طلاق /خلع کی صورت میں مہر کا حق دارکون؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

طلاق /خلع کی صورت میں مہر کا حق دارکون؟

از قلم : شیخ عبد الرحمن عزیز

{ ناشر : مکتب الدعوہ ، الغاط ، www.islamdawah.com/urdu }

نکاح مرد وزن کے درمیان ایک معاہدہ ہے ،اس کی رو سے عورت خود کو بیوی کی حیثیت سے مرد کے حوالے کردیتی ہے ۔اور مرد اس کے عوض میں کچھ مال وغیرہ اس کے حوالے کرتا ہے، جسے مہر کہا جاتا ہے ۔اب دونوں پر فرض ہے کہ وہ اس معاہد ہ کے تحت اپنی زندگی کے معاملات سرانجام دیں،حتی کہ موت انہیں ایک دوسرے سے جدا کردے ۔یہی زوجین کی زندگی ہے اور یہی نکاح کا مقصد ہے ۔

لیکن زندگی میں کبھی ایسا موڑ بھی آجاتا ہے کہ ان دونوں کا شوہر اور بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہنا ناممکن ہوجاتا ہے اور جدائی ہی میں عافیت ہوتی ہے ۔اسے شریعت کی زبان میں طلاق کہا جاتاہے۔طلاق کی ضرورت کبھی مرد محسوس کرتا ہے اور کبھی عورت ۔اب فریقین میں سے جو شخص بھی ا س معاہدہ سے الگ ہونا چا ہے اسے اجازت ہے ، لیکن مہراس فریق کا حق ہوگا جو معاہدے کو نبھانے پر آمادہ ہے ۔

اب اگر مرد طلاق دے کر بیوی کو الگ کرنا چاہے تو اس کیلئے لازم ہے کہ وہ طلاق دیتے ہوئے اس سے حق مہر کا مال واپس نہ لے ۔ کیونکہ اس نے جس چیز کے عوض مہر دیا تھا وہ اس نے حاصل کرلی ہے ۔اور عورت نے جس معاہدہ کی روسے مہر وصول کیا تھا وہ اس نے نبھانے کی کوشش کی ہے اور مزید نبھانے پر آمادہ ہے ۔لہذا مرد کے طلاق دینے کی صورت میں مال مہر عورت کا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :

)الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آَتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا( [البقرة/229]

"طلاق [رجعی ] دو مرتبہ ہے ،اس کے بعد یاتو نیک نیتی کے ساتھ بیوی کو روک رکھو ، یا بھلائی کے ساتھ اسے چھوڑ دو ،اس صورت میں تمہارے لئے حلال نہیں کہ تم نے جو کچھ انہیں دے رکھا ہے اس میں سے کچھ واپس لو ”

یہ تو ہوا اس عورت کا معاملہ جو اپنے خاوند کے ساتھ رہی اور دونوں ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے ۔لیکن اگر خاوند نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا تو ان کا معاملہ اس سےمختلف ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :

)لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ (236) وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (237) (

[البقرة/236، 237]

"تمہارے لئے کوئی گناہ کی بات نہیں ہے ، کہ اگر اپنی بیویوں کو انہیں ہاتھ لگانے [یعنی جماع کرنے ] اور ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو ، اور انہیں کچھ مال بطور متعہ [تحفہ ] دے دو ۔خوشحال آدمی پر اس کی حیثیت کے مطابق اور تنگ دست پر اس کی طاقت کے مطابق مناسب مقدار میں ہونا چاہئے ، احسان کرنے والوں پریہ حق ہے ۔اور اگر تم انہیں ہاتھ لگانے[یعنی جماع کرنے ] سے پہلے طلاق دو جبکہ ان کا مہر مقرر کر چکے ہو تو انہیں نصف مہر دے دو۔الا یکہ وہ[اپنا حصہ] از خود معاف کردیں ، یاوہ [مرد اپنا باقی حصہ بھی] چھوڑ دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ،اور اگر تم [مرد ] ہی [اپنانصف حصہ ] معاف کردو تو یہ تقوی کے زیادہ قریب ہے ۔[ایسے معاملات میں بھی ]آپس میں خیر خواہی کرنا مت بھولو ، بلاشبہ اللہ تعالی تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے ”

مذکورہ آیات میں دو عورتوں کا ذکر ہو اہے ، ایک جس کے ساتھ نہ مباشرت کی گئی اور نہ اس کا مہر مقرر کیا گیا،تو ایسی صورت میں مرد کو چاہئے کہ وہ اسے اپنی حیثیت کے مطابق کچھ تحفہ تحائف دیدے ۔تاکہ طلاق سےاسے جو ذہنی تکلیف پہنچی ہے اور معاشرے میں اس کا مقام قدرے کم ہوا ہے اس کا مداوا ہوجائے ۔ لیکن یہ تحائف نصف مہر مثل سے کم ہو ۔

دوسری وہ خاتون جسے اس حالت میں طلاق دی گئی کہ اس سے خاوند نے فائدہ نہیں اٹھایا لیکن مہر مقرر کیا گیا یا اسے ادا کردیا گیا تھا ،ایسی صورت میں اس کا حق نصف مہر کا ہے ،کیونکہ طلاق سے اسے ذہنی صدمہ پہنچا ہے اور معاشرے میں اس کا کچھ گراف کم ہوا ہے ،

لیکن بہتر ہے کہ وہ یا اس کا ولی نصف مہر بھی چھوڑ دے کیونکہ خاوند نے اس سے کچھ فائدہ نہیں اٹھایا۔لیکن اگر خاوند وہ اپنا آدھا بھی نہ لے تویہ تقوی کے زیادہ قریب ہے ، کیونکہ عورت اس کے ساتھ منسوت تو رہی ہے ، اور اس نے اپنا آپ اس کے حوالے کردیا تھا ۔یہ تو اب اس کی مرضی کہ یہ اسے طلاق دے کر الگ کررہا ہے ۔لیکن چونکہ اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جس کے عوض میں اس نے مہر دیا تھا اس لئے نصف مہر واپس لینے کا حق دار ہے ۔

مزید ارشاد فرمایا:

)يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آَتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ — ( [النساء/19]

"اے ایمان والو!تمہارے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ تم عورتوں کے زبردستی مالک بن بیٹھو، اور انہیں اس لئے نہ روک رکھو ، تاکہ تم نے جو انہیں دیا تھا اس میں سے کچھ واپس لے لو ،الا یہ کہ وہ کھلی برائی کا ارتکاب کرنے لگیں ”

)وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ وَآَتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا (20) وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا (21) ( [النساء/20، 21]

"اور اگر تم ایک بیوی کو فارغ کرکے دوسری لانا چاہو ، اور ان میں سے ایک کو مال کثیر عطا کیا تھا ، تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو ، کیا تم [وہ مال ] اس پر بہتان باندھ کر[۱] اور صریح گناہ کرکے لینا چاہتے ہو ۔ اور وہ مال تم کیسے لو گے ، حالانکہ تم دونوں آپس میں [گوشہ تنہائی میں ] مل چکے ہو ۔ اور انہوں نے تم سے بہت ہی سخت عہد وپیمان لے رکھا ہے ”

سابقہ آیات کی روسے محض ایک صورت میں مرد بیوی سے اس کو دیا ہوا مال لے سکتا ہے کہ بیوی بے حیائی کا ارتکاب کرکے اس عہد کو توڑنے کی مرتکب ہو جس کے عوض میں اسے مہر دیا گیا تھا ۔یعنی اگر بیوی معاہدہ نکاح کی مخالفت کرے اورعفت جو مذکرہ معاہدہ کی اہم ترین شق تھی کو توڑ ڈالے تو گویا کہ اس نے معاہدہ نکاح توڑ ڈالا ہے ، اور اصولاًجو فریق بھی معاہدہ نکاح توڑے گا اسے مہر کی رقم دوسرے کے حوالے کرنا ہوتا ہے ۔لہٰذا اس صورت میں عورت کا کوئی حق نہیں کہ وہ مہر کی رقم اپنے پاس رکھے ۔بلکہ معاہدہ کی پاسداری نہ کرنے کے سبب اسے خاوند کو لٹادے ۔

اسی سے ملتی جلتی ایک دوسری صورت ہے کہ جس میں عورت معاہدہ نکاح کو توڑنے اور اس سے الگ ہونا چاہتی ہے ، اور وہ خلع ہے ۔ یعنی اگر عورت اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور وہ اس سے طلاق دینے کا مطالبہ کردیتی ہے تو اس صورت میں بھی اس پر فرض ہے کہ مہر کا مال واپس اسے کردے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

) الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آَتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229) ( [البقرة/229]

"طلاق [رجعی ] دو مرتبہ ہے ،اس کے بعد یاتو نیک نیتی کے ساتھ بیوی کو روک رکھو ، یا بھلائی کے ساتھ اسے چھوڑ دو ،اس صورت میں تمہارے لئے حلال نہیں کہ تم نے جو کچھ انہیں دے رکھا ہے اس میں سے کچھ واپس لو، الاّیہ کہ ڈریں کہ وہ حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے ۔پھر اگر تم حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکنے سے ڈرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ عورت فدیہ دے کر [طلاق حاصل کرلے ]،یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، اور جو شخص حدود اللہ کو تجاوز کرے گا وہ لوگ ظالم ہیں ”

اس سے علم ہوا کہ جو مرد طلاق دے اس کیلئے حلال نہیں کہ وہ عورت کو دیا ہوا مہر واپس لے ،سوائے اس کہ وہ حدود اللہ کو جو نکاح کے

———

[۱][کیونکہ سابقہ آیت کی رو سے محض اس صورت میں مال لیا جاسکتا ہے کہ اگر بیوی کھلی بے حیائی کاارتکاب کرے ]

سبب ان پر لاگو ہوئی تھیں قائم نہ رکھ سکیں تو عورت مہر واپس کرکے طلاق لے سکتی ہے ۔لیکن وہ لوگ جن کی آنکھوں پر یورپی تہذیب کی پٹی بندھیہے اور وہ یورپی آقاؤں کی نمک خوری میں عورت کو ہر حال میں مرد کے برابر بلکہ اس سے سے بھی اونچا کرنا چاہتے ہیں ،انہیں یہ گوارا نہیں کہ مرد عورت سے مال واپس لے لے ۔ایسے ہی لوگوں میں سے ایک جاوید احمد غامدی ہیں ۔وہ عورت کے مطالبہ طلاق کے ضمن میں کہتے ہیں :

"[عورت کے مطالبہ پر اگر شوہر طلاق دے تو] اس طلاق کے بعد شوہر کے لئے رجوع کا حق نہیں ہوگا أور بیوی پابند ہوگی کہ مہر أور نان ونفقہ کے علاوہ اگر کوئی أموال واملاک شوہر نے اسے دے رکھے ہیں أور طلاق کے موقع پر وہ انہیں واپس لینا چاہتا ہے تو فصل نزاع کیلئے عدالت سے رجوع کرے یا أس کا مال اسے واپس کردے "۔

[ إشراق ۔دسمبر 2008 ]

اور اپنی ربع صدی کی تحقیقات پر مشتمل کتاب”میزان "میں فرماتے ہیں :

"اس باب میں جو ہدایات خود قرآن میں دی گئی ہیں ، وہ یہ ہیں :

اولاً، بیوی کو کوئی مال ، جائیداد ، زیورات اور ملبوسات وغیرہ ، خواہ کتنی ہی مالیت کے ہوں ، اگر تحفے کے طورپر دیے گئے ہیں تو ان کا واپس لینا جائز نہیں ہے ۔ نان ونفقہ اور مہر تو عورت کا حق ہے ، ان کے واپس لینے یا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ان کے علاوہ جو چیزیں دی گئی ہوں ، ان کے بارے میں بھی قرآن کا حکم ہے کہ وہ ہرگز واپس نہیں لی جاسکتیں ۔

اس سے دو صورتیں ، البتہ مستثنیٰ ہیں :

ایک یہ کہ میاں بیوی میں حدود الٰہی کے مطابق نباہ ممکن نہ رہے ، معاشرے کے ارباب حل وعقد بھی یہی محسوس کریں ، لیکن میاں صرف اس لیے طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو کہ اس کے دیے ہوئے اموال بھی ساتھ ہی جائیں گے تو بیوی یہ اموال یا ان کا کچھ حصہ واپس کرکے شوہر سے طلاق لے سکتی ہے۔ اس طرح کی صورت حال اگر کبھی پیدا ہوجائے تو شوہر کیلئے اسے لینا ممنوع نہیں ہے ۔

دوسری یہ کہ بیوی کھلی بدکاری کا ارتکاب کرے "۔

[المزان :۴۴۶-۴۴۵]

اب ذرا دیکھئے کہ غامدی صاحب نے خلع کی صورت میں مہر واپس کرنے کاسوال ہی ختم کردیا ہے ۔

مہر کی واپسی قرآن کی نظر میں

جبکہ قرآن مجید نےبالکل واضح انداز میں اسے واپس کرنے کا حکم دیا ہے ۔ فرمایا:

) الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آَتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ —-( [البقرة/229]

"طلاق [رجعی ] دو مرتبہ ہے ،اس کے بعد یاتو نیک نیتی کے ساتھ بیوی کو روک رکھو ، یا بھلائی کے ساتھ اسے چھوڑ دو ،اس صورت میں تمہارے لئے حلال نہیں کہ تم نے جو کچھ انہیں دے رکھا ہے اس میں سے کچھ واپس لو، الاّیہ کہ ڈریں کہ وہ حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے—-”

مزید ارشاد فرمایا:

)يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آَتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ — ( [النساء/19]

"اے ایمان والو!تمہارے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ تم عورتوں کے زبردستی مالک بن بیٹھو، اور انہیں اس لئے نہ روک رکھو ، تاکہ تم نے جو انہیں دیا تھا اس میں سے کچھ واپس لے لو ، اگر چہ تم نے انہیں ایک خزانہ دیا ہو،الا یہ کہ وہ کھلی برائی کا ارتکاب کرنے لگیں ”

مذکورہ دونوں آیات میں اللہ تعالیٰ نے ) مَا آَتَيْتُمُوهُنَّ (کا لفظ استعمال کیا ہے ، اس کا معنیٰ عام ہے کہ ” جو تم نے انہیں دے رکھا ہے ” وہ دو صورتوں میں واپس لیا جاسکتا ہے ،ایک عورت کے فحاشی کے مرتکب ہونے کی صورت میں اور دوسرا طلاق کا مطالبہ کرنے کی حالت میں ۔

عموماًشوہراپنی بیویوں کوچار قسم کے اموال دیتے ہیں :

حق مہر ۔۔۔۔۔۔۔نان ونفقہ ۔۔۔۔۔ تحائف ۔۔۔۔۔استعمال کیلئے زیورات وغیرہ اور بعض وجوہات سے کچھ اپنی جائداد اس کے نام لکھوادیتے ہیں ۔

اب ذرا دیکھئے !کہ عورت کے مطالبہ کی صورت میں غامدی صاحب کے نزدیک پہلے تینوں اقسام کے مال واپس کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ صرف آخری مال عورت واپس کرنے کی مجاز ہے ، لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ آخری قسم کے اموال کیا عورت کے ہیں یامرد کے ،اور عورت کے پاس ان کی حیثیت امانت والی ہوتی ہے ۔تو جب یہ اموال عورت کے ہیں ہی نہیں تو انہیں سے "فدیہ ” دینے کا کیا مطلب ؟۔بلکہ اصولاً یہ اموال تو مرد کے ہوتے ہیں ،اور انہیں واپس کرناعورت کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے ۔

تحائف تو ایک دوسری صنف ہے خواہ بیوی کو دئے جائیں یا کسی دوسرے شخص کو ، ان کابیوی بن کر رہنے یانہ رہنےسے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ انہیں واپس لینارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بقول اسی طرح ہے جس طرح کتا قے کرکے چاٹ لیتا ہے ۔

نان ونفقہ کا تعلق بیوی کےروز مرہ کے اخراجات کے ساتھ ہے ،اور یہ اس وقت تک خاوند کی ذمہ داری ہے جب تک وہ بیوی کی حیثیت سے خاوند کے تابع رہتی ہےحتیٰ کہ طلاق رجعی کے بعد عدت ختم ہونے تک بیوی کا خرچہ خاوند کے ذمہ ہے ۔لہذا طلاق کے موقع پر اسے واپس کرنے کا بھی کوئی تک نہیں ہے ۔باقی صرف ایک مال حق مہر والا بچتا ہے ۔جو نکاح کے موقع پر دیاجاتا ہے ،اورسورۃ البقرۃ کی آیت نمبر قبل از مس طلاق دینے کے احکام بیان کرتے ہوئے فرمایا:

)وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ([البقرة/237]

"اور اگر تم انہیں ہاتھ لگانے[یعنی جماع کرنے ] سے پہلے طلاق دو جبکہ ان کا مہر مقرر کر چکے ہو تو انہیں نصف مہر دے دو”۔

اس میں طلاق کی صور ت میں مہر واپس کرنے کا واضح حکم موجود ہے ۔لہٰذا ثابت ہوا کہ طلاق کی صورت میں جس مال کی واپسی کا حکم ہے وہ مہر ہی ہے ، نہ کہ کچھ اور۔اورقرآن میں اسی مال کی واپسی کا حکم ہے ۔غامدی صاحب نے مال مہر واپس نہ کرنے کا ذکر کرکے جن آیات کی طرف اشارہ کیا ہے وہ سورۃ النساء کی آیات نمبر ۲۱-۲۰-۱۹ہیں ،جو اوپر مضمون میں مذکور ہیں ۔آپ ان آیات کو دوبارہ پڑھیں ، آپ دیکھیں گے کہ ان آیات کا خلع کے معاملہ سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے ، بلکہ ان سب کا تعلق مرد کی جانب سے عورت کو طلاق دینے سے ہے ،اور یہ بات ہم نے واضح کردی ہے کہ جب مرد بیوی کو طلاق دے گا تو وہ مہر کی رقم واپس نہیں لے سکتا ، لیکن خلع میں معاملہ اس کے برعکس ہے کہ مرد طلاق نہیں دینا چاہتا لیکن عورت اپنے کسی فائدہ کی خاطر طلاق کا مطالبہ کرتی ہے ،لہٰذا مذکورہ آیات کا خلع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اتنی واضح آیات کےعبارۃ النص اور دلالت النص سے بے پرواہ ہوکر انہیں دوسرے احکام پر منطبق کرنا ، اسے دماغی خلل کے سوا کوئی نام نہیں دیا جاسکتا ۔

اس کے علاوہ حدیث میں بصراحت اس کا تذکرہ ہے ،اور آج تک امت کااجتماعی تعامل اسی پر دلال ہے ۔

مہر کی واپسی حدیث کی نظر میں

آئیے قرآن مجید کے دلائل کے بعد حدیث پر نظر ڈالتے ہیں :۔

اب میں وہی روایت لکھوں گاجو غامدی صاحب نے اپنی کتاب میزان میں تحریر کروں گا۔

سیدنا ابن عباس کی روایت ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یارسول اللہ ،میں اس کے دین واخلاق پر کوئی حرف نہیں رکھتی ، مگر مجھے اسلام میں کفر کا اندیشہ ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شکایت سنی تو فرمایا: اس کا باغ واپس کرتی ہو؟ اس نے مان لیا تو آپ نے ثابت کو حکم دیا کہ باغ لے لو اور اسے ایک طلاق دے کر الگ کردو۔ [بخاری ۔الطلاق۔باب :5273]

اسی واقعہ کی دوسری اسناد جنہیں امام الدار قطنی ،ابن حجر، ملاعلی قاری ،امام الشوکانی ، امیر اسماعیل ،شمس الحق عظیم آبادی سمیتعلماء اکرام نے صحیح قرار دیا ہے ،میں یہ وضاحت موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کی بیوی کو جس باغ کے واپس کرنے کا حکم دیا تھا وہ ثابت نے اسے مہر میں دیا تھا۔

مہر کی واپسی اجماع امت کی نظر میں

امام بکر بن عبداللہ المزنی التابعی نے سورۃ النساءکی آیات نمبر ۲۱-۲۰-۱۹کو سورۃ البقرۃ کی آیت خلع کا ناسخ سمجھ کر خلع کا انکار کیا ہے ،جسے علماء امت نے شاذ قول قرار دے کر رد کیا ہے ، اس کے علاوہ علماء کے درمیان میں یہ مسئلہ تو زیر بحث رہا ہے کہ مرد خلع کے عوض میں مہر سے زیادہ لے سکتا ہے یا نہیں ، لیکن آج تک یہ بات علماء امت میں کبھی اختلافی نہیں رہی کہ عورت مہر واپس نہیں کرے گی ۔بلکہ اس پر علماء امت کا اتفاق ہے کہ خلع کے عوض میں عورت مہر والا مال ہی واپس کرے گی ۔الاّیہ کہ مرد اس سےتھوڑے مال پر آمادہ ہوجائے ۔غامدی صاحب پہلے شخص ہیں جنہوں نے یہ اجتہاد فرمایاہے ۔

مہر کی واپسی عقل وقیاس کی نظر میں

قیاس اور عقل انسانی بھی یہی کہتی ہے کہ جس چیز کے عوض میں معاہدہ قرار پایا ہے ، جب کوئی فریق اسے پورا نہ کرسکے تو اس پر واجب ہے کہ وہ معاوضہ بھی واپس کرے ، کیونکہ وہ معاہدہ کو ٹوڑا چاہتی ہے جب معاہدہ ہی نہ رہا تو عوض کیونکر اس کے لئے حلال ہوسکتا ہے ۔ اسی لئے علماء نے خلع کو طلاق نہیں بلکہ فسخ نکاح کا نام دیا ہے[۱] ، اوریہی صحیح ہے ، اور خلع فسخ نکاح ہے تو لازمی بات کے جس چیز کے عوض میں نکاح ہوا تھا وہ فسخ کرتے ہوئے وہ چیز واپس کی جائے ، جیسا کہ بیع شدہ سامان واپس کرتے ہوئے اس کا معاوضہ واپس کیا جاتا ہے ۔اور نکاح کرکے بیوی کو حلال کرنے کامعاوضہ مہر ہی ہے ۔اور اسی بات کو قرآن مجید نے سورہ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۲۹جو اوپر مذکور ہے میں حدودا للہ سے تعبیر فرمایاہے ، اور حکم دیا ہے کہ اگر بیوی خود کو حدود اللہ کو پورا کرنے سے قاصرسمجھے تو اسے چاہئے کہ وہ فدیہ دے کر الگ ہوجائے ۔

ثابت ہو اکہ خلع کی صورت عورت کو مہر واپس کرنا چاہئے ، اور اس کے علاوہ اگر کوئی دوسرا مال خاوند نے بیوی کی حیثیت سے اسے دےرکھا ہے وہ بھی واپس کرے گی ۔ لیکن اگر خاوندعلم ہونے کے باوجود خلع کے عوض میں کسی قسم کا مطالبہ نہیں کرتا یا وہ مہر سے کم مال پررضامندہو جاتا ہے ،تو پھر اسی کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

اسی سے ملتا جلتا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر عورت خلع کے عوض مہر سے زیادہ دینے کی پیش کش کردے تو مرد کیلئے وہ لینا حرام نہیں ہے بلکہ حلال ہے ،اسی لئے قرآن مجید نے آیت خلع میں فدیے کی حد بندی نہیں کی ،اور سورۃ النساء کی آیت نمبر ۴ میں بھی عورت کی جانب سے دیا گیا