سلسلہ کبائر [23] دھوکہ ، صحابہ کو گالی دینا ، جاسوسی کرنا / حديث نمبر: 320

بسم اللہ الرحمن الرحیم

320:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

سلسلہ کبائر [23]

دھوکہ ، صحابہ کو گالی دینا ، جاسوسی کرنا

بتاریخ : 07/ رجب  1438 ھ، م  04، اپریل 2017 م

عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَنِبُوا الْكَبَائِرَ، وَسَدِّدُوا، وَأَبْشِرُوا»

( مسند أحمد 3/394 ) سلسلة الأحاديث الصحيحة:885

63- دھوکہ فریب دینا : اسلام میں  جعل سازی  اور دھوکہ  دہی  کی کوئی گنجائش  نہیں ہے  بلکہ  مسلمان  اپنے  بھائی  اور اپنے  ساتھ تعامل  کرنے  والے کے بارے میں  مخلص  اور اس کا خیرخواہ  ہوتا ہے ، جو اپنے لئے  پسند  کرتا ہے  وہی اپنے  بھائی  کے لئے  بھی پسند کرتا ہے  ، نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ :  وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ "{سنن الترمذی  ، سنن النسائی  بروایت  ابو ہریرہ } ۔ مومن وہ  ہے جس سے لوگ اپنے مال اور خون کے مارے میں مطمئن رہیں۔اسی لئے  اسلام  میں ہر قسم  کی ایسی دھوکہ  بازی  اور جعل سازی  حرام  قرار دی گئی ہے  جس سے  کسی مسلمان  کو خفیہ  طور پر ضرر  پہنچتا  ہو ، ارشاد نبوی ہے : جو ہم کو دھوکہ  دے وہ ہم میں سے نہیں  اور چالبازی  اور دھوکہ  دہی  جہنم  میں ہیں،  یعنی  جہنم  میں جانے  کا سبب ہیں ۔ { صحیح ابن حبان  ، الطبرانی  الکبیر بروایت  عبد اللہ  بن مسعود } ۔ ایک صحابی  قیس بن سعد  ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ اگر  میں نبی ﷺ سے یہ نہ سنا ہوتا  کہ چالبازی کرنے والا  اور دھوکہ دہی کرنے والا  جہنم  میں  جائے گا تو میں بہت  بڑا چال باز  اور جعلساز ہوتا ۔ {الصحیحہ للالبانی :2/46 } ۔ دھوکہ  بازی  اور جعلسازی  کی بہت  سی صورتیں  ہیں، جیسے  سود ے کے عیب کو ظاہر نہ کرنا  ، اچھے  مال  میں ردی مال ملا کر بیچ  دینا  ،کسی  کی مدد کا وعدہ  کرکے  پورا نہ کرنا  ، اور سب سے بڑا دھوکہ  یہ ہے کہ باطل  پر حق   کا غلاف  چڑھا  کر اللہ کے  سادہ بندوں کو  گمراہ کیا جائے ۔ واضح رہے  کہ اگر کسی  دھوکہ  بازی  کا مقصد  کسی شخص  کو ضرر  یا نقصان  سے  نجات دلانا  یا اسے  کسی مصلحت  سے ہم کنار کرنا ہے تو یہ چیز  گناہ میں داخل  نہ ہوگی  ، جیسے کسی  بچے  یا بے عقل  انسان کو دھوکہ دے کر  کسی باعث ضرر یا نامناسب  چیز  سے دور رکھا جائے ۔

64-  صحابہ کو گالی دینا : صحابی  اس شخص کو کہتے  ہیں  جس نے  اپنی زندگی میں بحالت  ایمان  نبی ﷺ سے ملاقات  کی ہو  اور  تا دم حیات  اسی  پر قائم  رہا ہو ۔ اسلام میں  صحابہ  کا بڑا اونچا مقام ہے  کیونکہ  وہ ہمارے  نبی کے ساتھی  اور آپ  کے مددگار  رہے ہیں ، انہیں  کے ذریعہ  قرآن و حدیث  ہم تک  پہنچا ہے ، نبی ﷺ کی وفات  کے بعد  دعوت  دین کی ذمہ داری  انہیں کے کندھوں  پر رہی ہے  ، ان کی شخصیت  کے مجروح  ہوجانے کا معنی ہے کہ  ہمارے   نبی کی شخصیت  بھی مجروح  ہوگی اور دین  کی بنیاد محفوظ نہ رہ پائے گی ، اسی لئے  اللہ تعالی  نے انہیں  بڑا اونچا مقام  دیا ہے  اور ان کے جناب  کو ہرقسم  کی  نقد و جرح اور سب و شتم سے محفوظ رکھا  ہے : وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ۔ الآیۃ ، التوبۃ

وہ مہاجر اور  انصار  جنہوں  نے سب سے  پہلے  ایمان  لانے  میں سبقت  کی اور وہ  لوگ  جنہوں نے احسن  طریق پر ان کی اتباع  کی اللہ  ان سب سے راضی  ہوا اور وہ اللہ سے راضی  ہوئے ۔

اس آیت کی رو سے وہ تمام  صحابہ  جو غزوہ بدر  یا صلح  حدیبیہ سے قبل  مسلمان  ہوئے  اور وہ صحابہ  جو اس کے بعد ایمان  لائے  ہر ایک کے لئے  ایک طر ف اللہ تعالی کی رضامندی کا  سرٹیفیکٹ ہے اور دوسری طرف  ان کے  ایمان  کی صداقت  پر مہر  بھی ہے کہ وہ لوگ  بھی اللہ تعالی  کے دین  اور  احکامات پر راضی ہیں ۔

لہذا ان  میں سے کسی کی نیت  پر حملہ  کرنا اور  ان کے  اخلاص  سے متعلق  گفتگو  کرنا  گویا  اللہ تعالی  پر اعتراض  ہے،  یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ نے صحابہ  کی عیب  جوئی  اور انہیں  برا بھلا کہنے  کو ایسا  عمل قرار دیا ہے  کہ اس کا  فاعل  اللہ تعالی  کی لعنت  کا مستحق  ٹھہرتا ہے ، ارشاد نبوی  ہے : میرے صحابہ  کی عیب  جوئی  نہ کرو  ،اس شخص  پر اللہ تعالی کی لعنت  ہے جو  میرے صحابہ  کی عیب  جوئی کرتا ہے ۔ {الطبرانی  الکبیر  بروایت  عائشہ }ایک اور  حدیث میں ہے  : جو میرے صحابہ  کو برا بھلا  کہے  تو اس پر اللہ کی لعنت  ہے ، فرشتوں  کی لعنت ہے اور  تمام  لوگوں کی لعنت  ہے ۔ {الطبرانی بروایت  ابن عباس }۔ خاص کر  وہ صحابہ  جن کے فضائل  قرآن و حدیث  سے ثابت  ہیں اور  دین اسلام  کی خدمت  میں ان کا  ایک بہت بڑاکردار  رہا ہے  جیسے  : ابو بکر  ،عمر ، عثمان اور  دیگر کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم  ، بلکہ  علمائے  اہل سنت  کے نزدیک  کبار صحابہ  کو بر بھلا  کہنا  کفر ہے  ، امام طحاوی رحمہ اللہ  عقیدہ  صحابہ  میں لکھتے  ہیں : صحابہ  سے محبت  دین و ایمان  میں داخل  ہے اور ان سے بغض  رکھنا کفر  ، نفاق  اور حد سے تجاوز  کرنا ہے ۔

65- مسلمانوں کی جاسوسی کرنا : جاسوسی  کرنا  ایک معروف  عمل ہے  جس کا  مقصد  کسی کی  پوشیدہ  باتوں کی ٹوہ لگانا  ہوتا ہے ، اصل مسئلہ  کے لحاظ  سے جاسوسی کرنا  حرام  اور کبیرہ  گناہ  ہے ، ارشاد باری تعالی  ہے کہ : ولا تجسسو {الحجرات} اور تجسس نہ کرو ۔

صحیح بخاری و صحیح مسلم  میں ہے کہ  نبی ﷺ  نے من جملہ دیگر حرام امور  کے مسلمانوں کی پوشیدہ  باتوں  کی ٹوہ لگانے  سے بھی  ذکرفرمایا ہے  : "ولا تجسسو ” ایک دوسری کی ٹوہ میں  نہ پڑو

واضح رہے کہ  اس  حرام جاسوسی  کی دد صورتیں ہیں :

[۱] اسلامی  حکومت  اور اسلامی مملکت  کی جاسوسی کرنا  کہ دشمنوں  تک اسلامی حکومت  کے پوشیدہ  رازوں   کو پہنچایا جائے  جس سے  اسلامی حکومت  کی کمزوری  بلکہ   ان کی ہزیمت  اور مسلمانوں کے قتل و گرفت  کا خطرہ ہو، تو یہ  چیز  اگر محض دنیاوی مصلحت  کے تحت ہے تو کبیرہ گناہ  اور موجب  قتل ہے  اور  اگر  اسلامی  حکومت  سے بے زاری  اور اسلام  کے غلبے  سے ناراضگی  کے سبب ہے تو یہ دین سے ارتداد ہے ۔

[۲] افراد کی جاسوسی :  اگر یہ  جاسوسی  مسلمانوں  کے افراد  کی ہے تو یہ بھی  گناہ  کبیرہ ہے  ، ارشاد نبوی ہے : اے  وہ لوگوں  جو صرف  زبان سے  اسلام کے دعوے  دار ہو اور تمہارے  دل میں ایمان  داخل  نہیں  ہوا ہے ، سنو  مسلمانوں کو اذیت  نہ پہنچاو، انہیں  عار نہ دلاو ، ان کے عیوب کی ٹوہ  میں نہ پڑو، کیونکہ  جو شخص  کسی مسلمان کے عیوب  کی ٹوہ  میں پڑے گا  تو اللہ تعالی اس کے عیوب  کے پیچھے  پڑ جائے گا  اور جس کے عیوب  کے پیچھے  اللہ تعالی  پڑ گیا  اسے اس کے گھر ہی میں  رسوا کرکے  رکھ دے گا ۔ {سنن الترمذی بروایت  ابن عمر } ۔

مسلمانوں کے عیب  جوئی  کی مختلف  صورتیں  ہیں جن  پر  متنبہ  رہنا چاہئے ، جیسے لوگوں  کے رازوں  کو ٹٹولنا ، دوسرے  کے  عیب  تلاش کرنا  ، دوسروں کے حالات  و معاملات  کی ٹوہ  لگاتے پھرنا  ، لوگوں کے نجی  خطوط پڑھنا  ، دو آدمیوں  کی باتوں  کو کان  لگا کر سننا ، ہمسایوں  کے گھر میں  جھانکنا  اور مختلف  طریقوں  سے دوسروں کی خانگی زندگی  یا ان کے  ذاتی  معاملات کی ٹٹول کرنا ،یہ سب تجسس  میں داخل ہے جس کی ممانعت  وارد ہے ۔ {تفہیم القرآن } ۔