*تیرہواں پارہ(و ما ابرئ)*

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سلسلہ خلاصہ معانی قرآن مجید
از قلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ
*تیرہواں پارہ(و ما ابرئ)*

تیرہویں پارے کے تین حصے ہیں؛پہلا حصہ سورہ یوسف کی آیت53تا111 تک مشتمل ہے، دوسرا حصہ مکمل سورہ الرعد او ر تیسرا حصہ مکمل سورہ ابراہیم پر مشتمل ہے ۔
o اس پارے کا ابتدائی حصہ حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعے کی تکمیل ہے۔
o حضرت یوسف علیہ السلام جن دنوں جیل میں تھے وہاں کے بادشاہ نے ایک خواب دیکھا تھا ۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بتائی جس کی وجہ سے انہیں رہائی کا پروانہ ملا۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام جیل سے نکلنے کے لئے اس وقت تک تیار نہ ہوئے جب تک بادشاہ سلامت اس بات کی تحقیق نہ کرلیں کہ آخر عورتوں نے اپنے اپنے ہاتھ کیوں کاٹ لئے تھے ، اور یہ بھی واضح کیا کہ میرا رب تو ان کی چالوں سے اچھی طرح واقف ہے۔
o بادشاہ نے جب یہ سنا تو ان عورتوں کو بلوایا اور ان سے حقیقت حال بیان کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس وقت سب عورتوں نے یک زبان ہوکر کہا:”حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ” اللہ کی پناہ! ہم نے ان میں برائی کی کوئی بات نہیں دیکھی”۔ بلکہ خود عزیز مصر کی بیوی حضرت یوسف علیہ لاسلام کی صفائی میں بول پڑی” الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ (51) ” اب حق کھل کر کےسامنے آگیا ، ہاں! میں نے ہی اسے اس کے نفس سے پھسلایاتھا ، وہ تو بالکل سچوں میں سے ہیں”۔
o اس موقع پر حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ یہ سب اس لئے کیا تاکہ اسے معلوم ہو کہ عزیزِ مصر کی عدم موجودگی میں میں نے اس کے میں کوئی خیانت نہیں کی، اور میں کرتا بھی کیوں جبکہ اللہ تعالی خیانت کرنے والوں کو کامیاب نہیں کرتا۔ نیز میں اپنے نفس کو بھی بری قرار نہیں دیتا ،اللہ کی خاص رحمت نہ ہو تو یہ نفس برائی پر ہی ابھارتا ہے۔
o اس کے بعد جب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی زیرکی اور حسن فہمی دیکھی تو انہیں اپنا خاص مقرب بنانا چاہا۔ جس کے لئے حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے یہ پیش کش رکھی۔ لیکن یوسف علیہ السلام نےعزیزِ مصر سے مطالبہ کیا کہ انہیں مالی امور کا عہدہ سونپ دیا جائے،اور وہ اس کے نبھانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ قَالَ اجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ (55)”انہوں نے کہا مجھے اس زمین کے خزانوں پر مقرر کردیں ، میں حفاظت کرنے والا اور باخبر ہوں”۔
o جب یوسف علیہ السلام وزیرِ خوراک کےمنصب پر فائز ہوئے اوران کی زیر نگرانی آسائش کے سات سال جن میں خوب غلہ پیدا ہوا وہ گزر گئے ، پھر وہ سات سال آئے جو خشک سالی کے سال تھے۔
o خشک سالی کے اس زمانے میں جب ہر طرف سے لوگ غلہ حاصل کرنے کے لئے مصر کا قصد کرنے لگے تو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے بھی غلہ حاصل کرنے کے لئے مصر کا رخ کیا۔ جب بھائی حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس آئے تو آپ علیہ السلام نے انہیں پہچان لیا، مگر وہ لوگ آپ کو نہ پہچان سکے۔آیت:58
o یوسف علیہ السلام نے ان کا اکرام کیا او ر روانگی پر ان سےکہا کہ آئندہ جب بھی غلے سے اپنا حصہ لینے آنا ہوتو اپنے اس بھائی کو بھی ضرورساتھ لانا جسے اس بار اپنے ساتھ نہیں لائےہو۔ بلکہ بڑے تاکیدی انداز میں آئندہ غلے کے حصول کو بھائی(بنیابین) کو ساتھ لانے سے مشروط کر دیا۔مزید ان کے ساتھ یہ مہربانی بھی کی کہ ان لوگوں نے غلہ کے عوض جورقم یوسف علیہ السلام کو دی تھی اسے واپس کردیا۔آیت 60 تا 62
o چنانچہ بھائیوں نے واپس جا کراپنے والد یعقوب علیہ السلام سے بھائی کو ساتھ لے جانے پر اصرار کیا ۔
o اولا تو حضرت حضرت یعقوب علیہ السلام نے اجازت دینے سے انکار کیا اور یہ بھی اپنے بیٹوں کی ایک چال سمجھی۔ لیکن چونکہ غلے کی ضرورت تھی اس لئےبادل نخواستہ اجازت دے تو دی، البتہ بعض احتیاط کے پہلووں کو مدنظر رکھنے کی تاکید کی۔جیسے : ایک تو یہ کہ ان سے یہ عہد لیا کہ بنیامین کو ہمارے پاس ضرور پہنچاؤ گے۔ ثانیا یہ کہ سب کے سب بھائی ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہوں۔ کیونکہ اس کے بعض خطرات ہو سکتے ہیں۔آیت 66، 67
o پھر جب وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس آئے تو یوسف علیہ السلام نے حکمت عملی اور تدبیر کے ذریعے اپنے بھائی کو اپنے پاس روک لیا۔جس پر بھائیوں کو پریشانی ہوئی۔ بھائیوں نے بڑی کوشش کی کہ ان میں سے کسی دوسرے کو روک لیا جائے اور ان کے اس بھائی یعنی بنیامین کو چھوڑ دیا جائے ۔لیکن یوسف علیہ السلام نے ان کی درخواست رد کردی۔آیت:70 تا 79
o مایوس ہوکرسب بھائی واپس ہوئے ،لیکن ایک بھائی نے واپس آنے سے انکار کردیا کہ اب باپ کا سامنا کرنے کی میرے اندر سکت نہیں ہے۔
o اس طرح حضرت یعقوب پر آزمائش کا ایک اور دور شروع ہوگیا۔ اب تک حضرت یوسف کا غم اور اب اس کے بھائی کا غم۔ اب تو صورت حال یہ ہوئی کہ غموں سے نڈھال اس بوڑھے باپ کی بینائی بھی جواب دے گئی۔آیت:84
o لیکن انہوں نے صبر اور اللہ سے حسن ظن کا دامن نہیں چھوڑا۔ جس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ انہیں اللہ کی صحیح معرفت حاصل تھی اور اللہ تعالی کے وعدے پر یقین تھا ۔ اسی لئے فرمایا: قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (86) "کہا: میں اپنی بےقراری اپنے غم کی فریاد صرف اللہ کی جناب میں کرتا ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ باتیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے” ۔آیت 85، 86
o اس کے بعد اس بات کا ذکر ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو تاکید کی کہ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی طرف سے مایوس نہ ہونا۔ کیونکہ اللہ کی رحمتوں سے مایوسی کافر قوم کا شیوہ ہے۔آیت:87
o چنانچہ بھائی غلہ حاصل کرنےکی غرض سے دوبارہ یوسف علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور اپنی عاجزی، کم مائگی، دونوں بھائیوں کی گمشدگی کا غم، ان تمام پریشانیوں کا حوالہ دے کر ان سے صدقہ وخیرات ، یا اپنے بھائی بنیامین کی رہائی کی درخواست کرتے ہیں۔ ان کی حالت پررحم کرتے ہوئے چھوٹی سی بحث کے بعدیوسف علیہ السلام نے حقیقت کا اظہار کردیا۔
o بھائیوں کو بڑی شرمندگی ہوئی، لیکن یوسف علیہ لالسلام نے انہیں تسلی دی اور واقعہ کو اس صورت میں لیا جیسے یہ کوئی بڑا مسئلہ تھا ہی نہیں۔
o مختصر یہ کہ جب بھائیوں کوحضرت یوسف علیہ السلام کی حقیقت کا پتہ چلا تو انہوں نےاپنی غلطی کا اعتراف کیا اوران سے معافی مانگی تو حضرت یوسف علیہ السلام نے کمال حسن سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں معاف کر دیا اور فرمایا: لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ (92) ” آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تعالی تمہیں بخشے،وہ سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے”۔
o اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی قمیص دے کر بھائیوں کو اپنے والد کے پاس بھیجا اور سب کو ساتھ لے کر مصر آنے کی دعوت دی ۔
o چنانچہ یوسف علیہ السلام کے بھائی خوشی خوشی حضرت یوسف علیہ السلام کا پیرہن لے کے فلسطین کی طرف روانہ ہوتے ہیں ، ابھی ان کا قافلہ مصر سے رخصت ہی ہواتھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ لاسلام کی خوشبو آنے لگی ۔ آپ نے اس کا ذکر گھر والوں سے کیا، تو گھر والوں نے اسے جنونِ عشق کی وہ وارفتگی قرار دیا جو حضرت یعقوب علیہ لاسلام کو حضرت یوسف سے تھی۔ لیکن تھوڑے عرصے میں حقیقت واشگاف ہوگئ۔
o چنانچہ قافلہ جب فلسطین پہنچا تو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے ان کے پیرہن کو حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھوں پر ڈال دیا تو اللہ تعالی کی طرف سے معجزہ یہ ہوا کہ اللہ کے نبی یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس آگئی۔
o غرض حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے پورے خاندان کے ساتھ مصر کے لئے روانہ ہوگئے۔ جب قافلہ مصر پہنچا تو حضرت یوسف علیہ السلام نے آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا ۔پھر جب والدین اور خاندان کو لیکر شاہی تخت کے پاس پہنچے اور عمائدین حکومت کی مجلس منعقد ہوئی تو حضرت یوسف علیہ السلام نے والدین کی تکریم میں انہیں اپنے تخت پر اونچا بٹھایا۔ پھر کیا تھا کہ سارے حاضرین مجلس جن میں حضرت یوسف علیہ السلام کے ماں ، باپ اور گیارہ بھائی بھی شامل تھے ان کے لئے سجدے میں جھک گئے۔
o اس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کا وہ خوب سچ ثابت ہوا جو انہوں نے اپنے بچپن میں دیکھا تھا ۔
o سورت کی آخری آیات گویا اس پورےواقعےپر تبصرہ ہیں، اور چند باتوں کی وضاحت کی گئی ہے۔
1) اللہ تعالی نے یہ عبرتناک واقعات آپ ﷺ کو بتائے ہیں ،انہیں سن کر چاہئے تو یہ تھا کہ لوگ مسلمان ہو جاتے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے،(اس لئے آپ کو اس پر پریشان نہیں ہونا چاہئے)۔آیت:102 تا 103
2) لوگوں کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ آسمان و زمین کی کتنی ایسی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ گزرتےہیں اور ان کا مشاہدہ کرتے ہیں لیکن ان پر توجہ نہیں دیتے ،بلکہ اکثر لوگ بظاہر ایمان کے باوجود در حقیقت شرک میں پڑے ہوئے ہیں۔آیت: 106
3) آیت 108 میں دعوت دین کے کچھ اہم اصول بیان ہوئے ہیں؛جیسے:
1- دعوت کا منہج بالکل واضح ہو۔
2- دعوت اللہ کی طرف ہو۔
3- دعوت بصیرت (علم و حکمت) کی بنیاد پر ہو۔
4- سب کو دعوت کا کام کرنا چاہئے۔
5- دعوت شرک سے بالکل پاک اور خالص عقیدہ توحید پر مشتمل ہونی چاہئے ۔آیت: 108
4) اللہ تعالی نے ہر قوم میں رسول بھیج کر ان پر حجت قائم کی، البتہ ہر رسول کے ساتھ ہی اس کی قوم نے برا سلوک کیا۔ آیت: 109
5) اللہ تعالی نے اپنے تمام رسولوں کی مدد کی ہے ، اگرچہ اس سے قبل انہیں آزمائش سے دوچار ہونا پڑا ہے۔آیت: 110
6) قرآن میں جو نبیوں کے واقعات بیان ہوئے ہیں انہیں میں سے ایک واقعہ حضرت یوسف علیہ السلام کا بھی ہے۔یہ تمام واقعات کوئی افسانہ نہیں ہیں۔ بلکہ ان کی تصدیق تو پچھلی کتابوں میں بھی موجود ہے ، لہذا ان تمام قصوں سے عبرت حاصل کرنی چاہئے۔

سورت الرعد:
یہ سورت مکی ہے۔
دیگر مکی سورتوں کی طرح اس کا موضوع بھی عقیدہ ہے۔ خصوصا عقیدہ توحید و رسالت۔
اس سورت میں اس بات پر زیادہ زور دیا گیا ہے کہ حق واضح، قوی اور پختہ ہوتا ہے۔جبکہ باطل ضعیف او ر بے ثبات ہوتا ہے۔
o پہلی آیت میں یہ وضاحت ہے کہ اللہ تعالی کی وحدانیت اور نبی ﷺ کی رسالت بالکل واضح مسئلہ ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو کسی پر بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی مشرکین اسے قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
o آیت 2 تا 4 میں عالم علوی سے متعلقہ کائنات کےمتعددحقائق — جیسے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کرنا، سورج اور چاند کو مسخر کرنا اور ہر ایک کا ایک وقت مقررہ تک دوڑنا اور چلنا – اور عالم سفلی سے متعلق کائنات کےمتعدد حقائق — جیسے زمین کا بچھانا، اس پر پہاڑوں کو نصب کرنا ،دریاؤں کا جاری کرنا ،ہرقسم کے پھل اور اس کے جوڑے بنانا وغیرہ۔ اسی طرح یہ زمین اور ان پھلوں کو سیراب کرنے والا پانی ایک، لیکن سب کا رنگ اور ذائقہ مختلف ہوتا ہے – ان دو قسم کی متضاد اشیاء کے ذکر سےایک طرف اللہ کی قدرت اور دوسری طرف آخرت کو ثابت کرنا ہےکہ جو اللہ ان اشیاء کے ایجاد پر قادر ہے وہ آخرت کے قائم کرنے پر بھی قادر ہے ۔
یا جیسے یہ ساری باہم مقابل چیزیں ایک دوسرے کا پتہ دیتی ہیں ایسے ہی دنیا کے مقابلے میں بھی کوئی چیز ہے، اور وہ آخرت ہے۔
اسی لئے ان تینوں آیتوں کے آخر میں اللہ تعالی نےیہ واضح فرمایا کہ ان میں ایمان ویقین رکھنے والوں اور عقل وفکر والوں کے لئے نشایاں ہیں۔
o آیت 5 تا 7 میں آخرت کی زندگی سے متعلق مشرکین کے شبہات کا جواب ہے۔
o ان کو اس بات پر شبہ تھا کہ مرنے کے بعد دوبارہ کیسے اٹھائے جائیں گے؟اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس معاملے میں تم لوگوں نے عقل سے کام نہیں لیا اور نہ ہی اپنے ارد گرد اور اوپر نیچے موجود کائنات میں تفکر کیا ۔ تمہاری مثال اس شخص جیسی ہے جس کی گردن میں طوق ہو ،نہ وہ اپنی گردن اوپر اٹھا سکتا ہے کہ آسمان کو دیکھے اور نہ نیچے جھکا سکتا ہےکہ زمین کو دیکھ سکے۔
یعنی یہ لوگ نہ آسمان میں موجود قدرتی نشانیوں پر غور کرتے ہیں اور نہ ہی زمینی حقائق کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ورنہ جو رب ان سب چیزوں پر قادر ہے وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔
o ان کا دوسرا شبہہ یہ تھا کہ اگر آپ واقعۃً اللہ کے نبی ہیں تو نبیوں کی مخالفت پر آپ جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہیں وہ عذاب ہم پر کیوں نہیں آجاتا؟ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ یہ اللہ کی شان غفران و رحمت کے خلاف ہے کہ کسی قوم کو اس کی طلب پرجلد عذاب دے دے، انہیں سوچنا چاہئے کہ ان سے پہلے دوسری قوموں کی ہلاکت کی خبر ان تک پہنچ چکی ہے،ان سے عبرت لینی چاہئے۔ یاد رکھیں کہ اگر ان سے عبرت حاصل نہ کئے تو اللہ کی پکڑ سے وہ دور نہیں ہیں۔ بلاشبہہ آپ کا رب سخت عذاب والا بھی ہے ۔
o ان کا تیسرا شبہہ یہ تھا کہ "اگر آپ واقعۃً اللہ کے رسول ہیں تو ہم جس قسم کے معجزات کا مطالبہ کررہے ہیں ویسے معجزات آپ کیوں نہیں لاتے”؟ اس جواب یہ دیا گیا کہ معجزہ ظاہر کرنا یہ نبی کا کام نہیں ہے ، یہ صرف اللہ کا کام ہے، وہ جب چاہتا ہے اور جس قسم کے معجزات کو مناسب سمجھتا ہے انہیں ظاہر کردیتا ہے۔آپ تو صرف دیگر انبیاء کی طرح ایک نبی ہیں جنہیں اپنی اپنی قوم کی رہنمائی کے لئے بھیجا جاتا ہے ۔
o آیت 8 تا 13 میں مزید کچھ دیگر کائناتی حقائق اور قدرت کی نشانیوں کا بیان دھمکی آمیز انداز میں ہوا ہے۔چنانچہ شکم مادر کا حوالہ دے کریہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی ہی کے علم میں ہے کہ کس کا حمل کتنے دن کا ہے اور کس کا حمل کامیاب اور کس کا حمل ناکام ہوگا۔ آیت:8
o غیب و شہادت کا علم صرف اسی کے پاس ہے۔آیت:9
o اسی کی طرف سے تم پر نگران فرشتے متعین ہیں ۔آیت:11
o اسی آیت میں یہ بھی وضاحت ہے کہ اللہ جل شانہ کی طرف سے انسانوں کی حفاظت کے لئے فرشتوں کا پہرہ لگا رہتا ہے ، لیکن جب کوئی قوم اللہ کی نعمتوں کا اور اس کی اطاعت چھوڑ کر بد عملی ، بد کرداری اور سر کشی ہی اختیار کرلیتی ہے تو اللہ تعالی بھی اپنا حفاظتی پہرہ اٹھا لیتے ہیں ، پھر اللہ کا قہر و عذاب ان پر آجاتا ہے ، جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں رہتی۔ معارف القرآن 5/183
o مزیدبجلی کی کڑک اور بادل کی گرج بھی۔ ایک طرف یہ سب چیزیں اللہِ واحد کے عجائب قدرت میں سے ہیں اور دوسری طرف اس کی بےشمار نعمتوں کا حصہ ہیں۔ آیت :12و 13
یہ سب اللہ کی نعمتیں ہیں جو انہیں حاصل ہیں، پھر بھی وہ اپنی عقل سے کام لینے کو تیار نہیں ہیں۔
o ان امور کے حوالہ کے بعدآیت 14 تا 16 میں اللہ کے معبود بر حق ہونے کا ذکر ہے اور اس پر بہت زور دیا گیا ہے ۔
o اسی طرح کفار کی بے عقلی کا اظہار ہے اور انہیں اندھوں سے تشبیہ دی گئی ہے کہ انہیں یہ اعتراف ہے کہ اللہ ہی خالق ہے، اور ان کے معبود نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں، پھر بھی تعجب ہے کہ یہ لوگ اللہ واحد و قہار کو چھوڑ کر ان کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں؟۔
o آیت نمبر 17 میں اللہ تعالی نے ایک مثال کے ذریعےحق و باطل کا ایک تقابل پیش کرکے یہ واضح فرمایا ہے کہ بقاحق ہی کو ہے، کیونکہ وہ لوگوں کیلئے مفید ہے اور باطل کو زوال ہے کیونکہ اس میں لوگوں کے لئے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔
حق کی مثال پانی کی ہے اور باطل کی مثال اس کے اوپر جھاگ کی ہے،حق کی مثال سونے اور چاندی کی ہے اور باطل کی مثال سونا چاندی پگھلاتے ہوئے اوپر آنے والی میل کچیل کی ہے ۔
o آیت 18 تا 30 میں رسول کی دعوت کو قبول کرنے والوں کی صفات اور ان پر اللہ کی نعمتوں کا ذکر ہے اور اس کے بر عکس رسول کی دعوت کو رد کرنے والوں کی صفات اور انہیں عذاب دئیے جانے کا ذکر ہے۔
o چنانچہ آیت نمبر 21 اور 22 میں جنتیوں کی تقریبا نو صفات کا ذکر ہے۔
وہ صفات یہ ہیں، 1- اللہ کے عہد کو پورا کرنا، 2-کئے گئے عہد کو نہ توڑنا، 3- جن امور کو جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے، انہیں جوڑنا، یعنی صلہ رحمی وغیرہ کا خصوصی دھیان دینا 4-رب سے ڈرنا۔ 5- حساب سے ڈرنا۔ 6- صبر کرنا۔ 7- نمازقائم کرنا۔ 8- اللہ کے دئے مال سے صدقہ۔ 9- اور برائی کا بدلہ بھلائی سے دینا)
o ان صفات پر غور کرنے اور انہیں اپنانے کی اشد ضرورت ہے،اسی صورت میں ہم تین بڑی اہم نعمتوں کے مستحق ٹھہریں گے۔
1)ابدی جنتوں میں داخلہ۔ 2) جنت میں اہل و عیال کا ساتھ۔ 3)فرشتوں کا سلام ۔
o آیت نمبر 25 اور 26 میں کافروں کی چار خصلتیں بیان ہوئی ہیں۔
1- عہد کو توڑنا۔ 2- اللہ نے جن رشتوں کو جوڑ رکھنے کا حکم دیا ہے انہیں توڑنا۔ 3– زمین میں فساد مچانا۔ 4- دنیا کی زندگی میں مگن رہنا۔
ان صفاتِ بدپربھی غور کرنا ضروری ہے تاکہ ان سے بچا جا سکے۔ خاص کر ان کی تیسری اور چوتھی صفت۔ ورنہ ہمیں بھی اس وعید کا کچھ حصہ ملے گا،” أُولَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ (25)” یہی لوگ ہیں جنکے لئے لعنتیں ہیں اور ان کے لئے برا گھر(جہنم) ہے۔
o آیت 26 تا 30 جاہلوں اور رسولوں کے مخالفین کے ذہن میں اٹھنے والے کچھ شبہات کا جواب ہے۔
o ان کا ایک شبہہ یہ تھا کہ اگر یہ اللہ کے سچے رسول ہیں تو یہ اور ان کے ماننے والے اس دنیا کے سامانِ عیش سے اس قدر محروم کیوں ہیں؟
o اس کا جواب یہ دیا کہ اللہ کے نزدیک دنیا ایک حقیر چیز ہے اس میں وسعت وتنگی اللہ کے نزدیک کسی کے اللہ کا محبوب ومبغوض ہونے کی دلیل نہیں ہے ،
o دوسرا شبہہ یہ تھا کہ اگر وہ سچے رسول ہیں تو ہمارے مطلوبہ معجزات کیوں پیش نہیں کرتے؟
o اس کا جواب یہ دیا کہ کسی رسول پرایمان کا دروازہ معجزات سے نہیں کھلتا، بلکہ رسول کی بے مثال ذات اور اس کی تعلیم پر غور کرنے اور انہیں اپنانے سے کھلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ توحید کو اپناتے اور اللہ کے ذکر وفکر میں مشغول ہوتے ہیں انہیں اطمینان قلب اور شرح صدر حاصل ہوتا ہے ۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (28) الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ طُوبَى لَهُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ (29)” جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں ، یاد رکھو اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے، (پھر)جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال بھی کئے ان لئے خوشحالی ہے اور بہترین ٹھکانا”۔
o آیت ۳۰ کفار کے بے جا مطابوں پر رسول اللہﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اس دنیا میں آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں ، آپ سے پہلے بھی رسول آتے رہےہیں اور ان کی قوموں نے بھی ان سے ایسے ہی مطالبات کئے تھے۔ پھر مطالبات پورے ہونے کے بعد جب وہ لوگ ایمان نہیں لائے تو انہیں اس دنیا سے نیست ونابود کر دیا گیا ۔
o کفارِ مکہ کا ایک مطالبہ یہ تھا کہ مکہ سے پہاڑوں کو دور کر دیا جائے اور رسول کریم ﷺ کے لئے بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرح مسافت کو طے کیا جائے او ر حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح مردوں کو زندہ کر دیا جائے۔
o آیت نمبر 31 میں مشرکین کے اسی عناد کا جواب دیا گیا ہے، نیز اس میں اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ مشرکین جو معجزات اور نشانیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں اگر ان کے مطالبات کو پورا کر بھی دیا جائے تب بھی وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ کیونکہ اگر وہ حق کے طلب گار ہوتے تو صرف قرآن ہی ان کے لئےبطور دلیل کافی تھا ۔
o پھر اسی آیت میں مشرکین کو (اور ہمیں بھی)ایک درس یہ دیا گیا ہے کہ اپنے اوپر آنے والی مصیبت اور آس پاس پیش آمدہ حادثات او ر مصائب سے عبرت حاصل کریں ۔
o اس کے بعد والی آیات میں اہل ایمان اور اہل کفر کے انجام کے بیان کے ساتھ ساتھ اہل کتاب کے دو گروہوں کا تذکرہ ہے۔آیت:33 تا 35
o ایک اس گروہ کے لوگ جو قرآن اور رسول کو حق مان کر اسے قبول بھی کر لیتے ہیں اور دوسرے ان لوگوں کا گروہ جو اپنی ضد پر اڑے رہتے ہیں ۔آیت:36
اس میں گویا نبی ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے کہ جن لوگوں کی کتابوں میں آپ کی تمام نشانیاں اور آپ کے بارے میں بشارتیں موجود ہیں وہ آپ کی دعوت قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں، تو آپ کو اہل مکہ پر تعجب نہیں ہونا چاہئے ۔
o آیت نمبر 38 تا 42 میں نبی ﷺ کو مزید تسلی دی جارہی ہے ۔
o پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ کوئی نئے شخص نہیں ہیں جنہیں انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے،آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول انسانی شکل میں آئے ہیں۔آیت :38
o دوسری بات یہ ہے کہ منکرین کی طرف سے جھٹلانے اور مذاق اڑانے کا معاملہ بھی کوئی نیا نہیں ہے، بلکہ آپ سے پہلے تمام رسولوں کے ساتھ یہی معاملہ رہا ہے۔آیت:40
o اور آیت نمبر39 میں ضمناً تقدیر کا ایک مسئلہ آ گیا ہے ۔يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ (39)”اللہ تعالی جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے ، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے” ۔
o تیسری بات یہ کہی گئی ہے کہ اے نبی! آپ سے جو وعدے کئے گئے ہیں کہ اسلام کو مکمل فتح حاصل ہوگی اور کافر ذلیل ہوکر رہیں گے ۔ اس بارے میں آپ مطمئن رہیں ایسا ہی ہوکر رہے گا۔آیت:40
o نبی کے مخالفین کو خبر دار کرتے ہوئے یہ بھی اشارہ کیا گیا کہ وہ یہ دیکھتے نہیں کہ غلبہ حق کے آثار صاف نمایا ں ہیں کہ ہم کفار کی زمینوں کو ان کے اطراف سے گھٹاتے جا رہے ہیں ۔ یعنی ایک ایک کرکے وہ علاقے مسلمانوں کے قبضے میں آتے جارہے ہیں۔آیت:41
o آخری آیت میں اللہ تعالی نےاپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے آپ کی رسالت کا اثبات کیا ہے کہ آپ کی رسالت کی صداقت کیلئے یہی کافی ہے کہ اس کی گواہی اللہ تعالی خود دے رہا ہے ۔، یعنی میرے ہاتھوں معجزات کو ظاہر کرکے اور وہ لوگ بھی اس پر شاہد ہیں جنہیں اللہ تعالی نے کتاب کے علم سے نوازا ہے ،اس لئے یہ کافر آپ کے بارے میں کچھ بھی کہیں آپ اس کی بالکل پرواہ نہ کریں ۔

سورت ابراھیم:
یہ سورت بھی مکی ہے۔
اس سورت کا بنیادی موضوع بھی عقیدہ ہے،یعنی عقیدہ توحید و رسالت اور آخرت۔ خصوصا عقیدہ رسالت اس میں زیادہ نمایاں ہے۔
o پہلی آیت میں نزول کتاب اور بعثت رسول کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اس کا مقصد لوگوں کو کفر و شرک کی تاریکی سے نکال کر حق اور ایمان کی روشنی کی طرف لانا ہے،وہ حق و ایمان کہ جو آسمان و زمین کے مالک عزیز و حمید کا مقر کردہ راستہ ہے۔
o لیکن یہ سب کچھ اس کے حکم کے بغیر نہیں ہو سکتا ۔ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ (1)”تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف لائیں، ان کے پروردگار کے حکم سے، زبردست اور تعریفوں والے رب کی طرف”۔
اس بیان سے تین حقیقتیں واضح ہوتی ہیں:
1) یہ قرآن ساری دنیا کے لئے ہدایت ہے اور یہ رسول ساری دنیا کے لوگوں کی طرف رسول ہیں ۔
2) رسول کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ زبردستی کسی کو مومن بنا دیں،ان کاکام صرف اللہ کا پیغام پہنچانا ہے۔
3) رسول کی رسالت کا ثبوت یہ ہے کہ اللہ وہ کی طرف سے مامور ہیں۔
o اگلی آیت میں کافروں کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر وہ رسول کی اطاعت کرکے ایمان نہیں لاتے تو انہیں دردناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
گویا اس طرح سے آخرت کا عقیدہ بھی ثابت کر دیا گیا، کیونکہ سزا وجزا کی اصل جگہ آخرت ہے۔
o آیت نمبر 5 کے بعد سے نبیوں کے تذکرہ شورع ہوا اور یہ بتایا گیا کہ محمد ﷺ کوئی نئے رسول نہیں ہیں ،بلکہ ان سے پہلے بھی انبیاء آتے رہے ہیں کہ لوگوں کو کفر و شرک اور معصیت کی تاریکی سے نکال کر ہدایت کے راستے پر لائیں۔
o چنانچہ سب سے پہلے حضرت موسی علیہ السلام کا ذکر ہوا۔
o ان کے قصے میں جہاں نبی ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مشکلات پرصبر اور بعمتوں پر شکر کامیابی کی راہ ہے۔
نیز کافروں کو بھی یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ ایمان لانے میں تمہارا ہی فائدہ ہے اور تمہارے کفر سے اللہ کا کوئی نقصان نہیں ہے ۔
o آگے آیت 9 سے 17 تک دیگر انبیاء کا حوالہ دے کر ایک طرف کافروں کو خبردار کیا گیا اور دوسری طرف مسلمانوں کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ مشکلات خواہ کتنی ہی جھیلنی پڑیں اور گھر بار چھوڑنے کی نوبت تک کیوں نہ آجائے، لیکن انجام کار اہل حق کا ہی ہوتا ہے،(اس لئے تمہیں حق پر ثابت قدم رہنا چاہئے)۔
o اللہ تعالی نے قوم نوح، عاد و ثمود اور ان کے بعد آنے والے بہت سے نبیوں کا حوالہ دیا کہ جب یہ لوگ معجزات لیکر آئے تو ان کی قوم نے جھٹلانے اور دعوت میں شک پیدا کرنے کا اسلوب اپنایا ۔
o رسولوں نے ان کا شک دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ تعجب اس بات پر ہے کہ تمہیں اللہ تعالی کے بارے میں شک ہے، جبکہ فطرت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو آسمان و زمین کا خالق ہے وہی ہماری عبادت کا مستحق بھی ہے۔
o ان کے سامنے ایک بہت بڑا شبہ یہ رہا کہ تم لوگ تو ہمارے ہی جیسے بشر ہو،اور ہم جس قسم کی نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں وہ تم نہیں لاتے ۔
o رسولوں نے انہیں سنجیدگی سے سمجھایا لیکن قوم نے انہیں اپنی آبادی سے نکالنے کی دھمکی دی۔جس پر رسولوں نے انہیں صرف یہ جواب دیا کہ تم جو کرنا چاہو کر لو، ہمارا کام صبر کرنا اور اللہ تعالی پر توکل کرنا ہے ۔
o اس کے جواب میں اللہ تعالی نے رسولوں پر وحی کہ ظالم ہلاک ہو جائیں گے اور ان کے بعد ہم تمہیں اس زمین کا وارث بنائیں گے۔
o آیت 18 سے 22 تک آخرت میں کافروں کو پیش آنے والی پریشانیوں کا ذکر ہے:
1) جہنم میں انواع واقسام کے عذآب چکھ چکھ کر وہ موت کی تمنا کریں گے، لیکن موت وہاں کہاں؟ وہاں تو اسی طرح دائمی عذاب ہوگا۔
2) ان کے سارے اعمال رائیگاں جائیں گے حتی کہ ان کے وہ اعمال جو بظاہر خیر کے ہوں گے وہ بھی ریت کے ذرات کی مانند بے روقعت ہوں گے یعنی ان کے کارِ خیر کا کوئی ثواب انہیں نہ ملے گا۔ آیت 17، 18
3) اس دنیا میں کافروں کے جتنے مددگار ہوں گے وہ سارے کے سارے قیامت کے دن ان سے براءت کا اظہار کریں گے۔ بلکہ وہاں ایک دوسرے پر تہمتیں لگانا شروع کر دیں گے۔مثلا جھوٹےپیشوا او ر پیروکار آپس میں لڑیں گے او ر شیطان اور انسانوں کا ایک دوسرے سے جھگڑا اور بحث و تکرار ہوگی ۔ آیت:21 ،22
4) بلکہ وہاں شیطان بڑے صاف لفظوں میں یہ کہہ دے گا کہ تم لوگ خودہی ناکارے تھے ۔ ورنہ اللہ تعالی نے تمہیں سچا وعدہ دیا تو اسے تو قبول نہین کیا اور ہم نےجھوٹا وعدہ دیا تو اسے بڑی آسانی سے قبول کرلیا، میرا تو تمہارے اوپر اس کے علاوہ کوئی اور زور نہیں تھا کہ میں نے تمہیں گمراہی کی طرف بلایا اور دنیا کی معمولی لذت کی خاطرتم نے اسے قبول کرلیا، لہذا آج مجھ پر الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے ہی سر پیٹو۔
5) اس کے برخلاف اہل ایمان کو وہاں جنت میں داخلہ ملے گا اور اس کی نعمتوں میں شاداں وفرحاں ہوں گے۔
o آیت 24 سے 28 تک اللہ تعالی نے مومن او ر کافر کے عقیدے و عمل کی مثال دو درختوں سے دی ہے۔مومن کے لئے اس درخت کی مثال ہے کہ جس کا تنا مضبوط اور اس کی جڑیں زمین مین پیوست ہوں۔
اس سے مراد کھجور کا درخت ہے،جس کا پھل بحکم الہی ہر موسم میں کھایا جاتا ہے ۔
o اس کے مد مقابل کافر کی مثال حنظل [ایک کڑوا پھل] کے درخت سے دی گئی ہے،جس کی جڑیں زمین کے اوپروالے حصے میں ہوتی ہیں اور معمولی سا جھٹکا بھی انہیں اکھیڑ دیتا ہے۔
o اس کے بعد والی آیات میں اللہ تعالی نے ان کافروں کا حال بیان کیا ہے جوخبیث درخت کے مانند ہیں کہ انہوں نے اللہ کی نعمت(کلمہ،اسلام،رسول اور کتاب)کو پس پشت ڈال کر اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی ہے، اس کا انجام جہنم ہے۔
o آیت نمبر 27 میں اللہ تعالی نے کلمہ طیبہ کے فضائل بیان فرمائے ہیں کہ اللہ تعالی کلمہ توحید جو ایک ثابت اور محکم کلمہ ہے اس کی بدولت ایک مومن کو دنیا وآخرت دونوں جگہ ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔ البتہ کافروں کے سارے اعمال رائیگاں جائیں گے۔
o آیت 28 تا 30 میں کفار مکہ پر سخت تنقید کی گئی ہے جنہوں نے نبی رحمت سے بغاوت کرکے اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو دنیا میں ہلاکت اور آخرت میں عذاب قبر کے حوالے کیا ۔ جس کا ایک مظہر غزوہ بدر میں بڑے بڑے سرداروں کے قتل کی صورت میں سامنے آیا ۔
o کفار کے برخلاف مومنین کو کامیابی کی بشارت دی گئی ہے ۔ نیز انہیں ان اعمال(نماز اور انفاق) کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو انہیں آیتِ کریمہ میں مذکور شجرہ طیبہ کی مثال بننے کے قابل بناتے ہیں۔
o آیت 32 سے 34 تک اللہ تعالی کی لا تعداد اور بے شمار نعمتوں میں سے چند نعمتیں بطور مثال ذکر کرکے شکرادا کرنے کی دعوت دی گئی ہے اور نعمتوں کی ناشکری سے پرہیز کا حکم ہے۔
o ارشاد ہے کہ اللہ تعالی نے تمہیں منہ مانگی ہر چیز دے ہی رکھی ہے، اگر تم اللہ کے احسانات گننا چاہو تو انہیں نہیں گن سکتے۔ یقینا انسان بڑا ہی بے انصاف اور نا شکرا ہے۔ آیت:34
o آیت 35 سے 40 تک اللہ تعالی نے عام احسانات کے بعد اہل مکہ پر جو خاص احسانات کئے تھے ان کا شمار کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ایک شکر گزار بندے یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی شکر گزاری کا ذکر فرمایا ہے۔
اصل میں قریش کو بطور فخر یہ کہتے تھے کہ ہم حضرت ابراہیم علیہ لاسلام کی نسل سے ہیں اور اپنے شرک کی دلیل بھی یہ پیش کرتے تھے کہ وہ اپنے جد اعلی حضرت ابرہیم علیہ السلام کے حقیقی وارث ہیں۔
o اس لئے اللہ تعالی نے شام سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آمد، اس بے کھیتی کی زمین میں اپنی نسل کو بسانے، اور یہاں توحید کا مرکز قائم کرنے کا ذکر کیا ہے۔ نیز یہ بھی واضح کیا کہ حضرت ابراہیم شرک سے اس قدر بے زار تھے کہ وہ اپنی ذریت کے لئے شرک سے دور رہنے کی دعا کیاکرتے تھے۔ نیز اللہ تعالی سے یہ بھی دعا کی تھی کہ اے اللہ مجھے اور میری ذریت کو نماز کا پابند بنائے رکھنا۔
o اس قصے میں عبرت کے بہت سے پہلو ہیں۔جیسے:
1- اللہ کی راہ میں قربانیاں دینا۔
2- شرک کا خوف کھانا۔
3- اللہ کے نافرمانوں سے دور رہنا۔
4- اللہ کے حکم پر بیوی اور اولاد تک سے جدائی اختیار کے لینا۔
5- نماز کی اہمیت اجاگر کرنا۔
6- اللہ کی صفات کے وسیلے سے دعا کرنا۔
7- اللہ کی نعمتوں کا شکرادا کرنا۔
8- اور اپنی فکر سب سے پہلے وغیرہ ۔
o سورت کا خاتمہ ان دس عبرت والی آیات پر ہوا ہے جن میں ظالموں اور کافروں کے انجام بد کا ذکر ہے۔
o یہ آیتیں اہل مکہ کو پچھلی قوموں کی عبرتناک تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت دے رہی ہیں۔ نیز اللہ کے رسول ﷺ اور مسلمانوں کے لئے تسلی کا سامان ہیں اور کافروں اور ظالموں کے لئے خبردار کرنے کا سامان ہیں۔
o ان آیات میں ظالموں کی متعدد ایسی صفات کا ذکر ہے جن سے ان کی پریشان حالی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مثلا:
1- آنکھوں کا پھٹی کی پھٹی رہ جانا۔ یعنی شدید گھبراہٹ سے ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔
2- دوڑ بھاگ، یعنی اپنی قبروں سے نکل کرمحشر کی طرف پریشانی میں بھاگ رہے ہوں گے۔
3- سر اوپر اٹھائے ہوئے، یعنی حیرت وپریشانی سے اپنا سر اٹھائے ہوئے بھاگ رہے ہوں گے۔
4- خود اپنی طرف ان کی نگاہ نہ لوٹے گی، یعنی اس وقت انہیں جو فکر وخوف لاحق ہوگا اس کی وجہ سے ان کی آنکھیں ایک لحظہ کے لئے بھی نیچے جھک کر اپنی حالت کو بھینہ دیکھ سکیں گے ۔
5- دل خالی خالی اور اڑے اڑےسے ہوں گے۔ یعنی خوف کا یہ عالم ہوگا کہ ان کے دلوں میں کسی بھی قسم کی سوچ وسمجھ نہ ہوگی ۔ تفسیر المنیر
o اس کے بعد امت محمدیہ کو خبر دار کرنے اور ڈڑانے کے لئے رسول اللہﷺ کو مخاطب کرکے یہ کہا گیا ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالی اپنے رسولوں سے کئے گئے فتح و نصرت کے وعدے کو پورا نہیں کرے گا۔ ایسا نہیں ، بلکہ اللہ تعالی اپنے نبیوں کے ساتھ کئے گئے وعدے کو ضرور پورا کرتا ہے۔آیت:47
o پھر آخر میں قیامت کی بعض مزید ہولناکیوں کے بیان کے بعد سورت کااختتام اسی مضمون پر ہو رہا ہے جس مضمون سے سورت کی ابتداء ہوئی تھی یعنی قیامت اور توحید و رسالت۔
o هَذَا بَلَاغٌ لِلنَّاسِ وَلِيُنْذَرُوا بِهِ وَلِيَعْلَمُوا أَنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (52) ” یہ قرآن تمام لوگوں کے لئے اطلاع نامہ ہےکہ اس کے ذریعے وہ ہشیار کر دئے جائیں، اور بخوبی معلوم کر لیں کہ اللہ ایک ہی معبود ہے اور تاکہ عقلمند لوگ سمجھ لیں” ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں