بسم اللہ الرحمن الرحیم
سلسلہ خلاصہ معانی قرآن مجید
از قلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ
*اکیسواں پارہ(اتل ما اوحی)*
اکیسویں پارے میں پانچ سورتیں ہیں؛ سورہ عنکبوت کا بقیہ حصہ، سورہ روم،سورۃلقمان او رسورۃ سجدہ مکمل اور سورۃ احزاب کا ا بتدائی حصہ۔
o بیسواں پارہ اس موضوع پر ختم ہوا تھا کہ اہل ایمان کی عبادتیں مشرکین کی عبادات کی طرح بے بنیاد نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ایک ایسے اللہِ خالق کی عبادت کرتے ہیں جو آسمان وزمین جیسی کائنات کا خالق ہے ۔
o آیت نمبر 45میں اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ کرام کو وہ عبادات بتائی جارہی ہیں جن کا اہتمام کرنا چاہئے اور وہ نسخہ بتایا جا رہا ہے جو مشکلات میں ان کیلئے حفاظت او ر فتنوں سے نجات کا سبب بن سکتا ہے یعنی قرآن کی تلاوت ،نماز کا قیام او ر ذکر الہی۔ اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ (45) "جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھیں اور نماز قائم کریں، یقینا نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، بے شک اللہ کا ذکر بڑی چیاز ہے، تم جو کچھ کرتے ہو اسے اللہ تعالی جانتا ہے” ۔
o آیت نمبر 46تا 52میں اہل کتاب اور مشرکین کے ان شبہات کا جواب ہے جو وہ قرآن کے بارے میں پیش کرتے تھے یا ان کی وجہ سے قرآن کے بارے میں شبہات میں مبتلا تھے۔
o اولا- اہل کتاب سے اچھے اسلوب سے گفتگو کرنے کا ذکر ہے۔ لیکن ان میں سے جو لوگ ضد پر اتر آئیں اور مناظرے او ر کج بحثی پر آ جائیں تو ان کے مقابلے میں وہ اسلوب اختیار کرنے کی اجازت ہے جس کےوہ حقدار ہوں۔
o مشرکین کے اعتراض پر ان سے کہا جارہا ہے کہ کیا ان کے لئے یہی کا فی ہے کہ ایک اُمی شخص جو لکھا پڑھا نہ ہو، اس کتاب میں کس طرح حکمت کی باتیں بیان کر رہا ہے۔اب ظاہر بات ہے اِن سے انکار کرنا ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔
o اللہ تعالی نے فرمایا کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ اس کتاب کی آیات کس قدر واضح ہیں کہ ہر شخص اسے پڑھ کر سمجھ سکتا ہے۔
o ثانیا– اس کتاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ کتاب لوگوں کے لئے نصیحت اور رحمت کا سبب ہے۔ جبکہ دوسرے انبیاء کے معجزے لوگوں کے لئے عذاب کا سبب بنتے تھے ۔
o آیت نمبر 53سے 55تک ان کافروں کو جواب ہے جو رسول اللہ ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کیاکرتے تھے کہ آپ یہ کہتے ہیں اگر ہم نے آپ کی بات نہ مانی تو ہم پر عذاب آجائے گا، بتائے تو عذاب کا وہ کون سا دن ہوگا؟
o اللہ تعالی نے فرمایا عذاب کا ایک دن متعین ہے،اس لئے تم عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ مچاؤ ، اور یاد رکھو کہ عذاب کی تاخیر میں تمہارا ہی فائدہ ہے ، کیونکہ جب اللہ کا عذاب آجائے گا تو کسی کے ٹالنے سے نہیں ٹلے گا، پھر اس سے بڑا عذاب تو جہنم کا ہے جو تمہارے لئے تیار ہے۔
o آیت نمبر 56تا 60میں کمزور مسلمانوں کو ہجرت کا حکم ہے،انہیں صبر و توکل وبھروسہ کرنےکی دعوت اور اس کے عوض اللہ کی طرف سے رزق میں وسعت او ر اچھے ٹھکانے کا وعدہ ہے۔
o آیت نمبر 61سے 63تک کلام کا رخ توحید کے دلائل کی طرف ہے کہ تم یہ مانتے اور مشاہدہ کرتے ہو کہ روئے زمین کے ہر چھوٹے بڑے جانور کی روزی رساں وہی ایک اللہ ہے، آسمان و زمین کا خالق اللہ ہی ہے،اسی نے سورج چاند کو تمہارے فائدے کے لئے مقرر کر رکھا ہے،وہی اپنے جس بندے پر چاہتا ہے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کوکنگال بنا دیتا ہے ،وہی ہے جو آسمان سے بارش نازل کرتا ہے اور اس سے سبزے اگاتا ہے۔ تو پھر اس کی توحید کو کیوں نہیں مانتے؟یقینا یہ بڑی زیادتی اور صریح بے عقلی ہے۔
o آیت نمبر 64میں دنیا اور آخرت کا مقابلہ کرکے لوگوں کو آخرت پر توجہ دینے کی دعوت دی گئی ہے کہ دنیا کی حقیقت کھیل تماشے سے زیادہ کچھ نہیں ہے،البتہ حقیقی زندگی آخرت کی زندگی ہے لیکن اسے وہی سمجھ سکتا ہے جسے اللہ کی طرف سے صحیح علم حاصل ہو۔
o آیت 65-66 میں مشرکوں کی ایک نادانی کا ذکر کرکے ان پر توحید کی حجت قائم کی گئی ہے ۔ جب وہ سمندری سفر میں ہوتے اور طوفان جیسی کسی مصیبت میں مبتلا ہوجاتے تو بڑےاخلاص کے ساتھ اللہ سے فریاد کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی مصیبت سےنجات پاکر باہر آتے ہیں تو اپنی ہی بات کے خلاف شرک کرنے لگتے ہیں۔
o آیت: 67-68 میں مشرکین کے اس اندیشے کا ازالہ کیا گیا جو اسلام قبول کرنے کی صورت میں انہیں لاحق ہوتا تھا کہ اگر ہم مسلمان ہوگئے تو مخالفین کی طرف سے ہماری شامت آجائے گی ۔
o اس کے جواب میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ جس وقت ان کے ارد گرد پورے جزیرہ عرب میں بد امنی پھیلی ہوئی تھی تو ان حالات میں اہل حرم کو کس نے امن فراہم کیا ؟
o اس کھلی حقیقت کے باوجود ان کا اپنے باطل معبودوں پر عقیدہ رکھنا اور اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرنا ،اللہ کی ناشکری نہیں تو پھر اور کیا ہے؟ یہ تو بہت بڑا ظلم ہے کہ رسول کے آجانے اور حق کو واضح ہوجانے کے بعد بھی جو رسول اللہ کو جھٹلائے اور اپنے شرک پر اڑا رہے ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے؟۔
o اس سورت کی آخری آیت میں دوبارہ اسی موضوع کو بیان کیا گیا ہے جس کا ذکر اس سورت کی ابتدا میں ہے۔ یعنی جہاد بالنفس،جہاد بالمال او رجہاد بالقول کا حکم ہے۔ یہی وہ ہتھیا ہے جس سے بندہ اپنے آپ کو فتنوں سے بچا سکتا ہے۔
o وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (69) ” اور جو لوگ ہماری راہ میں جد وجہد کریں ، ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھائیں گے ، یقینا اللہ تعالی نیکو کاروں کے ساتھ ہے”۔
سورت الروم:
یہ سورت مکی ہے او ر مکی دور کے وسطی حصے میں نازل ہوئی ۔
مکی سورتوں کی طرح اس سورت کا موضوع بھی عقیدہ ہے۔جیسے توحید و رسالت اور موت کے بعد کی زندگی۔خصوصا عقیدہ آخرت اور موت کے بعد کی زندگی پر زیادہ زور ہے۔
o اس سورت کے آغاز میں ایک تاریخی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔
o جن دنوں مکہ میں مسلمانوں او ران کے مخالفین کے درمیان عقیدہ کی جنگ چھڑ چکی تھی او رمسلمان تعداد میں اتنے ہوگئے تھے کہ کافروں سے بحث ومباحثہ کر سکیں ،ان دنوں ایک لڑائی میں فارس کو (جو بت پرست تھے) نصاری پر (جو اہل کتاب تھے) فتح حاصل ہوئی، جس کی وجہ سے مکہ کے مشرکین بہت خوش تھے اور مسلمانوں کو طعنہ دیتے تھے کہ بتوں کی پوجا کرنے والے کتاب والوں پر غالب آگئے۔ اس وقت یہ سورت نازل ہوئی کہ چند سالوں میں روم والے فارس والوں پر دوبارہ غلبہ حاصل کر لیں گے۔ بلکہ تاکیدا یہ بھی کہہ دیا گیا کہ ” یہ اللہ تعالی کا وعدہ ہے جس میں کوئی خلاف ورزی نہیں ہوتی،البتہ جن کی نظر ظاہر پر ہوتی ہے وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے”۔
o یاد رکھو! یہ دنیا کی ہار او رجیت اللہ کا ایک نظام ہے حالانکہ حقیقی کامیابی آخرت کی ہے جس پر لوگ توجہ نہیں دیتے۔
o یہاں پر ایک بات خاص طور پر کہی گئی "يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ (7)”وہ تو صرف دنیوی زندگی کے ظاہر ہی کو جانتے ہیں اور آخرت سے باکل ہی بے خبر ہیں”۔یعنی یہ کہ وہ لوگ صرف دنیاوی مال و متاع میں مشغول ہیں اور آخرت سے غافل ہیں۔
اس میں جہاں ایک طرف ان کاروں کی مذمت ہے وہیں دوسری طرف ہم اہلِ اسلام کو بھی تنبیہ کی جارہی ہے کہ ہم بھی کافروں کی طرح دنیا کے مال و متاع میں مشغول ہو کر آخرت سے غافل نہ ہوجائیں۔
o آیت نمبر 8تا 10میں آخرت اور جزاء پر عقلی و حسی دلائل دئیے گئے ہیں۔
o اللہ تعالی نے انسان کو خود اپنی ذات کی پیدائش او ر پھر آسمان و زمین کی تخلیق پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے کہ یہ ساری کائنات بے مقصد پیدا نہیں کی گئیں۔
o بلکہ یہ سب آخرت کی تیاری کے لئے ہے۔
o نیز جن لوگوں نے رسولوں اور یوم آخرت کو جھٹلایا ان کا کیا انجام ہوا؟ اپنے سفروں میں یہ لوگ تباہ وبربادقوموں کے علاقوں کے سے گزر کر یہ دیکھ سکتے ہیں اور محسوس کر سکتے ہیں۔
o آیت 11سے 16تک قیامت پر ایمان لانے والے اور قیامت کے منکرین کا انجام بیان ہوا ہے۔
o نیک لوگ جنتوں میں خوش و خرم ہوں گے،اور برے لوگ ایک طرف حیرت زدہ ، دوسری طرف بے یارومددگار ہوں گے اورپھر جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
o مسلمانوں کو یہ نعمتیں ان کےایمان اور عملِ صالح کی بدولت حاصل ہوں گی۔ جبکہ کافروں کو یہ ذلت ان کے کفر اور آخرت کو فراموش کرنے کے سبب ملے گی۔
o آیت 17اور 18میں گزشتہ باتوں پر تبصرہ اور توحید کی دعوت ہے،او ر صبح و شام او ر دوپہر کے وقت اللہ کی حمد او ر تسبیح بیان کرنے کی ترغیب دلائی جا رہی ہے۔فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ (17) وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ (18)”پس اللہ کی تسبیح پڑھا کروجب کہ تم شام کرو اور جب صبح کرو۔ تمام تعریفوں کے لائق آسمان وزمین میں صرف وہی ہے ، تیسرے پہر کو اور ظہر کے وقت بھی اس ذات کی پاکیزگی بیان کیا کرو ۔
o آیت 19سے 26تک اللہ تعالی نے متعدد شواہدکا ذکر کرکے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرمایا ہے،بلکہ اپنی ربوبیت اور کمالِ قدرت پر چھہ دلائل پیش کرتے ہوئے ہمیں غور و فکر کی دعوت دی ہے۔
1) بے جان مٹی سے پیدا کرکے چلتا پھرتا او ر عقل و فہم رکھنے والا انسان بنایا۔ یہ اللہ کی بہت بڑی نشانی ہے۔
2) انسان کی جنس سے اس کی بیوی بنائی جو اس کے لئے سکون و رحمت کا سبب ہے۔غور وفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت بڑی نشانی ہے۔
3) آسمان و زمین کی تخلیق کی، انسانوں کی مختلف نسلیں بنائیں او ر ان کی مختلف زبانیںبنائیں ۔ دانش مندوں کے لئے اس میں بڑی نشانی ہے۔
4) رات و دن کا نظام رکھا،جس میں سونے او ر معاش کے انتظام کے طریقے بتلائے۔ اس میں بھی غور سے سننے اور توجہ دینے والوں کے لئے نشان عبرت ہے۔
5) بادل کی گرج ،بجلی کی چمک، اس سے بارش کا نزول اور پھر زمین کا سرسبز ہو جانا۔ اس میں بھی عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔
6) آسمان و زمین کے قیام کا مظبوط نظام رکھا ہے، کہ اتنا عظیم آسمان بلا ستون اور اور اتنی بڑی زمین بغیر میخ کے قائم ہیں۔ان کا قیام بھی اللہ ہی کے حکم سے ہوا ہے۔
o ان آیات پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا : وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَى فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (27) ” اور وہی ہے جو اول بار مخلوق پیدا کرتا ہے ، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا، اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے، اس کی بہترین اور اعلی صفت ہے، آسمانوں میں اور زمین میں بھی اور وہی غلبے اور حکمت والا ہے”۔
یعنی جب اللہ کی ان تمام قدرتوں کا مشاہدہ کر رہے ہو تو یہ بھی یقین کرلو کہ جس طرح اس نے ان مخلوقات کو پہلی مرتبہ پیدا کیا وہ دوبارہ بھی انہیں پیدا کرے گا اور یہ دوبارہ پیدا کرنا اس کےسسسس لئے کوئی مشکل نہیں ہے بلکہ بڑا ہی آسان ہے۔
o آیت نمبر 28میں مذکورہ امور پر تبصرہ کے طور پر شرک کی غیر معقول ہونے کی ایک مثال پیش کی ہے کہ کیا تم یہ گوارا کرو گے کہ تمہارے غلام جو تمہاری ہی طرح ہاتھ پیر کے مالک ہیں اور نقل و حرکت کرتے ہیں ، وہ تمہارے مال و جائیداد میں کسی قسم کی شراکت رکھیں یا اس میں انہیں کوئی تصرف حاصل ہو؟ ، یقینا یہ تم ہرگز گوارا نہیں کرو گے۔تو جب اپنے لئے یہ چیز قبول نہیں کرتے تو اللہ تعالی کےلئے شرک کو قبول کرتے ہوئے اس کے ساتھ شریک کیوں ٹھہراتے ہو؟ ۔
o آیت 29 میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ یہ مثال تو ہر ایک کے سمجھ میں آنے والی ہے لیکن چونکہ یہ علم وفکر کے بجائے خواہش پرستی سے کام لیتے ہیں اس لئے ان کے سمجھ میں نہیں آتی۔
o آیت 30تا 32میں نبی ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو دین حق پر قائم رہنے جو دین فطرت ہے او ر اہل باطل سے دور رہنے کا حکم ہے، اور یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ دین جس کا مکلف آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو بنایا جارہا ہے عین فطرت کے مطابق ہے۔
o جس کی صورت یہ ہونی چاہئےکہ
1) توبہ و اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کیا جائے۔
2) اس کا تقوی اختیار کیا جائے۔
3) اخلاص کے ساتھ نماز قائم کی جائے ۔
4) اور تفرقہ بازی سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
o آیت 33تا 39میں انسان کی بعض فطری کمزوریوں کی طرف اشارہ ہے، جیسے شرک میں مبتلا انسان مصیبت میں صرف اللہ کو یاد کرتا ہے اور پریشانی دور ہوجانے کے بعد اسے بھول جاتا اور شرک کرنے لگتا ہے۔اسی طرح کافر بندہ نعمت حاصل ہو تو خوش ہوتاہے اور نعمتوں سے محرومی ہوئی تو واویلا مچاتا اور اللہ کے بارے میں بدظنی کا شکار ہو جاتا ہے۔
o لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ سختی و تنگی اور کشادگی و راحت سب اللہ کی طرف سے ہوتی ہے،اگر ایمان صحیح ہو تو اس بات کو سمجھنا مشکل نہیں ہے ۔
o پھر اللہ تعالی نے روزی کی مثال دی کہ اللہ تعالی جس کو چاہتا ہے فراوانی سے روزی دیتا ہے او ر جسے چاہتا ہے تنگ دست بنا دیتا ہے ،سارے وسائل اسی کے پاس ہیں اس میں انسان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
o لہذا جس کا رزق کشادہ ہو اسے چاہئے کہ قرابت داروں اور حاجت مندوں کو اس میں سے دیتا رہے۔یہی کامیابی کی راہ ہے ۔
o ساتھ ساتھ روزی کے حرام ذرائع جیسے سود وغیرہ سے بچے، کیونکہ سود سے مال کی برکت ختم ہو جاتی ہے۔ جبکہ اللہ کی رضا کے لئے دی گئی زکاۃ اللہ کی برکتوں کا سبب ہے ۔
o آیت نمبر 40سے کلام کا رخ توحید کی دعوت او رآخرت پر ایمان کی اہمیت و ضرورت کی طرف ہے اور یہ واضح کیاگیا ہے کہ آسمان و زمین میں فساد کی سب سے بڑی وجہ لوگوں کا شرک ہے۔چنانچہ اگر اس کا مشاہدہ کرنا ہے تو زمین میں سیر کرکے دیکھو کہ کس طرح آبادیوں کی بربادیاں اس حقیقت کی گواہی دے رہی ہیں۔لہذا ایک دن یعنی قیامت کے دن سے قبل اس دین کو قبول کر لو ، قیامت کے دن کو نہ کوئی ٹال پائے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کا ساتھ دے گا۔
o آیت نمبر 46سے کلام کا رخ توحید کےبعض دیگر دلائل کی طرف پھیر دیا گیا ہے کہ یہ خوشگوار ہوائیں جن میں تمہارے لئے بارش،بارش سے سبزہ زاری او رانہیں ہواؤں کی وجہ سے سمندر میں سفر کی آسانی وغیرہ ہے۔ یہ سب اللہ کی قدرت و وحدانیت کا ثبوت ہیں۔
o آیت 47 میں نبیﷺ کو تسلی دی گئی ہےکہ اتنے واضح دلائل کے باوجود بھی لوگوں کا ایمان نہ لانا ، اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ آپ سے کوئی کوتاہی ہو رہی ہے ، بلکہ آپ کوئی پہلے شخص نہیں ہیں جن کے ساتھ یہ معاملہ ہو رہا ہے، بلکہ آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کی تکذیب ان کی قوموں نے کی ہے۔ البتہ جو بات طے شدہ ہے کہ ایسی قوموں سے اللہ نےانتقام ضرور لیا ہے ۔ کیونکہ مومنوں کی مدد و اس نے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے۔
o آیت 48 -51 میں بارش کے ذریعےخشک زمین کےلہلہا اٹھنے کے ذکر سےآخرت کی زندگی پر استدلال کیا ہے، اور اس دلیل کے ذریعے آخرت پر ایمان کی دعوت بھی ہے ۔
o آیت 52اور 53میں نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر ان تمام واضح و روشن دلائل کے باوجود یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ غمزدہ نہ ہوں،ان کی مثال مردوں کی سی ہے جنہیں سنایا نہیں جا سکتا۔
o آیت 54 میں انسانی تخلیق کے مراحل کو ایک نرالے انداز میں بیان کیا ہے جو قرآںِ مجید میں کسی اور مقام پر نہیں ہے۔ اسے غور سے دیکھیں اور عبرت حاصل کریں ۔
o پھر سورت کے آخر میں آخرت کے منکرین کی بعض رسوائیوں کی طرف اشارہ ہے ۔
o چنانچہ وہاں بھی کافر اپنی عادت کے مطابق جھوٹ بولے گا کہ اسےتو دنیا میں اتنا موقع ہی نہیں ملا کہ وہ کچھ سمجھ سکتا یا کر سکتا۔
o جس کے جواب میں( فرشتوں کے ساتھساتھ) اہل ایمان بھی کافروں جھٹلائیں گے کہ تمہیں موقع تو بہت ملاتھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ تم نے غفلت برتی ۔
o لہذا آج نہ تمہارا کوئی عذر قبول ہوگا اور نہ ہی تمہیں کسی قسم کی رخصت ملے گی ۔
o سورت کا خاتمہ نبی ﷺ کو صبر کی تلقین پر ہوا ہے۔اس آیت میں نبی ﷺ کی ہمت افزائی بھی ہے اور ظالموں کے بہکاوے میں نہ آنے کی تلقین بھی موجود ہے ۔فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ (60) "پس آپ صبر کریں، یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے، آپ کو وہ لوگ بے صبرا نہ بنا دیں جو یقین نہیں رکھتے”۔
سورت لقمان:
یہ سورت مکی ہے ۔
مکی سورتوں کی طرح اس کا موضوع بھی عقیدہ ہے۔ خصوصا اس سورت میں توحید کی اہمیت کو زیاد ہ اجاگر کیا گیا ہے۔نیز رسالت او ر آخرت سے متعلقہ مضامین بھی درمیان میں آئے ہیں۔
چونکہ اس سورت میں حکیم لقمان اور ان بیان کردہ حکمتوں کا ذکر خیر ہوا ہے اس لئے اس کا نام سورت لقمان ہے ۔
o ابتدائی پانچ آیتوں میں وہی مضمون ہے جو سورہ بقرہ کی بتدائی پانچ آیات میں بیان ہوا ہے۔ یعنی قرآن کی اہمیت و عظمت اور اس پر ایمان لانے والوں کی صفات بیان ہوئی ہیں ۔
o آیت نمبر 6اور 7میں قرآن سے اعراض کرنے والوں او ر جن چیزوں میں مشغول ہو نے کی وجہ سے اس قرآن سے اعراض کرتے ہیں، ان کا ذکر ہے۔ یعنی گانے باجے او ر آلات موسیقی میں مشغولیت قرآن سے اعراض کا بڑا سبب ہے۔
o اہل علم کا اتفاق ہے کہ سورہ لقمان کی یہ آیت گانے باجے کی مذمت میں نازل ہوئی ہے جس میں مشغول کر کے مکہ کے سردار اہل مکہ کو قرآن سننے سے روکتے تھے، ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی دھمکی دی گئی ہے ۔
o آیت نمبر 8اور 9میں ان لوگوں کو جنت اور بہترین زندگی کی خوشخبری دی گئی ہے جو اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں۔
o آیت نمبر 10اور 11میں اللہ کی قدرت او ر کمال خلقت کا حوالہ دے کر مشرکین کو ایمان لانے او رتوحید کی طرف دعوت دی گئی ہے کہ اللہ تعالی نے ان آسمانوں کو بغیر ستون کے بنایا (یا ستونوں پر قائم کیا لیکن تم دیکھ نہیں رہے ہو)، زمین پر بھاری بھرکم پہاڑ رکھ دئے تاکہ زمین حرکت نہ کرے، زمین میں ہر قسم کے جانور پیدا کئے او ر آسمان سے بارش نازل کی جس سے سبزے اگائے۔
o تو کیا جن ہستیوں کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو ان میں کوئی ایسا کرنے پر قادر ہے؟ ہرگز نہیں،تو پھر گمراہی میں کیوں بھٹک رہے ہو۔ ایمان قبول کرلو۔
o آیت نمبر 12سے 19تک حضرت لقمان حکیم اور ان کی وصیتوں کا بیان ہے۔
o سب سے پہلے تمہید کے طور پر لقمان کے بارے میں بتایا گیا کہ انہیں حکمت ودانائی عطا کی گئی تھی۔
o اس سے ان کی تعریف او رآنے والی وصیتوں کی اہمیت بیان کرنا مقصود ہے، تاکہ ان باتوں کو عام سی باتیں نہ سمجھا جائے بلکہ ان پر خصوصی توجہ دی جائے۔
o پھر اس کے بعد حضرت لقمان کی دس کے قریب ان نصیحتوں کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھیں۔
o ۱- بیٹا شرک ہرگز مت کرنا، کیونکہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔
o ۲- والدین ، خصوصا والدہ کے ساتھ حسن سلوک کو مد نظر رکھنا۔ ہاں! اللہ کی نافرمانی کا معاملہ ہو تو ان کی بھی اطاعت جائز نہیں ہے۔
o ۳- بیٹا! انسان اچھا یا برا کوئی کام کتنا ہی چھپ کر کرلے ،وہ ہرگز اللہ سے مخفی نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالی بہت باریک بیں ہے ۔
o ۴- بیٹا! نماز کو قائم رکھنا۔ ۵- اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا۔ ۶- بری باتوں سے روکتے رہنا۔ ۷- اورجو تکلیف آئے اس پر صبر کرنا۔ دھیان رکھنا! یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔
o ۸- بیٹا! لوگوں سے ترش روئی سے نہ پیش آنا۔ ۹- اور نہ ہی زمین میں اکڑ کر چلنا۔ کیونکہ اللہ کو تکبر کرنے والا پسند نہیں ہے۔
o ۱۰ بیٹا! اپنی رفتار میں میانہ رو رہنا۔ ۱۱- اور اپنی آواز کو پست رکھنا ۔ کیونکہ گدھے کی آواز جو بڑی زور دار ہوتی ہے وہ بہت ہی ناپسندیدہ آواز ہے۔
گویا اس سے ہر باپ کو یہ درس دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت انہیں امور پر کریں۔خصوصا توحید اپنانا،شرک او ر اسباب شرک سے دوریرکھنا،اللہ کا مراقبہ یعنی یہ دھیان رکھنا کہ اللہ اسے ہروقت دیکھ رہا ہے، اور نماز قائم کرنا وغیرہ۔
حضرت لقمان کی ان وصیتوں میں یہ بات بہت واضح ہے کہ تربیت کے میدان میں سب سے اہم چیز عقیدہ کو صحیح رکھنا ہے ۔ پھر اعمال کا درجہ ہے۔ اور اعمال میں سب سے اہم نماز ہے۔
حضرت لقمان کی ان وصیتوں میں یہ درس بھی ہے کہ دین صرف عقائد اور عبادات کا نام نہیں ، بلکہ اخلاقیات حتی کہ کسی سے مسکرا کر بات کرنا بھی دین میں داخل ہے۔
نیز لقمان حکیم کی وصیتوں سے یہ بات بھی واضح ہے کہ اللہ کا حق تمام حقوق حتی کہ والدین کے حق پر بھی غالب ہے۔
o آیت نمبر 21سے 24تک اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں کا ذکر ہے ۔
o جس میں یہ درس ہے کہ انسان کو جتنی نعمتیں بھی ملی ہیں وہ سب اللہ تعالی کی طرف سے ہیں ۔یہ ایسا مسئلہ ہے جو بدیہی اوربالکل واضح ہے، لیکن شیطان کی اتباع اور اپنے باپ دادا کی غلط رسموں کی پیروی میں پڑ کر لوگ اسے بھولے ہوئے ہیں۔
o جو شخص بھی اللہ کا تابع فرمان ہو کر اس کی کتاب کو ما نے اور اللہ کی نعمتوں کی قدر کرےوہی کامیاب ہے، ورنہ دنیا میں تو اسے کچھ لذت اندوزی کا موقع مل جائے گالیکن آخرت میں دردناک عذاب اس کے انتظار میں ہے۔ نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ (24)” ہم انہیں کچھ یونہی سا فائدہ دے دیں ،لیکن بالآخر ہم انہیں نہایت بیچارگی کی حالت میں سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے”۔
o آیت نمبر 25اور 26میں اس امر کی وضاحت ہے کہ اللہ بڑی عظیم قدرت کا مالک ہے، مخلوقات کو پیدا کرنا، ان کا انتظام چلانا اورملکیت اسی کی ہے۔ اور یہ ایسی چیز ہے جس کا اعتراف تمہارے مخالفین بھی کرتے ہیں۔ لیکن ان کی لاعلمی ہے کہ اللہ کی عبادت میں اسے واحد وتنہا نہیں مانتے ۔
o آیت نمبر 27اور 28میں اللہ کے علم اور اس کی قدرت کی وسعت کا ذکر ہے۔ اس کے علم و اوصاف کا احاطہ مخلوق کے بس سے باہر ہے کہ اگر تمام دنیا کے درختوں کے قلم بنا لئے جائیں اور تمام سمندروں کی روشنائی تیار کر لی جائے تو پھر بھی اللہ کے علوم کو جمع نہیں کیا جا سکتا او رنہ ہی اس کی ذآت کا وصف بیان کیا جا سکتا ہے۔
o اور اس کی قدرت کا حال یہ ہے کہ اللہ تعالی کے ہاں تمام انسانوں کی پیدائش او ر کسی ایک کی پیدائش میں کوئی فرق نہیں۔ لہذا مشرکین کا یہ خیال کہ ہم دوبارہ کیسے پیدا کئے جائیں گے؟ بالکل باطل اور ان کی کم عقلی کی دلیل ہے۔
o آیت نمبر 29اور 30میں کائنات کی بعض چیزوں کی تخلیق او رتسخیر کا حوالہ دے کر توحید کی دعوت دی گئی ہے۔
o جیسے وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں، اسی نے سورج وچاند کا ایسا نظام بنا رکھا ہے کہ اس کی حکم بجا آوری میں قیامت تک لگے ہوئے ہیں۔ یہ سب حقائق بتا رہے ہیں کہ حقیقی معبود صرف ایک اللہ تعالی ہے اور باقی سب باطل ہیں۔
o آیت 31اور 32میں مشرکین کی توجہ اس طرف دلائی گئی ہے کہ اُس مشکل وقت میں جب ان کی کشتی بھنور میں پھنس جاتی ہے تو اس وقت لوگ صرف اللہ کو پکارتے ہیں، تو گویا توحید عبادت کے وہ بھی قائل ہیں، مگر صرف مشکل او ر پریشانی کے وقت میں جب تمام سہارے ٹوٹ جاتے ہیں۔
o اس میں ان لوگوں کے لئے بھی درس ہے جو مشکل گھڑیوں میں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں لیکن آسائش وآسانی کے دنوں میں اسے بھولے رہتے ہیں۔
o آیت نمبر 33میں اہل مکہ کو آخرت پر ایمان لانے کی دعوت ہے کہ اس دن سے ڈرو اور اس کے لئے تیاری کرو ،شیطان کی پیروی چھوڑ دو۔کیونکہ یہ وہ مقام ہے جہاں باپ بیٹا بھی ایک دوسرے کے کام نہ آ سکیں گے۔اللہ کا وعدہ سچا ہے لہذا تمہیں دنیا او ر دھوکے باز شیطان دھوکے میں نہ ڈالے۔
o آخری آیت میں یہ ذکر ہوا ہے کہ علم غیب اللہ کا خاصہ ہے۔یاد رہے کہ اس موقع پر اللہ تعالی نے پانچ چیزوں کو غیب کا خاصہ بتلایا ہے۔
1) قیامت کا علم کہ وہ کب آئے گی؟
2) بارش کب برسے گی؟
3) ماں کےرحم میں کیا ہے؟
4) انسان کی موت کہاں ہو گی؟
5) اور کل وہ کیا کرے گا؟
سورت السجدہ
یہ سورت بھی مکی ہے۔
اس کا موضوع توحید اور عقیدہ آخرت ہے۔ خصوصا مرنے کے بعد پیش آنے والے ہولناک واقعات کا تذکرہ۔
o ابتدائی تین آیتوں میں قرآن کی حقانیت پر زور دیا گیا ہے کہ اس کتاب کےاللہ کی طرف سے نازل ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔لوگوں کا یہ جھوٹ ہے جو کہتے ہیں کہ یہ محمدﷺ کی اپنی طرف سے گھڑی ہوئی ایک کتاب ہے۔
o یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل شدہ کتاب ہدایت ہے، جس کا مقصد اہل مکہ کو راہ ہدایت دکھانا ہے۔ جن کے پاس اس سے پہلے کوئی رسول نہیں آیا۔
o آیت نمبر 4سے 9تک اللہ تعالی کی قدرت کا حوالہ دے کر اس کی وحدانیت کو بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی کی ذات تو وہ ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین بنائے،پھرعرش عظیم پر مستوی ہوا او روہیں سےآسمان و زمین کا سارا نظام چلا رہا ہے۔
o وہی ذات عالم الغیب و الشھادہ ہے،اسی نے مٹی سے انسان کی ابتدا کی ،پھر حقیر پانی کے خلاصے سے اس کا جسم بنا کر اس میں روح پھونکی، اور اسے سوچنے کے لئے دل ،دیکھنے کے لئے آنکھیں او رسننے کے لئے کان دئیے۔ باوجود اس کے یہ لوگ دوسروں کو اپنا سرپرست اور شفیع بنائے ہوئے ہیں۔
o آیت 14اور 15میں کافروں کی اس خام خیالی کی تردید کی گئی ہے کہ جب ہم مٹی ہو جائیں گے اور گل سڑ جائیں گے تو ہمیں دوبارہ کیسے زندہ کیا جائے گا؟ وَقَالُوا أَإِذَا ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ أَإِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ بَلْ هُمْ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ كَافِرُونَ (10) "اور انہوں نے کہا: کیا جب ہم زمین میں رل مل جائیں گے ،کیا پھر نئی زندگی میں آئیں گے ؟بلکہ بات یہ ہے کہ وہ لوگ اپنے پروردگا ر کی ملاقات کے منکر ہیں۔
o اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ تم یہ نہ سمجھو کو موت اور زندگی کے بارے میں تم آزاد ہو، ایسا نہیں ہے بلکہ تمہاری موت کا ایک دن متعین ہے اور تمہارے اوپر ایک فرشتہ متعین ہے ، وقت مقررہ پر وہ تمہاری روح قبض کرکے تمہارے رب کی طرف لوٹائے گا۔
o پھر حشر کے میدان میں آخرت کے انکاریوں کی بعض ایسی بد حالیوں کا ذکر ہے جسے پڑھ کر روح کانپ جاتی ہے۔ وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ (12) ” کاش تم دیکھو وہ وقت جب یہ مجرم سر جھکائے اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے، اس وقت یہ کہہ رہے ہوں گے : اے ہمارے رب ! ہم نے خوب دیکھ لیا اور سن لیا ، اب ہمیں واپس بھیج دے ، تاکہ ہم نیک عمل کریں ، اب ہمیں یقین آگیا ہے”۔
لیکن اس وقت کوئی فائدہ نہیں ہوگا،اور دنیا میں واپس جا کر عمل صالح کرنے کی مہلت مانگنے پر انہیں مہلت نہیں ملے گی۔
o کافروں اور مجرموں کا ذکر کرنے کے بعد آیت نمبر 16اور 17میں اہل حق کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کی بعض اہم صفات بیان ہوئی ہیں۔
1) اگرانہیں اللہ کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کی جائے تو سجدے میں گر جاتے ہیں۔
2) اپنے رب کی حمد او ر تسبیح کرتے ہیں۔
3) تکبر نہیں کرتے ۔
4) ان کے پہلو بستر سے الگ رہتے ہیں۔ یعنی رات میں اللہ کے سامنےقیام کرتے ہیں۔
5) اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں ۔
6) او رہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔
o جس کے عوض انہیں ایسی نعمتوں سے نوازا جائے گا جو نہ تو ان کے وہم وگمان سے اوپر کی چیز ہوگی۔
o آیت نمبر 18سے 20 میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ جس طرح اس دنیا میں ایمان والوں اوربے ایمانوں کا عمل مختلف ہے اسی طرح آخرت میں بھی دونوں کا انجام ایک دوسرے سے مختلف ہوگا۔ مومن لوگ اللہ کے مہمان ہوں گے اور اعزاز واکرام کے مستحق ٹھہریں گے ، جبکہ اہل کفر تعزیر وعقوبت کی بیڑیوں میں جکڑے جہنم کی آگ میں جل رہے ہوں گے۔ مزید یہ کہ جب بھی جہنم کے عذاب کی شدت سے اور ہولناکی سے پریشان وگھبرا کر باہر نکلنا چاہیں گے ،فرشتے ان کے سروں پر لوہے کے گرزمارکر جہنم کی گہرائیوں میں ڈھکیل دیں گے۔
o اس پر مزید انہیں رسوا کرنے کے لئے کہا جائے گا : ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ (20) ” چکھو اب اسی آگ کے عذآب کا مزا جس کو تم جھٹلاتے تھے”۔
o آیت 21اور 22میں مجرموں کو دھمکی او راللہ کی طرف رجوع کی دعوت دی گئی ہے کہ قیامت کے اس بڑے عذاب سے پہلے توبہ کر لو۔ ۔
o آیت 23اور 25میں نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کو جو کتاب دی گئی ہے اور لوگ اس کو جھٹلا رہے ہیں ویسے ہی کتاب موسی علیہ السلام کو بھی دی گئی تھی، لہذ آپ کے ماننے والوں کو اس کے بارے میں کوئی شبہہ نہیں ہونا چاہئے ۔
o تورات کی طرح یہ ایسی کتاب ہے جس پر عمل کرکے کچھ لوگ امامت کے مقام پر فائز ہوجاتے ہیں، جن کی صفت یہ بھی ہےکہ ان میں صبر و یقین ہوتا ہے۔ یعنی صبرو یقین کی وجہ سے وہ رتبہ امامت پر فائز ہو جاتے ہیں،اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی مخالفت کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں ۔
o آیت 26اور 27میں اہل مکہ کو خبر دار کیا گیاہے کہ پچھلی امتیں جو نبیوں کو جھٹلانے اور ان پرعدم ایمان کی وجہ سے ہلا ک ہوئیں کیا ان کی تاریخ تمہارے لئے باعث عبرت نہیں؟ کیا تم اس سے عبرت نہیں لیتے کہ تمہارا حشر بھی ان جیسا ہوسکتا ہے۔
o آخر میں توحید ومعاد کے ذکر کو دہرایا گیا جیسا کہ اسی سے اس سورت کی ابتدا ہوئی تھی۔
o چنانچہ سے واضح کیا گیا کہ جس طرح اللہ تعالی بنجر زمین پر بارش نازل فرماتاہے جس کی وجہ سے مردہ زمین سبزہ زار ہو جا تی ہے ، جسے چر چگ کر ان کے جانور بلکہ وہ خود بھی اپنی غذا حاصل کرتے ہیں ۔ کیا اس سے انہیں یہ سبق نہیں ملتا کہ مار دینے کے بعد اللہ ان کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے؟
o پھر آخر میں اہل مکہ کو ان کی اس حرکت پرخبر دار کیا گیا ہے جو وہ رسول اللہ ﷺ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ آپ ہمارے لئے جس عذاب کا وعدہ کر رہے ہیں، یعنی فیصلے کا دن، وہ کب ہو گا؟تو اس کا جواب انہیں یہ دیا گیا کہ اس فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان کوئی فائدہ نہیں دے گا اور نہ ہی انہیں ڈھیل دی جائے گی ۔
قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنْفَعُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِيمَانُهُمْ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ (29) فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَانْتَظِرْ إِنَّهُمْ مُنْتَظِرُونَ (30) ” جواب دے دو کہ فیصلے کا دن ایمان لانا بے ایمانوں کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی، اب آپ ان کا خیال چھوڑیں اور منتظر رہیں ، یہ بھی منتظر ہیں” ۔
سورت الاحزاب
یہ سورت مدنی ہے او رغزوہ احزاب کے بعد نازل ہوئی ہے۔
اس سورت کا بنیادی موضوع نبی کریم ﷺ کی عظمت او راللہ کے نزدیک آپ کی محبوبیت کے مقام کا بیان ہے۔
اس ضمن میں غزوہ احزاب و بنی قریظہ کے موقعے پر پیش آئے بعض واقعات کا بھی ذکر آیا ہے۔
اس سورت میں معاشرت سے متعلق بھی کچھ شرعی احکام بھی بیان ہوئے ہیں۔
o سورت کی ابتداء نبی ﷺ کو دئیے گئے چار حکموں سے ہوئی ہے۔
o 1- اللہ سے ڈریں۔ 2- کافروں او ر منافقوں کی اطاعت اور مشورہ سے بچیں۔ 3- وحی الہی کی اتباع کریں۔ 4- او راللہ تعالی پر بھروسہ کریں۔
گویا آپ ﷺ کو یہ تعلیم دی گئی ہےکہ آپ اپنے مشن میں لگے رہیں اور کسی کی پرواہ کئے بغیر، اللہ پر توکل کرتے ہوئے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہیں۔
o آیت 4تا 6میں چند جاہلی رسوم او ر تصورات کی اصلاح کی گئی ہے ۔
1) کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں ہوتےکہ ایک میں ایمان رکھے اور ایک میں نفاق رکھ لے، یا اگر کوئی شخص زیادہ ہوشیار ہے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ اس کے سینے میں دو دل ہیں۔ جیسا کہ اُس زمانے میں لوگوں کا یہ تصور تھا۔
2) ظہار کی ممانعت کہ اس طرح کوئی عورت کسی کی ماں نہیں بن جاتی ۔عرب میں یہ غلط رسم رائج تھی کہ اگر کوئی اپنی بیوی کو یہ کہہ دیتا کہ تو میرے اوپر میری ماں کی طرح حرام ہے، یا تیری پیٹھ میرے لئے ایسی ہی ہے جیسی میری ماں کی پیٹھ ہے تو وہ اس پر زندگی بھر کے لئے حرام ہو جاتی تھی۔
3) کسی غیرکو منہ بولا بیٹا بنانے کی رسم کا خاتمہ۔
4) نبی ﷺ کی عظمت کا بیان ہےکہ ہر مسلمان کے نزدیک آپ کی حیثیت یہ ہونی چاہئے کہ آپﷺ ہر چیز میں اس کے نزدیک خود اس کی اپنی جان پربھی مقدم ہوں ۔محبت میں بھی، آپ کی طرف سےدفاع کرنے میں بھی اور اتباع وغیرہ میں بھی۔
5) نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کی حیثیت کا بیان کہ وہ احترام و تعظیم میں تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں۔
o آیت 7اور 8میں نبی ﷺ اور تمام انبیاء سے اللہ تعالی نے جو عہد لیا کہ اللہ کا پیغام امت تک بلا کم و کاست پہنچائیں،اس کی یاد دہانی کرائی گئی ہےاور پھر اس پر قیامت کے دن باز پرس کا بھی ذکر ہے ، کہ انبیاء سے بھی باز پرس ہوگی اور امتیوں سے بھی ۔
o آیت نمبر 9سے 27تک غزوہ احزاب پر تبصرہ ہے ، جس میں کفار ومشرکین کی بہت سی جماعتوں کا مسلمانوں پر یکبارگی حملہ اور سخت نرغے میں آجانے کے بعد مسلمانوں پر اللہ تعالی کے انعامات کی طرف اشارہ ہے ۔ بلکہ آیت نمبر 27 تک ساری گفتگو اسی موضوع سے متعلق ہے۔
o سب سے پہلے تو مسلمانوں کی پریشانی اور ان حالات کی منظر کشی کی گئی ہے جو اس وقت مسلمانوں کو درپیش تھے۔
o وہ اس قدر خوف زدہ تھے کہ ان کی آنکھیں پتھرا گئی تھیں ، دل ہنسلی کو آنے لگے تھےاورمومنوں کو سخت آزمائش کا سامنا کرنا پڑا تھا، حتی کہ اللہ کے بارے میں طرح طرح کےگمان کرنے لگے تھے ۔
o پھر اس جنگ میں منافقوں کا جو کردار تھا اس کوبھی واضح کیا گیا ہے کہ ان کا مقصد مسلمانوں کو خوف دلانا او ران کی ہمت پست کرنا تھا، حتی کہ وہ یہاں تک کہہ دیتے تھے کہ ” مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا”اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدے ہم سے کئے تھے وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے”۔
o نیز منافقین کی بعض خفیہ چالوں پر سے پردہ اٹھایا گیا ہے ۔
o منافقین کی دو جماعتوں کا ذکر اور ان کے عذر لنگ کا بیان ہے، ایک جماعت تو یہ کہکر بھاگ کھڑی ہوئی کہ "يَاأَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا” اے یثرب(مدینے والو)! تمہارے لئے کوئی ٹھکانا نہیں ، چلو لوٹ چلو "، دوسری جماعت وہ تھی جو جھوٹے حیلے بہانے سے اجازت طلب کرتی تھی، چنانچہ وہ کہتے: "ہمارے گھر خطرے میں ہیں "۔
o آیت 16تا بیس منافقوں کی چالوں پر انہیں سمجھانے کے انداز میں ایک مختصر تبصرہ ہے۔
1- پہلی بات تو یہ کہی گئی کہ موت کے ڈر سے تمہارا پیچھا چھڑانا یہ کوئی عقلمندی نہیں ہے ، کیوں کہ موت کا ایک وقت متعین ہے ، وہ کسی کو وقت سے پہلے نہیں آنے والی ، جو میدان میں شہید نہ ہوگا وہ اپنے بستر پر مرے گا ۔
2- اگر تم اللہ تعالی سے جان چھڑا کر بھاگتے ہو ےتو بتاؤ کہ اللہ تعالی تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا کوئی اور ذات ہے جو تمہیں اس سے بچا سکے ، یا اگر اللہ تعالی تمہیں کوئی فائدہ پہنچانا چاہے تو کیا کوئی دوسری طاقت ہے جو اسے تم سے روک سکے۔
3- یاد رکھو! اللہ تعالی ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے جو اپنے بھائیوں کو نبیﷺ کا ساتھ چھوڑ کر ہٹ جانے کی دعوت دیتے ہیں ، مسلمانوں کا ساتھ دینے میں بخالت سے کام لیتے ہیں۔ مشکل گھڑی میں انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے اور جب خوف وحراس کی حالت ختم ہوجاتی ہے تو اپنی شجاعت ومردانگی کی ڈینگیں مارتے ہیں۔
4- حقیقت میں یہ لوگ مومن نہیں ہیں ، اور جوکچھ تھوڑا بہت نیک عمل کیا بھی ہے وہ بھی ضائع اور برباد گیا۔
5- منافقوں کی بزدلی کا بیان اور مسلمانوں کو تسلی دی ہےکہ منافق اگر تمہارے ساتھ رہیں یا تمہارا ساتھ چھوڑ جائیں اس سے تمہارا کوئی نقصان ہونے والا نہیں ہے۔
6- منافقوں کو تنبیہ کہ اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس رسول کو سلامتی وجنگ ہر میدان میں اپنے لئے اسوہ حسنہ تسلیم کرلو ۔
نیز اس آیت میں ان تین اوصاف کا بھی بیان آگیا ہے جو رسول کی پیروی کرنے والےایک مسلمان میں ہونے چاہئے۔
1- اللہ تعالی پر ایمان لانا۔
2- آخت پر ایمان لانا۔
3- اللہ کا بکثرت ذکر کرنا۔
لہذا جو شخص ان صفات سے عاری ہوگا وہ کبھی اللہ کے رسولﷺ کو اپنے لئے اسوہ نہیں بنا پائے گا۔
o آیت 22-24 میں ان مخلص مسلمانوں کا ذکر خیر کیا گیا ہے جو بڑی پامردی او ر ثابت قدمی سے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دے رہے تھے اور اللہ او راس کے رسول کے ہر وعدے پر مطمئن تھے۔
o آیت 25- 27 میں احزاب یعنی کافروں کے گروہ کی ناکامی اور انہیں غیظ وغضب سمیت واپس جانے اور بغیر قتل وقتال ،ہوا اور فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کی مدد کا ذکر ہے ۔
o نیز غزوہ بنی قریظہ کی طرف مختصر اشارہ ہے کہ جن اہل کتاب نے "احزاب” کی مدد کی تھی اللہ تعالی نے ان کے دلوں میں رسول اللہﷺ اور مسلمانوں کا رعب ڈال دیا۔ جس کی وجہ وہ ہتھیار ڈال کر اپنے مضبوط قلعوں سے نیچے آگئے ۔
o ان میں سے بعض قتل کئے گئے ، بعض کو غلام بنایا گیا اور ان کے مال ومتاع اور جائیداد کے وارث مسلمان بن گئے۔
o اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو مستقبل میں بڑی فتوحات کی خوشخبری دی گئی ہے۔بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے فتح خیبر کی طرف اشارہ ہے۔ فتح خیبر کا واقعہ سنہ 6 ہجری میں صلح حدیبیہ کے بعد پیش آیا ہے ۔
o آیت نمبر 28سے 34تک کلام کا رخ ازواج مطہرات کی طرف ہے جس میں انہیں بڑی قیمتی نصیحتیں کی گئی ہیں اور بڑی اہم ہدایات دی گئی ہیں اور ان کے ذریعے تمام مسلمان عورتوں کو خبر دارکیا گیا ہے۔
o چونکہ نبی ﷺ کی زندگی بڑی سادہ تھی ،دنیا کی زیب و زینت او رعیش وعشرت کے ساز و سامان سے آپ خود کو او ر اپنے اہل و عیال کو دور رکھنا چاہتے تھے ۔اس درمیان خصوصا بنو قریظہ کے اموال اور فتح خیبر کے بعدجب مسلمانوں پر رزق کی وسعت ہوئی تو ایک موقع پر ازواج مطہرات نے اپنے کچھ مطالبات پیش کئے جس کی وجہ سے نبی ﷺ ناراض ہوگئے اور کچھ دنوں کے لئے اپنے اہلِ خانہ سےکنارہ کشی اختیار کر لی۔ اس طرح کہ آپﷺ نے اپنی ازواج سے ایک ماہ تک کنارہ کشی کی قسم کھالی، جسے شرعی اصطلاح میں "ایلاء” کہتے ہیں۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، جس کی کچھ تفصیل آگے والے پارے میں رکھی جائیں گی۔