95

اعمال رمضان کی قبولیت/حديث نمبر :181

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :181

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ : 16 – 17 شوال 1432ھ، 13 – 14 سبتمبر 2011م

ماذا بعد رمضان

حديث :

ام المومنین حضرت عائشہ رضي اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن مجید کی اس آیت سے متعلق سوال کیا {وَٱلَّذِينَ يُؤْتُونَ مَآ ءَاتَوا۟ وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَىٰ رَبِّهِمْ رَٰجِعُونَ} المؤمنون :60 “اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں (یا جو کچھ عمل ان سے ہو سکتا ہے وہ کرتے ہیں ) اور انکے دل کپکپاتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں” ایک دوسری روایت میں ہے کہ کیا یہ وہ شخص ہے جو چوری کرتا ہے ،زنا کرتا ہے ، شراب پیتا ہے اور ساتھ ۔ ساتھ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا بھی ہے” ) ؟ آپ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لایا بنت الصدیق ! ولکنہم الذین یصومون و یصلون و یتصدقون وھم یخافون أن لا یقبل منہم، { أُوۡلَٰٓئِكَ يُسَارِعُونَ فِى الۡخَيۡرَاتِ وَهُمۡ لَهَا سَابِقُونَ } المؤمنون :61 ” اے صدیق کی بیٹی نہیں ! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں ، نمازیں پڑھتے ہیں ، صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور اسکے باوجود وہ اس سے ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کی یہ عبادتیں رد نہ کردی جائے ، یہی لوگ ہیں جو نیک کاموں میں جلدی کرنے والے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو نیک کاموں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرنے والے ہیں ۔

سنن الترمذی : ۳۱۷۵ التفسیر ، سنن ابل ماجہ : 4۱۹۸ الزھر ، مسند احمد: 4ص۱۵۹

تشریح :

سورۃ مومنون میں اللہ تعالیٰ اپنے مخلص وپرہیزگار بندوں کی صفت میں ارشاد فرماتا ہے ۔

{إِنَّ الَّذِينَ هُمْ مِنْ خَشْيَةِ رَبِّهِمْ مُشْفِقُونَ (57) وَالَّذِينَ هُمْ بِآَيَاتِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ(58) وَالَّذِينَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا يُشْرِكُونَ (59) وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آَتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ (60) أُولَئِكَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ(61)} المؤمنون 57-61

” نیکی کے کاموں میں سبقت کرنے والے مومن بندے وہ ہیں جو اپنے پروردگار کے خوف سے لرزاں رہتے ہیں ، اور وہ پرور دگار کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ جو اپنے پرور دگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے اور وہ لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور انکے دل میں دھڑکا لگا رہتا ہے کہ وہ اپنے پرور دگار کے پاس لوٹ کر جانے والے ہیں یہی لوگ ہیں جو نیک کاموں میں جلدی کرنے والے اور ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرنے والے ہیں” ۔

ان آیتوں کی روشنی میں اللہ کے مومن ، نیکیوں کے متلاشی اور خواہش مند بندوں کی سب سے پہلی صفت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف انھیں ہر وقت دامنگیر رہتا ہے ، وہ نہ ہی اپنے اعمال پر گھمنڈ کرتے ہیں اور نہ ہی نیک کام کرکے اس پر اتراتے ہیں ، دوسری صفت یہ ہے کہ وہ آیات کونیہ و شرعیہ پر ایمان رکھتے اور توحید ربوبیت پر قائم و دائم رہتے ہیں ، تیسری صفت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاصکر اسکی الوھیت و عبادت میں کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے بلکہ ہر چھوٹے بٹرے شرک سے پرہیز کرتے ہیں ، اور چوتھی صفت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئ نعمتوں میں سے جو کچھ ہو سکتا ہے خرچ کرتے ہیں اور حسب توفیق و اسطاعت نیک عمل کرتے ہیں لیکن اسکے ساتھ ۔ ساتھ انہیں یہ خدشہ ہمیشہ دامن گیر رہتا ہے کہ معلوم نہیں بروز قیامت جب ہمارے اعمال کا حساب ہوگا تو یہ ہمارے نیک اعمال اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہونگے یا انہیں رد کر دیا جائے گا لہذا وہ اپنے کئے پر مطمئن نہیں بلکہ مزید نیک اعمال کرنے کی کوشش کرتے اور ان میں حسن پیدا کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔

زیریحث حدیث میں اس آخری آیت کے جملے سے متعلق حضرت صدیقہ رضي الله عنها کا سوال تھا کہ ان لوگوں کے خوف کی وجہ کیا یہ ہے کہ ان سے بتقاضائے یشریت اور ضعف ایمانی کی وجہ سے گناہ کے کام تو ہو جاتے ہیں یعنی وہ چوری کرلیتے ہیں ، شراب پی لیتے ہیں وغیرہ لیکن اسکے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے ڈرتے رہتے ہیں ۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے جواب میں فرمایا کہ نہیں اس آیت سے مراد ایسے لوگ نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے وہ عبادت گزار اور اطاعت شعار بندے ہیں جنکا حال یہ ہے کہ وہ نماز ، روزہ اور صدقہ و خیرات جیسے نیک اعمال کرتے رہتے ہیں ، اپنے اندر اخلاص پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن اسکے باوجود انھیں یہ خوف دامن گیر رہتا ہے کہ معلوم نہیں ہمارے یہ اعمال بارگاہ الہی میں مقبول بھی ہونگے کہ انھیں رد کردیا جائےگا۔

اس حدیث میں ہمارے لئے ایک قابل غور نکتہ یہ ہے کہ مومنین و صالحین کا خوف اس بات پر ہرگز نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ انکی حق تلفی کریگا اور انھیں انکے اعمال کا پورا اجر نہ دے گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایمان و عمل صالح والوں کو پورا ۔ پورا أجر دیتا ہے آل عمران :57 بلکہ وہ تو حق سے زیادہ دینے والا ہے ۔ { لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ } فاطر :۳۰ تاکہ اللہ تعالیٰ انھیں انکے اجر ان کو پورا ۔ پورا دے اور اپنے فضل سے انھیں مزید عطاء کرے بلکہ اصل خوف کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عبادات و صدقات کی ادائگی میں جن شرطوں کا حکم دیا ہے مبادا اس میں کوتاہی رہ گئ ہو ، اس وجہ سے وہ یقین نہیں کرپاتے کہ انکا عمل اللہ کی مرضی و منشا کے مطابق ہوا ہے یا اس میں کوئ کوتاہی رہ گئ ہے جسکا نتیجہ عدم قبولیت کی شکل میں ظاہر ہو ، لہذا وہ عمل کرلینے کے بعد اپنی کوتاہی پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے اور قبولیت کی دعاء کرتے رہتے ہیں اور ہر ایسے کام سے بچتے رہتے ہیں جو انکے نیکیوں کی بربادی کا سبب ہو۔ چنانچہ حضرت علی رضي الله عنه فرماتے تھے کہ عمل کرنے سے زیادہ اسکی قبولیت کی فکر کرو ۔

بھائیو! رمضان المبارک کا مہینہ گزر گیا ، آپ نے روزہ ، تراویح ، صدقہ و خیرات اور دعاء و استغفار کا اہتمام کر لیا ہے تو اب اسے ضائع و برباد ہونے سے بچائے رکھیں جسکے لئے کبائر اور صغائر پر اصرار سے پرہیز کریں ۔ علیٰ الاعلان اللہ و رسول کی مخالفت سے بچیں ، شرک و کفر اور ریاء و نمود جیسی نیکیوں کو برباد کر دینے والے کاموں سے دور رہیں ، قطع رحمی ، والدین کی نافرمانی اور مسلمانوں کی ایذار سانی سے اپنے کو بچائے رکھیں یقین مانیں کہ اللہ تعالیٰ آپکی نیکیوں کو ضائع نہ کرے گا ۔

فوائد :

۱۔ اللہ تعالیٰ کی شان بے نیازی کہ بندہ بٹری نیکی کرکے بھی اپنے عمل پر مطمئن نہ ہو ۔
۲ ۔ ایک مومن کو عمل سے زیادہ قبول عمل کی فکر کرنی چاہئے ۔

ختم شدہ

اس مقالة پر اپنی رائے کا اظہار کریں