67

قربانی اور طوفان/حديث نمبر :144

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :144

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 02/03/ ذو الحجہ 1431 ھ، م 09/08 نومبر2010

قربانی اور طوفان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ ، قَالَ صلى الله عليه وسلم ـ ‏”‏ مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مُصَلاَّنَا ‏”‏ ‏.‏

( سنن ابن ماجه : 3123 ، الأضاحي – مسند أحمد :2/321 – مستدرك الحاكم :4/332 )

ترجمہ :حضرت ابو ہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کے پاس گنجائش ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے ۔

{ سنن ابن ماجہ ، مسند احمد ، الحاکم }

تشریح : قربانی ایک اہم عبادت اور رضائے الہی کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے شاید اسی لئے ہماری زبان پر اسے قربانی کا نام دیا جاتا ہے ، عربی زبان میں اسے اضحیہ یا اضحیہ کہتے ہیں کیونکہ قربانی دسویں ذی الحجہ کو عموما ضحی یعنی چاشت کے وقت کی جاتی ہے اس لئے اس دن کو عید الاضحی اور عمل کو تضحیہ یعنی قربانی کرنا کہتے ہیں ، قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قربانی کی یاد گار ہے ، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں اپنے دس سالہ قیام کے دوران سفر و حضر میں قربانی کرتے رہے ہیں اور حجۃ الوداع کے موقعہ پر اپنے خطبہٴ عرفات میں آپ نے فرمایا : “یا ایھا الناس ! ان علی کل اھل بیت فی کل عام اضحیۃ” ۔۔ الحدیث

{ سنن اربعہ بروایت مخنف بن سلیم }

لوگو ! ہر گھر والوں پر ہر سال ایک قربانی ہے ۔

زیر بحث حدیث کے ساتھ اگر حضرت مختف کی اس حدیث کو ملایا جائے تو قربانی کی اہمیت ، تاکید بلکہ وجوب ثابت ہوتا ہے اور یہ کہ قربانی ایک اسلامی شعار ہے لہذا عید الاضحی کے موقعہ پر ہر صاحب استطاعت کو کم از کم ایک بکری ، مینڈھا یا گائے یا اونٹ کے ایک حصے کی قربانی کرنا ضروری ہے ، کسی ملک میں کسی ناگہانی صورت حال کے پیش آنے سے اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی بلکہ اسے زندہ رکھنا اور عید الاضحی کے موقعہ پر رضائے الہی کے لئے خون بہانا ایک اہم نیکی ہے ، چنانچہ عہد نبوی میں ایک بار ایسا ہوا کہ لوگ سخت پریشان حالی کے شکار ہوئے ، خوشک سالی اور بھوک کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر بھی اللہ کےر سول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اپنی قربانی یا اس کی قیمت غریبوں پر تقسیم کردو بلکہ یہ ہدایت فرمائی کہ قربانی کرو البتہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ استعمال کرو بلکہ اپنی حاجت و ضرورت سے زیادہ گوشت غریبوں مسکینوں میں تقسیم کردو

{ صحیح بخاری وصحیح مسلم بروایت عائشہ }

واضح رہے کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے پر کچھ پابندیاں بھی عائد ہوتی ہیں جن کا پاس و لحاظ رکھنا ضروری ہے چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم ذو الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تمہارا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اپنے بالوں اور ناخنوں کو ہرگز نہ کاٹو{ یہاں تک کہ قربانی کرلو }

{ صحیح مسلم ، سنن ابو داود ، بروایت ام سلمہ }

اس صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے کے لئے جائز نہیں ہے کہ ذی الحجہ کا چاند ہوجانے کے بعد قربانی کرنے تک اپنے جسم کے کسی بھی حصے کا بال کاٹے اور نہ ہی ناخن تراشے ، البتہ کسی مجبوری کی بنیاد پر کوئی ناخون یا کسی جگہ کا بال کاٹنا پڑجائے تو وہ معاف ہے ، نیز بھول و چوک میں کاٹ لیا گیا بال بھی معاف ہے ۔

شاید اس کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح سے حاجی احرام باندھ لینے کے بعد اپنے ناخن اور بال وغیرہ کو اس وقت تک نہیں کاٹتا جب تک کہ اپنے ہدی [قربانی ] کا جانور ذبح نہ کرلے ، اسی طرح وہ شخص جو حج پر نہیں گیا اور قربانی کرنا چاہتا ہے تو اسے بھی چاہئے کہ حاجیوں کی مشابہت میں اپنے ناخن وبال وغیرہ نہ کاٹے یہاں تک کہ اپنے قربانی کا جانور ذبح کرلے تاکہ حاجیوں کی مشابہت ہوجائے ، حتی کہ جو شخص قربانی کی استطاعت نہیں رکھتا اور نیک جذبے سے وہ عید الاضحی کے دن اپنے ناخن و بال کو کاٹ لے تو اللہ تعالی اسے بھی قربانی کے مکمل اجر سے نوازتا ہے ارشاد نبوی ہے : مجھے اضحی کے دن [ دسویں ذی الحجہ ] سے متعلق حکم دیا گیا کہ اسے بطور عید کے مناوں جسے اللہ تعالی نے اس امت کے لئے خاص کیا ہے ، یعنی اس دن قربانی کروں ، یہ سن کر ایک صحابی نےعرض کیا : آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر مجھے دودھ کے جانور کے علاوہ کوئی اور جانور نہ مل سکے تو بطور قربانی کے اسی کو ذبح کردوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں ، بلکہ اس دن اپنے بال کاٹ لو ، اپنے ناخن اور مونچھیں تراش لو اوراپنے زیر ناف بال کی صفائی کرلو تویہ اللہ تعالی کے یہاں تمہاری مکمل قربانی ہوگا ۔

{ سنن ابو داود ، سنن النسائی ،بروایت عبد اللہ بن عمرو }

فوائد :

۱- قربانی ایک اسلامی شعار اور انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے ۔

۲- قربانی کی قیمت کو صدقہ کرنے اور رفاہ عامہ کے کام میں خرچ کردینے سے قربانی ادا نہ ہوگی اور نہ ہی صاحب استطاعت پر سے یہ واجب ساقط ہوگا ، جس طرح کہ صاحب زکوۃ ، زکوۃ دینے کے بجائے اگر اس سے زیادہ مال صدقہ کردے تو اس کی زکوۃ ادا نہ ہوگی ۔

۳- ذو الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کا ارادہ رکھنے والے کے لئے اپنے بال و ناخن کاٹنا جائز نہیں ہے ۔

۴- اس امت پر اللہ تعالی کا فضل عظیم ہے کہ محتاج و فقیر شخص بھی قربانی کا مکمل ثواب حاصل کرسکتا ہے ، وہ اس طرح کہ بقرعید کے دن اپنے بال و ناخن کو تراش لے ۔

ختم شدہ

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں