خبیث (شیطان) کے شر سے متعلق احادیث نبویہ

موضوع الخطبة        : أحاديث عن شر الخبيث

الخطيب       : فضيلة الشيخ حسام بن عبد العزيز الجبرين/ حفظه الله

لغة الترجمة    : الأردو

موضوع:

خبیث (شیطان) کے شر سے متعلق احادیث نبویہ

پہلا خطبہ:

الحمد لله المتُعالي عن الأنداد، المتُنزِّهِ عن الصاحِبةِ والأوْلاد، قَدَّرَ ما كان وما يكونُ من الضَّلال والرَشاد، وأشهد أنْ لا إِله إِلاَّ الله وحدَه لا شريكَ له الملكُ الرَّحيمُ بالعباد، وأشهد أنَّ محمدًا عبده ورسولهُ المبعوث إلى جميعِ الخلْق في كلِّ البلاد، صلَّى الله وسلم عليه وعلى جميع الآلِ والأصْحابِ والتابعينَ لهم بإحَسانٍ إلى يوم التَّنَاد.

حمد وثنا کے بعد!

میں آپ کو اور خود کو  تقوی الہی کی وصیت کرتا ہوں‘ جو شخص اللہ کا تقوی اختیار کرے اس کا دل مطمئن رہتا اور زندگی خوشگوار رہتی ہے:

﴿ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ ﴾[النحل: 97]

ترجمہ: جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت‘ لیکن با ایمان ہو تو ہم اسے یقینا نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گےاور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور اور ضرور دیں گے۔

رحمن کے بندو! جنت اور اللہ کی رضا وخوشنودی سب سے بڑا مقصد وہدف ہے‘ لیکن شیطان ہمیں اس سے محروم رکھنے کے لئے سرگرداں ہے‘جہنم اور رب کی ناراضگی سب سے خوفناک چیز ہے‘ لیکن شیطان ہمیں اس خسارے سے دوچار کرنے کے لئے سرگرمِ عمل ہے‘ اسی لئے بہت سے مقامات پر شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرنے کی مشروعیت وارد ہوئی ہے اور  بہت سی احادیث نبویہ میں شیطان کی عداوت ودشمنی واضح کی گئی ہے‘ اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے‘ آئیے ہم خبیث (شیطان) کے شر سے متعلق بعض احادیث پر گفتگو کرتے  ہیں..!

ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دشمنی کی خبر دی ہے جو آغازِ آفرینش سے ہی ہمارا پیچھا کر تی رہتی ہے‘ حدیث میں آیا ہے کہ : "پیدا ہونے والا جو بھی بچہ پیدا ہوتا  ہے شیطان اس کو کچوکا لگاتا ہے‘ ماسوائے حضرت ابن مریم اور ان کی والدہ کے۔پھر ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہو تویہ آیت پڑھو: ﴿ وَإنِّي أُعِيذُهَا بكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ﴾ [آل عمران: 36]

ترجمہ: (مریم کی والدہ نے کہا) میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔

اس حدیث کو بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے

اللہ کے بندو! شیطان چاہتا ہے کہ سوتے جاگتے اور کھاتے پیتے ‘ ہمہ وقت انسان کے ساتھ لگا رہے‘  حدیث میں آیا ہے: "جب آدمی اپنے گھر میں جاتاہے اور گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے تو شیطان (اپنے رفیقوں اور تابعداروں سے) کہتا ہے کہ نہ تمہارے یہاں رہنے کاٹھکانہ ہے  اور  نہ کھانا ہے اور جب گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالی کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تمہیں رہنے کا ٹھکانہ مل گیا اور جب کھاتے وقت بھی اللہ تعالی کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تمہارے رہنے کا ٹھکانہ بھی ہوا  اور کھانا بھی ملا” اسے مسلم نے رویات کیا ہے۔

اس حدیث میں یہ رہنمائی کی گئی ہے کہ کھاناکھاتے وقت اور گھر میں داخل ہوتے ہوئے بسم اللہ پڑھنا چاہئے‘ ایک دوسری حدیث میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جو لقمہ گر جائے اسے اٹھا کر کھالینا چاہئے اور شیطان کے لئے نہیں چھوڑنا چاہئے‘ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: "شیطان تم میں سے ہر ایک کی ہر حالت میں اس کے پاس حاضر ہوتا ہے حتی کہ کھانے کے وقت بھی ‘ جب تم میں سے کسی سے لقمہ گر جائے تو جو کچھ اسے  لگ گیا ہے‘ اسے صاف کرکے کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے” ۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔

رحمن کے بندو! توحید کے بعد نماز سب سے بڑی عبادت ہے‘ اسی لئے شیطان نمازی کو وسوسہ میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتا ہے‘ صحیح مسلم کی حدیث میں آیا ہے: ” عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ! شیطان میری نماز میں حائل ہوجاتا ہے اور مجھے قرآن بھلا دیتا ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شیطان کانام خنزب ہے‘ جب تجھے اس شیطان کا اثر معلوم ہو تو اس سے اللہ تعالی کی پناہ مانگ اور (نماز کے اندر ہی) بائیں طرف تین بار تھوک لے‘ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے ایسا ہی کیا ‘ پھر اللہ تعالی نے اس شیطان کو مجھ سے دور کر دیا”۔

دوسری حدیث میں آیا ہے کہ: "جب نماز کے لئے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا بھا گ جاتا ہے‘ جب اذان پوری ہوجائے تو واپس آجاتا ہے‘ پھر جب اقامت کہی جاتی ہے تو پھر دُم دبا کر بھاگ نکلتا ہے‘ جب وہ ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے‘ اور نمازی کے دل میں وسوسے اور خیالات ڈالنے شروع کردیتا ہےاور کہتا ہے: فلاں کام یاد کرو‘ فلاں چیز یا د کرو‘ حتی کہ نمازی کویاد نہیں رہتا کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار‘ تو جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے کہ اسے تین یا چار رکعتیں پڑھنے کا پتہ نہ چلے تو سہو کے دو سجدے کر لے”۔بخاری ومسلم

مومن بھائیو! شیطان  انسانوں کےدرمیان دشمنی پیدا کرنے اور بطور خاص خاندان کے لوگوں میں عداو ت کی بیج بونے کی ہمہ تن کوشش کرتا ہے‘  چنانچہ حدیث میں آیا ہے: "ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے ‘ پھر وہ اپنے لشکر روانہ کرتا ہے‘ اس کے سب سے زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ڈالتا ہے‘ ان میں سے ایک آکر کہتا ہے: میں نے فلاں فلاں کام کیا ہے‘ وہ کہتا ہے: تم نے  کچھ نہیں کیا۔پھر ان میں سے ایک آکر کہتا ہے: میں نے اس شخص کو (جس کے ساتھ میں تھا) اس وقت تک نہیں چھوڑا یہاں تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کرادی‘ کہا: وہ اس کو اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے: تم سب سے بہتر ہو”۔اسے مسلم نے روایت کیاہے۔

ایک دوسری حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: "شیطان اس بات سے ناامید ہوگیا ہے کہ جزیرہ عرب میں نماز پڑھنے والے اس کی عبادت کریں گے لیکن وہ ان کے درمیان لڑا ئی جھگڑے کرانے سے (مایوس نہیں ہوا)”۔مسلم

اس لئے ہمیں اس دشمن سے ہوشیار رہنا چاہئے جو ہمہ وقت ہمارے پیچھے لگا رہتا ہے‘ صحیح حدیث میں آیا ہے: "تم میں سے ہر ایک شخص کے ساتھ اللہ نے جنوں میں سے ایک ساتھی  اور فرشتوں میں سے ایک ساتھی مقرر کردیا ہے‘ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ بھی؟ آپ نے فرمایا: میرے ساتھ بھی ‘ لیکن اللہ تعالی نے اس (جِن) کے مقابلے میں میری مدد فرمائی ہے اور وہ مسلمان ہوگیا‘ اس لئے اب وہ مجھے خیر کے سوا کوئی بات نہیں کہتا”۔مسلم

اے اللہ! ہم شیطان کے شر اور شرک سے تیری پناہ چاہتے ہیں‘ اے اللہ! ہمیں شیطان کے  راستوں پر چلنے سے محفوظ رکھ‘ آپ اللہ سے مغفرت طلب کریں‘ یقیناً وہ خوب معاف کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

الحمد لله القائل: ﴿ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا ﴾ [النساء: 76] وصلى الله وسلم على نبيه الذي أرشدنا وعلَّمنا ما يحفظنا من الشياطين، وعلى آله وأصحابه والتابعين ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين.

حمد وصلاۃ کے بعد:

اللہ کے بندو! غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے آپس میں گالم گلوچ کیا۔ان میں سے ایک کو غصہ چڑھنا شروع ہوگیا اور اس کا چہرہ سرخ ہونے لگا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نظر کی اور فرمایا: "مجھے ایک ایسے کلمے کا علم ہے کہ اگر یہ شخص وہ کلمہ کہہ دے تو اس سے یہ غصہ جاتا رہے گا‘ وہ کلمہ ہے: أَعُوذُ باللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ”۔مسلم

کتنی ہی مصیبتیں ایسی ہیں جو غصہ کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں!

اے ایمانی بھائیو! شیطان اس شخص کو بھی نہیں چھوڑتا جو نیند کے عالم میں ہوتاہے! اگر وہ خوفناک خوابوں کے ذریعہ اسے تکلیف پہنچانے کی قدرت رکھتا ہو توایسا ضرور کرتاہے‘ حدیث کے الفاظ ہیں: "اچھا خواب اللہ تعالی کی طرف سے ہوتا ہے اور برا خواب شیطان کی دراندازی کا نتیجہ ہوتا ہے‘ لہذا جب تم میں سے کوئی برا خواب  دیکھے تو اس سے (اللہ کی) پناہ مانگے اور اپنی بائیں جانب تھوک دے‘ پھر یہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا”۔بخاری ومسلم

شیطان کی کوشش ہوتی ہے کہ سوئے ہوئے شخص کو نماز سے غافل کردے‘ نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی حدیث ہے:”جب آدمی (رات کے وقت) سوجاتا ہے تو شیطان اس کی گدی پر تین گرہیں لگاتاہے‘ ہر گرہ پر یہ پھونک دیتا ہے کہ ابھی تو بہت رات باقی ہے سو جاؤ۔پھر اگر آدمی بیدار ہوگیا اور اللہ کا ذکر کیا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے‘ اگر اس نے وضو کرلیا تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے‘ اس کے بعد اگر اس نے نماز پڑھی تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے۔پھر صبح کو خوش مزاج اور دلشاد لگتا ہے‘ بصورت دیگر صبح کے وقت بد دل اور خستہ جسم بیدار ہوتا ہے”۔بخاری ومسلم

اے مومنو! شیطان کی سازش بڑی خطرناک  ہوتی ہے لیکن وہ  اتنی کمزور ہوتی ہے کہ ایمان اور توکل علی اللہ  کے سامنے ڈھیر ہوجاتی ہے: ﴿ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ آمَنُواْ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ﴾ [النحل: 99]

ترجمہ: ایمان والوں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھنے والوں پر اس کا زور مطلقاً نہیں چلتا۔

اللہ سے پناہ طلب کرنے اور اس کا ذکر کرنے سے شیطان دور بھاگ جاتا ہے‘  سنت نبویہ میں بہت سی ایسی احادیث  (دعائیں) آئی ہیں جن  کے ذریعہ اللہ بندے کو شیطان سے محفوظ رکھتا ہے‘ مثال کے طو ر پر یہ حدیث: "جو شخص دن بھی میں یہ دعا سو مربتہ پڑھے گا : لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وحْدَهُ لا شَرِيكَ له، له المُلْكُ وله الحَمْدُ، وهو علَى كُلِّ شيءٍ قَدِيرٌ….وہ شخص سارا دن شام تک شیطان سے محفوظ رہے گا:”۔بخاری ومسلم

نیز یہ حدیث کہ: "جو شخص گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے: (بِسمِ اللهِ، توكَّلتُ على اللهِ، لا حَولَ ولا قوَّةَ إلَّا باللهِ)اس سے کہا جائے گا: تمہاری کفایت کردی گئی‘ تمہیں ہدایت عطا کی گئی اور تم (دشمن کے شر سے) بچا لیے گئے اور شیطان تم سے دور ہوگیا”۔اس حدیث کو البانی نے صحیح کہا ہے۔

اور یہ حدیث کہ: "تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ‘ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورۃ بقرۃ پڑھی جاتی ہے”۔مسلم

اسی طرح سونے کے وقت  آیۃ الکرسی پڑھنے اور کھانے پینے‘ گھر میں داخل ہونے ‘ بیت الخلاء میں جانے اور ہمبستری کرنے   کے وقت بسم اللہ کہنے  (یعنی دعا پڑھنے) سے اللہ تعالی بندے کو شیطان سے محفوظ رکھتا ہے ‘ جیسا کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔

آخری بات: بیداری اور نیند‘ کھانے اور پینے‘ نماز اور عبادت‘ تعلقات اور معاملات ‘ غرضیکہ ہر حالت میں شیطان ہماری گھات اور موقع کی تلاش   میں لگا رہتا  ہے‘ اس لئے ہمیں اس پاک ذات سے اس کے مقابلے  کے لئے  مدد طلب کرنی چاہئے جو اس پر قادر ہے‘ بایں طور کہ ہم اللہ کا ذکر کریں‘ ایمان کو مضبوط رکھیں اور شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کریں۔

اس بات سے خبردار رہیں کہ شیطان ہمیں (گمراہ کرنے میں) مصروف رہے اور ہم اس سے غافل رہیں!

نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام پڑھیں…

صلی اللہ علیہ وسلم

از قلم:

حسام بن عبد العزیز الجبری