بسم اللہ الرحمن الرحیم
سلسلہ خلاصہ معانی قرآن مجید
از قلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ
*تیئیسواں پارہ(و ما لی)*
تیئیسویں پارے میں چار سورتیں ہیں؛ سورہ یسین کا بقیہ حصہ، سورہ صافات او رص مکمل اور سورہ زمر کا ا بتدائی حصہ۔
o اس پارے کی ابتداء میں اس بستی والوں کے قصہ کا تکملہ ہے جس کا ذکر پچھلے پارے کے آخر سے شروع ہوا تھا۔
o آیت 28 – 32 میں اس قوم پر عذاب کا ذکر اور اس پر مختصر تبصرہ ہے۔
o اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اس نیک بندے(جس کا نام حبیب نجار بتایا گیا ہے) کی شہادت کے بعد اس کی قوم کی ہلاکت کے ہم نے کوئی لشکر نہیں بھیجا اور نہ ہی اس کی ضرورت تھی، ان کا معاملہ تو صرف ایک چیخ میں تمام کردیا گیا ۔
o آیت 30-32 میں اہل مکہ کو خبردار کیا گیا ہے کہ اس قسم کی گزشتہ قوموں کی ہلاکت سے عبرت حاصل کرو۔ نبیوں کو جھٹلانے والی تمام قوموں کا انجام دنیا میں یہی رہا ہے۔ اور بڑے عذاب کے لئےتمام گزشتہ اور آئندہ آنے والے سب اللہ کی بارگاہ میں حاضر کئے جائیں گے۔
o آیت33تا44میں کائنات میں موجوداللہ کی قدرت کی متعدد نشانیوں کا حوالہ دے کر مشرکین کو ان پر غور کرنے اور توحید و معاد [موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے]پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔
o ان نشانیوں کی خصوصیت یہ ہے کہ ایک طرف یہ اللہ کی قدرت کا بڑا مظہر ہیں اور دوسری طرف اس سے انسانوں کو بڑا فائدہ ہوتاہے۔
o جیسے زمین خشک رہتی ہے اور جب اس پر بارش برستی ہے تو اس کی برکت سے پھل او ر میوے وغیرہ پیدا ہوتے ہیں جس سے وہ کھاتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔
o ایک نشانی یہ ہےکہ انسانوں کی طرح اللہ تعالی نے زمین سے اگنے والی ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے ، بلکہ آسمانوں اور زمینوں کی بہت سی چیزیں ہیں جن جوڑا ہونا انسان کو معلوم ہی نہیں ہے۔
o ایک نشانی یہ ہے کہ رات او ر دن کی آمد ورفت، چاند او ر سورج کا آپس میں ٹکرائے بغیر،او ر ایک دوسرے پر سبقت لئے بغیر اپنے اپنے محور او ر دائرے میں تیرتے رہنا۔
o نیزانسانوں کو کشتی پر سواری کا فن سکھایا اور آمد و رفت کےاس جیسے کتنے ہی وسائل ہیں جن کا علم انسانوں کودیا۔
o ان نشانیوں میں بہت سے علمی حقائق ہیں جو قابل غور ہیں ۔
o یہ سب باتیں جہاں اللہ کی قدرت کی دلیل ہیں وہیں یہ سب نشانیاں ہم سے اللہ پر ایمان لانے اور اس کی توحید کو اپنانے کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔
o آیت45تا47میں مکہ کے مشرکین او ر ہر جگہ کے گمراہ لوگوں کی بے بنیاد دلیلوں او رکج بحثیوں کو ذکر کرکے انہیں اللہ کی طرف سے کسی ناگہانی عذاب(موت،قیامت او ردیگر مصائب) سے ڈرایا گیا ہے۔
o جیسے یہ کہ جب انہیں اللہ سے ڈرنے کو کہا جائے کہ اپنے کئے پر نادم ہوجاؤ، ان سے توبہ کرو تاکہ اللہ کی رحمت کے مستحق ٹھہرو تووہ منہ موڑ لیتے ہیں۔
o اور جب ان سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا کہا جائے توپلٹ کر جواب دیتے ہیں کہ تمہیں ان کی فکر کیوں ہے؟ اگر اللہ چاہتا تو انہیں بھی دے دیا ہوتا ۔
o آیت48 اور اس کے بعد کی آیتوں میں اس قیامت کے وقوع کی منظر کشی کی گئی ہے جس کے بارے میں مشرکین شک وشبہہ میں مبتلا تھے ۔
o واضح کیا گیا کہ قیامت اچانک آجائے گی ۔وہ غفلت کی زندگی میں ہوں گے کہ پہلی بار ان پر صور پھونکا جائے گا۔ صور پھونکے جانے کے بعد نہ کسی کو وصیت کا موقع ملے گا او ر اپنے اہل کے پاس واپس جا سکے گا۔
o اور جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو سارے لوگ اپنی جائے مرقد سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔
o آیت نمبر54سے 65تک میں قیامت کے وقوع کی منظر کشی کے بعد قیامت کے دن کے بعض بعض مناظر کی تصویر کھینچی گئی ہے۔
o پہلے نیک بندوں کے انجامِ خیر کا ذکر ہے کہ اس دن اہل ایمان اپنی دلچسپیوں میں مگن ہوں گے، وہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ ہشاش وبشاش اور ہر قسم کی جسمانی وروحانی لذتوں سے سرفراز ہوں گے ۔
o پھر کافروں کی بد حالی کا بیان ہے کہ اولا تومجرموں کو ڈانٹ پلاتے ہوئے اہل جنت سے انہیں علحدہ علحدہ گروہوں میں بانٹ دیا جائے گا۔ پھر یہ کہتے ہوئے جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ "لوگو! تمہیں یہ بتلا کر شیطان کی پیروی سے روکا گیا تھا کہ یہ تمہارا کھلا دشمن ہے ، لہذا اس سے بچنا اور اللہ کی عبادت سے منہ نہ موڑنا”، لیکن تم لوگوں نے عقل سے کام نہ لیا اور شہوات کے پیچھے پڑ کے نادانی اور بے عقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شیطان کے دھوکے میں آگئے۔
o کفار کی مزید رسوائیوں کا ذکر کرتے ہوئے ا س منظر کا بھی بیان ہے کہ محشر میں جب کافر ومنافق اپنے اعمال بد سے انکاری ہوں گے اور اپنے نامہ اعمال میں تحریر کی ہوئی چیزوں کو درست نہ مانیں گے تو اللہ تعالی ان کے منہ اور زبان پر مہر لگا کر خود ان کے ہی ہاتھ اور پیر سے ان کے خلاف گواہی پیش کرےگا ۔
o 66- 67 آیتوں میں مکہ کے مشرکین کو مزید دھمکی دی ہے کہ اگر اللہ تعالی نے تمہیں موقع دیا ہے تو اس سے فائدہ اٹھا لو ،ہم نے تمہیں یہ آنکھیں دی ہیں اگر ہم چاہتے تو تمہاری آنکھیں بے نور کر دیتے،ہم نے تمہیں قوت دی ہے، اگر ہم چاہتے توکفر و شرک کے عوض تمہیں تمہاری جگہ پر مسخ کردیتے کہ تم چل پھر نہ سکتے، لیکن یہ اللہ کا حلم ہے کہ اس نے تمہیں مہلت دی ہوئی ہے۔
o اسی طرح تم دیکھو کہ اللہ تعالی کس طرح تمہیں زندگی کے مختلف مراحل سے گزار کر بوڑھا او ر کمزور کر دیتا ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ موت کے بعد تمہیں دوبارہ پیدا کیا جائے گا ۔
o آیت نمبر 69اور 70ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالی نے اپنے نبی پر لگائے گئے اس الزام کی تردید کی ہے کہ جو مشرکین آپ پر یہ تہمت لگاتے تھے کہ آپ ایک ماہر شاعر ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ قرآن شعر نہیں ہے او رنہ ہی ہمارے نبی کو شعر گوئی کا فن آتا ہے ۔بلکہ یہ قرآن کی شکل میں لوگوں کے لئے ایک نصیحت ہے تاکہ جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو اسے آگاہ کرے اور جو کافر اور مردہ دل ہو اسے عذاب سے ڈرائے۔
o آیت71تا76میں اللہ تعالی نے کفار کو اپنی بعض نعمتیں یاد دلا کرانہیں توحید کی طرف دعوت دی ہے اور باطل معبودوں کی لاچاری کا ذکر کرکے انہیں متنبہ کیا ہے۔
o اللہ نے فرمایا کہ ہم نے مشرکوں کے لئے بلا شرکت غیر چوپائے بنائے او رپھر انہیں ان کے تابع فرمان بنایا کہ جسے چاہیں سواری کے لئے استعمال کریں او ر جسے چاہیں دودھ کے لئے او ر جسے چاہیں گوشت کے لئے۔ لیکن یہ لوگ ان جانوروں کے خالق کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کے پیچھے لگے ہیں جو ان کے نفع نقصان کے مالک نہیں ہیں او روہ قیامت کےدن ان کے خلاف فوج کی شکل اختیار کر لیں گے ۔
o سورت کے خاتمے پر اللہ تعالی نے اس موضوع کو دوبارہ بیان کیا جو اس سورت کا بنیادی موضوع ہے یعنی موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا اور سزا وجزا کا معاملہ۔ اسے ایک مباحثے کی شکل میں پیش کرکے یہ واضح کیا کہ جو رب انسان کوایک نطفے سے پیدا کر سکتا ہے ،جو رب سبز درخت سے آگ کے انگارے اور شعلے پیدا کر سکتا ہے،جو رب آسمان و زمین جیسی عظیم مخلوقات کو پیدا کر سکتا ہے کیا وہ انسان کو دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا ؟کیوں نہیں ،وہ ضرور پیدا کرے گا۔کیونکہ اس کی شان تو یہ ہے کہ کسی بھی عظیم سے عظیم چیز پید کرنے کے لئے اس کے لفظ "کن” کہنے کی دیری ہوتی ہے۔” إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (82) فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (83) ۔ "وہ تو جب کسی چیز کو ارادہ کرتا ہے تو اس کا کام بس یہ ہے کہ اسے حکم دے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے، پاک ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے ، اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو”۔
سورت الصافات
یہ سورت بھی مکی ہے۔
مکی سورتوں کی طرح اس سورت میں بھی عقیدہ توحید و رسالت او رآخرت سے متعلق گفتگو کی گئی ہے،اور ان عقائد کو مختلف انداز سے مدلل کیا گیا ہے۔
o ابتدائی پانچ آیتوں میں فرشتوں کی تین صفات کی قسم کھائی گئی ہے:صف بستہ ہیں (عبادت کے لئے)، ڈانٹنے والے اور روک لگانے والے ہیں، او ر ذکر و تلاوت کرنے والے ۔ ایسے فرشتوں کی قسم کھا کا کر توحید کو بیان کیا کہ ” إِنَّ إِلَهَكُمْ لَوَاحِدٌ (4)”یقینا تمہارا معبود ایک ہی ہے۔
o یہ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ آسمان و زمین اور مشرق و مغرب کا رب ہے۔
o آیت6تا10میں کفار کے اس غلط عقیدے کی تردید ہے کہ جنوں کو بھی اللہ کی ربوبیت میں کچھ اختیار حاصل ہے۔
ایسا ہرگز نہیں، بلکہ وہ تو اللہ کے دربار سے بھگائے ہوئے ہیں۔اور اگر ان میں سے کوئی کچھ سننے کی کوشش بھی کرتا ہے تو شہاب ثاقب(ایسے شعلے جو ان کا تعاقب کریں) ان کے انتظار میں رہتے ہیں۔
o آیت11تا18میں عقیدہ آخرت کا بیان ہے کیونکہ مکہ کے لوگ اسے بعید سمجھ رہے تھے ، اسی بنیاد پر رسول کا مذاق اڑا رہے تھے او رمختلف قسم کے حیلوں سے اسے رد کرنا چاہتے تھے ۔اس کے جواب میں اللہ تعالی نے فرمایا :” قُلْ نَعَمْ وَأَنْتُمْ دَاخِرُونَ (18) "ا ٓپ کہہ دیجئے ہاں یہ سب کچھ ہوگا او رتم عاجز ہو کر پیش ہوگے۔
o آیت نمبر19سے 39تک حشر و نشر کے کچھ واقعات کا ذکر ہے؛
o قیامت اچانک آ جائے گی۔ صرف ایک ڈانٹ (صور پھونکنے )کی دیر ہے کہ قیامت کے ہولناک مناظر سامنے آجائیں گے۔ آیت:19
o اس دن ظالموں ، ان کے معبودوں او ران کا ساتھ دینے والوں سب کو جمع کیا جائے گا۔ آیت :22
o پھر انہیں جہنم کی طرف حیوانوں کی طرح ہانک کے لے جایا جائے گا۔آیت 23
o جہنم میں ڈالنے سے قبل انہیں حساب کے لئے روکا جائے گا۔آیت:24
o اور پھر اس جھگڑے کا ذکر ہے جو قیامت کے دن عابد او ر معبود کے درمیان ہونے والا ہے۔عابد اور تابع کہیں گے کہ تم لوگوں نے ہمیں دین کے نام پر دھوکہ دیا ،لیکن باطل معبود اور سردار کہیں گے کہ اس میں ہماری کوئی غلطی نہیں ہے ۔ حقیقت یہ کہ تم خود ہی سرکشی پر آمادہ تھے اور اپنی مرضی سے گمراہ ہوئےہو۔آیت:27-32
o آخر وہ اس حقیقت کا اعتراف کرلیں گے کہ انہیں اپنے کئے پر افسوس ہے اور وہ خود مان لیں گے کہ ہم اسی لائق تھے،لہذاتابع ومتبوع ہر ایک عذاب میں برابرکے شریک ہونگے۔آیت:33، 34
o آیت نمبر 35-37 میں ان کے عذاب میں جانے کی سب سے اہم وجہ یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ کلمہ ” لا اله الا الله و محمد رسول الله” کا حق ادا نہیں کیا ، بلکہ "لا اله الا الله” کی دعوت کا مقابلہ تکبرسے کیا اور ” محمد رسول الله” کا مقابلہ اپنے معبودوں پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے نبی کو جھٹلاکر اور اسے شاعر ومجنون قرار دیکر کیا۔ إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ (35) وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُو آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَجْنُونٍ (36) "یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے کہا جاتاکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے ۔اور کہتےتھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں۔
o آیت نمبر40سے 61تک اہل جنت کی نعمتوں کا ذکر ہے۔ ظالموں کے بر خلاف اللہ کے نیک بندوں کو جنت میں ہر قسم کی مادی ومعنوی نعمتیں ملیں گی۔ جیسے مختلف قسم کے میوے ،پینے کے لئے صاف وشفاف اور لذیذ شراب اور بڑی بڑی آنکھوں والی خوبصورت حوریں، وغیرہ۔
o نیز جنت میں بھی ساتھیوں کا ایک ساتھ مل بیٹھنا اور دنیا کے واقعات یاد کرکے ایک دوسرے کو سنانا۔
o اسی ضمن میں دو ساتھیوں کی مثال بیان ہوئی ہے،جن میں سے ایک مومن اور تابعدار تھا او ردوسرا کافر و نا فرمان تھا۔ نیک ساتھی جب جنت میں چلا جائے گا تو اپنے اس ساتھی کویاد کرے گا جو دنیا میں اس کا مذاق اڑاتا تھا اور مرنے اور گل سڑ جانے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کو فرسودہ خیالی کہتا تھا ، مومن بندہ اپنے جنتی ساتھیوں سے اس کا ذکر کرے گا کہ کیا آپ لوگ پسند کریں گے کہ ذرا جہنم میں جھانک کر دیکھیں ، شاید یہ باتیں کہنے والا مجھے وہاں نظر آجائے ، چنانچہ جھانکنے پر وہ جہنم کے وسط میں نظر آئے گا ، اسے دیکھتے ہی یہ جنتی کہے گا کہ "تو مجھے بھی گمراہ کرکے ہلاکت میں ڈالنے لگا تھا لیکن مجھ پر تو میرے رب کا یہ کرم ہوا کہ میں تیرے بہکاوے میں نہ آسکا۔
o اسے دیکھتے ہی جنتیوں کے دل میں خوشی ورشک کا جذبہ ابھرے گا اور وہ بول پڑیں گے”اب تو ہم کو دوبارہ موت آنے والی نہیں ہے اور نہ ہی یہ نعمتیں زائل ہونے والی ہیں، اللہ کا شکر ہے ہم دنیا کی جھمبیلوں سے بھی بچ گئے اور جہنم کے عذاب سے بھی نجات مل گئی۔ یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے اور ایسی ہی کامیابی کے لئے کوششیں ہونی چاہئے”۔
o آیت نمبر62سے 74تک جنت کی نعمتوں کے بیان کے بعد وعظ و تنبیہ کے اسلوب میں جہنم کے بعض عذابوں کا ذکر ہے کہ آباء واجداد کی تقلید میں پڑ کر اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کا طریقہ نہ اپناؤ۔
o چنانچہ کہا گیاکہ یہ بتلاؤ ! جنت کی مذکورہ نعمتیں زیادہ بہتر ہیں یا کہ زقوم کاوہ درخت ہےجو جہنم کی تہہ سے نکلتا ہے، جسے ہم نے ظالموں کے لئے بطور آزمائش کے پیدا کیا ہے ۔ وہ دیکھنے میں بھی اتنا قبیح ہے کہ اس کے خوشے شیطان کے سر جیسے ہیں ۔ او ر یہی درخت جہنمیوں کی غذا بنے گا، پھر اس کے کھانے سے جہنمیوں کے پیٹ بوجھل ہوجائیں گے اور جب پانی طلب کریں گے تو پینے کے لئے گرم اور کھولتا ہواپانی دیا جائے گا۔ یہ بدلہ ایسے لوگوں کا ہے جن کے پاس ہماری طرف سے ڈرانے والے آئے لیکن وہ لوگ اپنے باپ دادا کے دین سے چمٹے رہے ۔
o آیت نمبر75سے 148تک تاریخی شہادت کےلئےمتعددانبیاء(نوح،ابراہیم واسماعیل، اسحاق،موسی و ہارون،الیاس و لوط اور یونس علیہم الصلاۃ والسلام ) کے قصے بیان ہوئے ہیں، جن سے یہ سبق ملتا ہے کہ انبیاء کی مخالفت او ران کی دعوت کے سامنے عناد و تکبر کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ یہ تاریخِ بشریت میں چلتا آیا ہے۔
o اس سورت میں تین نبیوں کے قصے کی بعض وہ تفاصیل بیان ہوئی ہیں جو کسی دوسری سورت میں بیان نہیں ہوئی ہیں؛حضرت ابراہیم کے بیٹے کو ذبح کرنے کا قصہ، حضرت الیاس کی قوم کا قصہ او ر حضرت یونس علیہ السلام کے قصے کی تفصیل ۔
o ان قصوں میں دوسری اہم بات یہ دہرائی گئی ہے کہ تقریبا ہر نبی کے قصے کا خاتمہ اس نبی او راس کے ساتھیوں کی نجات اور ان کی قوموں کی ہلاکت پر ہوا ہے۔ اسی لئے بطور عبرت یہ آیت بار بار دہرائی گئی ہے:إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (80) إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ (81)۔”ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلے دیتے ہیں ، اور وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھا”۔
o سب سے طویل قصہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہے جس میں یہ وضاحت ہے کہ انہیں اللہ کا خلیل ہونے کا مقام حاصل ہوا تو کیوں ہوا؟ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ایمان،صبر،اطاعت او رحکم الہی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا جوسبق دیا ،ا س کی مثال کسی اور نبی کے یہاں نہیں ملتی۔
o اولا- قوم کے ساتھ بحث ومباحثہ ، ان کے بتوں کو توڑنے کی دھمکی اور اور پھر اس دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کا ذکر ہے، جس کی وجہ سے قوم نے آگ میں جلا دینا چاہا لیکن اللہ نے بچالیا۔
o ثانیا- دوسری قربانی یہ کہ اپنے ماں باپ،خاندان اور علاقے کو خیر باد کہہ کر اللہ کے لئےہجرت کر گئے۔
o ثالثا – بڑی دعاؤں کے بعدجب اللہ تعالی اسماعیل جیسا ہونہار بیٹا عطا کیا تو صرف ایک خواب کی بنیاد پر اپنے اس اکلوتے اور بڑھاپے کے سہارے کو ذبح کر دینے کے لئے تیار ہو گئے ۔
ان تمام آزمائشوں میں کامیابی کے بعدآپ کو اللہ کے خلیل ہونے کا تحفہ ملتا ہے۔
o اسی لئے اللہ تعالی فرمایا: إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ (106) "بلا شبہہ یہ کھلا امتحان تھا "( جس میں تو سرخ رو رہا)
o اس آخری عظیم قربانی کے عوض ایک اور بیٹے حضرت اسحاق کی خوشخبری کا ذکر ہےاور ان کی نسل میں نبوت کا سلسلہ چلنے کی طرف اشارہ ہے۔ آیت:112، 113
o پھر اس سورت میں مذکور تیسرے قصے یعنی حضرت موسی وہارون علیہما السلام کا مختصراً ذکر ہے کہ اللہ تعالی نے کس طرح ان دونوں نبیوں اور بنو اسرائیل کو بڑے دکھ یعنی فرعون اور اس کی ظالم قوم سے نجات دی۔
o چوتھا قصہ حضرت الیاس علیہ السلام کا ہے۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے ان کے سامنے اللہ کی توحید کی دعوت پیش کی اور اللہ تعالی سے ڈرنے کی تلقین کی ، قوم کو سمجھایا کہ جس بعل نامی بت کوتم پوجتے ہو وہ تو ایک مجبور چیز ہے ۔لیکن یہ کس قدر ظلم کی بات کہ اللہ تعالی جو سب سے بہتر خالق ہے ،اسے چھوڑ کر تم اس مجبور اور عاجز مخلوق کی عبادت کرتے ہو۔ لیکن قوم نے ایک نہ مانی او ر حضرت الیاس کو جھٹلانے پر اڑے رہے، جس کے عوض انہیں جہنم کی سزا بھگتنی پڑی۔
o حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ اس سورت کا آخری قصہ ہے جس میں ان کا اپنی قوم سے ناراض ہوکر دور جانے،کشتی پر سوار ہونے،پھر سمندر میں ڈال دئیے جانے او رپھر مچھلی کے نگل جانے کا تفصیلی ذکر ہے۔
o نیز اللہ تعالی نے کس طرح انہیں مچھلی کے پیٹ سے نکالا،ان کی حفاظت کی ، پھر وہاں سے واپس قوم کی طرف آنے کی تفصیل ہے۔اس قصے میں عبرت کےدو پہلو بہت اہم ہیں:
1) اللہ تعالی نے فرمایا :” فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ (143) لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ (144) "اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے”۔گویا عبادت کا پابند رہنا،تسبیح و ذکر کا اہتمام کرنا، پھر مشکل وقت میں استغفار کرنا، یہ اللہ کی طرف سے مدد کا سبب ہے۔
2) حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں کہا گیا کہ ہم نے انہیں ایک لاکھ بلکہ اس سے زیادہ لوگوں کی طرف بھیجا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آبادی کی کثرت یا بڑے شہروں کا وجود یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
o آیت نمبر150سے 166تک توحید کا بیان او ر شرک کی تردید ہے۔
o مشرکین کا عقیدہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ نیزان کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ جنوں کی سردار زادیاں فرشتوں کی مائیں ہیں ۔
o اس عقیدے کی تردید کی گئی ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا” وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ (158) سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ (159)۔ ” اور ان لوگوں نے تو اللہ کے اور جنات کے درمیان قرابت داری ٹھہرائی ہے ، اور حالانکہ جنات کو معلوم ہے کہ (اس عقیدے کے حامل) لوگ (عذاب کے سامنے ) پیش کئے جائیں گے، جو کچھ یہ بیان کر رہے ہیں اللہ تعا اس سے پاک ہے”۔
o آیت 160- 163 میں اوپر گمراہ اور جہنم میں حاضر ہونے والوں سے اللہ کے مخلص بندوں کو مستثنی کیا گیا ہے اور یہ واضح کیا گیا کہ تم اور اور تمہارے باطل معبود کسی کو گمراہ کرنے پر قادر نہیں ہیں، تمہارے بہکاوے میں تو وہی آتے ہیں جن کی قسمت میں بدبختی لکھ دی گئی ہے۔
o آیت:164- 166 میں فرشتوں کی زبانی ان کی عبدیت(غلامی) اور اللہ کے سامنے عاجزی کا ذکر ہے اور اس کے تین کا ذکر ہوا ہے۔
1) فرشتے کہتے ہیں کہ اولا تو ہمارے لئے ایک حد ہے ہم اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے ۔
2) ثانیا ہم اپنے اپنے مقام پر اللہ کی عبادت بہت ہی منظم طریقےسے کرتے ہیں ۔
3) ثالثا ہم سب ہمہ وقت اللہ کی تسبیح وپاکی بیان کرنے میں مشغول رہتے ہیں، ہماری مثال اللہ کے تابعدار اہل کاروں کی ہے ۔
o سورت کے آخر میں کفار کو ان کا وہ وعدہ یاد دلایا گیا ہے جو نبی کریمﷺ کی آمد سے قبل وہ کیا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس اللہ کی کتاب اوراس کا رسول آیا تو ہم اس پر ایمان لائیں گے اور اس پر عمل کریں گے ،لیکن جب رسول اللہ ﷺ آگئے ہیں تواب ان کی تکذیب کر رہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ رسولوں کی مدد کرنے کا ہمارا وعدہ ہے اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہے گا ، جس کے نتیجے میں یہ ذلیل و خوار ہو کر عذاب الہی کا شکار ہوں گے۔آیت: 171- 173
o آیت 174 -179 میں نبی ﷺ اور مسلمانوں کو صبر کی تلقین اور کفار کی زیادتیوں اور مطالبات پر جلدی نہ کرنے کی تلقین کی ہے کہ اگر وہ اپنی ضد وعناد پر عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے ، عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور ان کو بھی معلوم ہوجائے گا کہ ہمارا عذاب جس قوم پر صبح کے وقت پڑتا ہے وہ صبح ان کے لئے بڑی بری صبح ہوتی ہے ۔
o پھر سورت کا خاتمہ چند خوبصورت اور معنی خیز کلمات پر ہوا ہے۔ (سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ*وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ*وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔” پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت واﻻ ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں۔ پیغمبروں پر سلام ہے۔ اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے”۔
بلکہ ان کلمات میں اس سورت کے پورے مضون کا خلاصہ بیان ہو گیا ہے،یعنی پہلی آیت میں اللہ کی توحید کا بیان ہے ، دوسری آیت میں رسالت کا ثبوت جس کا ذکر اس سورت میں خصوصا ہوا ہے۔ او ر آخری آیت میں بطور "مسک الختام” اللہ کی حمد کا ذکر ہے۔
سورت ص:
یہ سورت بھی مکی ہے۔
سورت کا موضوع عقیدہ ہے۔خصوصا عقیدہ رسالت،بعث و جزاء او ر قرآن کی تصدیق ۔
o ابتدائی آیات میں اللہ تعالی نے قرآن مجید ،جو عزت و شرف کا سر چشمہ ،ہدایت و نصیحت کا خزانہ اور ہر قسم کے احکام شریعت کی دستاویز ہے،اس کی قسم کھا کر اس کے حق ہونے کو او ر اپنے رسول کی صداقت کو واضح فرمایا ہے۔
o حق کے مقابلے میں مشرکین کے تکبر و عناد کا ذکر ہے کہ وہ محض جھوٹی عزتِ نفس اور اللہ کےرسول مخالفت میں اس عظیم کتاب اور اس کے لانے والےکوجھٹلانے پر اڑے ہیں۔
o نیز مشرکین کو اس بات پر تعجب تھا کہ محمد ﷺ جیسے ایک یتیم ، مال و دولت اور سرداری سے محروم شخص کے حصے میں نبوت کیسے آ گئی؟ اور اس پربھی تعجب کہ تمام معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک ہی معبود کی پوجا کیسے کی جائے؟ ۔
o اس کا جواب یہ دیا گیا کہ ان کی یہ باتیں محض کبر وعناد اور بے دلیل ہیں، انہیں یہ خبر نہیں کہ جب وہ اللہ کی گرفت میں آجائیں گے تو یہ معبود ان کے کسی کام نہ آئیں گے۔
o آیت نمبر12سے 19تک بعض مشرک اور سرکش قوموں کا ذکر ہے۔جیسے قوم نوح،قوم عاد،فرعون او رثموداور قوم لوط وغیرہ، ان کا حوالہ دے کر قریش کے سرداروں کو خبر دارکیا جا رہا ہے کہ ان لوگوں نے بھی اپنے اپنے وقت کے رسولوں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا تھا،بالآخر وہ اس دنیا میں رسوا اور تباہ ہوکر اپنے کیفر کردار کو پہنچ گئے۔
o آیت نمبر17سے نبی ﷺ کو صبر کی تلقین کی گئی ہے او ر گزشتہ انبیاء علیہم السلام کا حوالہ دے کر آپ کوتسلی دی جا رہی ہے۔
o آیت نمبر17سے 40تک حضرت داود اور حضرت سلیمان علیہما السلام کا ذکر خیر کر کے نبی ﷺ کو یہ درس دیا جا رہا ہے کہ یہ دونوں نبی جنہیں ہم نے نبوت کے ساتھ ساتھ حکومت بھی دی اور انسانوں پر ہی حکومت نہیں دی بلکہ پہاڑوں،ہواؤں او رجنوں کو ان کےتابعِ فرمان کردیا ،اس سب کے باوجود انہیں بھی آزمائشوں کا سانا کرنا پڑا، جس پر وہ صابر و شاکر رہے،کبھی اترائے نہیں۔لہذا آپ بھی صبر کیجئے۔
o سب سے پہلے حضرت داود علیہ السلام کا ذکر خیر ہے ، اوران سے متعلق تین موضوع بیان ہوئے ہیں۔
1) حضرت داود کی متعددصفات کا ذکر ۔ جیسے 1- صبر کے پیکر تھے۔ 2- عبودیت کے مظہر تھے، 3- قوت وعزیمت کا مالک تھے ۔ 4- اس قوت کی وجہ یہ تھی کہ وہ "اواب” تھے۔یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے والے۔ 5- 6- پہاڑ اورپرندے آپ کی سر کے ساتھ سر ملا کر اللہ کی تسبیح کرتے ۔ 7- قوت وملک عطا تھی۔ 8- حکمت سے نوازے گئے تھے۔ 9- دوباہم جھگڑنے والوں میں فیصلے کی عمدہ قدرت حاصل تھی۔ تفسیر المنیر 23/183- 185
2) مقدمات میں فیصلے کی صلاحیت اوراستدلال وبیان کی قوت کے مالک تھے۔
o مقدمات میں فیصلے کی خوبی سے متعلق یہاں ایک قصے کا ذکر ہےکہ حضرت داود علیہ السلام محراب (عبادت کے لئے مخصوص کمرہ) میں مشغولِ عبادت تھے کہ عقبی دروازے سے دو شخص اپنا مقدمہ لے کر حضرت داود علیہ السلام کسے سامنے حاضر ہوگئے۔ ان کے اس اچانک اور غیر معہود طریقے سے داخل ہوکر سامنے کھڑے ہوجانے سے حضرت داود خوف زدہ ہوئے کہ یہ کوئی قاتل تو نہیں ہیں ۔لیکن ان دونوں نے کہا : آپ گھبرائیں نہیں ، تسلی رکھیں، اصل بات یہ ہے کہ ہمارے درمیان جھگڑا ہے جس کا فیصلہ کروانے آئے ہیں، لہذا آپ سے گزارش ہے کہ آپ حق پر مبنی ایسا فیصلہ فرمائیں جس میں کسی کی طرفداری نہ ہو اور ہمیں صحیح راستہ معلوم ہوجائے۔ معاملہ یہ ہےکہ یہ میرا( دینی) بھائی یا شریک کاروبار ہے ، اس کے پاس 99 دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے ۔ اب یہ مجھ پر زور دے رہا ہے کہ یہ ایک دنبی بھی اس کو دے دوں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: تیری دنبی کو اس کا اپنی دنبیوں سےملانے کی کوشش تیرے اوپر ظلم ہے،اور انسانوں میں یہ کوتاہی عام ہے کہ نیک لوگوں اور اہل ایمان کو چھوڑ کر ایک شریک دوسرے شریک پر ظلم کرتا آیاہے ۔
o اس جگہ پہنچ کر اللہ تعالی نے یہ فرمایا کہ داود سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے۔ پھر تو وہ اپنے رب سے استغفارکرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے سجدے میں گر پڑے۔
یہاں یہ چیز قابل غور ہے اور تفسیر کےمشکل مقامات میں سے ہے کہ حضرت داود علیہ السلام کی آزمائش کیا تھی؟ اس سلسلے میں مختلف اقوال ملتےہیں، لیکن کسی قول پر کوئی صحیح دلیل نہیں ہے ۔ لہذا ہمارے لئے خاموشی ہی بہتر ہے۔ دیکھئے تفسیر احسن البیان ص: 1278
3) سوم – حضرت داود علیہ السلام کو زمیں میں خلافت کا ذکر ہے،خلافت کے اصول کی طرف رہنمائی ہے ، اس بارے لوگوں کی کوتاہیوں کے سبب کا ذکر ہے اور جو خلافت کا صحیح حق نہیں ادا کرتا انہیں سخت عذاب کی دھمکی ہے ۔
o آیت 26 میں ضمنا قیامت کا ذکر آیا ہے، اسی لئے آیت 27-29 میں اس کی تاکید اور اس کی دلیل کا ذکر ہے۔
o اولا– یہ کہ آسمان وزمین سمیت ساری کائنات کوئی بے مقصد ، بچوں کا کھیل اور اندھیر نگری نہیں ہے، بلکہ ان کی تخلیق ایک خاص مقصد کے لئے ہے جس کا ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ جس کی سب سے واضح دلیل یہ ہے کہ کوئی بھی سمجھدار آدمی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ اگر وہ اپنی ملکیت کسی کے حوالے کرتا ہے تو اس پر اس سے باز پرس بھی کرتا ہے۔
o لہذا جب اللہ تعا لی نےاتنی بڑی کائنات بنائی ،انسانوں کو اس میں بسایا اور ہر قسم کی نعمتوں کو فراہم کیا تو اس پر باز پرس بھی کرے گا ۔
o ثانیا – اگر قیامت اور کوئی یوم حساب نہ ہو تو گویا نیک و بد یکساں ہوجائیں ،تو کیا تمہارے تصور میں یہ بات معقول اور اطمینان بخش ہے کہ نیک انسان کو اس کی نیکی کا بدلہ اور بد کو اس کی بدی کا بدلہ نہ ملے؟ ظاہر بات ہے کہ جواب نفی میں ہوگا ۔ لہذا وہ دن قیامت ہے جس کا آنا ضروری ہے۔
o ثالثا- اس حقیقت کی یا دہانی کے لئے ہم نے یہ کتاب اپنے رسول پر نازل کی ہے تا کہ اہل دانش اس پر غور کریں اور اس سے عبرت حاصل کریں ۔
o آیت 30 سے حضرت سلیمان کا ذکر خیر شروع ہوتا ہے اور ان سے متعلق دو واقعے بیان ہوئے ہیں۔
o پہلا واقعہ قرآن مجید میں صرف اسی ایک جگہ بیان ہوا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی موقعہ پر حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے پچھلے پہر معائنہ کے لئے ان کے سامنے گھوڑے پیش کئے گئے ، حضرت سلیمان علیہ السلام ان کے معائنے میں اس قدر مشغول ہوگئے کہ ان کی عصر کی نماز یا عصر کے وقت کا وظیفہ فوت ہوگیا اور سورج ڈوب گیا۔ اس پر انہیں سخت صدمہ ہوا اور کہنے لگے کہ مجھے یہ اعتراف ہے کہ میں گھوڑوں کی محبت میں اس قدر کھوگیا کہ سورج ڈوب گیا اور ہماری عصر کی نماز جاتی رہی۔ لہذا اس کی تلافی کے لئے ان گھوڑوں کو واپس لانے کا حکم دیا اور تمام کو اللہ کی راہ میں ذبح کردیا۔
o دوسرا قصہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی آزمائش کا ہے جس میں پورا اترنے کے بعد اللہ تعالی نے انہیں وہ حکومت عطا فرمائی جو کسی اور نبی یا بادشاہ کو نہیں ملی۔ یعنی ہوا کی تسخیر اور جنوں اور شیطانوں پر حکومت۔وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ (34) ” اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک جسم ڈال دیا۔ پھر اس نے رجوع کیا”۔
o آیت نمبر41سے 44 تک حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر خیر ہے۔یہ دوسری اور آخری جگہ ہے جہاں حضرت ایوب علیہ السلام کا مختصر ذکر ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی سیرت پر جو روشنی پڑتی ہے وہ مختصرا یہ ہے۔
o حضرت ایوب علیہ السلام بنی اسرائیل کے کثیر المال والعیال نبی تھے، اللہ تعالی نے انہیں سخت آزمائش میں ڈالا کہ ان کے پورے جسم میں ایسی بیماری پیدا ہوگئی کہ قریب وبعید سبھی لوگوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ، ایک بیوی کے علاوہ نہ کوئی ان کا غمگسار رہا اور نہ ہی کوئی خدمتگار۔ مزید یہ کہ اس آزمائش نے بہت طول کھینچا حتی کہ اٹھارہ سال اسی حال میں گزر گئے، لیکن حضرت ایوب علیہ السلام نے اپنے صبر پر قائم رہے، بلکہ ہر حال میں صابر وشاکر رہے۔ اسی مدت میں ان کو معلوم ہوا کہ ان کے دو ساتھی باہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ایوب (علیہ السلام ) نے نعوذ باللہ کوئی بہت بڑا گناہ کیا ہے ،جس کی وجہ سے اللہ تعالی انہیں اتنے دنوں سے اس مصیبت میں مبتلا کیا ہواہے۔ یہ خبر ملتے ہی حضرت ایوب بہت متاثر ہوئے اور گڑگڑا کر اللہ تعالی سے دعا کی اور عرض کیا :” أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ (83)الأنبياء”(میرے پروردگار! )مجھے یہ بیماری لگی ہے اور تو تمام رحم کرنے والوں میں سب سر زیادہ رحم کرنے والا ہے”، نیز فرمایا:” أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ (41)ص ” شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے” ۔بالآخر اٹھارہ سال کی لگاتار آزمائش کے بعد بارگاہ الہی میں دعا قبول ہوجاتی ہے اور حکم ہوتا ہے اٹھو، اور اسی جگہ زمین پر اپنا پیر مارو ، پیر مارنا تھا کہ وہاں سے ڈھنڈے پانی کا چشمہ جاری ہوجاتا ہے۔حضرت ایوب علیہ السلام نے بحکم الہی اس سے غسل فرمایا جس سے ظاہری تمام بیاریاں دور ہوگئیں اور اسی پانی کو نوش فرمایا جس سے اندرونی بیماریاں دور ہوگئیں۔ پھر مزید یہ رحم ہواکہ پہلے سے کہیں زیادہ مال واولاد سے نواز دئے گئے۔
o حضرت ایوب علیہ السلام کے قصے کا دوسرا پہلو یہ بیان ہواہے کہ ایک موقع پر اپنی فرمانبردار بیوی کی کسی بات پر ناراض ہوکر یہ قسم کھا لی کہ اگر اللہ نے مجھے شفا دے دی تو میں تجھے سو کوڑے ماروں گا۔اور جب شفا ملی اور قسم پوری کرنے کا وقت آیا تو یہ بڑی غیر معقول بات تھی کہ جس بیوی نے خدمت کا حق ادا کیا تھا اور رحمت ، شفقت اور احسان کا عظیم مظاہرہ کیا تھا وہ قطعا اس بات کی حقدار نہ تھی کہ اسے سزا دی جائے، لہذا اللہ تعالی نے یہ حکم دیا کہ تہلوں کا ایک ایسا مٹھا لو جس میں سو تیلیاں ہوں اور اس سے ایک دفعہ ماردو ، اس طرح تمہاری قسم پوری ہوجائے گی۔
o آخر میں حضرت ایوب علیہ السلام کے قصے کا اتمام ان پیارے کلمات پر ہوتا ہے : إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ (44) ” سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اسے صابر بندہ پایا، وہ بڑا نیک بندہ تھا اور اپنے رب کی طرف بہت رجوع کرنے والا ہے”۔
o نیز حضرت ایوب کے ذکر میں اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا کہ ان کے قصے میں سچے بندوں اور صاحب عقل لوگوں کے لئے عبرت و نصیحت کی بہت سی باتیں ہیں۔
o 48تک دیگر کچھ انبیاء کا مختصر تذکرہ ہے ،جیسےحضرت ابراہیم و اسحاق،یعقوب و اسماعیل اور یسع اور ذو الکفل علیہم السلام
o آیت49تا61میں یہ وضاحت ہے کہ اس دنیا میں جو دو قسم کے لوگ بس رہے ہیں،ایک رسولوں کے پیروکار جن کا شمار متقین میں ہے اور دوسرے رسولوں کے مخالفین جن کا شمار سرکشوں میں ہے، یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔
o یہ چند انبیاء کے قصے بطور مثال اور تنبیہ کے یہاں بیان کئے گئے ہیں کہ متقین کے لئے جنت اور اس کی نعمتیں ہیں اور سرکشوں کے لئے گرام پانی،پیپ اور طرح طرح کے عذاب والا جہنم ہے ۔
o آیت 62-64 میں اہل باطل کی یہ بات دہرائی گئی ہے کہ پیرو کار ورہنما وہاں باہم دست وگریباں ہوں گے اور ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے ۔ان کا یہ جھگڑنا اور دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانا امر واقع ہے۔ إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ (64)”یقین مانو ! دوزخیوں کا یہ جھگڑا ضرور ہوگا”۔
o آیت65تا70میں دوبارہ وہی موضوع بیان ہوا ہے جس سے سورت کی ابتداء ہوئی تھی یعنی نبی ﷺ کو یہ حکم ہو رہاہے کہ آپ اپنی دعوت توحید پر ثابت قدم رہیں اور ناصحانہ انداز میں لوگوں توحید کی دعوت دیتے رہیں ۔
o اسی طرح لوگوں کو آخرت کے عذاب سے بھی متنبہ کرتے ہیں ، اگر وہ آپ سے اس وقت کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو اس کے جواب میں صرف یہ کہہ دیجئے کہ وہ حقیقت میں ایک عظیم خبر ہے،لیکن مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔
o نیز آپ ان سے یہ بھی کہہ دیجئےکہ ملأ اعلی میں کیا باتیں ہوتی ہیں میں نہیں جانتا اور نہ ہی میں عالم الغیب ہوں،مجھے تو وہی کچھ معلوم ہوتا ہے جس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے،میں تو یہی جانتا ہوں اللہ کی طرف سے مجھے ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔ إِنْ يُوحَى إِلَيَّ إِلَّا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ (70) ” میری طرف فقط یہی وحی آتی ہے کہ میں تو صاف صاف آگاہ کرنے والا ہوں”۔
o آیت71تا85میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش، فرشتوں کو سجدے کا حکم او ر اس بارے میں شیطان کی مخالفت کا ذکر ہے، جس میں عبرت کے کئی پہلوہیں ۔
1) ایک تو حضرت آدم علیہ لاسلام کا پتلا اللہ تعالی نے اپنے دست مبارک سے بنایا۔ جس سے ان کا شرف اور فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ کاش آدمی اپنے اس شرف کی قدر کرتا۔
2) دوسرا پہلو شیطان کا یہ وعدہ ہےکہ "فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ (82) پس تیری عزت کی قسم! میں ضرور بالضرور ان کو گمراہ کردوں گا”۔ اس سے شیطان کی انسان سے دشمنی اور انسان کی اپنے ازلی دشمن سے غفلت کا اندازہ ہوتا ہے۔
3) تیسرا پہلویہ ہے کہ شیطان کے اس وعدے کے باوجود اس نے یہ بھی اقرار کیا کہ اے اللہ !البتہ تیرے مخلص بندوں پر میرا زور نہیں چلے گا۔ اس سے عبادت میں اخلاص کی اہمیت کا پتا چلتا ہے ۔
o سورت کی آخری تین آیتوں میں نبوت کا منصب اور دعوت کا طریقہ کار بیان ہوا ہے اور مکہ کے لوگوں کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ نبی جو دعوی کر رہا ہوں اس کی حقیقت عنقریب واضح ہو جائے گی۔
o تم غور کرو کہ یہ نبی اپنی دعوت میں کس قدر مخلص ہے کہ اللہ کا پیغام تم تک پہنچانے پر تم سے کسی قسم کی اجرت کا مطالبہ نہیں کرتا اور نہ ہی اس بارے میں کسی قسم کےتکلف کا قائل ہے۔
o یاد رکھو! یہ قرآن تو تمام جہان والوں کیلئے محض ایک نصیحت ہے اور وہ وقت دور نہیں کہ اس کی بیان کردہ حقائق تمہارے سامنے آجائیں گے۔ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ (87) وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينٍ (88) ” یہ تو ایک نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لئے اور تھوڑی مدت گزرے گی کہ تمہیں اس کا حال خود ہی معلوم ہوجائے گا”۔
سورت الزمر
یہ سورت مکی ہے۔
مکی سورتوں کی طرح اس کا موضوع بھی عقیدہ ہے ،خاص کر توحید خالص ۔
o پہلی تین آیتوں میں قرآن مجید کی اہمیت و فضیلت اور اس کے نزول کا مقصد کا بیان ہے ہوا ہے۔
اہمیت وفضیلت یہ کہ یہ کتاب اللہ عزیز و حکیم کی نازل کردہ ہے، جو سراپا حق بن کر نازل ہوئی ہے۔
نزول کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ۔
اسی ضمن میں مشرکین کی تردید جو وسیلے او ر شفاعت کے نام پر کسی مخلوق، خاص کر اللہ کے نیک بندوں جیسے فرشتوں اور ولیوں وغیرہ کو وسیلہ سمجھ کر پکارتے ہیں۔ "وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى”.”اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیاء بنا رکھے ہیں (اور کہتےہیں)کہ ہم ان کی عبادت اس لئے کرتے ہیں کہ یہ بزرگ اللہ کے نزیکی کے مرتبے تک ہماری رسائی کردیں”۔
o آیت4اور 5میں اس فاسد نظریے کی تردید ہے کہ اللہ تعالی نے کسی کو اپنی اولاد بنایا ہے جسے یہ لوگ وسیلہ سمجھ کر پکارتے ہیں۔ یاد رکھیں فیصلے کا ایک دن متعین ہے جس دن ان کا کفر اور جھوٹ واضح ہو جائے گا۔
o آیت6، ۷ میںاور اللہ تعالی نے خلق و تدبیر میں اپنی قدرت و وحدانیت بیان کی ہےکہ اسی نے کمال حکمت سے رات ودن کا سلسلہ اور سورج وچاند کی گردش متعین فرمائی ہے۔
o اسی طرح اس نے اولا ایک مرد وعورت کے ملاپ سے انسانوں کے نسل بڑھانے کا سلسلہ رکھا، پھر ان کے فائدے کے لئے نر ومادہ آٹھ چوپایوں کو پیدا فرمایا۔ پھر یہ بھی دیکھیں کہ کس طرح تین پردوں(پیٹ، رحم اور مشیمہ ) میں خلق انسانی کو مختلف مراحل سے گزارا ہے ۔ یاد رکھو ! وہی تمہارا رب ہے، حکومت اسی کی ہے اور وہی تمہارا معبود بھی ہے۔
o پھر بطور دھمکی اللہ تعالی نے فرمایا کہ اب فیصلہ تمہارے پاس ہے،اگر تم شکر گزار رہے یعنی ایمان لے آئے او راس کی عبادت میں مخلص رہے تو اللہ تم سے راضی ہوگا اور اگر کفر کیا تو اللہ کو تمہاری کوئی ضرورت نہیں ۔ لیکن یاد رہے کہ اللہ کے ساتھ کفر کی صورت میں تمہارے باطل معبود تمہارے کسی کام نہیں آ سکیں گے۔
o آیت نمبر 8میں توحید کے دلائل بیان کرنے کے ساتھ ساتھ کفر و شرک کرنے والوں کی کیفیت اور ان کا انجام بیان ہوا ہے کہ عموما انسان نا شکرا ہے،جب اسے کسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو بڑے اہتمام اور اخلاص کے ساتھ اللہ کو یاد کرتا ہے ،لیکن جب آسائش میں ہوتا ہے تو اللہ کو بھول کر بہت سےدوسرے معبود بنا لیتا ہے،کسی کو دستگیرسمجھتا ہے ،کوئی گنج بخش ہوجاتا ہے اور کسی کو بندہ نواز کا مقام دے دیتا ہے ۔ یاد رکھو! یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے۔
o آیت نمبر 9میں یہ تقابل پیش کیا گیا ہے کہ اطاعت گزار اور نافرمان ،گنہگار اور نیکوکار اور عالم با عمل اور جاہل دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ہر گز نہیں۔ البتہ اس چیز کو عاقل ہی سمجھ سکتا ہے ۔
o آیت10تا14میں اللہ کے رسول ﷺ کو اللہ تعالی کی طرف سے یہ حکم دیا دیا ہے کہ مسلمانوں کو چند اہم باتوں کی نصیحت و تلقین کریں۔
1) تقو ی اور صبر کی تلقین ۔نیز یہ کہ کسی کی مخالفت ان کے لئے اس دین کے اظہار میں کوتا ہی کا سبب نہ بنے ،خواہ اس کے لئے اپنا ملک اور شہر چھوڑ نا پڑے۔یاد رکھیں کہ اللہ کی زمین (ہجرت کیلئے) بہت وسیع ہے ، اللہ تعالی نے ایسے لوگوں کے لئے بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔
2) عبادت میں اخلاص کی تلقین اور یہ کہ میں خود سب سے پہلے اس پر عامل ہوں۔
3) اللہ کی نافرمانی اور معصیت سے ڈرنے کی تاکید ۔
o اسی ضمن میں مشرکین اور اللہ کےرسول کے مخالفین کو عذاب الیم کی دھمکی دی گئی تاکہ اسے سن کر یہ لوگ اللہ کا خوف کریں۔ انہیں یہ بتلایا گیا ہےکہ تمہارا یہ عمل تمہارے لئے قیامت کے دن بڑے خسارے کا سبب ہے۔
o آیت 17 – 20 میں اس خسارے سے دور رہنے والوں اور ان کی صفات کا ذکر ہے۔ یعنی:
1) جو طاغوت کی عبادت سے پرہیز کرتے ہیں ۔
2) اور اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔
3) وہ اپنی عقل سے کام لیتے ہوئےدین کی پختہ اور محکم باتو ں پر عمل کرتے ہیں۔
اس کے عوض انہیں اللہ کی طرف سے درجات اور بالا خانوں والی جنت کی بشارت ہے۔ لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَعْدَ اللَّهِ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ الْمِيعَادَ (20) ” ہاں وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے بالا خانے ہیں، جن کے اوپر بھی بنے بالاخانے ہیں ، اور ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، رب کا وعدہ اور وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا”۔
o آخرت اور اس کی نعمتوں کے ذکر کے بعد آیت نمبر 21میں دنیا کی بے ثباتی کو ایک مثال سے واضح کیا گیاہے کہ اللہ تعالی بارش نازل کرتا ہے،بارش کا پانی مختلف صورتوں میں زمین میں جمع ہو جاتا ہے،پھر اس سے سبزے اگتے ہیں ،زمین لہلہا اٹھتی ہے اور پھر سوکھ کر لکڑی و بھوس بن جاتی ہے۔یہی مثال دنیا کی ہے کہ وہ بھی بہت جلد فنا سے ہمکنار ہونے والی ہے ، ۔
o لیکن اس سے عبرت وہی حاصل کرتا ہے جو اپنی عقل سے کام لیتا ہے ، اور جن کے دل کو اللہ تعالی نے عبرت حاصل کرنے کے لئےکھول دیا ہو ،البتہ جن کے دل سخت ہیں وہ ہدایت قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
o اسی طرح قرآن کوبھی وہی لوگ قبول کریں گے جن کے دل اللہ کی رحمت سے کھلے ہوں گے۔آیت 21، 22
o آیت نمبر 23 میں اللہ تعالی نے قرآن اور قرآن پر ایمان لانے والوں کی متعدد صفتیں بیان کی ہیں :
1) احسن الحدیث ہے ۔
2) اس کی آیات ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں یعنی ایک مضمون متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔
3) مثانی ہے یعنی حق و ناحق اور عذاب او ر نعمت دونوں کو واضح کر دیتا ہے۔ قصص و واقعات اور موعظ واحکام کو بار بار دہرایا گیا ہے۔
4) جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں ان پر اس کتاب کی تلاوت سےہیبت طاری ہو جاتی ہے ۔
5) ان کے دل اس کتاب کی تلاوت اور اللہ کے ذکر سے نرم او ر مطمئن ہو جاتے ہیں۔
o آیت24تا26میں اللہ تعالی نے آخرت اور قیامت پر ایمان لانے کو دعوت دی ہے جو قرآن و رسول پر ایمان کا تقاضا ہے اور ساتھ ہی پچھلی قوموں کا حوالہ دے کر نبی ﷺ کی مخالفت سے اہل مکہ کو ڈرایا ہے۔
o آیت27تا29میں شرک کے بطلان کو ایک مثال سے واضح کیا گیا ہے ۔
o سب سے پہلے تو بطور تمہید یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ قرآن جو انہی اہل عرب کی زبان میں ہے اور اس کے سمجھنے میں کوئی الجھن نہیں ہے،اس میں ہم نے بہت سی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ اس سے عبرت حاصل کریں۔
o پھر ایک غلام کی مثال دی ہے کہ جس کے متعدد مالک ہوں اور سب کے سب ہی ضدی او ر جھگڑالو ہوں، ان میں سے ہر مالک چاہتا ہے کہ غلام میرا کام جلدی کرے ۔ نیز ہر مالک الگ الگ کام کا حکم دیتا ہے۔ جس پر وہ حیران وششدر رہ جاتا ہے کہ کس کو راضی رکھے اور کس کو ناراض کرے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا غلام ہے جس کا ایک ہی مالک ہے اور وہ بھی صلح پسند ہے۔ کیا دونوں غلام برابر ہو سکتے ہیں؟ہرگز نہیں۔بعینہ یہی مثال ایک مشرک اور موحد ہے کی ہے کہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے ۔
آیت30اور 31میں نبی ﷺ کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ دنیا کی یہ زندگی چند دن کی ہے ،یہاں سے آپ کو بھی جانا ہے اور آپ کے مخالفین کو بھی اور پھر توحید شرک کا یہ قضیہ جس کے بارے میں آپ سے جھگڑا کرتے ہیں ،اسبارے میں اللہ کے حضور فیصلہ ہوگا۔ إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (30) ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ (31)” یقینا خود آپ کو بھی موت کا مزہ چکھنا ہے اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں، پھر قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے” ۔