اختتام عمل – 2-2 / حديث نمبر: 293

بسم اللہ الرحمن الرحیم

293:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

اختتام عمل – 2-2

بتاریخ : 12/ رجب   1437 ھ، م  19، اپریل2016 م

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: الدَّجَّالَ، وَالدُّخَانَ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ ".  ( صحيح مسلم:2947الفتن، مسند أحمد 2/337 )

ترجمہ :حضرت  ابو ہریرہ رضی  اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : چھ صورت حال پیدا ہونے سے  قبل نیک عمل  میں  جلدی کرلو ، دجال کا خروج ، دھواں  کا ظہور  ، دابۃ الارض  کا خروج ، مغرب کی جانب سے سورج  کا طلوع  ، عام لوگوں کا معاملہ اور تم میں سے کسی کے ساتھ خاص معاملہ ۔  {صحیح مسلم ، مسند احمد ، مستدرک الحاکم } ۔

دابۃ الارض کا ظہور : یہ بھی  قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک  بڑی نشانی ہے ، غالب گمان ہے کہ اس کا ظہور  حجاز مقدس اور بالاخص مکہ مکرمہ  سے ہوگا   ، یہ ایک عجیب و غریب  جانور ہوگا ،  جو لوگوں سے  ان کی زبان  میں باتیں کرے گا ، یہ اتنا تیز رفتار  ہوگا کہ کوئی اس سے بھاگ کر نجات  نہ پائے گا ، اس کے ہاتھ میں ایک  چھڑی ہوگی جس سے  مومن اور عمل  صالح  کے پابند شخص  کی پیشانی  کو چھوئے گا  تو وہ چمکنے لگے گی  اور کافر کی پیشانی  پر ایک داغ لگادے گا ، جس کا مطلب  یہ ہوگا کہ اب  اس کی توبہ  اور اس کا عمل  بارگاہ ا لہی  میں مقبول  نہ ہوگا  ، ارشاد نبوی ہے : دابہ یعنی  جانور ظاہر ہوگا  لوگوں کی پیشانیوں  پر داغ لگا دے گا  ، پھر وہ لوگ  تمہارے  درمیان  زندہ رہیں گے یہاں تک کہ ایک شخص اس سے اونٹ خریدے گا ، جب لوگ پوچھیں گے کہ یہ اونٹ کس سے خریدا ہے تو وہ جواب دیگا : فلاں شخص سے جس کی پیشانی ہر داغ ہے، مسند احمد بروایت ابو امامہ  ۔

مغرب سے سورج کا طلوع : جب بحکم  الہی  توبہ  کا دروازہ  بند  ہونے کا وقت  آ جائے گا  تو ایک  رات حسب معمول لوگ اپنے اپنے  بستر پر جائیں گے ، لیکن وہ رات  غیر  معمولی طور پر لمبی  ہوجائے گی ، سونے  والا سوتے سوتے  تھک جائے گا  اور نماز  پڑھنے والا  نماز  پڑھتے پڑھتے، صبح کی پھوٹنے کا انتظار کرنے  والا  انتظار  کرتے کرتے  اکتا جائے گا کہ اچانک  سورج مشرق  کے بجائے  مغرب کی جانب  سے اپنا  چہرہ دکھانا شروع کردے گا ، یہ عجیب  و غریب  منظر  دیکھتے ہی لوگوں کو قیامت  کی آمد  کا یقین  ہوجائے گا  ، بے ایمان  لوگ ایمان لانا  شروع کریں گے  اور بد عمل  لوگ نیک عملی کا اظہار  کرنا شروع کردیں گے  ، لیکن سورج کے مغرب  سے نکلتے  ہی  توبہ کا دروازہ  بند ہوجائے گا  اور نئے سر سے   کیا گیا  ہر نیک عمل  مردود  قرار دیا جائے گا ،  ارشاد باری تعالی  ہے : يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا۔ الانعام:58 "جس روز  آپ کے رب  کی کوئی بڑی  نشانی  آپہنچے گی  ، کسی ایسے شخص  کا ایمان  اس کے  کام نہ آئے گا  جو پہلے  سے ایمان  نہیں رکھتا  یا اس  نے  اپنے  ایمان  میں کوئی  نیک عمل نہ کیا ہو ۔ نبی ﷺ  کا فرمان ہے :قیامت  اس وقت تک نہیں  آئے گی جب تک  سورج  مغرب سے طلوع  نہ ہوجائے، جب  مغرب سے طلوع  ہوگا تو  اسے دیکھ کر  سارے  لوگ ایمان  لائیں گے  لیکن یہ وہ وقت  ہوگا  کہ کسی  بھی ایسے شخص  کا ایمان  قبول نہ کیا جائے گا  جو پہلے  سے  مومن نہ ہوگا  یا حالت  ایمان  میں نیک  عمل نہ کرلیا ہوگا ۔ {صحیح بخاری  ، صحیح مسلم بروایت  ابوہریرہ } ۔ جس صبح  یہ نشانی ظاہر ہوگی اسی صبح چاشت کے وقت  دابۃ الارض  کا خروج ہوگا ، ارشاد نبوی ہے : سب سے پہلی آیت [ جس سے عالم علوی میں تبدیلی  شروع ہوگی ] مغرب سے سورج کا نکلنا  ہے اور دابۃ الارض کا خروج اسی دن چاشت  کے وقت  ہوگا ، علی کل حال ان میں سے  جو نشانی بھی پہلے  ظاہر ہوگی دوسری اس کے فورا بعد ظاہر ہوگی ۔ {صحیح مسلم ، سنن ابو داود ، بروایت  عبد اللہ بن عمر } ۔ گویا  جب مغرب  کی جانب  سے سورج  طلوع  ہونے سے توبہ کا دروازہ  بند ہوجائے گا اور  اس کے بعد  کسی کا ایمان  اور کسی کی توبہ قبول نہ ہوگی  تو مومن و کافر  میں فرق کو واضح کرنے کے لئے  ہر ایک کے ماتھے پر ایک نشانی رکھ دی جائے گی  اور یہ کام  دابۃ الارض کے ذریعہ ہوگا ۔

 

عام معاملہ : جس امر  کے ظاہر  ہونے سے قبل نیک عمل میں جلدی کرنےکا حکم دیا گیا ہے  اس میں  سے ایک ” امر العامہ ”  عام لوگوں کا معامہ ” بھی ہے ۔

اس سے مراد  یا  تو قیامت  ہے ، کیونکہ  قیامت  ساری دنیا میں  آئے گی  اورقیامت  کے سر پر آجانے کے بعد  کسی کو  عمل  کرنے کا موقعہ  نہیں دیا جائے گا  ،جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے  :  كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا (21) وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا (22)وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى (23) يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي (24)الفجر یقینا  جس وقت  زمین  کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گی  اور تیر رب [خود] آجائے گا  اور فرشتے  بھی صف بستہ  حاضر ہوں گے  اور جس  دن جہنم  بھی لائی جائے گی ، اس دن انسان  کو سمجھ   آئے گی  لیکن  آج اس کے سمجھنے کا فائدہ کہاں ؟ وہ کہے گا  کا ش  کہ میں اپنی اس زندگی  کے لئے  کچھ پیشگی  سامان  کیا ہوتا ۔

یا پھر  اس سے مراد  وہ عام  فتنہ  ہے جو ہر شخص کو  اپنی لپیٹ  میں لے لےگا اور لوگوں کو عمل کا موقعہ  نہ مل  سکے گا ، ارشاد نبوی ہے :  نیک اعمال کرنے میں جلدی کرلو  ایسے فتنوں  کے آنے سے پہلے  جو اندھیری  رات  کے مختلف  ٹکڑوں کی طرح  یکے بعد دیگر ظاہر ہوں گے  ، اس [ان فتنوں  کے اثر سے ] صبح کو آدمی مومن  رہے گا  اور شام  کو کافر  ، شام کو مومن ہوگا اور صبح  کو کافر،  وہ [ اس طرح کہ ]  اپنے دین  کو دنیا کی معمولی  سامان  کے عوض  بیچ دے گا ۔ { صحیح مسلم بروایت ابو ہریرہ } ۔

اس کا  ایک معنی  یہ بھی  کیا گیا ہے کہ ایسے  فتنے  ظاہر  ہوں گے  کہ خواص  کے ہاتھ  سے امت  کا معاملہ  نکل کر عوام  کے ہاتھ میں چلا جائے گا ۔

تم میں سے خا ص کا معاملہ :یعنی  وہ صورت حال پیدا ہونے سے پہلے  جو عمل کرنا ہے کرلو جو ہر  انسان کے ساتھ خاص ہے  اس کی دو صورتیں  بڑی اہم ہیں :

[۱] موت سے پہلے  نیک عمل ، کیونکہ  موت ہر شخص  کو آنی ہے  اپنی موت کا وقت  کسی کو معلوم نہیں ہے  اور موت کا وقت  آجانے کے بعد کسی کو نیک عمل کا موقعہ  نہیں ملے گا  ،ا رشاد باری تعالی ہے :  حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ (99) لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ (100)المومنون یہاں تک کہ جب  ان میں سے کسی کو موت  آنے لگتی ہے تو کہتا ہے اے میرے  پروردگار  مجھے  واپس  لوٹا دے  کہ میں  چھوڑی ہوئی  دنیا میں جا کر نیک اعمال کرلوں ، ہر گز ایسا نہیں ہوگا ، یہ تو صرف ایک قول ہے جس کا یہ قائل  ہے ، ان کے پس پشت تو ایک حجاب ہے ، ان کے دوبارہ جی اٹھنے تک ۔

ارشاد نبوی ہے کہ  جب ابن آدم کا انتقال  ہوجاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے مگر تین چیزیں  باقی رہتی ہیں  :

۱—صدقہ جاریہ ، نفع بخش  اور نیک اولاد  جو اس کے لئے دعا کرے ۔ {صحیح مسلم ، سنن ابو داود ، بروایت  ابو ہریرہ }۔

لہذا جب موت ہر ایک کو آنی  ہے اور  موت کا وقت  کسی کو معلوم  نہیں ہے اور یہ بھی ممکن  نہیں کہ موت کے آجانے کے بعد  عمل کا موقعہ ملے ، لہذا  ہر کسی  کو یہ وقت آنے سے قبل  نیک عمل کرلینا چاہئے ۔

[۲] کوئی بھی عارضہ : انسان کبھی  فرصت  میں ہوتا  ، کبھی  اللہ تعالی تعالی اسے صحت  کی نعمت  سے نوازے  رکھتا  ہے ،کبھی  اسے قوت و شباب حاصل ہوتا ہے لیکن  وہی انسان  کبھی  اس قدر  مشغول   ہوجاتا ہے  کہ کسی بھی  عمل کے لئے  فرصت  نہیں ملتی  اور کبھی  فرصت  کے باوجود  اس  پر ایسے مرض و علالت کا حملہ ہوجاتا ہے کہ اس کی ساری قوت جواب دے جاتی ہے، اب اگر وہ عمل کرنا چاہتا   بھی ہے تو اس کی صحت   ساتھ نہیں دیتی  ، اس قسم  کی متعدد  رکاوٹیں  ہیں  جو انسان کی زندگی کے ساتھ  ہیں ،لہذا اس سے مطالبہ  ہے کہ اپنی فرصت ، صحت اور قوت  و فراخی  کو غنیمت  سمجھتے ہوئے  نیک عمل  کرلے ، ارشاد نبوی ہے : پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں  سے پہلے غنیمت  سمجھو : ۱—زندگی کو موت سے قبل ۔ ۲—صحت کو بیماری  سے قبل ۔ ۳—فرصت کو مشغولیت  سے قبل ۔ ۴—جوانی کو بڑھاپے  سے قبل ۔ ۵—مالداری کو محتاجی سے قبل ۔ {مستدرک الحاکم ، عن ابن عباس }۔