73

حج اورلباس/حديث نمبر :142

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :142

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 17/18/ ذو القعدہ 1431 ھ، م 26/25 اکٹوبر2010

حج اورلباس

عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم إن رجلا سأله ما يلبس المحرم من الثياب فقال : لا يلبس القميص ولا العمامة ولا السراويل ولا البرنس ولا ثوبا مسه الورس أو الزعفران ولا الخفين إلا أن لا يجد نعلين فإن لم يجد نعلين فليلبس الخفين وليقطعهما حتى يكونا تحت الكعبين ولا تنتقب المرأة المحرمة ولا تلبس والقفازين .

( مختصر صحيح البخاري : 88 ، العلم – صحيح مسلم : 1177 , الحج )

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا کہ محرم [ حالت احرام میں ] کیا کیا کپڑےپہن سکتا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا : احرام باندھنے والا قمیص نہ پہنے ، نہ پگڑی باندھے ، نہ شلوار پہنے ، نہ ہی برنس [ٹوپی دار کرتا ] پہنے ، نہ ایسا کپڑا پہنے جس میں ورس یا زعفران لگا ہو اور نہ ہی موزے پہنے الا یہ کہ جوتے میسر نہ ہوں تو موزے پہن لے البتہ [اوپر سے کچھ حصہ ] کاٹ لے تا کہ ٹخنوں سے نیچے ہوجائیں ، اسی طرح احرام باندھنے والی عورت نقاب پہنے اور نہ دستانہ ۔

[ صحیح بخاری وصحیح مسلم ]

تشریح : حج و عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ کا قصد کرنے والے کے لئے میقات پر پہنچ کر احرام باندھنا ضروری ہے ، بغیر احرام باندھے میقات سے آگے جانا قطعا جائز نہیں ہے ۔

احرام کا معنی : احرام کا معنی ہے حرمت میں داخل ہونا ، حرم میں داخل ہونا یا حرام کرلینا ،

شرعی اصطلاح میں حج یا عمرہ کی عبادت میں داخل ہونے کی نیت کرنے کو احرام یا احرام باندھنا کہتے ہیں ، گویا احرام باندھنے کے بعد سے حج و عمرہ کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور اس کی مثال بعینہ ویسے ہی جیسے نماز کا عمل شروع کرنے کے لئے تکبیر تحریمہ کی ہے ، لہذا جس طرح نماز کی تکبیر تحریمہ کے بعد نماز والی ساری پابندیاں شروع ہوجاتی ہیں اسی طرح طرح حج کا احرام باندھ لینے کے بعد حج والی پابندیاں شروع ہوجاتی ہیں ۔

احرام حج و عمرہ کا رکن اور شرط ہے جس کے کچھ آداب اور اس حالت میں کچھ چیزیں ممنوع ہیں جنکا لحاظ رکھنا بے حد ضروری ہے ۔

احرام سے قبل کے آداب :

[۱] صفائی و ستھرائی : جیسے غسل کرنا ، ناخون تراشنا ، موچھوں اور غیر ضروری بالوں کی صفائی ، داڑھی اور سر کے بالوں میں کنگھی وغیرہ کرنا حتی کہ حیض و نفاس کی شکار عورت بھی غسل کرے گی حالانکہ اس غسل کا اس کے لئے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔

[۲] احرام کے کپڑے پہننے کے لئے ان کپڑوں کو اتار دینا جن کا ذکر خصوصی طور سے زیر بحث حدیث وارد ہ جیسے :

{الف }قمیص : اس میں ہر وہ کپڑ ا داخل ہے جو جسم کے بالائی حصے میں پہنا جاتا ہے ، جیسے کرتا بنیائن وغیرہ

{ب} عمامہ اس میں ہر وہ لباس داخل ہے جو سر ڈھکنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جیسے ٹوپی رومال وغیرہ ۔

{ج} شلوار : اس میں ہر وہ لباس داخل ہے جو جسم کے نیچے کے حصے میں پہنا جاتا ہے جیسے پائجامہ پینٹ اور انڈر ویر وغیرہ سوائے تہبند کے ۔

{د} برنس : اس کپڑے کو کہتے ہیں جو جبے کی شکل کا ہوتا ہے اور ساتھ میں ٹوپی بھی ہوتی ہے اس میں ہر وہ کپڑا داخل ہے جو سرسے لیکر جسم کے نچلے حصے تک کے لئے پہنا جاتا ہے ۔

{ھ} موزا : اس حکم میں ہر وہ جوتا داخل ہے جو ٹخنے کے اوپر تک ہو ۔ یہ سارے لباس مردوں کے لئے منع ہیں عورتیں اس حکم میں داخل نہیں ہیں ، البتہ نیچے مذکور چیزوں میں عورتیں اور مرد سب داخل ہیں :

{و } ورس و زعفران لگا ہوا کپڑا : ورس ایک خاص قسم کی گھاس ہےجس کا رنگ پیلا اور اس میں خوشبو ہوتی ہے ، لہذا اسی حکم میں ہر وہ کپڑا داخل ہے جس سے خوشبو آرہی ہو ۔

{ز} نقاب اور دستانہ : حالت احرام میں عورتوں کے لئے نقاب ، برقعہ اور دستانہ منع ہے ، نقاب وہ لباس ہے جسے عورت اپنے ماتھے پر باندھ کر اس کا ایک حصہ اپنے چہرے پر ڈال لیتی ہے اور اس میں آنکھوں کی جگہ کھلی اور دونوں آنکھیں بالکل ظاہر رہتی ہیں ، اور برقع وہ لمبا گول لباس ہے جسے پردہ کے لئے عورت اپنے سر پر ڈال لیتی ہے ، سر پر ٹوپی بنی رہتی اور آنکھوں کی جگہ چھوٹے چھوٹے سوراخ رہتے ہین جن سے راستہ نظر آتا ہے ، اسے ٹوپی دار برقعہ بھی کہتے ہیں ، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورت اجنبی مردوں کے سامنے اپنے چہرے کھولے رکھے گی حدیث میں ممانعت صرف برقع اور نقاب کی ہے لہذا ان دونوں کے علاوہ اور طرح سے عورت اپنے چہرے کو مردوں سے چھپائے گی ۔

[۳] خوشبو : احرام باندھنے یعنی احرام میں داخلے کی نیت کرنے سے قبل اپنے بدن پر خوشبو لگانا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ، البتہ احرام کے کپڑوں کو خوشبو سے بچایا جائے ۔

[4] دو رکعت نماز :اگر کسی نماز کا وقت ہے تو اس کے بعد ورنہ تحیۃ الوضوء وغیرہ کی نیت سے دو رکعت نماز پڑھ کر احرام باندھا جائے ۔

[۵] تلبیہ : احرام کی نیت کے فورا بعد سے تلبیہ پڑھنا شروع کردے کیونکہ تلبیہ حج کا شعار ہے ، بلکہ محرم کے لئے تلبیہ پڑھنا واجب ہے ۔

حالت احرام میں ممنوع کا : حالت احرام میں خاص خاص ممنوع کام یہ ہیں :

[۱] جماع اور اس سے متعلقہ باتیں : جیسے عورت کو شہوت سے چھونا ، اسے بوسہ لینا دینا یا زن و شو کے خاص تعلقات کی باتیں کرنا ۔

[۲] گناہوں کا ارتکاب : حالت احرام میں ہر قسم کے گناہ سخت ممنوع ہیں ، جیسے جھوٹ ، چوری ، دھوکہ وغیرہ ۔

[۳] بلاوجہ لڑائی جھگڑا : ارشاد باری تعالی ہے :” جو شخص ان مہینوں میں حج لازم کرلے یعنی احرام باندھ لے وہ اپنی بیوی سے میل ملاقات کرنے ، گناہ کرنے اور لڑائی جھگڑا کرنے سے بچتا رہے {البقرہ :197} ان تینوں کاموں میں سے صرف جماع سے حج فاسد ہوجاتا ہے باقی دونوں کام سے حج فاسد نہیں ہوتا البتہ گناہ لازم آتا ہے جو حج وعمرہ کے ثواب کو برباد کردیتا ہے ۔

[۴] حدیث میں مذکورکپڑے پہننا جسے علماء سلے ہوئے کپڑوں سے تعبیر کرتے ہیں البتہ جسے تہبند میسر نہ ہو وہ پائجامہ پہن سکتا ہے اور جسے جوتا یا چپل نہ ملے وہ موزہ پہن سکتا ہے یہ حکم مردوں کے لئے ہے ۔

[۵] ناخن کاٹنا : اگر کسی کا ناخون ٹوٹ گیا ہے جو تکلیف دے رہا ہے تو اسے کاٹ سکتا ہے ۔

[۶] بال کاٹنا : جسم کے کسی بھی حصہ کا بال کاٹنا منع ہے ، البتہ کسی ضرورت کے تحت جیسے آپریشن وغیرہ کے لئے بال کاٹنے کی ضرورت پڑے تو بال کاٹ سکتا ہے ۔

[۷] خوشبو لگانا : خواہ بدن پر ہو یا کپڑے میں ، البتہ راہ چلتے یا خریدنے کے لئے بطور تجربہ خوشبو سونگھ سکتا ہے ۔

[۸] سر اور چہرہ ڈھکنا :البتہ چھتری وغیرہ سے سایہ یا وقت حاجت سر پر سامان وغیرہ رکھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

یہ سارے کام حالت احرام میں ممنوع ہیں اگر کوئی شخص جان بوجھ کر بلا ضرورت ان کا ارتکاب کرتا ہے تو اس پر گناہ لازم آتا ہے لہذا اسے توبہ کرنا چاہئے اور بطور جرمانہ کے فدیہ ادا کرے یعنی ایک بکری ذبح کرے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ، یا تین روزے رکھے ، اور اگر کسی مجبوری سے کررہا ہے تو اس پر صرف فدیہ واجب ہے ۔

[۹]نکاح کرنا یا نکاح کا پیغام دینا :اس حالت میں کیا گیا نکاح منعقد نہ ہوگا اور ایسا کرنے پر گناہ لازم آئے گا اس پر کوئی فدیہ تو نہیں ہے البتہ توبہ و استغفار ضروری ہے ۔ ۔

[۱۰] شکار کرنا:حالت احرام جنگلی جانوروں کا شکار کرنا ، شکار کو بدکانہ ، شکار پر مدد کرنا منع ہے ، حتی کہ اگر محرم کے لئے کوئی غیر محرم شکار کرے تو اس کا کھانا بھی جائز نہیں ہے ، البتہ سمندری جانوروں کا شکار کیا جاسکتا ہے اگر کوئی محرم جنگلی جانوروں کا شکار کرتا ہے تو اس جانور کے بدلے اسے بطور فدیہ کے اس کے مثل خوشکی کا ایک جانور ذبح کرنا ہوگا ۔

[۱۱] دستانہ ، برقعہ اور نقاب پہننا : یہ خاص عورتوں کے لئے ہے ۔

ختم شدہ

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں