*بائیسواں پارہ(و من یقنت)*

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سلسلہ خلاصہ معانی قرآن مجید
از قلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ
*بائیسواں پارہ(و من یقنت)*

بائیسویں پارے میں چار سورتیں ہیں؛ سورہ احزاب کا بقیہ حصہ، سورہ سبا او رسورہ فاطر مکمل اور سورہ یسین کا ا بتدائی حصہ۔
o اس پارے کی ابتداء میں سلسلہ کلام ازواج مطہرات کے لئے ہدایات سے متعلق ہے۔اس مقام پر نبی ﷺ کی ازواج کو کئی باتوں پر خبر دار کیا گیا ہے۔
1) اگر تم دنیا کی زیب و زینت چاہتی ہو تو وہ رسول کے یہاں نہیں ملے گی،اگر چاہو تو کچھ دے دلا کررسول تم سے علحدہ ہو جائے ۔آیت:28
او راگر تب سب اللہ او راس کے رسول او رآخرت او ر جنت چاہتی ہو تو اللہ تعالی نے تمہارے لئے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ آیت: 29
2) اے نبی کی بیویو! تم جس مقام پر فائز ہو وہ کوئی معمولی مقام نہیں ہے۔لہذا اگر تم سے کوئی غلطی سرزد ہوگئی تو اس کی سزا بھی عام عورتوں کے مقابلے میں زیادہ ہوگی ۔آیت:30
اسی طرح اس کے برعکس تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی صحیح پیروکار بن کر رہی ، عام عورتوں کے مقابلے میں اسے دو گنا اجر ملے گا۔
3) اس کے بعد ازواج مطہرات کوپردے او ر ان کی تربیت سے متعلق کئی ہدایات دی گئی ہیں جو ان کے ساتھ ساتھ عام عورتوں کے لئے بھی بڑی اہم ہیں:
o (ا)غیر مردوں سے بات کرتے ہوئے آواز میں نرمی او ر مٹھاس نہ ہو ، بلکہ گفتگوعام لہجے میں ہو، لازمی حد تک ہو اور معروف قاعدے اور اخلاق کے منافی نہ ہو ۔
o ب)بلا ضرورت باہر نہ نکلا جائے۔
o ج) باہر نکلتے وقت جاہلیت کی سج دھج اور بناؤ وسنگارسے پرہیز کیا کریں۔
o (د)نماز قائم کریں او ر زکاۃ دیں۔
o (ھ)اللہ او راس کے رسول کی اطاعت کریں۔
o (و)گھروں میں قرآن و حدیث کی تعلیم کا انتظام ہو ۔
o آیت نمبر 35میں ان دس صفات کا ذکر ہے جو کسی بھی مسلمان مرد و عورت کو اللہ تعالی کی مغفرت اور اجر عظیم کا مستحق بنا سکتی ہیں۔ان پر غور کریں اور اپنے اندر یہ صفات پیدا کرنے کی کو شش کریں ۔
o آیت 36تا 40میں گود لینے کی رسم (منہ بولا بیٹا بنانے کی رسم) کو عملا ختم کر دینے کا اعلان ہے۔
o پہلی آیت میں مقدمہ کے طور پر ایک اصول بیان کیا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے بعد کسی مومن مرد وعورت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنا اختیار استعمال کرے ۔ بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے سامنےوہ سر تسلیم خم کردے ۔
o پھر اس واقعے کی طرف اشارہ جس کے بعد گود لینے کی رسم کے خاتمے کا عملی طور پر خاتمہ کیا گیا۔
o اصل قصہ یہ ہے کہ نبوت سے پہلےاللہ کے رسول ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا او ر بعد میں ان کی شادی اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہاسے کر دی تھی، لیکن جب گود لینے کی رسم یعنی تبنیت کا خاتمہ ہوا اور اس دوران حضرت زید نے بعض مزاجی امور کی بنیاد پر حضرت زینب کو طلاق دے دی تو اللہ کے رسول کو اللہ کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ آپ حضرت زینب سے شادی کر لیں، تاکہ اس بری رسم کا عملاً خاتمہ ہو جائے۔
o آیت : 39 میں انبیاء علیہم السلام کی بعض صفات کا ذکر ہے۔ جیسے:
1- اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچانے میں کسی خیانت سے کام نہیں لیتے۔
2- اور یہ کہ اللہ کا پیغام پہنچانے میں انہیں کسی کا خوف اور شرم آڑے نہیں آتی ۔
شاید اس بیان سے یہ واضح کرنا ہے کہ یہ نبی زید کی مطلقہ سے شادی کرنے میں بھی اللہ کے احکام کا پابند ہے۔
o آیت نمبر 40میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ محمد ﷺ کسی مرد کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں ،اب ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
o آیت 41تا 44میں مسلمانوں کو اللہ کے ذکر کثیر کا حکم دیاگیا ہے او راس کے عوض انہیں اللہ کی طرف سے کیا اعزاز حاصل ہونے والا ہے اس کا ذکر ہے۔
o ان آیتوں میں پانچ قسم کے اعزاز کا ذکر ہے۔
1- اللہ کی رحمت نازل ہوگی اور فرشتوں کے سامنے وہ ان کا ذکر خیر کرے گا۔
2- فرشتے ان کے لئے رحمت ومغفرت کی دعا کریں گے۔
3- اپنی رحمت کے عوض اللہ تعالی انہیں جہالت ونافرمانی کی تاریکی سے ایمان و عمل کی روشنی کی طرف لائے گا۔
4- قیامت کے دن اللہ تعالی اور اس کے فرشتے انہیں سلام کہیں گے۔
5- اللہ تعالی ان کے لئے اجر عظیم تیار کرے گا۔
o آیت46تا48میں نبی ﷺ کو آپ کا فرض منصبی یاد دلایا گیا ہے ۔اس ضمن میں آپ کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں۔
1-شاہد۔ 2-مبشر۔ 3- نذیر۔ 3- داعی الی اللہ۔ 4- اور سراج منیر۔
o مومنوں ، کافروں اورمنافقوں کے ساتھ نبیﷺ کا برتاؤ کیسے ہونا چاہئے، اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
اہلِ ایمان کو یہ بشارت کہ اللہ کی طرف سے ان کے لئے بہٹ بڑا فضل ہے جو اس نبی اور اس دین کی شکل میں حاصل ہوا ہے۔ کافروں اور منافقوں کے ساتھ یہ کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ کیجئے ، ان کی اذیتوں کو برداشت کرتے ہوئے اللہ کا پیغام پہنچاتے رہئے، اور اس بارے میں اللہ تعالی پر توکل کیجئے۔ کیونکہ اللہ سے بڑا کوئی مددگار نہیں ہوسکتا۔
o آیت نمبر 49میں نکاح و طلاق کا ایک اہم مسئلہ بیان ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کر تا ہے لیکن رخصتی سے قبل ہی طلاق ہوجاتی ہے تو ایسی صورت میں عورت پر کوئی عدت نہیں ہے۔ اگر خاتون چاہے تو فورا بعد اس کی شادی کسی دوسرے مرد سے ہو سکتی ہے۔
o آیت نمبر 50سے 55تک نبی ﷺ کی کچھ خصوصیات او ر آپ کے گھر سے متعلق کچھ آداب کا ذکر ہے۔جیسے:
1) نبی ﷺ کو اجازت ہے کہ چار سے زائد عورتوں سے شادی کر سکتے ہیں۔آیت:50
2) اگر کوئی عورت اپنے آپ کو نبی ﷺ کیےلئے ہبہ(سپرد) کر دے تو بغیر حقِ مہر وغیرہ کی ادائیگی کے نبی ﷺ اس کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں ۔آیت :50
3) بیویوں میں شب باشی وغیرہ سے متعلق آپ پر عدل کرنا واجب نہیں تھا۔ آیت:51
4) آپ کے گھر میں داخلے کا ادب یہ ہے کہ جب تک اجازت نہ دی جائے کوئی داخل نہ ہو اور جو اجازت ملنے کے بعد داخل ہو تو اپنی ضرورت پوری کر لینے کے بعد دیر تک نہ رکا رہے۔آیت:51
5) آپ ﷺ کی ازواج مطہرات سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کی اوٹ سے مانگی جائے۔آیت:53
6) آپ کی ازواج سے آپ کی وفات کے بعد کسی کے لئے نکاح کرنا حلال نہیں ہے، اور نہ ہی رسول اللہﷺ کو کسی بھی قسم کی ایذا پہنچانا جائز ہے۔آیت:53
7) جو لوگ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے محرم رشتہ دار ہیں ان سے ان بیویوں کا پردہ نہیں ہے۔آیت:55
o آیت56تا58میں نبی ﷺ پر درود بھیجنے کا حکم اور اس کا اجر بیان ہوا ہے۔
o نیز آپ کو کسی بھی طرح کی ایذا پہنچانے کو قطعا حرام اور اللہ کی لعنت کا سبب بتلایا گیا ہے۔
o اسی طرح بغیر کسی شرعی سبب کے مومن مردوں او ر عورتوں کو ایذا پہنچانا بہتان لگانا او ر بہت بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔
o آیت نمبر 59میں پردے کا حکم ہے، خصوصا چہرے کے پردے کا ۔نیز پردے کی حکمت اور فائدے کو بھی بیان کردیا گیا ہے کہ اس سے ایک شریف اور باحیا عورت اور بے شرم وبدکار عورت کے درمیان پہچان ہوجاتی ہے۔
o آیت60تا62میں مسلم معاشرے میں منافقین کو فساد مچانے سے روکا گیا ہے، ورنہ انہیں سخت سزا کی دھمکی ہے، بلکہ شہر بدر کر دینے کی طرف بھی اشارہ ہے ۔
o سورت کے آخر میں قیامت کی بعض ہولناکیوں کا ذکر ہے او ر کافروں،منافقوں،سرداروں او ران کے پیروکاروں میں سے ہر ایک کے انجام کی طرف اشارہ ہے۔بلکہ چند الفاظ میں آخرت کے عذاب کی ایسی ہولناکی کا بیان کی گئی ہے کہ دل دہل جائے اور وجود کانپ اٹھے۔
o پہلے ان لوگوں کو جواب ہے جو قیامت کی آمد کے منکر تھے اور نبیﷺ سے بطور ہٹ دھرمی سوال کرتے تھے۔
اس کا جواب اللہ تعالی نے یہ دیا کہ قیامت کی آمد ایک اٹل حقیقت ہے ، تمہیں کیا معلوم، ہوسکتا ہے کہ وہ بہت قریب ہو۔ یاد رکھو! ایسے سارے لوگ کان کھول کر سن لیں ،ان پر اللہ لعنت ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب تیار ہے ، اس دن کوئی کسی کی مدد کو نہیں پہنچے گا، بلکہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہوگا ۔
o پھر اس دن کے عذاب کا ایک نقشہ کھینچا گیا کہ اس دن جب ہم کافروں کو ان کے منہ کے بل گھسیٹ جہنم میں ڈال کر ان کے چہرے کو الٹ پلٹ کریں گے تو اس وقت وہ رسولوں کی دعوت کو یاد کریں گے کہ کاش ہم نے اللہ ورسول کی اتباع کرلی ہوتی۔
o کاش ہم اپنے سرداروں اور بڑوں کی باتوں میں آکر اللہ کے ساتھ کفر نہ کیا ہوتا۔
o آیت69تا71میں قوم موسی علیہ السلام کی اس بدسلوکی کا حوالہ دے کر جو وہ اپنے پیغمبر حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ کیا کرتے تھے ، مسلمانوں کو اپنے رسول کے ساتھ وہ رویہ اختیار کرنے سے روک دیا گیا ہے ۔
o پھر مسلمانوں کووہ صحیح روش اختیار کرنے کی تاکید ہے جو اللہ اور اس کے نبی پر ایمان لانے کا لازمی تقاضا ہوتا ہے۔ یعنی اللہ تعالی کا تقوی، درست اور سیدھی بات کرنا اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا۔
o ساتھ ہی ساتھ تقوی اور قول سدید اور اطاعت کے فوائد کا بھی ذکر کردیا گیا، تقوی اور قول سدید کا فائدہ یہ ہوگا ، يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا (71)(تمہارے اعمال درست کردےگا اور تمہارے لئے تمہارے گناہوں کو بخش دے گا ، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو یقینا اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی) ۔کہ عملوں کی اصلاح ہوگی ، مزید عمل خیر کی توفیق ملے گی اور اس میدان میں جو کوتاہی ہوگی اس سے درگزر کردیا جائے گا۔ اور طاعت کا فائدہ یہ کہ اس عظیم کامیابی سے سرفراز ہوں گے جس کا وعدہ ان سے کیا گیا ہے۔
o آخر میں مسلمانوں کو وہ ’’عہد امانت ‘‘یاد دلایا گیا ہے جس کے بوجھ سے آسمان و زمین او ر پہاڑ ڈر گئے تھےالبتہ اس نادان وجاہل انسان نے اسے اٹھا لیا۔
o لیکن اگر کوئی اسے پوراکرتا ہے تو اللہ کی طرف سے اس کی توبہ کی کے قبول ہونے اور مغفرت و رحمت کا وعدہ ہے۔ ورنہ کفر و نفاق کی صورت میں عذاب الیم کی دھمکی ہے۔ لِيُعَذِّبَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِكِينَ وَالْمُشْرِكَاتِ وَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (73)” یہ اس لئے کہ اللہ تعالی منافق مردوں عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے ، اور مومن مردوں عورتوں کی توبہ قبول فرمائے اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا اور مہربان ہے”۔

سورت سبا
یہ سورت مکی ہے۔
اس سورت کا موضوع عقیدہ ہے ،خصوصا عقیدہ آخرت اور عقیدہ توحید و رسالت۔
o ابتدائی دو آیتوں میں اللہ کی عظمت کا بیان ہے کہ اگر زمین و آسمان میں حمد کے لائق کوئی ذات ہے تو وہ صرف اللہ تعالی کی ذات ہے، بلکہ آخرت میں تو اس کی محمودیت بالکل کھل کر سامنے آجائے گی ۔
o اس ذات کا علم اس قدر وسیع ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز کا علم اس کے پاس ہے او ر کوئی بھی چھوٹی بڑی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔ یہ اس کی وحدانیت کی واضح دلیل ہے۔
o آیت3تا9میں ان مشرکین کے اعتراضات کا جواب ہے جو حشر و نشر کے منکر اور وہ اسے بعید از عقل سمجھ رہے تھے ۔
o جواب میں تاکید کی خاطر اللہ کے رسول کو قسم کھا کر یہ اعلان کرنے کا حکم دیا گیا کہ” قُلْ بَلَى وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ عَالِمِ الْغَيْبِ” ( آپ کہہ دیں : کیوں نہیں،مجھے میرے رب کی قسم جو عالم الغیب ہے وہ یقینا تم پر آئے گی )۔
o چونکہ منکرین بعث کو یہ شبہ ہوتا تھا کہ ہم گل سڑ جائیں گے ،زمین میں ہمارے ذرات بکھر جائیں گے تو ہمیں دوبارہ کیسے زندہ کیا جائے گا؟
o اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ” اللہ تعالی غیب کا جاننے والا ہے،آسمانوں او ر زمین میں رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے ، بلکہ اس سے بھی چھوٹی بڑی ہر چیز کھلی کتاب میں موجود ہے”۔ یعنی اسے تمہارے ایک ایک ذرے کا علم ہے کہ وہ زمین کے کس حصے میں ہے، اس لئے تمہیں دوبارہ زندہ کرنا اس کیلئے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
o پھر قیامت کے آنے کی وجہ بیان کی کہ اس دنیا میں ہر نیک و بد کو ان کی نیکی وبدی کا بدلہ دیا جائے گا ۔
بلکہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ آیت نمبر ۳ میں آخرت کے آنےکے امکان کی دلیل تھی اور آیت نمبر ۴ آخرت کے لازما آنے کی دلیل ہے۔
o آیت ۶، ۷ میں توحید وقیامت کے بارے میں عہد نبوی میں موجود دوگروہوں کے موقف کا ذکر ہے۔
پہلا اہل علم کا گروہ ہے جو یہ مانتا ہے کہ آخرت برحق ہے اور قرآن جس راستے کی طرف رہنمائی کر رہا ہے وہی غالب اور خوبیوں والے رب تک پہنچنے کا حقیقی وصحیح راستہ ہے۔
o دوسرا گروہ بے فکر ، لا ابالی لوگ اور آخرت کے منکرین کا قول ہے جو رسول اللہﷺ کا مذاق اڑاتے اور قیامت کا بعید از عقل تصور کرتے اور کہتے کہ ” جب تم ریزہ ریزہ ہوجاؤگے تو دوبارہ کیسےاٹھائے جاؤگے، یہ تو کسی ایسے شخص کی بات ہوسکتی ہے جو یا تو اللہ تعالی پر جھوٹ بول رہا ہے ، یا پھر وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا ہے” ۔
o آیت نمبر 8 کے آخر اور آیت نمبر 9 میں اللہ تعالی نے اس کا جواب یہ دیا کہ حقیقت یہ ہے کہ اولا -آخرت کے منکر ہی بڑی گمراہی میں مبتلا ہیں اور خودعذاب کی طرف لے جانے والے راستے پر چل رہے ہیں۔ ثانیا- آسمان و زمین کی تخلیق میں غور و فکر نہ کرنے کا نتیجہ ہےکہ وہ آخرت کا انکار کر رہے ہیں ، ورنہ جو ذات آسمان جیسی بلند وبالا اور زمین جیسی وسیع وعریض مخلوق پیدا کر سکتی ہے ، کیا اس کے لئے اپنی پیدا کردہ چیز کو دوبارہ اسی حالت میں لے آنا ممکن نہیں ہے؟ ثالثا- رسول کے ساتھ دشمنی کا رویہ اختیار کرنے والوں کو دھمکی دی ہےکہ جو اللہ آسمان وزمین جیسی مخلوق پیدا کرنے پر قادر ہے وہ جب چاہے ان پر عذاب بھیج کر تباہ بھی کر سکتا ہے۔ جیسے ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا حال ہواہے۔
o آیت نمبر10تا14میں حضرت داود و سلیمان علیہما السلام کا ذکر خیر ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں کس قدر عظیم نعمتوں سے نوازا تھا ۔
o حضرت داود علیہ السلام کو اللہ نے اتنی پیاری آواز دی کہ ان کی آواز میں آواز ملا کر چڑیاں تو کیا پہاڑ بھی اللہ کی تسبیح میں مشغول ہو جاتے تھے۔
o نیز اللہ نے ان کے لئے لوہے کو موم بنا دیا جس سے وہ ہتھیار تیار کرتے تھے۔
o اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے اللہ تعالی نے ہوا کو مسخر کر دیاتھا،ان کے لئے تانبے کے چشمے جاری کر دئیے اور جنوں کو ان کے تابع فرمان کر دیا تھا ۔
o ان تمام نعمتوں کے باوجود وہ کبر و غرور میں مبتلا نہ ہوئے، بلکہ ہمارے شکر گزار بندے بن کررہے۔
o آیت 14 میں حضرت سلیمان کی موت کا ذکر ہے۔ جس کی صورت یہ بنی کہ کسی موقع پر حضرت سلیمان علیہ السلام اپنی لاٹھی پر ٹیک لگائےکسی تعمیری کام کی نگرانی کر رہے تھے کہ اسی حالت میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ لیکن جس لاٹھی کے سہارے کھڑے تھے وہ بدستور قائم رہی۔ ادھر جن یہ سمجھ رہے تھے کہ حضرت سلیمان ہماری نگرانی کر رہے ہیں، لہذا وہ اپنے کام میں محنت سے لگے رہے ۔ اسی حالت میں ایک مدت گزر گئی ، پھر جب دیمک کے اثر سے وہ لکڑی کمزور پڑ کر ٹوٹی اور حضرت سلیمان علیہ السلام گر پڑے۔ تب جنوں کو احساس ہوا کہ ہم بلا وجہ اس غلامی کے عذاب میں پڑے رہے۔
o جس سے مشرکین کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ کاہن ونجومی او ر جنات غیب نہیں جانتے ،جیسا کہ تم ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہو۔
o آیت15تا21میں قوم سبا اور اس کے انجام بد کا ذکر ہے جو ہر قسم کی نعمتوں سے مالامال ہونےکے باوجود اللہ کی ناشکری کرتے، تو اللہ تعالی نے ان سے نعمتیں چھین لیں اور انہیں تاریخ کا عبرتناک ایک حصہ بنا دیا۔
قرآن نے اس قوم کا جو واقعہ بیان کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ بڑا ہی خوشحال ملک تھا ۔ یہ ملک بری وبحری تجارت میں بھی مشہور تھا اور زراعت ا ور باغبانی میں بھی، یہ دونوں ہی چیزیں کسی ملک کی خوشحالی کی ضمانت ہیں، اسی مال ودولت کی فراوانی کو یہاں اللہ کی نشانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اس شہر کے دونوں جانب ہزاروں میل تک چشموں ، نہروں اور باغات کا ایسا سلسلہ تھا کہ یمن سے شام تک چار ہزار سے زائد بستیاں آباد تھیں ، جس کی وجہ سے لوگ بڑے امن وآرام سے ہزاروں میل کا سفر طے کرلیتے تھے، ان نعمتوں کے عوض اللہ تعالی نے ان کے نبیوں اور نیک بندوں کے ذریعے انہیں یہ پیغام دیا کہ”كُلُوا مِنْ رِزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ (15) ” اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو ، عمدہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے” ۔
لیکن جب قوم اپنے رب کی نافرمانی پر اتر آئی تو اللہ تعالی نے ایک تیز وتند سیلاب کے ذریعے ان کے بندھوں اور پشتوں کو توڑ ڈالا اور ان کے شاداب اور پھلدار باغات کو ایسے باغوں سے بدل دیا جن میں کچھ قدرتی جھاڑ وجھنکاڑ کے سوا اور کچھ نہ بچا ۔
o اس قصے میں چند باتیں بڑی اہم ہیں۔
1) پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا "إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ (19) "(بلا شبہ اس میں صبر او ر شکر کرنے والے کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں )۔ گویا کسی بھی نعمت کے حصول پر صبر و شکر دونوں عبادات بہت اہم ہیں۔
2) اور دوسری بات یہ ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ ” وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (20) "(ابلیس ان پر اپنے گمان کو سچ کر دکھایا تو انہوں نے اس کی پیروی کر لی سوائے مومنوں کی ایک جماعت کے)۔اس سے معلوم ہوا کہ شیطان کی پوری کوشش رہتی ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی نعمتوں کی ناقدری پر ابھارے۔
3) نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ قوم سبا میں کچھ نیک لوگ بھی تھے لیکن وہ نعمتوں کی حفاظت نہیں کر سکے۔ کیونکہ اکثریت ناشکروں کی تھی ۔
o آیت 22اور 23میں مشرکین کے باطل معبودوں کی بے بسی و لاچاری کا بیان ہے۔ بلکہ انہیں چیلنج ہے کہ کیا وہ آسمان و زمین میں ایک ذرے کے بھی مالک ہیں؟کیااس میں انہیں کوئی حصہ داری حاصل ہے ؟یااس نظام کے چلانے میں وہ اللہ کے مددگار ہیں؟ ظاہر بات ہے تینوں چیزوں میں سے انہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہے، تو پھر ایک او ر صورت بھی ہو سکتی ہے کہ سفارش کے ذریعے تمہیں کچھ دلوا دیں۔ اس بارے میں بھی حقیقت یہی ہے کہ اس کا اختیار بھی انہیں حاصل نہیں ہے ، بلکہ شفارش کا حق تو صرف انبیاء، ملائکہ اور صالحین کو ہوگا اور صرف اسی کے حق میں ہوگا جس کے حق میں شفارش کرنےکی اجازت انہیں اللہ تعالی طرف سے ملے گی۔
o آیت 24 تا 27 میں مشرکین کے شرک کے خلاف دلیل قائم کی گئی ہے کہ جب آسمان وزمیں کی اس عظیم حکومت میں روزی دینے والا اللہ ہے تو عبادت بھی اسی کی ہونی چاہئے ۔ پھر اب تم ہی بتلاؤ کہ شرک کرکے ہدایت کے راستے پر کیسے قائم رہ سکتے ہو۔
o ان تمام دلائل کے بعد بھی اگر تم توحید کو قبول نہیں کرتے تو تم اپنے اعمال کےذمہ دار ہو۔ وہ وقت دور نہیں جب اللہ تعالی ہم سب کو جمع کرکے حق کے ساتھ فیصلہ کر دےگا۔ اس دن اگر کوئی اللہ کا شریک تمہارے کام آنے والا ہے تو اسے لا کر دکھلاؤ ۔
o توحید کے اثبات آیت28تا31میں نبی کریم ﷺ کی رسالت کے عموم کا بیان ہے، اور یہ کہ رسول کا کام خوش اسلوبی سے اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے میں ، لیکن چونکہ اکثر لوگ آپ کی رسالت، اس کے عموم اور آپ کے کام کو جانتے ہیں ، اور نہ ہی انہیں یہ علم ہے کہ جس حال میں وہ ان کے لئے کس قدر خطرناک ہے، اس لئے ایمان لانے کو تیار نہیں ہیں ۔
o توحید ورسالت کے اثبات کے بعد حشر کا ذکر ہےکہ وہ قیامت کا دن جسے یہ لوگ محال سمجھ رہے ہیں، وہ دور نہیں ہے،وہ ضرور آئے گا اور اس دن لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا۔
o اس کے بعد کافروں کے اس قول کا جواب دیا گیا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ نہ ہم اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ ہی یوم آخرت پر ۔
o انہیں اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ان کے جھٹلانے سے وہ دن ٹلنے والا نہیں ہے، معاملہ ان کے تصور سے بہت ہی خطرناک ہے، اس دن وہ بھی او ر جن کے بل بوتے پر اس قرآن کی انکار کرتے ہیں سب ایک دوسرے کے دست وگریباں ہوں گے اور ہر ایک دوسرے پر الزام دھرے گا کہ ہم تمہاری وجہ سے گمراہ ہوئے تھے۔
o اس جگہ میدانِ حشر میں اور پھر جہنم میں عابد ومعبود ، پیر ومرید اور لیڈر وعوام کا جو مباحثہ پیش کیا گیا ہے وہ باعثِ عبرت اور قابل غور ہے ۔
o یعنی دنیا میں تو وہ ایک دوسرے کے ساتھی تھے اور اسی ناطے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ لیکن آخرت میں ایک دوسرے کے دشمن اور ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرائیں گے۔
o جو لوگ سوچے سمجھے بغیر اپنے پیروں اورلیڈروں کے پیچھے چلتے تھے ، ان سے کہیں گے کہ تم ہی لوگوں نے ہمیں حق اور حق کے داعیوں سے دور رکھا تھا۔
o ان کی تردید کرتے ہوئے بڑے اور لیڈر کہیں گے کہ ہمارے پاس تمہیں روکنے کی کیا طاقت تھی، تم نے خود ہی عقل سے کام نہیں لیا اور خواہشات کے پیچھے پڑے رہے۔
o آیت نمبر 35میں کافروں کے اس شبہے کا ذکر ہے اور اس کا زالہ ہے کہ اگر آپﷺ اللہ کے رسول ہیں اور ہم اللہ کے باغی ہیں تو ہمیں آپ سے زیادہ مال و دولت کیوں حاصل ہے؟
o قرآن نےاس کا جواب یہ دیا ہےکہ روزی کو تنگ اور کشادہ کرنا یہ اللہ کا کام ہے او راس بنیاد پرکسی کے اللہ کے نزدیک محبوب ہونے پر استدلال نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صرف اللہ کی حکمت وارادےپر منحصر ہے۔
o یاد رکھو ! مال و دولت کسی کو اللہ کے قریب نہیں کرتے، بلکہ ایمان او ر عمل صالح سے انسان اللہ کا محبوب بنتا ہے، البتہ جو لوگ ہماری آیات کے منکر ہیں وہ اللہ کے عذاب میں جھونکے جائیں گے۔
o آیت 39 میں اہل ایمان کو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنےکی ترغیب اور اس پر اجر کا وعدہ کیا گیا ہے ۔
o آیت نمبر 40 اور اس کے بعد کی آیات میں مشرکین کو قیامت کا خوف دلا کر توحید کواپنانے اور اس کتاب پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے ۔
o اولا – حشر کے میدان میں کافروں کی بد حالی اور ذلت وخواری کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ وہاں ان کے خود ساختہ معبود خواہ وہ اللہ کے مقرب بندے ہی کیون نہ ہوں ان سے اعلان براءت کریں گے ۔ اس موقعے پر اللہ تعالی پھٹکار لگاتے ہوئے ان سے کہے گا”ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّتِي كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُونَ (42) ” چکھو اس آگ کے عذاب ما کزہ جسے تم جھٹلاتے تھے”۔
o اگلی آیتوں میں ان اسباب کا ذکر ہے جن کی وجہ سے انہیں یہ عذاب دیا جائے گا۔
آیت 43 میں اس کے تین اسباب بیان ہوئے ہیں۔
1) اول- نبیﷺ پر طعن کرنا اور آپ کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ تمہیں تمہارے باپ داد کے دین سے بہکا رہا ہے۔
2) دوم- قرآن مجید کو جھوٹ اور من گھڑت کتاب قرار دینا۔
3) اسلام کی واضح اور حق پر مبنی تعلیمات کو جادو سے تعبیر کرنا ۔
o نیز انہیں پچھلی امتوں کا حوالہ دے کررسولوں کی تکذیب کے برے انجام سے ڈرایا گیا ہے، او رانہیں اس بات پر ابھارا گیا ہے کہ یہ رسول جو تمہارے درمیان موجود ہے ان کی زندگی پر غور کرو او ر سوچو کہ کیا ایسا شخص جھوٹ بول سکتا ہے؟، اس رسول کی خوبی یہ ہے کہ اپنے عمل پر تم سے کسی قسم کے معاوضہ کا طالب نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کہتا ہے اس کی بنیاد وحی الہی پر ہے۔
o آخر میں اس بات پر بہت زور دیا گیاہے کہ وقت گزرنے سے پہلے پہلے ایمان لے آؤ، ورنہ جب حشر قائم ہوجائےگا تو اس وقت ادھر ادھر بھاگتے پھرو گے، وہاں نہ کوئی جائے پناہ ملے گی اور نہ ہی اس وقت کا ایمان مقبول ہوگا۔ اس وقت ان کی خواہش ہوگی کہ ان کا ایمان لانا قبول کرلیا جائے لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوگی ۔
o اس سورت کی آخری آیت بڑی معنی خیز ہے: وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِمْ مِنْ قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُرِيبٍ (54)”ان کی چاہتوں اور ان کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا، جیسے کہ اس سے پہلے بھی ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا، وہ بھی انھی کی طرح شک وتردد میں پڑے ہوئے تھے”۔
اس کی تفسیر بعض صحابہ سے مروی ہے کہ انہیں لا الہ الا اللہ تک کہنے کا موقع نہیں ملے گا۔ تفسیر ابن کثیر

سورت فاطر:
یہ سورت مکی ہے۔
مکی سورتوں کی طرح اس کا موضوع بھی عقیدہ ہے۔ خصوصا عقیدہ توحید و آخرت ۔
o اس سورت پہلی آیت میں مخلوقات کی تخلیق پر اللہ تعالی کی قدرت کا بیان ہے، کہ اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ،وہی فرشتوں کا خالق ہے،جو دو دو ،تین تین ،چار چار پروں والے ہیں، بلکہ بعض فرشتے اس سے بھی زیادہ پروں والے ہیں ۔
o دوسری آیت میں نعمتوں کے عطا کرنے اور اسے روک لینے سے متعلق اللہ کی قدرت کا ذکر ہے کہ اللہ جس پر اپنی کوئی رحمت کرنا چاہے اسے کوئی روکنے والا نہیں او رجس سے روک لے کوئی اسے دینے والا نہیں۔ انہیں نعمتوں میں رسولوں کو بھیجنا اور کتابوں کونازل کرنا بھی ہے۔
o تیسری آیت میں لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دی گئی کہ جب اللہ تعالی اتنی عظیم قدرت والا ہے ، نیز تم بھی اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ صرف وہی ذات ہے جو تم سب کوآسمان وزمین سے روزی دیتا ہے تو اسی کو الہ واحد مانو اور اسی کی عبادت کرو ۔
o آیت نمبر چار میں نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے،آپ سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا جاتا رہا ہے ، پریشان نہ ہوں، بالآخر تمام معاملات کا فیصلہ ہمیں ہی کرنا ہے۔
o آیت5تا8میں لوگوں کو آخرت پر ایمان لانےکی دعوت ہے ، ایمان اور عمل صالح پر اجر عظیم کا وعدہ ہے، اس کے برخلاف جو لوگ کفر کرتے ہیں انہیں دردناک عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔
o نیز انہیں خبر دار کیا گیا ہے کہ آخرت سے غافل کرنے والی دو بڑی چیزیں ہیں جن سے بچنا ضروری ہے۔ ایک شیطان سے او ر دوسرے دنیا اور دنیا کی محبت میں ڈوبے ہوئے مغرور ساتھیوں سے۔
o آیت 8 میں اس سنت الہیہ کی طرف رہنمائی ہے کہ اللہ تعالی اپنے عدل کی رو سےاپنی سنت کے مطابق صرف اسے ہی گمراہ کرتا ہے جو مسلسل اپنے کرتوتوں سے اپنے آپ کو اس کا مستحق ٹھہرا چکتا ہے ، اور اپنے فضل وکرم سے ہدایت اسے دیتا ہے جو اس کا طالب ہوتا ہے ۔ تفسیر احسن البیان ص:1266
o آیت نمبر 9میں دنیا کی بعض محسوس چیزوں سے آخرت پر استدلال کیا گیا ہے جیسے بارانی ہواؤں کا چلانا ، پھر بادلوں کا خشک زمیں کی طرف لے جانا اور بارش کو نازل کرکے مردہ زمین کو زندگی بخش دینا، فرمایا:كَذَلِكَ النُّشُورُ (9) ” اسی طرح (تم لوگوں کا بھی ) جی اٹھنا ہے”۔
o آیت نمبر 10میں مسلمانوں کو خبر دار کیا ہے کہ اصل عزت اللہ کی اطاعت میں ہے۔ نیز یہ بھی کہ مجرد ایمان کام نہیں آئے گا ، بلکہ اس کے ساتھ عمل صالح کی بھی ضرورت ہے ۔
o آیت11تا18میں اللہ کی قدرت او ر وحدانیت پر متعدد دلائل پیش کئے گئے ہیں جیسے مٹی سے انسان (آدم ) کی پیدائش،نسل انسانی کی بقا کے لئے مرد وعورت کی پیدائش اور اس میں رشتہ نکاح۔
o پھر اس کے علم کی وسعت کا بیان کہ عورتوں کا حاملہ ہونا اور بچوں کا پیدا ہونا ۔ یہ سب اسی کے علم سے ہوتا ہے، اسی طرح پیدا ہونے کے بعد کسی کا بڑی عمر والا ہونا اور کسی کی عمر کا گھٹنا یہ سب بھی اسی کے علم میں ہے۔
o نیز کھارے اور میٹھے پانی کے سمندر، اور لوگوں کا مختلف صورتوں میں دونوں سے برابر فائدہ اٹھانا۔ جیسےان سے تازہ گوشت ملتا ہے، انہیں سے مونگےموتی نکلتے ہیں جو قیمتی زیورات کی شکل میں استعمال ہوتے ہیں۔اسی طرح سمندروں میں بڑی بڑی کشتیوں کے ذریعے بہت سے تجارتی قافلے آتے جاتے ہیں۔
o پھر رات او ردن کی آمد و رفت اور ان کا چھوٹا بڑا ہونا ۔
o یہ سب جہاں اللہ کی کمال قدرت کے دلائل ہیں وہیں اللہ کی وحدانیت کے بھی دلائل ہیں۔ اسی لئے ان آیات کے آخر میں ارشاد ہوا: ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ (13) إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ (14) "یہی ہے اللہ تم سب کا رب، اسی کی سلطنت ہے، جنہیں تم اس کے سوا پکار رہے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں ہیں،(ان کا تو حال یہ ہےکہ) اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر بالفرض سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے، بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کرجائیں گے۔ آپ کو کوئی بھی حق تعالی جیسا خبردار خبریں نہیں دے گا”۔
o اور پھر اللہ کی طرف سے یہ دعوت دی گئی ہے کہ اللہ کی جناب میں پناہ لو، اسی میں کامیابی ہے۔ کیونکہ تم سب کے سب اللہ کے محتاج ہواور اللہ بے نیاز خوبیوں والا ہے۔ یاد رکھو! قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ،خواہ اس کا کوئی قرابت دار ہی کیوں نہ ہو۔
o نبی ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ اپناکام کرتے جایئے، جو نصیحت حاصل کرے گا اس کا فائدہ اسی کو ہوگا اور جو منہ موڑے گا وہ اپنا بوجھ خود اٹھائے گا، البتہ نصیحت وہی حاصل کرتا ہے جس کے دل میں اللہ کا خوف ہوتا ہے اور وہ اللہ کی عبادت(نماز وغیرہ)کا پابند ہوتا ہے۔
o آیت19تا26میں مومن و کافر کا فرق واضح کیا گیا ہے کہ جس طرح بینا و نابینا برابر نہیں،تاریکی و روشنی برابر نہیں،دھوپ او ر چھاؤں برابر نہیں او رزندے و مردے برابر نہیں ، ایسے ہی مومن او ر کافر برابر نہیں ہو سکتے۔
o اس سے نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اللہ تعالی کی اس میں بڑی حکمتیں ہیں، لہذا آپ اپنا کام جاری رکھیں، اللہ نے جس کے حق میں زندگی لکھی ہو گی وہ ایمان لے آئے گا۔
o آپ صرف خوشخبری دینےوالے اور ڈرانے والے ہیں ، آپ سے پہلے ہر قوم کے بارےمیں اللہ کی یہی سنت رہی ہے ۔اور سب کے ساتھ وہی معاملہ رہا ہے جو آپ کے ساتھ ہے کہ معجزے ، روشن کتابیں اور کھلے صحیفے لانے کے باوجود بھی لوگوں نے نبیوں کو نہ مانا۔ لیکن ایسے لوگوں کا انجام تباہی کے سوا کچھ اور نہیں۔
o آیت نمبر 27اور 28میں اللہ تعالی نے پھلوں کی مختلف قسموں ،پہاڑوں کے مختلف قسموں سفید و سرخ ،او ر جانوروں کے مختلف رنگوں اور ان کی تخلیق میں غور کرنے کا حکم دیا ہے اور اسے اپنے وجود و عظمت کی دلیل کے طور پر ذکر کرکے غور و فکر کی دعوت دی ہے۔
o اور پھرعلماء کا مقام و مرتبہ بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس سے فائدہ اہل علم ہی حاصل کر سکتے ہیں۔ فرمایا:إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ "اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں "۔
o پھر آیت نمبر 29میں اللہ کا خوف رکھنے والے علماء کی تین علامات بیان ہوئی ہیں؛ کتاب اللہ کی تلاوت ،نماز قائم کرنا اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ۔ اور اسی کو بڑی اہم تجارت قرار دیا ہے۔
o آیت نمبر 32میں کتاب الہی کے حاملین کی تین قسمیں ذکر کی گئی ہیں۔ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ کس قسم میں شامل ہونا چاہتے ہیں؛ اپنی جان پر ظلم کرنے والے او ر میانہ روی اختیار کرنے والے، یا نیکیوں میں پیش پیش رہنے والے ۔
o آیت نمبر33سے 38تک آیات میں اس کتاب پر ایمان لانے والوں او راس کے مطابق عمل کرنے والوں کے انعامات کا ذکر ہے کہ اللہ تعالی انہیں جنات عدن( ہمیشہ رنے والے باغات) میں داخل کرے گا، جہاں انہیں سونے کے کنگن اور موتی کے ہار پہنائے جائیں گے اور ان کی پوشاک ریشم کی ہوگی۔ ان جنتوں میں وہ خوش باش ہوں گے، اللہ کی حمد وثنا بیان کرتے ہوئے کہیں گے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں غم و پریشانی کی جگہ سے لاکر ایسی جنت میں رکھ دیا ہے جہاں نہ کسی قسم کا غم ہے اور نہ کسی قسم کی پریشانی۔
o البتہ جو اس سے کفر کرتا ہے اس کے عذاب کا بڑا خوفناک منظر پیش کیا گیاہے۔” آگ میں وہ جلیں گے، جس میں نہ ان کی قضا آئے گی کہ وہ جل کر مر جائیں اور نہ ہی دوزخ کا عذاب ہی ان پر سے ہلکا کیا جائے گا۔ اس آگ میں جلتے ہوئے چلائیں کہ ” رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ نَصِيرٍ (37)”( اے ہمارے پروردگار ! ہم کو نکال لے ہم اچھے کام کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو کیا کرتے تھے، (اللہ تعالی کہے گا) کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس کو سمجھنا ہوتا وہ سمجھ سکتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنچا، سو اب مزہ چکھو، ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے)
o آیت39تا41میں قریش کو اللہ تعالی نے دھمکی دی ہے کہ اللہ نے تمہیں اس زمین پر اگلی قوموں کی جگہ بسایا ہے۔تمہارے لئے وقت ہے تم ایمان لے آؤ ،ورنہ یاد رکھو جس طرح اگلی قوموں کے خود ساختہ معبود ان کے کسی کام نہیں آئے ایسے ہی تمہارے معبود بھی تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔یہ اللہ کا حلم ہے کہ تمہیں مہلت دے رہا ہے، ورنہ اس کی قدرت تو یہ ہے کہ اسی نے آسمان و زمین کو زائل ہونے سے روک رکھا ہے، اگر وہ اس سے اپنی حفاظت اٹھا لے تو تمہارے کوئی معبود یہ ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے۔
o اسی ضمن میں مشرکین پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کو چھوڑ کر جنہیں تم پوجتے ہو کیا ان کے اندر کچھ بنانے کی طاقت ہے؟ (نہیں) کیا آسمان و زمین کی ملکیت میں انہیں کوئی شراکت حاصل ہے کہ وہ اللہ تعالی کہ الوہیت میں شراکت کے حقدار بنیں؟(نہیں) تو پھر کیا ہم نے ان پر کوئی کتاب نازل کی ہے جس میں یہ درج ہو کہ انہیں بھی میری الوہیت میں کچھ حصہ ملا ہے؟ (نہیں) ایسا کچھی نہیں ہے ، بلکہ یہ سب دھوکہ جس میں تم پڑے ہوئے ہو۔ آیت:40
o آیت نمبر 42، 43 میں کفار کو ان کا وہ وعدہ یاد دلایا جا رہا ہے کہ اس نبی کی آمد سے قبل تم قسمیں کھا کھا کر بڑے جذبے سے کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی نبی آجائے تو ہم اس کی اتباع میں یہود و نصاری سے بھی آگے نکل جائیں گے۔اب یہ نبی آ گیا ہے لہذا اپنے وعدے کے مطابق ایمان لے آؤ۔
o پھر انہیں خبر دار بھی کیا جارہا ہے کہ تم اپنا تکبر و گھمنڈ چھوڑ و، اس نبی کے خلاف چالیں نہ چلو ورنہ اللہ تعالی کی یہ سنت رہی ہے کہ نبیوں کو جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا جاتا ہے ۔ یہ سنت نہ تبدیل ہوسکتی ہے اور نہ ہی کوئی اللہ کے عذاب کو پھیر سکتا ہے۔
o اگر عبرت حاصل کرنا ہے تو زمین میں سیر کرکے دیکھ لو کہ رسولوں کے مخالفین کا انجام کیا ہوتا ہے۔آیت:44
o سورت کا اختتام اس عظیم اور قابل غور آیت پر ، اور اسی مضمون پر ہوا ہے جس سے سورت کا آغاز ہوا تھا۔ وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَلَكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِعِبَادِهِ بَصِيرًا (45) ( اور اگر اللہ تعالی لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب دار وگیر فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک جاندار کو نہ چھوڑتا، لیکن اللہ تعالی ان کو ایک میعاد معین تک مہلت دے رہا ہے ، سو جب ان کی وہ میعاد آپہنچے گی تو اللہ تعالی اپنے بندوں کو آپ دیکھ لے گا”۔

سورت یسین
یہ سورت مکی ہے ۔
مکی سورتوں کی طرح اس کا موضوع بھی عقیدہ ہے۔ خصوصا رسالت اور موت کے بعد کی زندگیس پر زیادہ زور ہے۔
o اس سورت کی ابتدائی آیات نبی ﷺ کےلئے بطور تسلی کے اور اطمینان دلانے کے لئے نازل ہوئی ہیں۔ کیونکہ آپﷺ کفار کی مخالفت سے پریشان ہو جاتے تھے ۔
o سورت کی ابتداء میں اللہ تعالی نے تین باتوں پر قرآن کی قسم کھائی ہے۔
1- بلاشہ آپ رسول ہیں ۔
2- آپ جس راہ پر ہیں اورجس کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ نہایت سیدھا راستہ ہے۔
3- اور یہ قرآن غالب اور رحم کرنے والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے ۔
o قرن کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ آپ اپنی قوم کو ڈرائیں جس کے باپ دادا کے پاس آپ سے پہلے کوئی رسول ونبی نہیں آیا ۔
o اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نصیحت سننے،اس پر چلنے اور اللہ سے ڈرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔آیت:8
o لیکن چونکہ یہ لوگ نہ نصیحت سننے پر تیار ہیں اور نہ ہی اس پر عمل کرنے پر بلکہ وہ لوگ دنیا کی زندگی میں مست ہو کر آخرت کو بھولے ہوئے ہیں۔آیت:9
o لہذا آپ انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیجئے ہم ان کی اگلی پچھلی سب خطاؤں کو دیکھ رہے ہیں جس کا حساب ان سے لیں گے۔آیت:10
o یہ نصیحت قبول نہ کرنے والوں کا حال او رانجام ہے ۔
o اس کے مقابلے میں جولوگ نصیحت کو سنتے او راس پر عمل کرتے ہیں ان کی صفت یہ ہے کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں او ر غیب پر ایمان رکھتے ہیں ،آپ انہیں مغفرت اور عمدہ اجر کی بشارت دے دیں ۔اور یہ سب اس دن حاصل ہوگا جب ہم مردوں کو زندہ کر دیں گےاور ان کے تمام اگلے پچھلے اعمال کا پورا بدلہ دیں گے ۔آیت:11، 12
o آیت13تا32 تک میں ایک بستی والوں کی مثال دے کر اہل مکہ کو اس سے ڈرایا گیا ہے کہ رسولوں کو جھٹلانے کا انجام کیا ہوتا ہے؟اس بستی میں اللہ تعالی نے پے در پے دو رسول بھیجے، لیکن قوم نےان کو جھٹلادیا اور منحوس گردانا ،پھر اللہ تعالی نے دونوں رسولوں کی تائید کے لئے ایک تیسرا رسول بھی بھیجا ۔لیکن وہ لوگ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے رہے اور رسولوں کو اذیتیں پہنچاتے رہے حتی کہ انہیں قتل کر دینا چاہا۔
o اس درمیان ان کی مدد کے لئےبستی کے کنارے سے ایک نیک مرد اٹھتا ہے، اپنی قوم کو نبیوں کے ساتھ اس بدسلوکی سے روکتا ہے او ر ان کے سامنےتوحید سے متعلق ایک بڑی دلپذیر تقریر کرتے ہوئے کہتا ہے :اے میری قوم کے لوگو!رسولوں کی اتباع کر لو،ایسے لوگوں کی راہ اختیار کرو جو تمہارے لئے بڑے مخلص ہیں اور تم سے کسی معاوضہ کا مطالبہ نہیں کرتے ۔
o پھر اپنے ایمان کا اظہار ان الفاظ میں کرتا ہے کہوَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (22) أَأَتَّخِذُ مِنْ دُونِهِ آلِهَةً إِنْ يُرِدْنِ الرَّحْمَنُ بِضُرٍّ لَا تُغْنِ عَنِّي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا وَلَا يُنْقِذُونِ (23) إِنِّي إِذًا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (24) إِنِّي آمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُونِ (25) ” مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں اپنے اس رب کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور سب کو اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے،کیا میں اسے چھوڑ کر ایسے معبودوں کی اتباع کروں کہ میرا رب رحمان اگر مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ فائدہ نہیں دے سکتی،ایسے معبودوں کو پوجنا تو بڑی بھیانک گمراہی ہے،لہذا سب لوگ سن لومیں اپنے اور تمہارے رب پر ایمان لاتا ہوں”۔
o کہا جاتا ہے کہ اس کی یہ تقریر سن کر لوگ اس پر پل پڑے اور اسے بری طرح مارا پیٹا او رقتل کردیا ۔پھر اس کے بعد رسولوں کو بھی قتل کر ڈالا، جس کے نتیجے میں اللہ تعالی نے اس مردمومن کو توجنت میں داخل کر دیااور قوم پر ایسا عذاب آیا کہ وہ سارے کے سارے قصہ پارینہ بن گئے۔
o اس اللہ کے بندے کی صاف دلی بھی قابل عبرت ہے کہ اس نے مرنے کے بعد بھی اپنی قوم پر افسوس کیا اور کہا کہ کاش میری قوم معلوم ہوتا ہے کہ کس وجہ سے اللہ نے مجھے معاف کر دیا او ر مجھے معزز لوگوں میں سے بنا دیا تاکہ وہ بھی توحید پر ایمان لا کر اللہ کی مغفرت اور اس کی نعمتوں کے مستحق ہوجائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں