تمہارے اندر جاہلیت کی خُو پائی جاتی ہے!

موضوع الخطبة:    فيك جاهلية!

الخطيب       : حسام بن عبد العزيز/ حفظه الله

لغة الترجمة    : الأردو

موضوع:

تمہارے اندر جاہلیت کی خُو پائی جاتی ہے!

 

پہلا خطبہ:

الحمدُ لله عدد ما خلق، والحمدُ لله ملء ما خلق، الحمد لله البصيرِ التواب، الفتّاحِ الوهّاب، وأشهد ألا إله إلا الله وحده لا شريك له السميعُ الخبير، المتينُ القدير، وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله وصفيّه وخليله صلى الله عليه وسلم وعلى آله وصحبه عدد قطر الندى وما تعاقب الإصباح والمساء.

حمد وثنا کے بعد!

میں آپ کو اور اپنے آپ کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں‘زندگی کی یہ فرصت‘  تقوی کو بروئے عمل لانے اور نفس  کے ساتھ مجاہدہ کرنے کا وقت ہے‘  ہماری زندگی گھڑیوں اور لمحات کا ہی مجموعہ ہے:

﴿ فَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِ وَإِنَّا لَهُ كَاتِبُونَ ﴾ [الأنبياء: 94]

ترجمہ: پھر جو بھی نیک عمل کرے اور وہ مومن (بھی ) ہو تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں کی جائے گی۔ہم تو اس کے لکھنے والے ہیں۔

رحمن کے بندو! مشعل نبوت سے روشنی حاصل کرنا کتنا  دلکش عمل ہے! اور  اس کے چشمہ صافی سے سیراب ہونا کتنا دلرُبا  کام ہے.!

آج ہماری گفتگو کا موضوع  نبی ﷐  کا وہ  واقعہ ہے جو اسلام کی طرف سبقت لے جانے  والے ایک شخص کے ساتھ پیش آیا‘ وہ خود اپنے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ:”میں اسلام کی ایک چوتھائی تھا‘ مجھ سے پہلے تین لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوچکے تھے‘ میں مشرف بہ اسلام ہونے والا چوتھا آدمی تھا‘ میں نبی ﷐کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: السلام علیک اے اللہ کے رسول! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اس کے بندہ اور رسول ہیں‘ یہ سنتے ہی میں نے آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار جھلکتے دیکھا‘ آپ نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں جندب‘ قبیلہ بنی غفار سے  ہوں” ۔(اس حدیث کو ابن ماجہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے)۔اس سبقت کی فضیلت بھی ان کو حاصل رہی ‘ جب نبی ﷐ نے ہجرت کی تو جب( مجلس میں )ابوذر کو موجود پاتے تو ان سے ہی گفتگو کا آغاز کرتے اور جب وہ سفر پر ہوتے تو  ان کی خبر گیری کرتے‘ لیکن اس مقام ومرتبہ  پر فائز ہونے کے باوجود ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا جس نے ان کو بہت متاثر کیا‘ آئیے ہم اس واقعہ پر غور وفکر کریں‘ مسلم نے اپنی صحیح میں معرور بن سوید سے روایت کی ہے ‘ وہ کہتے ہیں:  "ہم رَبذَہ (کے مقام) میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے ہاں سے گزرے‘ ان (کے جسم) پر ایک چادر تھی اور ان کے غلام (کے جسم) پر بھی ویسی ہی چادر تھی۔تو ہم نے کہا: ابو ذر! اگر آپ ان دونوں (چادروں) کو اکھٹا کر لیتے تو یہ ایک حُلّہ (مکمل لباس) بن جاتا ۔انہوں نے کہا: میرے اور میرے کسی (مسلمان) بھائی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی‘ اس کی ماں عجمی تھی‘ میں نے اسے اس کی ماں کے حوالے سے عار دلائی تو اس نے نبی ﷐ کے پاس میری شکایت کردی‘ میں نبی ﷐ سے ملا تو آپ نے فرمایا: "ابو ذر! تم ایسے آدمی ہو کہ تم میں جاہلیت (کی عادت ) موجو د ہے”۔میں نے کہا: اللہ کے رسول! جو دوسروں کو برا بھلا کہتا ہے وہ اس کے ماں اور باپ کو برا بھلا کہتے ہیں۔آپ نے فرمایا: "ابو ذر! تم ایسے آدمی ہو جس میں جاہلیت ہے‘ وہ (چاہے کنیز زادے ہوں یا غلام یا غلام زادے) تمہاری بھائی ہیں۔اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت کیا ہے‘ تم انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو اور ان پر ایسے کام کی ذمہ داری نہ ڈالو جو ان کے بس سے باہر ہو‘ اگر ان پر (مشکل کام کی ) ذمہ داری ڈالو تو  ان کی اعانت کرو”۔

بخاری کی ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: "تو نے فلاں شخص کو گالی دی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: تونے اس کی ماں کو بھی مطعون کہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔آپ ﷐ نے فرمایا: تمہارے اندر ابھی جاہلیت کی خو باقی ہے۔ میں نے عرض کی: اس وقت بھی جبکہ میں بڑھاپے میں پہنچ چکا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ‘ یاد رکھو! یہ غلام بھی تمہارے بھائی ہیں‘ اللہ تعالی نے انہیں تمہارے ماتحت کردیا ہے‘ لہذا جس شخص کے بھائی کو اللہ تعالی نے اس کے زیر دست کر دیا ہو‘  اسے وہی  کچھ کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور اسے وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے اور اسے کسی ایسے کام کی تکلیف نہ دے جو اس پر گراں بار ہو۔اگر ایسا کام اسے کہے جو اس کے بس میں نہ ہو تو وہ کام نمٹانے میں اس کا تعاون کرے”۔

میرے احباب! آئیے ہم اس حدیث سے  کچھ دروس اور نصیحتیں حاصل کرتے ہیں:

پہلا درس: یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمام صحابہ کرام نبی ﷐ سے قریب تھے‘ چنانچہ یہ شخص جسے اس کی ماں کے حوالے سے عار دلایا گیا تھا اور یہ کہہ کر مخاطب کیا گیا: "اے کالی عورت کے بیٹے”‘ اس  نے نبی ﷐  کی ذات کو اپناقریبی پناہ گاہ پایا جہاں وہ اس شخص کی شکایت کرسکے جس نے اسے   عار دلائی ‘  نبی ﷐ نے ان کی شکایت کو سنجیدگی سے لیا اور ابوذر رضی اللہ عنہ کی سخت سرزنش فرمائی۔

اس شخص کا غلام ہونا اور اس کے رنگ کا مختلف ہونا اس کے لئے نبی ﷐ تک پہنچنے اور اپنی شکایت پیش کرنے  میں رکاوٹ نہ تھا‘  کیوں کہ نبی ﷐ تمام لوگوں  کو قریب رکھتے تھے۔

ایک غور طلب بات یہ بھی ہے کہ: ہم دیکھتے ہیں کہ تعصب پر مبنی نعرے کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کی قوت( اس واقعہ  میں   زور وشور سے ظاہر ہورہی ہے) ‘  جس کے باقی ماندہ اثرات اب بھی بعض دلوں میں پیوست تھے‘ جو کہ جاہلیت  کی خو ہے‘ جیسا کہ نبی ﷐ نے ابوذر سے فرمایا: تونے اس کی ماں کو بھی مطعون کہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔آپ ﷐ نے فرمایا: تمہارے اندر ابھی جاہلیت کی خو باقی ہے”۔ابوذر نے کہا: : اس وقت بھی جبکہ میں بڑھاپے میں پہنچ چکا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں”۔

دوسرا فائدہ : جس وقت نبی ﷐ جاہلیت کے نعروں کا قلع قمع کر رہے تھے‘ حسب ونسب اور رنگ ونسل پر فخر ومباہات کرنے کی جڑیں  اکھاڑ رہے تھے‘ اسی وقت مسلمانوں کے درمیان دخوت وہمدردی کی مضبوط  عمارت بھی تعمیر کر رہے تھے‘  اور یہ آپ ﷐ کی اس حدیث سے نمایاں ہے کہ: ” وہ (چاہے کنیز زادے ہوں یا غلام یا غلام زادے) تمہاری بھائی ہیں۔اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت کیا ہے‘ تم انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو اور ان پر ایسے کام کی ذمہ داری نہ ڈالو جو ان کے بس سے باہر ہو‘ اگر ان پر (مشکل کام کی ) ذمہ داری ڈالو تو  ان کی اعانت کرو”۔یہ پانچ امور ہیں جن سے  اخوت وہمدردی کا حق  ادا ہوتا ہے‘ انہیں بھائی سے موسوم کیا ‘ خواہ وہ خادم اورغلام ہی کیوں نہ ہوں‘ نیز یہ رہنمائی فرمائی کہ انہیں وہی کھلائے جو وہ خود کھاتے ہیں اور وہی پہنائے جو خود پہنتے ہیں ‘ نیز  انہیں ان کی طاقت سے زیادہ کام کا بوجھ دینے سے منع فرمایااور اگر ایسے کسی کام کی ذمہ داری دے بھی تو اس سے نمٹنے میں  ا ن کی مدد کرے۔

اللہ مجھے اور آپ سب کو کتاب وسنت سے فائدہ پہنچائے‘ اور ان میں علم وحکمت کی جو بات ہے‘ اسے بھی ہمارے لئے نفع بخش بنائے‘ اللہ سے مغفرت طلب کریں‘ یقینا وہ خوب معاف کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

الحمد لله وكفى، وسلام على عباده الذين اصطفى.

حمد وصلاۃ کے بعد:

اس واقعہ سے جو دروس حاصل ہوتے ہیں‘ ان میں یہ بھی ہےکہ: نبی ﷐کی تربیت دلوں میں خود داری ‘   عزت نفس‘ حقوق شناسی  اور ذمہ داریوں سے آشنائی پیدا کرتی  ہے‘”تو نے فلاں شخص کو گالی دی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں”‘ ابو ذر کو اس اعتراف  کا  احساس تھا‘ چنانچہ انہوں نے جب واقعہ بیان کیا تو کہا: "میرے اور میرے کسی (مسلمان) بھائی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی” ۔معلوم ہوا کہ خود احتسابی  د و طرفہ تھی۔

یہ بھی معلوم رہے کہ جب نبی ﷐ نے پورے شد ومد سے  نسلی تعصب کی تمام اقسام کو آج سے چودہ سو سال پہلے بے معنی قرار دیا تو اس وقت کسی عالمی رائے اور فکر کاوجود نہ تھا‘ نہ ہی انسانی حقوق کی تنظیمیں موجود تھیں‘ بلکہ عالمی معاشرہ اپنی حقیقی زندگی میں مختلف قسم کے   نسلی تعصب سے  دوچارتھا‘  اور عالمی تہذیب چودہ صدی بعداس نبوی ہدایت    سے شاد کام ہوئی ۔

آخری بات یہ کہ: نبی ﷐ کی بات سے ابوذر رضی اللہ عنہ بہت متاثر ہوئے اور  وہ  نبی ﷐ کے حکم پر پوری قوت کے ساتھ کاربند رہے‘ چنانچہ وہ آخری زندگی تک مقام ربذہ میں سکونت پزیر رہے اور وہیں ان کی وفات ہوئی‘ اس کے باوجود بھی وہ فرمانبرداری کے اعلی ترین مقام پر فائز رہے‘ چنانچہ جب انہوں نے واقعہ بیان کیا تو کہا: "میرے اور میرے کسی (مسلمان) بھائی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی”‘ نیز انہوں نے حُلّہ (لباس) کو اپنے اور اپنے غلام کے درمیان تقسیم کر لیا اور صرف (زبانی) تسلی پر اکتفا نہیں کیا  ۔

نبی ﷐ کے  حکم اور ہدایت کو حاصل کرنے   میں  صحابہ کرام اسی اخلاق کا مظاہرہ کرتے تھے‘  پھر وہ آپ کے حکم کی بجا آوری کرتے‘ جس کے نتیجے میں آپ کے احکام واوامر ان کے اخلاق اور سلوک میں پوری قوت وگہرائی کے ساتھ رچ بس جاتے اور ان  کے دلوں میں تا دم حیات پیوست رہتے!

اللہ تعالی ان تمام صحابہ کرام سے راضی ہو اور ان کے ساتھ ہم سے بھی خوش ہو…

درود وسلام بھیجیں….

صلی اللہ علیہ وسلم

 

از قلم:

فضیلۃ الشیخ حسام بن عبد العزیز الجبرین