177

حقیقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حقیقت محمد رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم

سماحة الشيخ عبد العزيز بن عبد الله بن محمد آل الشيخ

مترجم: مقصود الحسن فيضي

{ ناشر : مکتب الدعوہ ، الغاط ، www.islamdawah.com/urdu }

الحمد لله ، والصلاة والسلام على رسول الله ، وعلى آله وصحبه ومن سار على نهجه واقتفى أثره إلى يوم الدين . أما بعد

تمھید:

البحوث الاسلامیہ میگزین کے اسی مبارک شمارے کیلئےہم نے “شھادت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ” کی حقیقت سے متعلق گفتگو کا انتخاب کیا ، اسلئے کہ اسکی ضرورت بلکہ سخت ضرورت ہے کیونکہ غیر مسلم کو تو چھوڑ دیں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد بھی اس کلمہ کی حقیقت سے نا واقف اور اس کے منافی امور میں مبتلاہیں [بعض امور تو ] اس کلمہ کی حقیقت کے کلیۃ منافی ہیں اور بعض اسکے کمال کی منافی ہیں اور بعض اسکے کمال کی ضد ہیں اسی طرح ان امور میں بعض ایسے بھی ہیں جن کےارتکاب سے بندے کے ایمان میں خلل انداز ہوتے ہیں ، لہذا ضروری ہوا کہ اللہ تعالی کے ساتھ خیر خواہی، مسلمانوں کے اماموں کے ساتھ خیر خواہی اور عام مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کے جذبے سے اس کلمے کی حقیقت کو واضح کیا جائے، نیز اللہ تعالی کے اسی فرمان پر عمل کرتے ہوئے بھی کہ{ وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ } [ سُورَةُ الذَّارِيَاتِ : 55 ]

آپ نصیحت کرتےرہیں یقینا یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع بخشے گی ۔

اور اللہ تعالی کے اس فرمان کو بحی سامنے رکھتے ہوئے کہ { فَذَكِّرْ إِنْ نَفَعَتِ الذِّكْرَى } [ سُورَةُ الأَعْلَى : 9 ]

تو آپ نصیحت کرتے رہیں اگر نصیھت سچھ فائدہ دے ۔

اسی طرح اس فرمان الہی کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے کہ { فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ . لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ } [ سُورَةُ الغَاشِيَةِ : 21، 22 ]

پس آپ نصیحت کردیا کریں کیونکہ آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں، آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں ۔

نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو بھی مد نظر رکھتے ہوتے کہ (الدين النصيحة ، الدين النصيحة ، الدين النصيحة : قال الصحابة لمن يا رسول الله ؟ قال : لله ، ولكتابه ، ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم) [صحیح مسلم :۵۵ الایمان، سنن ابو داود: ۴۹۴۴ الادب، سنن النسائی ج ۷ / ۱۵۷،۱۵۶ بروایت تمیم داری]

دین خیر خواہی کا نام ہے ، دین خیر خواہی کرنے کا نام ، دین خیر خواہی ونصیحت کرنے کا نام ہے ، صحابہء کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول کس کی خیر خواہی ونصیحت ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالی کی، اللہ تعالی لے کتاب کی، اللہ تعالی کے رسول کی، مسلمانوں کے اماموں کی اور عام مسلمانوں کی ۔

چنانچہ ہر شخص جوحق کو دلیلوں سے جانتا وپہچانتا ہے اس پر واجب ہے کہ اس حق کو بیان کرے اور لوگوں میں عام کرے ، َخاص کر اس زمانے میں جب اسلام کی اجنبیت بڑھ گئی ہے، معروف منکرہو گیا ہے اور منکر کو لوگ معروف سمجھ بیٹھےہیں اور بہت کم لوگ ہیں جو حق کا اعلان واظہار کررہے ہیں ” فلا حول ولا قوۃ الا باللہ ” پھر بھی ہمارے لئَے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں تسلی کا سامان ہے :”بدأ الإسلام غريباً وسيعود غريباً كما بدأ فطوبى للغرباء ” [ صحیح مسلم : ۱۴۵ الایمان ، سنن ابن ماجہ : ۳۹۸۶ الفتن بروایت ابو ھریرۃ]

اسلام اجنبیت وکسمپری کی حالت میں شروع ہوا اور عن قریب اسی حالت پر لوٹ آئے گا تو جو لوگ اجنبی ہوں وہ کیا ہی خوب ہیں ۔

مقدمہٴ بحث

دین حق سے انحراف کی ابتداءاور اسکا سبب:

اصل موضوع شروع کرنے سے قبل ایک مقدمہ رکھتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اسکا ذکر فائدہ سے خالی نہیں ہے، لہذا اللہ تبارک وتعالی پر اعتماد کرتے ہوئے میں عرض کرتا ہوں کہ جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور ان میں روح پھونکر فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ انہیں سجدہ کریں ۔[اس وقت وہاں ابلیس بھی موجود تھا ] اصل میں تو وہ جنوں کی نسل سے تھا فرشتہ نہ تھا، لیکن چونکہ فرشتوں جیسا کام کرتا تھا ،[عمل میں ] انکی مشابہت کری تھی اور انھیں جیسی عبادت کرتا تحا اسلءے سجدہ کے حکم میں وہ بھی شامل تھا، لیکن جب فرشتوں کو سجدے کا حکم دیا اور وہ سجدہ میں گرگئَے تو ابلیس ملعون نے سجدہ نہ کیا جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے : { وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِكَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ فَسَجَدُوا إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ } [ سُورَةُ البَقَرَةِ : 34 ]

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا ۔ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ کافروں میں ہو گیا ۔

اسی طرح سورہ کہف میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: { وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِكَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ فَسَجَدُوا إِلاَّ إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ } [ سُورَةُ الكَّهْفِ : 50 ]

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا ، یہ جنوں میں سے تھا ، اس نے اپنے پرور دگارکی نا فرمانی کی ۔

ابلیس کا آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار محض تکبر ،حسد اور ظلم وزیادتی کی وجہ سے تھا ،جسکا انجام یہ ہوا کہ اللہ تعالی نے اسے اپنی رحمت سے دور کردیا اور اس پر اللہ تعالی کی لعنت مسلط کردی گئِ لیکن اس سے اس خبیث کا عناد اور بڑھ گیا ، آدم اور اولاد آدم سے متعلق اسکے حسد میں اضافہ ہو گیا اور اس نےاللہ تعالی سے قیامت تک کیلئے مہلت مانگ لی ، چنانچہ اللہ تعالی نے اسے مہلت دے بھی دی ، اس موقعہ پر اس نے کہا تھاجیسا کہ اللہ تعالی نے اسکا قصہ ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے :

{ قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ . ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ وَلاَ تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ } [ سُورَةُ الأَعْرَافِ: 16،17 ]

اس نے کہا بسبب اسکے کہ آپ نے مجھ کو گمراہ کیا ہے میں قسم کھاتا ہوں کہ میں انکے لئے آپ کی سیدھی راہ پر بیٹھوں گا ، پھر ان پر حملہ کروں گا انکے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی اور انکی داہنی جانب سے بھی اور انکی بائیں جانب سے بھی ، اور آپ ان میں سے اکثر کو شکر گزارنہ پایئے گا ۔

مفہوم یہ ہے کہ اس نے یہ قسم کھا لی کہ وہ اللہ کے بندوں یعنی اولاد آدم کو طریق حق اور راہ نجات سے بھٹکا تار ہے گا تاکہ وہ اللہ تعالی کی صحیح عبادت کریں اور نہ ہی اسکی توحید کو اپنا ئیں ، نیز وہ اولاد آدم کو خیر کے کام سے روکنے اور شر کے کام سے ابھارنے کے لئے متعدد اسلوب استعمال کریگا۔

نیز اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : { قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ . إِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ } [ سُورَةُ الْحِجْرِ : 39،40 ]

شیطان نے کہا کہ اے میرے رب :چونکہ تونے مجھے گمراہ کیاہے مجھے بھی قسم ہے کہ میں بھی زمین میں ان کے لئے معاصی کو مزین کروں گا اور ان سب کو بہکاوں گا بھی ، سوائے تیرے ان بندوں کے جو منتخب کر لئے گئے ہیں ، چنانچہ وہ ملعون برابر آدم علیہ السلام اور انکی ذریت کو وسوسہ میں ڈالتا ، گمراہ کرتا اور دھوکہ دیتا رہا حتی کہ آدم علیہ السلام کو جنت سے نکلنے اور انکے بیٹے کو اپنے بھائی کے قتل کرنے کا سبب بنا ، اسی پر بس نہیں بلکہ جب اولاد آدم پر ایک مدت گزگئ اور نبوت کے زمانہ سے دوری ہو گئ تو انکے لئے باری تعالی کے ساتھ کےشرک کرنے کو خوشنما بنایا اور اس پر ابھار ا، پھر اس کا چاہا وہ ہو کر رہا ، شیطان نے انکے بارے میں اپنا گمان سچا کر دکھا یا ، لوگوں نے اسکی پیروی کی اور شرک میں مبتلا ہوگئے ، سب سے پہلے شرک میں پڑنے کا واقعہ قوم نوح میں پیش آیا جب ان لوگوں نے ود ،سواع ،یغوث ،یعوق،اور نسر کی عبادت شروع کر دی ، یہ قوم کے نیک اور صالح بندوں کے نام ہیں، جب یہ انتقال کرگئےتو انکے ماننے والوں کے دلوں میں شیطان نے یہ بات ڈالی کی انکے بیٹھنے کی جگہوں پر انکا مجسم بنا کر رکھ لو اور انکے ناموں سے موسوم کردو، لوگوں نے ایسا ہی کہا ، البتہ ان لوگوں کی عبادت نہ کی ، یہاں تک کہ جب لوگ گزرگئےاور علم مٹ گیا تو ان مجسموں کی عبادت شروع ہوگئی ،یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے جیسا کہ صحیح بخاری کتاب التفسیر میں موجود ہے [صحیح البخاری : ۴۹۲۰ التفسیر]

امام طبری رحمہ اللہ نے محمد بن قیس نامی ایک تابعی کا قول اس طرح نقل کیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان کچھ نیک لوگ گزرے جنکے ماننے والے انکی زندگی میں انکی اقتدا وپیروی کرتے تھے جب ان بزرگوں کا انتقال ہو گیا تو انکے پیروکار شاگردوں نے کہا کہ اگر ہم انکی تصویر بنا [کر سامنے رکھ] لیں اورانھیں دیکھتے رہیں تو ہمارے دل میں عبادت کا شوق پیدا ہوگا ، چنانچہ ان لوگوں نے انکے مجسمے اور تصویریں بنا کر رکھ لیں ، پھر جب یہ سچے پیرو کار گزرگئے اور دوسرے لوگ ان کے جانشین بنے تو شیطان نے انکے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ [تمھارے باپ دادا] ان کی عبادت کرتے تھے اور انھیں کی برکت سے انھیں سیراب کیا جاناتھا چنانچہ وہ لوگ انکی عبادت کرنے لگے [تفسیر الطبری ۱۲| ۲۵۴]

اس طرح ابلیس کے ورغلانے کے سبب اولاد آدم میں شرک کی ابتدا ہوئی ،لیکن اللہ تبارک وتعالی نے اپنے علم وحکمت سے اور اپنے بندوں پر رحم کی غرض سے انہیں بے سہارا نہیں چہوڑا کہ شیطان اور اسکے چیلے انہیں بہکاتے رہیں بلکہ انکی طرف رسولوں کو بھیجا جو انکے سامنے دین حق بیان کرتے اور شرک وگمراہی سے انھیں متنبہ کرتے رہے ،ایسا اللہ تبارک وتعالی بندوں پر محض رحمت اور ان پر حجت قائم کرنے کی غرض سے کیا ۔

ارشاد باری تعالی ہے : {لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَا مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ وَإِنَّ اللهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ } [ سُورَةُ الأَنْفَالِ : 42 ]

تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کی بنا پر ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ بھی دلیل کی بنا پر زندہ رہے ۔

نیز فرمایا : { رُسُلاً مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا } [ سُورَةُ النِّسَاءِ : 165 ]

ہم نے رسولوں کو بھیجا خو شخبریاں سنا نے والے اور آگاہ کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالی پر رہ نہ جائے ، اللہ تعالی بڑا با حکمت ہے ۔

ایک اور جگہ ارشاد ہے: { وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ فَمَنْ آمَنَ وَأَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ . وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ } [ سُورَةُ الأَنْعَامِ : 48،49 ]

اور ہم پیغمبروں کو صرف اس لئے بھیجا کرتے ہیں کہ وہ بشارت دیں اور ڈرائیں ، پھر جو ایمان لے آئے اور درستی کرلے سو ان لوگوں پر کوئی اندیشہ نہیں اور نہ وہ مغوم ہونگے ،اور جولوگ ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلائیں ان کو عذاب پہنچے گا بوجہ اسکے کہ وہ نا فرمانی کرتے ہیں ۔

نیز صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “لا أحد أغير من الله لذلك حرم الفواحش ما ظهر منها وما بطن ولا أحد أحب إليه المدح من الله عز وجل من أجل ذلك مدح نفسه ولا أحد أحب إليه العذر من الله من أجل ذلك بعث النبيين مبشرين ومنذرين” [ صحیح البخاری: ۴۶۳۴ التفسیر ،صحیح مسلم : ۶۱۱۳، ۶۱۱۴ التوبۃ ، نیز دیکھئے صحیح البخاری: ۷۴۱۶ التوحید ، مسلم : ۱۴۹۹ اللعان بروایت مغیرۃ بن شعبۃ]

اللہ تعالی سے بڑھکر غیر تمند اور کوئی نہیں ہے اسی لئے تو اللہ تعالی نے ہر ظاہر وپوشیدہ برائی کو حرام قرار دیا اور نہ ہی کوئی اللہ تعالی سے بڑھ کر تعریف پسند ہے اسی لئےتو اس نے اپنی تعریف کی ہے ، اور نہ ہی کوئی اللہ تعالی سے بڑھکر عذر قبول کرنے والا ہے ، اسی لئے تو اس نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے رسولوں کو مبعوث فرمایا ہے ،

بعض حدیثوں میں یہ الفاظ ہیں : من أجل ذلك أرسل رسله وأنزل كتبه[حوالہ سابقہ، یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں]

چنانچہ اللہ تبارک وتعالی نے بندوں پر حجت پوری کرنے اور انکے لئے کوئی عذر باقی نہ چھوڑنے کیلئے رسولوں کو بھیجا ، یہ رسالتیں تمام مخلوق پر اللہ تعالہ کی بہت بڑی نعمت ہیں ، کیونکہ بندوں کی یہ حاجت تمام حاجتوں سے بڑھ کر اور اسکی ضرورت تمام ضرورتوں سے زیادہ ہے یعنی رسالت کی ضروت انھیں کھانے ، پینے اور علاج ومعالجہ کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ ان مذکورہ چیزوں کی کمی کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ اسکا جسم مرجائے گاجبکہ رسالت میں دل اور دین کی زندگی ہے بلکہ بندے کی دنیا وآخرت کی اصلاح کیلئے رسالت بہت ضروری ہے ، کیونکہ جسطرح رسالت کی پیروی کے بغیر آخرت کی اصلاح نہیں ہو سکتی اسی طرح دنیا کی اصلاح بھی رسالت کی اتباع کے بغیر ممکن نہیں ہے ، جیسا کہ اسکی وضاحت شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ نے[اپنے ایک رسالے میں ] کردی ہے [مجموع الفتاوی ۱۹| ۹۹]

{ ناشر : مکتب الدعوہ ، الغاط ، www.islamdawah.com/urdu }

سلسلہ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں