بسم اللہ الرحمن الرحیم
سلسلہ خلاصہ معانی قرآن مجید
از قلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ
*دسواں پارہ(و اعلموا)*
دسویں پارے کے دو حصے ہیں؛پہلا حصہ سورہ انفال کی آیت41تا75 پر مشتمل ہے،اور دوسرا حصہ سورہ توبہ کی آیت1 تا 93پر مشتمل ہے۔
o اس پارے کی پہلی آیت میں مال غنیمت کو کہاں کہاں خرچ کرنا ہے اس کا بیان ہوا ہے، جس کا ذکر اس سورت کی پہلی آیت میں ہوا تھا۔
o مال غنیمت کے پانچ حصے کئے جائیں گے؛ چار حصے لڑنے والی فوج میں تقسیم کر دئےجائیں گے اور ایک حصہ رسول اللہ ﷺ کا رہے گا۔ پھر رسول اللہﷺکا حصہ بھی پانچ جگہوں میں تقسیم ہوگا ۔رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اہلِ خانہ، آپ کے قرابت داروں ،یتیموں،مسکینوں اور مسافروں پر خرچ ہوگا ۔
o مال غنیمت کے یہ حصے بیان کرنے کے بعد مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی اس تقسیم کو بخوشی قبول کریں، کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے،اور اللہ پر ایمان کا تقاضا ہے کہ اس کے فرمان کو فورا اور برضا ورغبت قبول کیا جائے۔
o پھر غزوہ بدر کا حوالہ دیا گیا اور اسے یوم الفرقان سے موسوم کر کے یہ یاد دلایا گیاکہ بدر کے دن تمہیں جو کامیابی ملی ہے وہ خالص اللہ کا فضل ہے۔ لہذا اس کا حکم ماننے میں تمہیں کوئی تردد نہیں ہونا چاہئے۔
o آیت 43اور 44میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ تعالی نے بدر کے موقع پر مسلمانوں اور ان کے مخالفین کو بلا کسی پیشگی ترتیب کے کس طرح ایک جگہ لا کھڑا کیا اور دونوں کا مقابلہ کرا دیا۔
o اور پھر اللہ تعالی کے اس کرم کا ذکر ہے جو مسلمانوں پر بدر میں ہوا کہ اولا اللہ کے رسول ﷺ کو خواب میں، ثانیا پھر مسلمانوں کی نظر میں کافروں کی تعداد کو کم کرکے دکھایا تاکہ مسلمانوں کوحملے کا حوصلہ رہے اور کافروں کی نظروں میں مسلمانوں کو کم دکھایا تاکہ وہ بلا خوف و خطر مسلمانوں پر حملہ آور ہوں اور بآسانی کاٹ کر رکھ دئیے جائیں۔
o آیت 45تا 47میں مسلمانوں کو جنگ سے متعلق بڑی اہم ہدایات دی گئی ہیں ، اللہ کے فضل کے بعد جن کا اہتمام مسلمانوں کی فتح کی ضمانت ہوتی ہیں:
o 1) ثابت قدمی و پامردی۔
o 2)اللہ کا ذکر ۔
o 3)اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت۔4 )باہمی اتفاق و اتحاد۔5 ) صبر ۔
o 6 ) کبر و غرور سے پرہیز۔ یا یہ کہ مسلمانوں کو میدان میں بھی اخلاص کا درس دیا گیا ۔
o پھر آیت نمبر 48 میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو کافروں کی روش اور شیطان کی چالوں سے ہوشیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ اس ضمن میں اس واقعہ کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جب شیطان نے مکہ کے مشرکین کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا کر میدان بدر میں لا کھڑا کیا تھا۔لیکن جب فرشتوں کا نزول ہوا تو شیطان یہ کہتے ہوئے بھاگ کھڑا ہوا کہ میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ،میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں،اللہ بڑا سخت سزا دینے والا ہے ۔
o آیت 49 میں منافقین کی اس سطحی بات کا جواب ہے کہ یہ مٹھی بھر مسلمان جو اتنے بڑی لشکر سے ٹکرانے آگئے ہیں کہ ” غَرَّ هَؤُلَاءِ دِينُهُمْ” یعنی ان کے دین نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے”۔ اللہ تعالی نے اس کا جواب دیا کہ ” وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ”( جو بھی اللہ پر بھروسہ کرے اللہ تعالیٰ بلا شک وشبہ غلبے واﻻ اور حکمت واﻻ ہے۔) یعنی جو اللہ تعالی پر بھروسہ کرے گا اللہ اس کو رسوا نہیں کرے گا۔
o آیت 50تا 56میں کافروں کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ جو کچھ ہوا ہے وہ تمہارے اپنے کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔ لہذا اگر آئندہ تم اس سے پرہیز کرلو تو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔کیونکہ اللہ تعالی ظالم نہیں ہے،وہ تو بندوں کو ان کے اعمال کا بدلہ ان اعمال کے جزا یا سزا کی صورت میں دیتا ہے ۔
o آیت 57تا 62میں مسلمانوں کو جنگ اور صلح کے کچھ آداب سکھائے گئے ہیں:
o 1) مقابلہ کی صورت میں دشمن کو اچھی طرح پست کردینا چاہئے، تاکہ پلٹ کر، یا دوبارہ حملہ کرنے کے بارے میں نہ سوچیں۔آیت:57
o 2) اگر کوئی قوم خیانت اور عہد کی خلاف ورزی کرے تو اس کے عوض اس کے ساتھ خیانت اور بد عہدی کی اجازت نہیں ہے۔
o 3) بلکہ علی الاعلان عہد کو توڑ دینا چاہئے۔آیت:58
o 4) دشمن سے مقابلہ کیلئے مکمل تیاری ہونی چاہئے۔آیت:60
o 5) کافر صلح کی پیشکش کرے تو اسے قبول کرنا چاہئے۔آیت:61
o 6) مسلمانوں کو اللہ تعالی پر اعتماد رکھنا چاہئے۔آیت:62
o آیت 63اور 64میں نبی کرم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ تمہیں اپنی تعداد اور تیاری کی قلت کی وجہ سے دشمن سے مقابلہ کرنے سے بھاگنا نہیں چاہئے،بلکہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے جم جانا چاہئے، کیونکہ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔
o آیت 65اور 66میں مسلمانوں کو یہ ترغیب دی گئی ہے کہ اگر تم صبر ،عزم اور پامردی سے مقابلہ کرو گے اور تمہارا مقابلہ تم سے دس گنا زیادہ دشمن سے بھی ہوا تو بفضل الہی غلبہ تم کو ہی ملے گا۔آیت:65
o لیکن جہاں تک قانون جنگ یعنی میدان سے پیچھےہٹنے اور نہ ہٹنے کا سوال ہے تو یہ نسبت ایک مقابل دو کی ہے ۔
o آیت 68تا 71میں بدر کے قیدیوں کے ساتھ کیسا معاملہ کیا جائے اور مال غنیمت کا ذکر ہے۔
جن میں اولا- نبیﷺ اور آپ کے واسطے سے مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ قیدیوں کے بارے میں تمہارے مابین جواختلاف ہو ا، یہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ بلکہ اس وقت جب موقع ہاتھ آیا تھا تو مخالفین کی کمر توڑ دینی چاہئے تھی، تاکہ دوبارہ جنگ کی صورت پیش ہی نہ آئے ۔
ثانیا- وہ قیدی جنہیں فدیہ لیکر چھوڑ دیا گیا تھا انہیں تسلی دی گئی ہےکہ تمہیں دل گرفتہ نہیں ہونا چاہئے، بلکہ یہ تمہارے لئے خیر کی علامت ہے کہ تمہیں جان سے نہیں ماردیا گیا ۔ اگر تم توبہ کرلو تو بہت ممکن ہےکہ جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اللہ تعالی اس سے بہتر تم کو عطا کردے ۔
o اس سورت کی آخری چار آیتوں میں اسلامی بھائی چارہ کے ایک تقاضا "باہمی تعاون ” سے متعلق کچھ اصول بیان ہوئے ہیں:
o 1) جولوگ مومن ہیں او ر ہجرت کرکے آئے ہیں، ان پر باہم ایک دوسرے کا تعاون اور دشمن کے خلاف ان کی مدد واجب ہے۔
o 2) جولوگ مسلمان تو ہوئے، لیکن ابھی تک ہجرت نہیں کی ہے، ان سے ولایت یعنی وراثت یا باہمی تعاون کا رشتہ تو نہیں رہے گا ،البتہ کسی دینی معاملے میں دشمن کے خلاف مدد مانگیں تو ان کی مدد ضروری ہے۔
o 3) لیکن اگر کسی ایسے دشمن کے خلاف مدد مانگیں جس کے ساتھ مسلم حکومت کا معاہدہ ہے تو اس صورت میں مدد کرنی ضروری نہیں ہو گی۔آیت:72
o 4) کافروں کے مقابلے میں مسلمانوں کو ایک جٹ ہونا چاہئے۔ اگر ایسا نہ کییا گیا تو مسلمانوں کو بہت بڑے خسارے کا سامنا کرنا پرے گا۔آیت:73
o 5) مہاجرین اور ان کی مدد کو کھڑے ہونے والے انصار کے فضائل اور ان کے حقیقی مومن ہونے کی گواہی۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے ان کے لئے بہت بڑا تحفہ ہے۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (74) ” اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مال جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ، اور وہ لوگ جنہوں نے ان کو جگہ دی اور ان کی مدد کی ، یہی لوگ حقیقی مومن ہیں ، ان کے لئے (اللہ کی طرف سے ) بخشش ہے اور عزت کی روزی”۔
o آخری آیت اور اسی طرح آیت :73 میں ایک نظام وراثت کا بیان ہے۔ جس کی تفصیل اس طرح ہے۔
1- کوئی کافر کسی مومن کا وارث نہیں بن سکتا۔
2- دوسرے یہ کہ ہجرت کے بعد نبیﷺ نے مہاجرین و انصار میں جو بھائی چارے کا رشتہ قائم کیا تھا اور اس کی وجہ سے دونوں بھائی ایک دوسرے کے وارث بھی بنتے تھے۔
3- لیکن اس آیت کے نازل ہونے کے بعد اسے منسوخ کردیا گیا۔
سورت التوبہ
دسویں پارے کا اکثر حصہ، بلکہ تین چوتھائی حصہ اس سورت پر مشتمل ہے۔
اس سورت کو دوسری سورتوں پر یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس کے شروع میں ” بسم اللہ الرحمن الرحيم” نہیں لکھا گیا ہے۔ مفسرین نے اس کی متعدد وجوہات ذکر کی ہیں ۔
اس سورت میں تین بڑے اہم موضوع بیان ہوئے ہیں:
ابتدا سے لیکر تقریبا اٹھائیس آیات مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہیں،او ران میں مشرکین سے کئے گئے تمام عہود وپیمان کے خاتمے کا اعلان ہے۔
آیت نمبر 29 سے 35 تک اہل کتاب کے ساتھ قتال کا حکم ہے،اور ان کی بعض خیانتوں کا ذکر ہے۔
اس کے بعد سے اس سورت کا زیادہ تر حصہ منافقین کے بارے میں ہے۔اور خصوصا اس بات سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ منافقین مسلمانوں کے درمیان رہ کر کس طرح اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔
اسی لئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس سورت کا نام "الفاضحة” رکھتے تھے۔(منافقین کو رسوا کرنے والی سورت) ۔
o اس سورت کی پہلی تین آیتوں میں ان تمام مشرکین سے اعلان براءت کے ساتھ ساتھ اعلان جنگ ہےجن کے ساتھ مسلمانوں کا کوئی عہد نہ تھا اور وہ مسلمانوں کے خلاف کاروائیوں میں برابر حصہ لیتے رہتے تھے۔
o اسی طرح وہ مشرکین بھی اس میں داخل ہیں جن کے ساتھ ایک معینہ مدت تک کیلئے معاہدہ تھا او ر انہوں نے اس معاہدہ کا پاس و لحاظ نہیں رکھا تھا ۔
o آیت نمبر 4 میں ان مشرکین کے عہد کو پورا کرنے کا حکم ہے جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے عہد کونہیں توڑا تھا۔بلکہ اس کا پاس رکھا تھا، لہذا مسلمانوں کے لئے بھی اس کی پاسداری ضروری ہے۔
o آیت نمبر 6 میں یہ حکم ہے کہ اگر کوئی مشرک تم سے پناہ چاہے تو اسے پناہ دو اور اسے اسلام کی دعوت دو۔اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتا تو اسے اس کی جائے پناہ تک پہنچادو۔
o آیت نمبر 7 میں مسلمانوں کو اس بات سے روک دیا گیا ہے کہ جن مشرکین کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ نہیں ہے ، اب ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا معاہدہ نہ کرو۔ البتہ جن کا عہد چل رہا ہے اسے پورا کرو، لیکن ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا نیا معاہدہ کرنا جائز نہیں ہے۔کیونکہ وہ اس لائق ہی نہیں ہیں ۔
o آیت نمبر 8 سے مشرکین کی اس طبیعت اور بد نیتی کی وضاحت ہے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ نئے عہد کی ممانعت کی گئی ہے۔
o 1)اپنے فائدے کیلئے مسلمانوں کے ساتھ عہد و پیمان تو کرلیں گے لیکن جب موقع نکل جائے گا یعنی مقصد پورا ہو جائے گا تو اسے توڑ دیں گے۔
o 2)مسلمانوں کے ساتھ وہ دلی محبت اور الفت نہیں رکھتے، بلکہ وہ صرف زبانی کلامی دعوے کے ذریعےانہیں راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں،جبکہ ان کے دل اس سے انکاری ہوتے ہیں۔
o 3)موقعہ ملنے پر مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے کسی بھی معاہدے یا رشتے داری کا لحاظ نہیں رکھتے۔
o البتہ اگر وہ توبہ کر لیں تو ان کیلئے توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ [التوبہ:11] ۔
o آیت نمبر 13 تا 15 میں مسلمانوں کو کفر وشرک کے ان سرداروں سے قتال کا حکم ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو ان کے گھروں سے در بدر کیا ، دین حق کے بارے میں طعن وتشنیع سے کام لیتے تھے۔
o اللہ تعالی نے جہاں ان آیتوں میں ان سے قتال کا حکم دیا ہے وہیں ان کے مقابلے میں اپنی مدد کا وعدہ بھی کر رہا ہے کہ مسلمانوں کی مدد و تایید بھی کرے گا اور ان کے ہاتھوں مخالفین کو رسوا کرے گا۔
o آیت 17اور 18میں مسجدوں کو آباد رکھنے والوں کی صفات بیان ہوئی ہیں۔نیز یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کافر و مشرک کو مسجد(خاص طور پر مسجد حرام) کی تعمیر ،اسے آباد رکھنے اور اس کا متولی بننے کا کوئی حق نہیں،یہ حق صرف اہلِ ایمان کا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوں ،نماز پڑھتے ہوں، زکاۃ دیتے ہوں او رانہیں صرف اللہ کا خوف ہوتا ہو،(گویا وہ موحد ہوں) ۔
o نیز مسجد حرام کی خدمت، اس کی تعمیر میں حصہ لینا اور حاجیوں کو پانی پلانا ،یہ سب نیکیاں اس وقت قبول ہو سکتی ہیں جب اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا جائے اوراللہ کے دین کیلئے قربانیاں دی جائیں۔
o اس کے بعد ایمان، ہجرت اور جہاد کی فضیلت بیان کرنے کے بعد مسلمانوں کو اس بات پر :بردار کیا گیا ہے کہ اگر تم صحیح معنوں میں مسلمان ہو تو اس کام میں ماں باپ اور خاندان کی محبت تمہارے آڑے نہیں آنی چاہئے۔آیت: 20 تا 23
o پھر آیت نمبر 24 میں ان آٹھ چیزوں کا ذکرہے جو عموماانسان کوہجرت اور دین کے لئے قرابانی دینے میں حائل ہوتی ہیں، ان کے ذ کر کے بعد بالکل واضح الفاظ میں یہ بات کہہ دی گئی ہے کہ اگر ان آٹھ چیزوں کی محبت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت و اطاعت اور اللہ کی راہ میں جہاد و قربانی میں مانع ہو تو یہی چیز اللہ کی ناراضگی کا اصل سبب ہے ۔
"وہ آٹھ چیزیں یہ ہیں۔ 1-ماں باپ، 2-اولاد، 3- بھائی بند، 4- بیوی، 5- اعزہ واقارب، 6- کمایا ہوا مال، 7- تجارت ۔اسی میں زراعت وغیرہ بھی داخل ہے، 8- مکان اور جائداد”۔
o آیت نمبر 25، 26 میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کی توجہ اس طرف مبذول کی ہے کہ اللہ تعالی نے تمہاری مدد متعدد موقعوں پر کی ہے ، نبیﷺ کے مکہ سے بے یارو مددگار نکلنے سے لیکر غزوہ حنین تک دیکھ لو ، کہیں لوگوں کی آنکھوں کو اندھی کر کے ، کہیں خشک زمین کو دلدل بنا کر ، کہیں آسمان سے قطار در قطار فرشتوں کو نازل کرکے ، کہیں ہواؤں کے جھونکوں کا رخ کفار کی طرف کرکے اور کہیں کافروں کے دل میں تمہارا رعب ڈال کر۔
تو دھیان رہے کہ اصل مدد اللہ کی طرف سے ہے، لہذا اس کے دین کے بارے میں کسی قسم کا سودا نہیں کرنا چاہئے۔
o اس کے بعد مشرکوں کے ساتھ عدم تعلق او ر ان کی بے دخلی کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نجس ہیں، اس لئے یہ مسجد حرام کے قریب بھی نہ آئیں، اور نہ آج کے بعد سے وہ بیت اللہ کا حج کریں۔
o لیکن یہاں پر ایک شبہ ہو سکتا تھا کہ ابھی تک جزیرہ عرب اور اس کے ارد گرد بہت سے مشرک آباد ہیں،اگر انہوں نے حج نہ کیا تو تجارت ماند پڑ جائے گی،جس سے ہمارا اقتصادی نقصان ہو گا۔ تو اللہ تعالی نے اس شبہ کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تمہیں تنگدستی اور فقیری کا ڈر ہے تواگراللہ تعالی چاہے گا تو تمہیں اپنے فضل سے غنی کردے گا ۔
گویا اس میں مسلمانوں کیلئے ایک اہم درس یہ ہے کہ ہر میدان میں تمہارا اصل اعتماد اللہ پر ہونا چاہئے۔ کیونکہ مسلمانوں کی اصل قوت کا سر چشمہ اللہ ہی کی ذات ہے۔
اس میں مسلمانوں کیلئے ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی کے حکم کے مقابلے میں دنیاوی مفاد یا نقصان کو نہیں دیکھنا چاہئے۔ چونکہ سب کچھ اسی ذات کے اختیار میں ہے تو وہ خود اپنی فرمانبرداری کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کے معاملات کو آسان فرمائے گا، اسی لئے آیت:28 کے آخر میں فرمایا” إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ۔ یعنی اللہ تعالی تمہاری مصلحتوں کو زیادہ جانتا ہے ،اور مصلحتوں کی تکمیل کا سامان بھی فراہم کرسکتا ہے، کیونکہ وہ حکیم ہے ۔
o آیت نمبر 29 سے گفتگو کا رخ اہل کتاب کی طرف پھیر دیا گیا ہے۔جن سے قتال یا پھر جزیہ لینے کا حکم ہے۔
o اس ضمن میں ان کی بعض خرابیوں ،ان کی اسلام دشمنی اور ان کے علماء سوء کا کردار بھی بیان کیا گیا ہے،جیسے ان کا حضرت عزیر اور حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بنانا۔آیت 30
o اپنے علماء اور صوفیاء کو اللہ کی ربوبیت میں حصہ دینا، ان کی تحلیل و تحریم کو شریعت مان لینا۔آیت:31
o ان کے احبار و رہبان کا لوگوں کو صحیح دین سے دور رکھنا اور لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھانا وغیرہ۔آیت:31، 34
o آیت 32، 33 میں ان کی ایک گمراہی یا خام خیالی کی طرف اشارہ ہے کہ وہ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ خود گمراہی کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں بلکہ دین حق کو مٹانے کی کوشش میں بھی لگے رہتے ہیں، حالانکہ اس کی مثال سورج کو اپنے پھونکوں سے بجھانے کی ہے۔
o پھر مسلمانوں کو یہ خوشخبری بھی دی گئی کہ کفار ومشرکین کتنی ہی کوشش کرلیں اللہ تعالی کا یہ وعدہ ہے کہ خواہ وہ کتنے ہی ناخوش ہوں دین حق غالب آکر رہے گا اور اللہ کا نور ساری دنیا کو روشن کرکے رہے گا ۔
o آیت 36اور 37میں اللہ تعالی نے سال کے بارہ مہینوں کی تخلیق اور ان میں سے چار کی حرمت کا ذکر فرمایا ہے اور اس میں ہیر پھیر کرنے کو کفر صریح قرار دیاہے۔
لہذا مسلمانوں کو چاہئے اسی کیلنڈر کا اہتمام کریں اور اس کی خلاف ورزی سے پرہیز کریں۔
o آیت نمبر 38 سے کلام کا رخ منافقین او ر کمزور مسلمانوں کی طرف پھیر دیا گیا ہے ،اور کچھ اہم باتیں کی گئی ہیں:
o 1)حکم ہو رہا ہے اگر تمہیں اللہ کی راہ میں جہاد کیلئے بلایا جائے تو فورا اس کیلئے تیار ہو جاؤ اور دنیا کے فائدے کو سامنے رکھ کر اس نیک کام سے پیچھا نہ چھڑاؤ ، کیونکہ دنیا کی پونجی آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ آیت:38
o 2) یاد رکھو جہاد کے لئےیہ تیاری تمہارے اپنےہی فائدے کیلئے ہے ۔ کیونکہ اگر تم نے اللہ کے رسول کا ساتھ نہ دیا تو اللہ تمہیں عذاب دے گا اور تمہاری جگہ اپنے نبی کی مدد کے لئے دوسری قوم کو کھڑی کردیگا۔آیت 39 اور یاد رکھو اللہ تعالی اپنے نبی کی مدد کیلئے کافی ہے۔
o پھر بطور مثال سفر ہجرت میں اپنے نبی کی مدد کی مثال دی ہے۔ کہ کس طرح غار میں بیٹھے نبی اور اس کے ساتھی کو دیکھنے سے کافروں کی آنکھوں کو نابینا کردیا تھا۔ آیت:40
o اس کے بعد اگلی آیات میں ان منافقین کی صفات تفصیل سے بیان ہوئی ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد سے پیچھا چھڑاتے تھے۔ان میں سے بعض صفات یہ ہیں:
o 1) ایمان کی کمزوری اور ایمان کے بارےمیں شک میں مبتلا ہونا۔آیت:45
o 2) مسلمانوں کے بیچ فساد ڈالنا۔آیت:46
o 3) جہاد میں حاضری سے بچنے کے لئےجھوٹے بہانے کرنا۔آیت:49
o 4) بخل سے کام لینا اور اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنا۔آیت: 54
o 5)جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اپنی صفائی پیش کرنا۔آیت:62
o 6)صدقے کا مستحق نہ ہونے کے باوجود صدقے کے مال کا خواہشمند رہنا اور اس میں سے طلب کرنا۔ او ر نا ملنے پر ناراضگی کا اظہار کرنا۔آیت:58
o اسی مناسبت سے یہیں پر(آیت نمبر 60) زکاۃ کے مصارف کا بیان ہوا ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ یہ اللہ کی تقسیم ہے، اورمنافقین کو رسول ﷺ پر اعتراض کا موقع نہ مل سکے ۔
o 7) نبی ﷺ کے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال کرنا اور آپ کو کان کا کچا کہنا۔آیت:61
o 8)دین اور اہل دین کا مذاق اڑانا۔ خاص طور پر اللہ کی رضا کے لئےخرچ کرنے والوں کا مذاق اڑانا۔آیت : 64، 66
o انہیں آیتوں میں اللہ تعالی صراحت کے ساتھان تمام لوگوں پر کفر کا حکم لگایا ہے جو اللہ، اس کے رسول ، شرعی احکامات اور اہل دین کا مذاق اڑاتے ہیں، جس کی مزید وضاحت ان آیات کے سبب نزول میں موجود ہے ۔
o ان کی ایک بہت ہی گھٹیا حرکت یہ تھی کہ وہ خود تو خرچ کرتے نہ تھے اورجو کوئی اپنی استطاعت کے مطابق کم یا زیادہ خرچ کرتا تھا اس پر ریاکاری اور بدنیتی کا الزام لگاتے تھے۔
o آیت نمبر 67 تا 70 میں منافقین کی چندبنیادی صفات بیان کرکے انہیں نصیحت آمیز انداز میں دھمکیاں دی گئی ہیں ۔ چنانچہ اپنی بدحرکتوں سے توبہ نہ کرنے کی صورت میں ان کے اعمال کے ضائع ہونے کی خبر دی گئی ہے ،اور قوم نوح و عاد وغیرہ کا ذکر کرکے انہیں انجام بد سے ڈرایا گیا ہے۔ ان کی بنیادی صفات درج ذیل ہیں:
1-برائی کو عام کرنا۔ 2- بھلائی سے دور رہنا اور دوسروں کو اس سے روکنا۔ 3- عمل خیر سے پیچھے رہنا۔ 4- اور اللہ کے ذکر خصوصا نماز سے غافل رہنا۔
o چونکہ قرآن مثانی ہے اس لئے منافقین اور ان کی علامتوں کے فورا بعد اہل ایمان اور ان کی بنیادی صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ [التوبہ:72،71] ۔
وہ صفات یہ ہیں: 1- بھلائی کا حکم دینا۔ 2- برائی سے روکنا۔ 3- نماز قائم کرنا۔ 4- زکاۃ ادا کرنا۔ 5- اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا۔ 6 —اور سب سے پہلے یہ کہ وہ ایک دوسرے کے دوست اورخیر خواہ ہیں۔
o اسی طرح منافقین کے برخلاف مومنوں کو اللہ کی جنت ، جنت کی بے بہا نعمتوں اور سب سے اہم یہ کہ رضائے الہی کی بشارت دی گئی ہے ۔
o اس کے بعد آیت نمبر 74 کے بعد والی آیات میں منافقین کی مزید کچھ صفات بد اور بد کرداریوں کا ذکر کیا۔ جیسے:
o 1)نبی کریم ﷺ کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنا۔آیت:74
o 2) مال نہیں ہے تو خرچ کرنے کی تمنا اور وعدہ کرنا اور جب مال آجائے تو مال خرچ کرنے کی بجائے کنجوسی سے کام لینااو راللہ سے کئے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی کرنا۔آیت: 76
o ان کی اس بد نیتی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالی نے ان کی وعدہ خلافی اور جھوٹ کی وجہ سے قیامت تک ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا۔[التوبہ:77] ۔
o 3) بات صرف کنجوسی ہی کی نہیں بلکہ اللہ کے ان غریب اور مسکین بندوں پر چوٹیں کسنا جواپنی استطاعت کے مطابق تھوڑا بہت مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔
o ان کی یہی بد کرداری اور بد عقیدگی ہے کہ اللہ تعالی نے بھی ان کے ساتھ تمسخر کا معاملہ کیا اوران کے دلوں میں نفاق کو اس قدر پختہ کردیا کہ اب قیامت تک ان کے دلوں سے نہیں نکل سکتا ۔آیت: 77، 78
o اس کے بعد اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کو ان سے مکمل براءت کا حکم دیا،اور فرمایا کہ نہ آپ ان کے لئے دعائے مغفرت کریں اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھائیں اور نہ ہی ان کی قبر پر کھڑے ہوں۔ کیونکہ وہ کافر اور فاسق ہیں اور اسی حالت میں ان کی موت ہوئی ہے۔اب وہ آپ کی طرف سے کسی بھی تکریم کے مستحق نہیں ہیں۔
o آیت نمبر 81 اور اس کے بعدسے غزوہ تبوک کے موقعہ پر لوگوں کو اس غزوہ کی تیاری اور صدقہ کرنے کا حکم دینے کا ذکر ہے۔
o ہوا یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے جب غزوہ تبوک کی تیاری کے لئے صدقہ کا اعلان فرمایا تو نیک دل مسلمانوں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حتی کہ جو صحابی صاحب حیثیت نہیں تھے وہ جاتے، مزدوری کرتے یا جھاڑیوں سےلکڑیاں کاٹ کرلاتے اور اس کو بیچنے کے بعد جو کچھ میسر آتا، خواہ وہ ایک یا آدھا صاع[ کیلو و دو کلو] کھجور ہی کیوں نہ ہو، اسے اللہ کی رضا کے لئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لاکر پیش کر دیتے۔ البتہ منافقین اور ان میں سے صاحب حیثیت خود بھی نہ خرچ کرتے ،الٹا خرچ کرنے والوں پر ریاء و نمود کا الزام لگاتے۔ پھر جب جہاد کے لئے نکلنے کا وقت آیا تو وہ جھوٹے عذر پیش کرنے لگے اور کسی نہ کسی بہانے سے پیچھے رہنے والوں میں شامل رہے۔اللہ تعالی نے اس خانہ ساز بہانے بازی پر انہیں دردناک عذاب کی دھمکی دی ہے۔
o پارے کے آخر میں اللہ تعالی کچھ ان کمزور مسلمانوں کا بھی تذکرہ کیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خیر خواہ تھے ،لیکن وہ اللہ کے رسول کے ساتھ غزوہ تبوک میں شامل نہ ہو سکے۔ اس لئے کہ ان کے پاس وسائل نہیں تھے،لیکن اس کے باوجود وہ اتنے سچے اور مخلص تھے کہ انہیں ڈر تھا کہ کہیں ان کا شمار ان منافقین میں نہ ہو جائے۔لہذااللہ تعالی نے انہیں تسلی دی اور انہیں معذور رکھا ،یعنی چونکہ ان کا عذر حقیقی تھا اس لئے اسے قبول کر لیا گیا اور غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونے پر ان کی کوئی سرزنش نہیں کی گئی۔