*بارہواں پارہ(و ما من دابۃ)*

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سلسلہ خلاصہ معانی قرآن مجید
از قلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ

*بارہواں پارہ(و ما من دابۃ)*

بارہویں پارے کے دو حصے ہیں؛پہلا حصہ سورہ ہود کی آیت6تا123 پر مشتمل ہے،اور دوسرا حصہ سورہ یوسف کی ابتدائی52 پر مشتمل ہے ۔
o اس پارے کے شروع میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ کمالِ علم اور کمالِ قدرت کا ذکر ہے کہ اس نےہر جاندار کو پیدا کیا ، ان کی روزی کا ضامن بھی وہی ہے۔ وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ اور جائے قرار کو اچھی طرح سے جانتا ہے۔
o یہ ان پر اللہ کا احسان ہے کہ روزی اور ان کے اس دنیا میں رہنے اور مرنے کے بعد ان کے دفن ہونے کی جگہ بھی بنائی ہے ۔
o آگے کی آیات میں آسمان و زمین کی پیدائش کے حوالے سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ یہ سب کچھ کھیل تماشا کے طور پر نہیں ہے، بلکہ یہ سب چیزیں ایک عظیم مقصد کیلئے پیدا کی گئی ہیں ۔ یعنی یہ کہ لوگ نیک عمل کریں۔ لیکن جاہل لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے، اس لئے جب اللہ کا رسول انہیں عمل کی دعوت دیتا اور انہیں ان کے برے انجام سے ڈراتا ہے تو اس کا مذاق اڑانا شروع کر دیتے ہیں۔آیت: 7
o آیت ۸ تا ۱۱ میں انسان کی نادانی اور موجود پرستی کی مذمت ہے کہ اللہ کے رسول کی طرف سے جس عذاب کی دھمکی دی جاتی ہے اگر اس وعدے میں کچھ تاخیر ہونے لگتی ہے تو وہ پیغمبر کا مذاق آران شروع کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ سب باتیں محض دھمکی ہی دھمکی ہیں، اور جب وہی عذاب اسے گھیر لیتا ہے تو باکل مایوس اور دل شکستہ ہو جاتا ہے۔ اس کے برخلاف جو لوگ مصائب پر صبر اور نعمتوں کی شکر کی روش اختیار کرتے ہیں ان کے لئے مغفرت کے ساتھ ساتھ اجرِ عظیم کا وعدہ ہے۔
o آیت نمبر 12 اور 13 میں نبی ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ اطمینان رکھیں، یہ اگر آپ کی لائی ہوئی تعلیم کو جھٹلاتے ہیں تو اس کی پرواہ نہ کریں۔ یہ کتاب تو وہ ہے کہ اگر وہ سارے عابد ومعبود جمع ہو کر اس جیسی دس سورتیں بھی لانا چاہیں تو نہیں لا سکتے۔یہ ان کا عاجزہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن اللہ کا نازل کردہ ہے۔
o آیت نمبر 15 اور 16 میں دنیا کی زیب و زینت پر فریفتہ اور اپنی ساری تگ و دو اسی کے لئے صرف کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ دنیا کسی مداری کا کھیل نہیں، بلکہ آخرت کی کھیتی ہے۔ اور تمہارے اسی عمل پر تمہیں اجر ملے گا جو تم نے آخرت کے لئے کیا ہوگا۔ البتہ وہ عمل جو دنیا کے لئے کیا گیا ہوگا ، اس کے عامل کے لئے آگ ہی آگ ہے ۔
o آیت نمبر 17 اور 23 میں قرآن کی دعوت قبول کرنے والوں اور اسے رد کرنے والوں کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے منکرین قرآن و رسالت کو آخرت میں دردناک عذاب کی دھمکی دی گئی ہے اور اہل حق کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ تم لوگ مطمئن رہو،ان کے اعتراضات سے بے دل نہ ہو،یہ ظالم ہیں اور قیامت کے دن بھرے مجمع میں انہیں بڑی رسوائی کا سامنا کرنا ہے ۔
o پھر آیت نمبر 24 میں مومن و کافر کا ایک بہترین تقابل پیش کیا کہ کافر کی مثال اندھے اور بہرے کی سے ہے جبکہ مومن کی مثال دیکھنے اور سننے والے کی ہے ۔
o پھر اس فرق کی مثالیں تاریخ سے پیش کرنے کیلئے گزشتہ انبیاء(جیسے حضرت نوح ،ہود،صالح،لوط،شعیب،موسی اور ضمناً ابراہیم علیہم السلام کا قصہ بھی بیان ہوا ہے) اور ان کی قوموں کے واقعات قدرے تفصیل سےبیان کئے گئے ہیں۔بلکہ اس سورت کا بڑا حصہ انہیں سات نبیوں کے واقعات پر مشتمل ہے۔
o ان تمام انبیاء علیہم السلام کے قصوں سے مجموعی طور پر یہ باتیں واضح ہوتی ہیں:
1) عقیدہ، خصوصا عقیدہ توحید و رسالت کی وضاحت ۔ یعنی ہرنبی نے اپنی قوم کو یہی دعوت دی ہےکہ صرف اللہ کی عبادت کرو،اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔
2) ہر نبی کی قوم کا موقف ایک ہی رہا ہے، یعنی نبیوں کی دعوت سے منہ موڑنا ، ان کی تکذیبکرنا ،دھمکیاں دینا اور ان کا مذاق اڑانا۔
3) ہر نبی نے اپنی قوم کی بد سلوکیوں کا جواب انتہائی صبر و تحمل سے دیا اور اللہ کے وعدے پر یقین کا دامن نہیں چھوڑا۔
4) ہر قوم کا انجام تباہی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا۔
ان واقعات کو بیان کر کے اہل مکہ کو بھی یہی سبق دینا مقصود ہے۔
o حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ اس سورت میں بیان ہونے والا سب سے پہلا اور طویل قصہ ہےجوآیت 25 سے 49 تک، 25 آیتوں پر مشتمل ہے۔
o حضرت نوح علیہ السلام نےجب اپنی قوم کو اپنی رسالت کی خبر دی اور انہیں توحید کی دعوت دی تو قوم نے تین عذر پیش کر کے آپ کی د عوت کو رد کر دیا:
1) آپ تو ہم جیسے بشر ہیں۔
2) آپ کی پیروی کرنے والے لوگ نچلے طبقے کے اور موٹی عقل رکھنے والے ہیں۔
3) آپ اور آپ کے ساتھیوں کو ہم پر کوئی فضیلت وبرتری بھی حاصل نہیں ہے۔
o حضرت نوح علیہ السلام نےانہیں سنجیدگی سے سمجھایا،اپنی رسالت کی حقیقت واضح کی کہ میں کوئی فرشتہ نہیں،اور نہ ہی میرے پاس کوئی غیبی خزانہ ہے اور نہ ہی ہم غیب کی باتیں جانتے ہیں۔میرا مقصد صرف تمہاری خیرخواہی کرنا ہے
o جب ایک مدت گزر گئی اور قوم کے لوگ بحث و حجت سے حضرت نوح علیہ السلام کا مقابلہ نہ کر سکے تو زچ ہوکر عذاب کا مطالبہ کر دیا۔
o اس پر اللہ تعالی نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ اب ان پر حجت قائم ہو چکی ہے اور ان پر ایک ایسا سیلاب آنے والا ہے جسے روکنے کی کسی کے پاس طاقت نہیں ہے۔لہذا تم ایک کشتی بناؤ اور اس میں ہر قسم کےجانور کے ایک جوڑے کو سوار کر لو اور اپنے اہل اور اپنے ساتھیوں کو بھی اس میں بٹھا لو ،البتہ جو لوگ ظالم و کافر ہیں انہیں اس میں سوار نہ کرو ۔
o خلاصہ یہ کہ کشتی تیار ہوگئی ،اس میں مومنوں کو سوار کر لیا گیا اور اللہ کی طرف سے وقت مقرر پر سیلاب امڈ پڑا ،آسمان سے بارش ہوئی ،زمین سے پانی کےچشمے پھوٹ پڑے، تھوڑی ہی دیر میں ساری زمین پانی سے بھر گئی، حتی کہ پانی پہاڑوں کی چوٹیوں تک پہنچ گیا ،اللہ کا حکم پورا ہوا، اہل ایمان کو نجات ملی اور کافر اپنے انجام بد کو پہنچ گئے۔
o اسی درمیان میں حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بیٹے کے درمیان بات چیت اور اس کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا،جس میں اللہ تعالی کی طرف سے حضرت نوح علیہ السلام کو تنبیہ کی گئی کہ نوح! یہ ان لوگوں میں شامل نہیں ہے جن کو نجات دینے وعدہ کیا گیا ہے، یاد رکھو! یہ اپنے عمل کےلحاظ سے کافر ہے اور کافر سے مومن کا کسی قسم کا دلی تعلق نہیں ہو سکتا ۔
o نوح علیہ السلام کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، چنانچہ اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور اللہ کے حضور توبہ و استغفار کرنے لگے۔
o حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہیں ،اس سے پہلے آپ اور آپ کی قوم ان باتوں کو نہیں جانتی تھی، آپ صبر سے کام لیں، اللہ تعالی آپ اور آپ کے ساتھیوں کی ویسے ہی حفاظت کرے گا جیسے نوح اور ان کے ساتھیوں کی کی ۔آیت:49
o دوسرا واقعہ حضرت ہود علیہ السلام کا ہے ،جو آیت 50 سے 60 تک مکمل 11 آیتوں پر مشتمل ہے۔
o حضرت ہود علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو دعوت توحید دی اور انہیں ہر طرح سے سمجھایا لیکن قوم کے لوگ ایمان لانے کیلئے تیار نہ ہوئے تو اللہ تعالی نےبطور آزمائش ان پر قحط سالی مسلط کر دی۔ جس کی وجہ سے ان کے یہاں کھانے پینے کی اشیاء کم ہو گئیں ، بھوک اور فاقوں کی وجہ سے ان کے کھجور کے تنے نما جسم کمزور پڑنے لگے۔ اس وقت حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں اللہ کی طرف رجوع کرنے اور توبہ کرنے کی دعوت دی اور فرمایا کہ توبہ واستغفار کی برکت سے اللہ تعالی تم پر بارش برسائے گا اور تمہیں پہلی قوت سے زیادہ قوت عطا فرمائے گا۔لیکن جب قوم نہ مانی اور حضرت ہود علیہ السلام کے خلاف چالیں چلنے لگے اور کہنے لگے کہ اے ہود! اولا تو تم نے اپنی نبوت پر کوئی دلیل نہ پیش کرسکے۔ ثانیا ہم تمہارے کہنے پر ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ثالثاتم جتنی بھی کوشش کرلو ہم ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ نتیجۃً اللہ تعالی نے ان پر تیز و تند اور سخت سرد ہوا کا عذاب بھیجا ،جس سے وہ ہلاک ہو گئے اور قیامت تک کیلئے ملعون قرار پائے۔یعنی دنیا میں بھی لعنت کے مستحق ٹھہرے اور آخرت میں بھی ان پر لعنت برسے گی۔
وَأُتْبِعُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ أَلَا إِنَّ عَادًا كَفَرُوا رَبَّهُمْ أَلَا بُعْدًا لِعَادٍ قَوْمِ هُودٍ (60)”دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی، دیکھ لو! قوم عاد نے اپنے رب سےکفر کیا ، سن لو! قوم ہود یعنی عاد کے لئے ہلاکت ہے”۔
o تیسرا واقعہ حضرت صالح علیہ السلام کا ہے جو آیت 61 سے 68 تک 8 آیتوں پر مشتمل ہے۔
o حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم ثمود کو جب توحید کی دعوت دی اور شرک سے توبہ کے لئے کہا تو ان کی قوم نے یہ کہتے ہوئے ان کی دعوت رد کر دی کہ ہم تو آپ کی ذہانت وعقلمندی دیکھ کر آپ سے بڑی امیدیں باندھے ہوئے تھے ،لیکن آپ نے سارا معاملہ ہی الٹ دیا۔ کیا آپ ہمیں اس دین سے روکتے ہیں جو ہمارے باپ دادا کا دین تھا؟
o حضرت صالح علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں جو بات کہہ رہا ہوں وہ میرے رب کا حکم ہے،اس کی رحمت ہے کہ اس نے مجھے تمہاری رہنمائی کے لئے متعین فرمایا ہے۔ گویا یہ سمجھو کہ میں تمہارے لئے ایک رحمت ہوں۔
o جب قوم نے معجزہ کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالی نے حضرت صلاح علیہ السلام کو اونٹنی کا معجزہ عطا فرمایا۔ لیکن قوم کے لوگ ایمان لانے کی بجائے وہ اس قدر سرکش اور باغی ہو گئے کہ حضرت صالح علیہ السلام کے سختی سےمنع کرنے کے باوجود اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔جس بعد ان پر زلزلے اور چیخ کا عذاب آیا اور وہ بھی تاریخ کا ایک حصہ بن گئے ۔
o آیت 69 سے 76 تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس چند خصوصی میہمانوں کی آمد کا ذکر ہے۔یہ میہمان فی الواقع اللہ کے فرشتے تھے جنہیں قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا ، راستے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس ٹھہرےاور انہیں حضرت اسحاق علیہ السلام پھر ان کے بیٹے یعقوب کی بشارت دی ، ۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام ابتدا میں انہیں پہچان نہ سکے اور چونکہ ابراہیم علیہ السلام بڑے میہمان نواز تھےاور انہیں میہمان سمجھا۔ لہذاان کی خاطرو تواضع میں ان کے لئے بھنا ہوا بچھڑا لا کر پیش کردیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ نہیں کھانے کی طرف بڑھ رہے ہیں تو انہیں خوف محسوس ہوا کہ کہیں یہ کسی بری نیت سے تو نہیں آئے ہیں؟ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس حیرت کو فرشتے بھانپ گئے اور اپنی حقیقت اور آنے کا مقصد واضح کردیا کہ ایک تو آپ کو لڑکے کی خوشخبری اور ثانیا قومِ لوط کی ہلاکت۔ یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام فرشتوں سے بحث کرنے لگے کہ جس بستی کو تم لوگ ہلاک کرنا چاہتے ہو اس میں اللہ کا نیک بندہ لوط بھی تو رہتا ہے۔ پھر اس کی موجودگی میں اس بستی کو کس طرح نابود کیا جاسکتا ہے؟
o آیت 77 سے 83 تک حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی قوم کی ہلاکت کا بیان ہے۔
o چنانچہ جب حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور انہیں ان کے فعل بد(لواطت) سے روکا تو قوم حضرت لوط علیہ السلام کو دھمکیاں دینے لگی اور شہر بدر کرنے کی ٹھان لی۔
o قوم لوط کی ہلاکت کے لئے اللہ تعالی نے فرشتوں کو خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط علیہ السلام کے پاس بطور میہمان بھیجا، چونکہ حضرت لوط انہیں پہچان نہ سکے اس لئے اپنی قوم کی بد کرداری کی وجہ سے ان کی آمد پریشان ہوئے اور ان کے بارے میں خوف کھانے لگے۔ ادھر قوم کے لوگوں نے جب سنا کہ لوط کے پاس کچھ میہمان آئے ہیں جو نہایت ہی خوبصورت لڑکوں کی شکل میں ہیں تو قوم کے شہوت پرست لوگ دوڑے ہوئے آئے اور انہیں اپنے ساتھ لے جانے پر اصرار کرنے لگے۔حضرت لوط علیہ السلام نے بہت سمجھایا ،لیکن قوم نے ایک نہ سنی۔ اس پر فرشتوں نے انہیں تسلی دی اور اپنے آنے کا مقصد واضح کردیا۔چنانچہ فرشتوں نے حضرت لوط علیہ السلام کواہلِ ایمان ساتھیوں اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ اس بستی سے نکل جانے کا حکم دیا ۔ اس بد طینت قوم کے درمیان سے جب اللہ کا نبی اور مومن بندے نکل گئے توفرشتوں نےقوم لوط کی بستی کو اس طرح الٹا کر رکھ دیا کہ اوپر کا حصہ نیچے کردیا ،پھر ان پر پتھروں کی بارش برسادی۔
o حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے واقعے کو ذکر کرنےکے بعد اللہ تعالی نے اہل مکہ کو دھمکی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ بستی نشان زدہ تھی اور یہ ظالمین سے کچھ زیادہ دور نہیں ہے۔ اسی طرح اس قسم کا عذاب بھی ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے ، بلکہ اللہ کے صرف ایک لفظ کن کی دیری ہے ۔
o آیت 84 سے 95 تک حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کی قوم یعنی اہل مدین کا ذکر ہے،جو شرک کے ساتھ ایک بڑی اخلاقی برائی اور اقتصادی خرابی میں مبتلا تھے۔ یعنی وہ لوگ ناپ وتول کی کمی کرتے تھے اور اسے اپنی ہشیاری سمجھ رکھا تھا۔
o حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ انہیں ناپ تول میں کمی کرنے،ناجائز ٹیکس وصول کرنے اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکنے سے خصوصی طور پر منع کیا۔قوم کے لوگوں نے حضرت شعیب علیہ السلام کی باتوں کونہ مانا او ر اپنی طر ف سے یہ فلسفہ پیش کیا کہ نماز اور عبادتیں اور ہیں اور مال کی کمائی کا معاملہ اور ہے۔اس لئے اس سلسلے میں ہم آزاد ہیں۔ یعنی ہم جیسے چاہیں کمائیں، اس معاملےہمیں کوئی روک ٹوک نہیں ہونی چاہئے ۔یعنی دینداری اور دنیا داری دو مختلف کام ہیں۔
o قوم کے اس قدر تلخ اور جاہلانہ جواب میں حضرت شعیب علیہ السلام نے اسی ہمدردی پھر انہیں اپنی حقانیت اور ہمدردی سے متعلق تین باتوں کی طرف توجہ دلائی ۔
1- اللہ تعالی نے مجھے اپنی طرف حق کے دلائل اور رزقِ حسن یعنی نبوت ووحی سے نوازا ہے، تو کیا اس کی موجودگی میں میں تمہارے طرح گمراہ ہو جاوں اور تمہیں بھلی بات کی دعوت نہ دوں۔
2- تم یہ بھی دیکھ رہے ہو کہ میں تمہیں جس بات کی نصیحت کرتا ہوں ، اپنے قول وکردار سے اس پر عامل بھی ہوں ۔ اگر اس بارے میں میرے قول وفعل میں کوئی تضاد ہوتا تو تمہارے لئے کسی شک کی گنجائش ہوتی۔
3- یاد رکھو! اس پوری کوشش اور جد وجہد کا مطلب محض تمہاری خیرخواہی اور اصلاح ہے۔
4- نیز تم یہ بھی یاد رکھو کہ یہ سارا کام میں اللہ تعالی کی توفیق سے، اسی پر توکل کرکے اور اسی کے حکم سے کر رہا ہوں، جسے چھوڑ دینا میرے بس میں نہیں ہے۔
o ایک طویل بحث و مباحثہ کے بعد جس میں حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت صالح وحضرت لوط علیہ السلام کی قوموں کی ہلاکت کا حوالہ بھی دیا،اپنے اعمالِ بد کی شامت سے ڈرایا اوراللہ تعالی سے توبہ واستغفار کی دعوت دی ۔ لیکن قوم نے حضرت شعیب علیہ السلام کی ایک نہ مانی اور ان کو سنگسار کردینے کی دھمکی دی اور ان سے عذاب کا مطالبہ کر دیا۔ بالآخر اللہ تعالی نے ان پر سخت چیخ کا عذاب بھیجا جس سے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے، اور اس بستی کی حالت ایسی ہوگئی گویا یہاں کبھی کوئی آباد ہی نہ تھا ۔
o آیت 96 سے 99 تک حضرت موسی علیہ السلام اور فرعون کا مختصر ذکر ہے ۔یہاں صرف یہ واضح کیا گیا کہ فرعونیوں کی یہ بڑی جہالت سامنے آئی کہ موسی علیہ السلام جو واضح اور کھلی نشانیاں لے ی کر آئے ، قوم نے ان کی اتباع نہ کی بلکہ اس کے برخلاف فرعون جو "انا ربکم الاعلی” ہونے کا دعویدار تھا ،بے سوچے سمجھے اس کی اتباع کرلی ، نتیجۃً انہیں دنیا میں لعنتوں کا سامنا کرنا پڑا اور آخرت میں تو جہنم کی طرف لے جانے میں فرعون ان کا امام ہوگا ۔
o آیت نمبر 100/ اور اس کے بعد والی آیات میں اللہ تعالی نے مذکورہ تمام قصوں پر ایک جامع تبصرہ کیا ہےاور ڈرانے کیلئے قیامت کا ایک ہولناک منظر پیش کیا ہے۔
o اللہ تعالی نے فرمایا یہ بستیاں جن کے واقعات ہم نے آپ کے سامنے بیان کئے ہیں ان میں سے بعض کے آثار و کھنڈرات اب بھی موجود ہیں۔ جیسے مدائن صالح وغیرہ اور بعض تو صفحہ ہستی سے ہی مٹ چکی ہیں۔یاد رہے کہ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ،بلکہ شرک کرکے، رسولوں کی مخالفت اور انہیں تنگ کرکے ان لوگوں نے خود اپنی ہی جانوں پر ظلم کیا۔پھر جب ان پر عذاب الہی آیا تو باطل معبود ان کےکسی کام نہ آ سکے ،بلکہ ان کی حسرت اور افسوس میں ہی اضافہ کیا۔ یاد رکھو جب اللہ تعالی کسی بستی کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت اور دردناک ہو تی ہے ۔
o آیت 103 تا 108 میں قیامت کی ایک ہول ناکی کا ذکر ہے کہ یہ لوگ جو اپنے باطل معبودوں کے زعم میں آخرت کو بھولے ہوئے ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ان کے باطل معبود وہاں بھی ان کی شفارش کریں گے تو یہ ان کی خام خیالی اور خود فہمی ہے ، وہاں تو صورت حال یہ ہوگی کہ اس دن اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کو گفتگو کی بھی مجال نہ ہوگی۔
o اس دن لوگ دو گروہوں میں بٹیں گے ، نبی کے متبعین کو سعادت حاصل ہوگی جو جنت میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور نبیوں کے مخالفین شقی وبدبخت ٹھہریں گے جنکا دائمی ٹھکانا جہنم ہوگا ۔
o آخر میں اللہ تعالی نے اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان کے معبودوں کے باطل ہونے او ران کے کسی بھی قسم کے نفع و نقصان کے مالک ہونے کے بارے میں کسی قسم کے شک میں مبتلا نہ ہوں، اپنے باپ داد کی طرح یہ بھی گمراہی میں مبتلا ہیں جس کا بدلہ انہیں ملنے والا ہے۔آیت:109
o اس سورت کے اختتام پر نبی کریم ﷺ کو اور آپ کے ساتھ صحابہ کرام کو چند نصیحتیں کی گئی ہیں ۔جس کے لئےحضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کا حوالہ دیا گیا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کو کتاب دی گئی لیکن ان کی قوم نےاس بارے میں اختلاف کیا، کچھ نے عمل کیا اورقوم کے اکثر لوگ بد عملی کے شکار ہوگئےاور شکوک و شبہات میں مبتلا رہے۔
o جب وقت آئے گا،اللہ تعالی توانہیں ان کا پورا بدلہ دے گا،لیکن آپ کو اور آپ کی قوم کو قوم موسی کی قوم جیسا نہیں بننا چاہئے بلکہ استقامت اختیار کرنی چاہئے۔
o اس آیت سے لےکر کلام کا پورا رخ مسلمانوں کی طرف ہے اور انہیں چند خاص امور کے اپنانے کی تعلیم دی گئی ہے۔
o سب سے بنیادی چیز استقامت کا حکم ہے اور استقامت پر مددگار بننے والے امور کی نشاندہی ہے۔
1) حد سے تجاوز نہ کرو۔یعنی اللہ اور اس کے رسول کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز کرنا استقامت کے منافی ہے۔
2) ظالموں کے ساتھ دوستی کرنے اور ان کی پناہ لینے سے بچو۔ اگر تم ان کی طرف مائل بھی ہوئے تو تمہیں جہنم کی آگ پکڑ لے گی ۔
3) نماز کا اہتمام کرنے کا حکم ہے۔
4) صبر سے کام لو۔
o آیت 116 اور 117 میں مسلمانوں کو وہ اصول بتائے جا رہے ہیں جن کے اپنانے کی وجہ سے وہ عذاب الہی سے بچاسکتے ہیں ۔ اور وہ دو سبب ہیں۔
1- پہلا سبب ان کے درمیان نیک لوگوں کا وجود، اور صرف یہی کافی نہیں ہے بلکہ لوگوں کو بھی نیک بنانے کی کوشش کریں۔یعنی اپنی اور دوسروں کی اصلاح کریں اور زمین میں فساد پھیلانے سے روکیں۔
2- دوسرا سبب ظلم سے بچنا ہے۔ بظاہر ظلم سے مراد امر بامعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کا ترک ہے۔
o سورت کے اخیر میں انبیاء علیہم السلام کے واقعات کے بعد ان واقعات کے بار بار بیان کرنے کی حکمت کا ذکر ہے۔ یہاں خصوصی ظور پر تین حکمتیں بیان ہوئی ہیں۔
1- ایک یہ کہ جن مشکلات سے آپ اور آپ کے صحابہ دوچار ہیں ایسے ہی حالات سے تمام انبیاء اور ان پر ایمان لانے والے گزر چکے ہیں۔ لہذا آپ صبر کریں اور عزم کو مضبوط رکھیں ، جس طرح ان نبیوں کا کامیابی ملی ہے ویسے ہی آپ بھی کامیاب ہونگے۔
2- دوسرے یہ کہ سابقہ انبیاء کے صحیح صحیھ حالات پہنچ جائیں جن سے آپ کو پہلے خبر نہ تھی۔
3- تیسرے یہ کہ ان لوگوں حالات میں آپ سب کے لئے بہت سے اسباق موجود ہیں۔
o اس سورت کا خاتمہ بھی توحید و رسالت پر ہوا ہے، چنانہ عبادت، اللہ تعالی پر توکل اور مشرکین کی مخالفت کی پرواہ نہ کرنے کی تاکید پر ہے۔
اور یہی وہ مضمون ہیں جن سے اس سورت کی ابتدا ہوئی ہے۔

سورت یوسف:
یہ سورت مکی ہے اور اول تا آخرحضرت یوسف علیہ السلام کے واقعے پر مشتمل ہے ۔
مکی دور میں اس سورت کے نزول کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نبی ﷺ کو تسلی واطمینان حاصل ہو اور آپ اپنے عزیز و اقارب کی اذیت سے پریشان نہ ہوں۔
o ابتدائی تین آیتوں میں قرآن مجید کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے اور اس کے عربی زبان میں نازل ہونے کا ذکر ہے۔پھر حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعے کےمقدمے کے طور پر اللہ تعالی نے یہ بیان فرمایا کہ آپ اور آپ کی قوم ان عمدہ اور بہترین بیانات سے واقف نہیں تھے جسے ہم بیان کرتے ہیں ۔
جس سے نبیخ کریمﷺ کی رسالت کا ثبوت ملتا ہے۔
o آیت 4 تا 6 میں حضرت یوسف علیہ السلام کے اس مشہور خواب کا بیان ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کے منظور نظر بن گئے تھے۔
o وہ خواب یہ تھا کہ سورج ،چاند اور گیارہ ستارے (یعنی ماں،باپ اور گیارہ بھائی) انہیں سجدہ کر رہے ہیں۔
o اس خواب سےحضرت یعقوب علیہ السلام نے یہ محسوس کر لیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں میرے بعد جس کو نبوت کے مقام پر فائز ہونا ہے وہ یوسف ہے ۔
o آیت 7 سے 18 تک حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا ان کے ساتھ حسد ،پھر ان کے قتل اور انہیں والد سے دور کرنے کی سازش کرنے اور پھر بہانے سے لے جاکر انہیں اندھے کنویں ڈال دینے کا ذکر ہے۔
o پھرشام کو واپس آکرکس طرح باپ کے سامنے جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اپنی براءت کااظہار کیا ہے۔
o اور یہ بھی ذکر ہے کہ ان کے بھائیوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص پر کس طرح کسی جانور کا خون لگا کر اسے یوسف علیہ لاسلام کا خون باور کرانا چاہا ۔
o آیت 19 سے 30 تک حضرت یوسف علیہ السلام کے کنویں سے نکالے جانے ،مصر میں بیچے جانے اور عزیز مصر کا ان کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر ہے۔
o اس مرحلے میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پختہ عمر کو پہنچ جانے اور اللہ کی طرف سے انہیں علم و حکمت کا عطیہ ملنے کا ذکر ہے ۔
o یہ بھی بیان ہے کہ یعقوب علیہ السلام کو اس پر یقین تو نہ آیا لیکن چونکہ کوئی خارجی شہادت موجود نہ تھی اس لئے انہوں نے فرمایا کہ یہ بات تو یقینی ہے کہ تم لوگوں نے جو کچھ کہا وہ جھوٹ ہے، لہذا اب میرا کام صبر جمیل ہی ہے اور اس پر اللہ تعالی ہی مدد درکار ہے۔ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ (18)” پس صبر ہی بہتر ہے، اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں پر اللہ ہی سے مدد کی طلب ہے”۔
"صبرِ جمیل” میں تین باتوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ ۱- کسی سے شکوی نہ کیا جائے۔ ۲- مصیبت کسی پر ظاہر نہ کی جائے۔ ۳- خود کو بے گناہ نہ سمجھا جائے۔ ابنِ کثیر
o اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام کے امتحان کے ایک نئےدورکے شروع ہونے کا ذکر ہوتا ہے۔ یعنی کس طرح عزیز مصر کی بیوی بار بارانہیں زنا کی دعوت دیتی ہے،ان کے انکار کے باوجود اصرار کرتی ہے۔ حتی ایک دن شوہر کی عدم موجودگی میں اپنے خاص کمرے کادروازہ بند کر کے گناہ پر اصرار کرتی ہے۔ لیکن یوسف علیہ السلام نے معذرت کی ،اللہ کا خوف دلایا اور اپنے آپ کو عزیز مصر کے ساتھ خیانت یا اللہ کا ناشکرا بننے سے پاک رہنے کا حوالہ بھی دیا۔لیکن پھر بھی نہ مانی تو اسے چھوڑ کر بھاگ کر کمرے سے باہر نکلنا چاہا کہ وہ عورت پیچھے سےقمیص کو دامن سےپکڑتی ہے اور پچھلا دامن پھٹ جاتا ہے۔
o اتفاق یہ کہ عین اسی وقت عزیز مصر آجاتا ہے اور اس پر حقیقت عیاں ہو جاتی ہے ۔ بیوی نے فوراً حضرت یوسف علیہ السلام پر تہمت لگا دی،لیکن اللہ تعالی نےاپنی ایک غیبی مدد سے کچھ خارجی شواہد کی بنیاد پر حضرت یوسف علیہ السلام کی براءت کوثابت کر دیتا ہے۔
o خارجی شواہد سے مراد خود عزیز مصر کی بیوی کے گھرانے کے ایک ایسے شخص کا فیصلہ ہے جو جائے وقوعہ پر موجود نہ تھا اور نہ ابھی تک اس نے یوسف علیہ السلام کی قمیص کو دیکھا تھا۔ فیصلہ یہ تھا کہ قمیص کو دیکھ کر فیصلہ کرلو ، اگر قمیص کا اگلا دامن پھٹا ہے تو عورت سچی اور یوسف جھوٹا ہے اور اگر قمیص کا پچھلا دامن پھٹا ہے تو یوسف سچا اور عورت جھوٹی ہے۔
یہاں پر ایک بات انتہائی قابل غور ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام اس خطرناک موقعے پرزنا اور اس کی تہمت ، دونوں بڑے اہم خطروں سے کیسے بچ جاتے ہیں؟۔قرآن میں اس کی دو وجہ بیان ہوئی ہیں:
1)اپنے اخلاص کی برکت سے۔
2)اللہ تعالی اپنے مخلص بندوں کی مشکل وقت میں مدد کرتا ہے اور اس کیلئے وسائل بھی پیدا فرما دیتا ہے ۔
o آیت 30 اور 31 میں اس بات کا بیان ہے کہ جب عزیز مصر پر حقیقت واضح ہو گئی تو اس ڈر سے کہ بدنامی ہوگی اور گھر کا ماحول بگڑے گا، لہذا حضرت یوسف اور اپنی بیوی کو سمجھا بجھا کر چھوڑ دیا۔لیکن آہستہ آہستہ جب یہ بات عورتوں میں پھیل گئی اور عزیزکی بدنامی ہونے لگی تو عزیز کی بیوی نے عورتوں کے سامنےکس طرح سے اپنا عذر پیش کیا؟ اس کا ذکر ہوا ہے۔ اس کے لئے اس نے کیا اسلوب اختیار کیا ، اس کا ذکر ہوا ہے۔
o ہوا یہ کہ عزیزِ مصر کی بیوی نے عورتوں کو دعوت دیا اور ان کی ضیافت کے لئے ایک مجلس منعقدکی۔ سب عورتیں اپنی اپنی مجلس میں بیٹھ گئیں اور ان کے سامنے قسم قسم کے پھل اور پھلوں کو کاٹنے اور چھیلنےکے لئے چھوریا رکھ دی گئیں۔ پھر عین اس وقت جب کہ عورتیں پھلوں کو کاٹنے کے لئے اپنے ایک ہاتھ میں پھل اور دوسرے ہاتھ چھوری پکڑی ہوئی تھیں تو عزیزِ مصر نے یوسف علیہ السلام کو جنہیں اب تک اس نے عورتوں سے دور رکھاتھا، باہر آنے کا حکم دیا۔ یوسف علیہ السلام کے باہر آتے ہی ان کےحسنِ کی جلوہ آرائی دیکھ کر عورتیں اس قدر بے خود ہوگئیں کہ اس بے خودی میں پھل کے بجائے اپنے ہاتھوں کو زخمی کر لیا۔اس طرح عزیزِ مصر کی بیوی نے ملامت کرنے والی عورتوں کے سامنے اپنا عذر ثابت کر دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ میری یہ بے خودی بے سبب نہیں ہے۔
o ان تمام حالات میں یوسف علیہ السلام کا جو سب سے اہم کردار رہا ہے وہ اپنے مالک کے ساتھ امانت ، اس کے حکم کی فرمانبرداری ، صبراورمزید یہ کہ ان تمام باتوں پر اللہ تعالی سے طلب مدد۔ قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُنْ مِنَ الْجَاهِلِينَ (33) فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (34) یوسف علیہ لاسلام نے دعا کی کہ” اے میرے رب ! مجھے قید خانہ اس سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ سب مجھے دعوت دے رہی ہیں، اور اگر تونے مجھ سے ان کے فریب کو نہ ٹالا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور جاہلوں میں سے ہو جاؤں گا،تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول کرلی ، پس پس ان عورتوں کو فریب ہٹا دیا ، بے شک وہی سب کچھ سننے والا اور وہی سب کچھ جاننے والا ہے” ۔
o لیکن جب عزیز مصر نے دیکھا کہ معاملہ ہمارے گھر سے نکل کر پورے ماحول کا مسئلہ بن گیا ہے تو حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کی خواہش پر جیل میں ڈال دیا،یہ حضرت یوسف علیہ السلام کی دوسری آزمائش تھی ۔
o آیت 19 سے 30 تک حضرت یوسف علیہ السلام کے جیل میں رہنے اور وہاں دو قیدیوں کے اپنے خواب کی تعبیر پوچھنے کا ذکر ہے ۔
o ہوا یوں کہ اس موقعے پر یوسف علیہ لاسلام کے ساتھ جیل میں دو اور آدمیوں کو ڈالا گیا تھا جو باشاہ کے درباری تھے،وہ دونوں یوسف علیہ السلام کے ساتھ جیل میں رہے اور ان کے اخلاق وکردار سے بہت متاثر ہوئے۔ اسی درمیان ان دونوں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ ایک نے دیکھا کہ وہ شراب بنانے کے لئے انگور نچوڑ رہا ہے ، اور دوسرے نے دیکھا کہ وہ اپنے سر پر روٹی کی ٹوکری اٹھائے ہوئے ہے اور اس میں سے پرندے کھارہے ہیں۔ان دونوں نے اپنے اپنے خواب کی تعبیر یوسف علیہ السلام سے پوچھی۔ یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بتانے کا وعدہ کیا اور موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئےانہیں اللہ کی توحید اور آخرت پر ایمان کی دعوت دی، شرک کی قباحتوں سے خبردار کیا اور اس دنیا پر صرف اللہ واحد کی حکمرانی کی حقداری کا درس دیا ۔
یہیں سے حضرت یوسف علیہ السلام پر مشکلات کا دور ختم ہوتا ہے اور زمین پر ان کے اختیار واقتدار کا دور شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ یوسف علیہ السلام نے ان دونوں کے خواب کی تعبیر کچھ اس طرح بتلائی کہ تم میں سے ایک شخص تو جیل سے رہائی پائے گا اور اپنے آقا کو شراب پلائے گا اور دوسرا سولی پر لٹکایا جائے گا اور پرندے اس کے سر میں سے کھائیں گے۔
نیز اس کے ساتھ ساتھ یوسف علیہ السلام نےاس شخص سے جس کے بارے میں امید تھی کہ وہ جیل سے رہائی پائے گا یہ بھی کہہ دیا کہ واپس جانے کے بعد میری رہائی کی بھی کوشش کرنا۔ لیکن اللہ کا کرنا یہ کہ وہ شخص حضرت یوسف علیہ السلام کو بالکل ہی بھول گیا اور سالوں بھولا رہا۔
o آیت 43 تا 57۔ اس وقت کے بادشاہ نے ایک عجیب خواب دیکھا جس کی تعبیر سے شاہی دربار کے اسارے دانشور عاجز آ گئے ۔ بادشاہ کو خواب یہ تھا کہ سات موٹی گائیں اور سات دبلی گائیں ہیں، اور دبلی گائیں موٹی گاؤں کو نگل جاتی ہیں ، اسی طرح سات سبز وشاداب بالیں ہیں اور سات خشک بالیں ،اور خشک بالیوں نے سبز بالیوں کو نگل لیا۔
o اس خواب سے بادشاہ بہت پریشان ہوا اور درباریوں کے سامنے یہ مسئلہ رکھا، تو درباریوں سے جب اس کی کوئی تعبیر نہ بن پائی تو صاف کہہ دیا کہ یہ تو پریشان خیالات ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
o اب مدتوں کے بعداس درباری کو جو بچ گیا تھایوسف علیہ السلام کی طرف سے خواب کی تعبیر بیان کرنے کا واقعہ یاد آگیا۔ اس نے بادشاہ سے حضرت یوسف علیہ السلام کا ذکر کیا اور یوسف علیہ السلام سے خواب کی تعبیر پوچھنے کی اجازت چاہی۔ بادشاہ نے اجازت دی تو وہ قید خانے پہنچ کر حضرت یوسف علیہ السلام سے بادشاہ کے خواب کا ذکر کیا۔ یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بتلا دی کہ سات موٹی گا ؤں اور سبز بالیوں سے سات سال بارش اور خوشحالی کے ہیں اور دبلی گاؤں اور سوکھی بالیوں سے خوشک سالی اور تنگی کے سال مراد ہیں۔
o نیز حضرت یوسف علیہ السلام نے یہاں تک بتلا دیا کہ ان چودہ سالوں کے لئے کیا اقتصادی پروگرام بنانا چاہئے؟چنانچہ آپ نے فرمایا کہ پہلے سات سالوں میں جب غلہ کی فراوانی ہو تو حسبِ ضرورت غلہ استعمال کرنےکے بعد باقی غلہ اسی طرح اس کی بالیوں میں ہی رہنے دیا جائے، پھر جب خشک سالی آئے تو اس جمع شدہ غلے فائدہ اٹھایا جائے۔
o اس سے حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کے پاس اپنا مقام حاصل کرلیا، اور یہی چیز سبب بنی کہ حضرت یوسف علیہ السلام نہ صرف جیل سے باہر آ گئے بلکہ مصر کے حاکم بھی بنا دیئے گئے۔ جس کی تفصیل اگلے پارے میں بیان ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں