرہ نہ ہو ، اللہ تعالی کافرمان ہے : [وَللهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ البَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا] {آل عمران:97} ” جو لوگ اس گھر کی طرف راہ پاسکتے ہیں ان پر اللہ کے لئے اس گھر کا حج فرض ہے ” ۔

[۵] اتباع سنت : یعنی حج سنت نبوی کے مطابق کیا جائے ، کیونکہ جو عمل سنت کے خلاف ہوگا وہ بدعت وضلالت ٹھہرے گا اور عند اللہ مقبول نہ ہوگا ۔ ” جو ہمارے اس معاملے میں {دین میں } کوئی نئی چیز ایجاد کرے گا تو وہ مردود ہے { صحیح مسلم } ۔

[۶]دوران حج نرم گوئی:حج کے دوران لوگوں سے حسن خلقی اور نرم گوئی سے پیش آئے نہ کسی کو جھڑکے نہ کسی کو گالی دے ، نہ کسی سے ترش روئی کا معاملہ رکھے

[۷] حاجیوں کی خدمت : حج کے دوران حاجت مند حاجیوں کی حاجات کا خاص خیال رکھے انہیں کھلانے پلانے اور ان پر خرچ کرنے اور ان کی خدمت کو اپنا شیوہ بنالے ۔۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیاکہ حج مبرور کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : دوران حج کھانا کھلانا اور نرمی سے پیش آنا { مسند احمد } ۔

[۸] زبان ، کان اور آنکھ کی حفاظت : حاجی کو یہ احساس رہے کہ وہ عام جگہ نہیں بلکہ اللہ کی مہمانی اور اس کے دربار خاص میں حاضر ہے لہذا اپنی زبان سے وہی کچھ کہے جو میزبان کو پسند ہو ، آنکھ سے وہی کچھ دیکھے جسے دیکھنے سےمیزبان راضی ہو اور کان سے وہی کچھ سنے جس کے سننے کی میزبان اجازت دے رہا ہو، ارشاد نبوی ہے یہ وہ دن ہے کہ اگر کوئی شخص اس دن اپنے کان ، آنکھ اور زبان کی حفاظت کرے تو اسے بخش دیا گیا { احمد }

فوائد:

  1. حج کی فضیلت کہ وہ تمام سابق گناہوں کا کفارہ ہے ۔
  2. حج کے دوران جنس وشہوانی باتیں حج کے ثواب کو ختم کردیتی ہیں ۔
  3. حج کے دوران بلا وجہ کی کی بحث و تکرار بھی منع ہے ۔

گناہوں کا کفارہ وہی حج ہوگا جس کے اندر آداب حج کا لحاظ رکھا گیا ہو ۔

ختم شدہ

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں