71

حاجی حج کے بعد ؟/حديث نمبر :145

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :145

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 23/24/ ذو الحجہ 1431 ھ، م 30/29 نومبر2010

حاجی حج کے بعد ؟

عن سمرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أقيموا الصلاة و آتوا الزكاة و حجوا و اعتمروا واستقيموا يستقم بكم .

( الطبراني الكبير :7/260 – الطبراني الأوسط :3/33 )

ترجمہ :حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نماز قائم کرو ، زکاۃ ادا کرو ، حج و عمرہ کرو اور استقامت اختیار کرو تمہارے معاملات درست رہیں گے ۔

{ طبرانی کبیر و اوسط }

تشریح : بلاد حرمین مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے حاجیوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے ساری دنیا سے آئے ہوئے حاجی یکے بعد دیگرے اپنے اپنے ملکوں و شہروں کا رخ کررہے ہیں ، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی باقی حاجیوں کو بھی بخیر و عافیت اپنے اہل و عیال تک پہنچائے ، ارکان اسلام کی تکمیل کو ان کے لئے مبارک کرے ، ہر حاجی کے حج کو حج مبرور بنائے ان کے گناہوں کو معاف کرے اور حج کے سلسلے میں ان کی تمام مشقت و پریشانی کو شرف قبولیت سے نوازے ، اس مناسبت سے چند باتیں خصوصا حاجیوں اور عموما مسلمانوں کے گوش گزار ہیں ۔

[۱] کوئی نیک عمل کرلینا کوئی بڑی بات نہیں ہے بلکہ بڑی بات اور اہم بات یہ ہے کہ اس پر استقامت اور مداومت اختیار کی جائے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل سے مسلمانوں کو اس طرف خصوصی توجہ دلائی ہے ، ارشاد ہے : اے لوگو ! اس عمل کو لازم پکڑو جس کی تمہیں طاقت ہو اس لئے کہ اللہ تعالی تمہیں اجر دینے اور تم پر رحم کرنے سے نہیں اکتاتا یہاں تک کہ تم لوگ خود ہی اکتا جا­ؤ اور یاد رکھو اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بہتر عمل وہ ہے جس پر عمل کرنے والا مداومت کرے ، خواہ وہ عمل کم ہی ہو { صحیح بخاری و صحیح مسلم } اے عبد اللہ ! تم اس شخص جیسا نہ ہونا جو تہجد تو پڑھتا تھا پھر چھوڑدیا

{ صحیح بخاری و صحیح مسلم }

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل پر مداومت تھی { سنن الترمذی } ، آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیک عمل ایک بار کرلیتے تھے تو اس پر جم جاتے تھے

{صحیح مسلم } ۔

لہذا حجاج کرام نے اللہ کے حضور ایک بار توبہ کرلی ہے تو اس پر ثابت قدم رہیں ، اپنے گناہوں کی معافی کرالی ہے تو دوبارہ گناہوں سے پرہیز کریں ، ایک بار زہد و ورع کا لباس پہن لیا ہے تو اب دنیا کی محبت میں پڑ کر اسے نہ اتاریں ۔

زیر بحث حدیث میں بھی اسی طرف اشارہ ہے کہ نماز کو قائم کرو ، زکاۃ کے ادائیگی کی پابندی کرو ، حج وعمرہ کرو اور یاد رکھو کہ یہ اعمال اسی صورت میں مقبول ہیں جب تم نماز و زکاۃ اور حج و عمرہ کے ساتھ ساتھ دینی احکام پر جمے رہو گے ، حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ حج مبرور کا بدلہ جنت ہے تو حج مبرور کی علامت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس کی علامت یہ ہے کہ حاجی جب حج سے واپس ہو تو دنیا سے بے رغبت اور آخرت کا طالب ہو ، نیز حج سے قبل جو برے اعمال کرتا تھا انہیں ترک کردے

{ لطائف المعارف }

[۲] اہل علم نے قرآن و حدیث پر نظر رکھ کر اللہ تعالی کے نزدیک کسی بھی نیک عمل کے قبولیت کی ایک علامت یہ بھی رکھی ہے کہ نیک عمل کے بعد بندے کو اللہ تعالی کی طرف سے اس جیسے یا دیگر نیک عمل کی مزید توفیق مل جائے ، شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے فرائض کے ساتھ ساتھ اور اس کے آگے پیچھے اس جنس کے کچھ سننن ونوافل بھی رکھے ہیں ، نیز شرعی لحاظ سے یہ بہت بڑا جرم ہے کہ نیکی کے بعد برائی کی جائے ، [وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنْكَاثًا]{النحل:92} “اس [بے وقوف بوڑھی عورت ] جیسے نہ بنو جو مضبوط سوت کاٹ کر اسے ادھیڑ دیا کرتی تھی ” یعنی نیک عمل کرکے اس کے بعد کوئی ایسا برا عمل نہ کرو کہ جو کچھ نیکیاں جمع کی ہیں اسے رائیگاں کردو ، لہذا حاجی کو چاہئے کہ حج کے بعد گناہوں کا ارتکاب کرکے اپنے حج کے ثواب کو برباد نہ کرے بلکہ نیکی کے کاموں میں پیش پیش رہے اور یاد رکھے کہ ایک نیکی کے بعد دوسری نیکی رب کے نزدیک بہت ہی محبوب ہے اور اس سے ادنی درجہ یہ ہے کہ کسی گناہ کے بعد فورا کوئی نیکی کرلے اور سب سے برا یہ ہے کہ نیکی کے بعد گناہ کے کاموں میں لگ جائے کیونکہ نیکیوں سے مالا مال ہوجانے کے بعد گناہ کرکے پھر نیکیوں سے فقیر ہوجانا بہت بڑی ذلت و رسوائی ہے۔۔۔ ؏ مصیبت ہے کسی کا آشیاں بن کر اجڑ جانا

[۳] حج کا معاملہ دوسری عبادات سے اس ناحیے سے مختلف ہے کہ حج کرنے کے لئے کعبۃ اللہ کی زیارت ضروری ہے گویا حاجی اللہ تبارک وتعالی کے گھر اس کی مہمانی میں ہوتا ہے ، اس کے گھر کا طواف کرتا ہے تو گویا اس کی زیارت کا شرف حاصل کررہا ہے جب حجر اسود کا بوسہ دیتا ، استلام کرتا یا اسے اشارہ کرتا ہے تو گویا وہ اللہ تعالی کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ رکھ کر اپنی عبودیت کا عہد اور شیطان و نفس کی عبودیت سے براءت کا اظہار کررہا ہے حاجی عرفہ کے میدان میں ننگے سر ، بے زینت اور صرف دوکپڑوں میں وقوف کرتا ہے یہ عرفات وہی مقام ہے جہاں پر اللہ تعالی نے عہد الست لیا تھا ، ارشاد نبوی ہے :وادی نعمان یعنی میدان عرفہ میں اللہ تعالی نے عہد و پیمان لینے کے لئے آدم {علیہ السلام } کی پیٹھ سے ان کی تمام ذریت کو باہر نکالا اوراپنے سامنے چیونٹی کی طرح پھیلا دیا پھر ان سے مخاطب ہوا : کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تمام ذریت نے یک زبان ہوکر جواب دیا : کیوں نہیں ، ہم سب اسکی گواہی دیتے ہیں [ اللہ تعالی نے فرمایا ] تاکہ تم لوگ قیامت کے دن یوں نہ کہو کہ ہمیں تو اس کا علم نہیں تھا ، یا یوں کہوکے پہلے پہلے شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم تو ان کے بعد کی نسل ہوئے ، تو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر آپ ہمیں ہلاکت میں ڈال دیں گے ۔

{ مسند احمد ، الستۃ لابن ابی عاصم و تفسیر الطبری بروایت ابن عباس }

لہذا حاجی کو چاہئے کہ ان امور کو اپنے سامنے رکھے اور ان عہد و پیمان کی تجدید کے بعد اب دوبارہ وعدہ خلافی نہ کرے ، حاجی نے جب اللہ تعالی کے سامنے شیطان کی عبودیت سے نکلنے کا وعدہ کرلیا ہے ، نفس کی عبودیت سے چھٹکارا لینے کا اقرار کرلیا ہے تو واپسی کے بعد نفس و شیطان سے بچنا اس پر لازم ہوچکا ہے ، حاجی یاد رکھے کہ :[ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا] {الفتح:10} ” تو جو شخص عہد شکنی کرے گا وہ اپنے نفس پر ہی عہد شکنی کرے گا اور جو شخص اپنے اس عہد کو پورا کرے گا جو اس نے اللہ تعالی سے کیا ہے تو اسے عنقریب اللہ تعالی بہت بڑے اجر سے نوازے گا ۔

فوائد :

۱- ارکان اسلام گناہوں کا کفارہ ہیں ۔

۲- ارکان اسلام کی قبولیت کے لئےاستقامت شرط ہے ۔

۳- حج کی قبولیت کے لئے تقوی شرط اولیں ہے ۔

۴- نیکیوں کے بعد گناہ کمانے کی مثال یہ ہے کہ دیوار کھڑی کرکے اسے ڈھا دیا جائے ۔

ختم شدہ

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں