فتنہ یاجوج و ماجوج / حديث نمبر: 329

بسم اللہ الرحمن الرحیم

329:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

فتنہ یاجوج و ماجوج

بتاریخ : 18/ محرم 1439 ھ، م  07/، نومبر  2017 م

عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَيْهَا فَزِعًا يَقُولُ: «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ اليَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ» وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ الإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا، قَالَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الخَبَثُ»." ( صحيح البخاري:7135 الفتن-  صحيح مسلم:2880 ، الفتن )

ترجمہ : ام المومنین حضرت زینب بن جحش رضی اللہ عنہا  سے روایت  ہے کہ  ایک دن  اللہ کے رسول ﷺ گھبراہٹ  کی حالت میں  [اپنی خوابگاہ سے ] میرے  پاس تشریف  لائے اور فرمایا : "لا الہ الا اللہ ”  تباہی ہے  عرب کی اس شر کی وجہ سے جو بالکل  قریب آچکا ہے ، آج یاجوج  و ماجوج  کی دیوار  میں اس قدر  سوراخ  ہوگیا ہے ، پھر آپ ﷺ نے  اپنی  انگشت  شہادت  اور انگوٹھے  کو ملا کر حلقہ  بنایا  ، حضرت  زینب  کہتی  ہیں کہ  میں نے  سوال  کیا ، اے اللہ کے رسول  ہم میں  نیک لوگ  موجود  ہیں تو  کیا ہم  پھر بھی  ہلاک  ہوجائیں گے ؟  آپ نے جواب دیا : ہاں ! جب شر اور برائی زیادہ  ہوجائے گی ۔  {صحیح بخاری  ومسلم }۔

تشریح :  ایک بار  نبی کریم ﷺ اپنے حجرہ  مبارکہ  میں سو رہے تھے  کہ اچانک  آپ بیدار  ہوئے  ،بیداری  کا سبب  یہ تھا کہ اللہ تعالی کی طرف سے خواب میں نبی ﷺ کو امت  میں پیش  آنے والے بعض  فتنوں  کی خبردی گئی  ، آپ ﷺ بیدار  ہوتے ہی  اپنے حجرے  سے باہر تشریف   آئے  اور حضرت  زینب  بنت جحش  رضی اللہ عنہا  کے پاس  آکر  فرماتے  ہیں "لا الہ  الا اللہ  ” اللہ کے علاوہ  کوئی  معبود برحق نہیں ، پھر آپ نے تین اہم  فتنوں کی خبر  دی جو امت  میں مختلف  اوقات  میں ظاہر  ہونے  والے تھے ۔

[۱] عرب کی باہمی  لڑائی  اور خونریزی کا فتنہ  :آپ نے فرمایا :قریب ہی  ایک فتنہ ظاہر ہونے  والا  ہے جو عرب  کی تباہی کا سبب ہوگا ، عرب کو خاص کرنے کی وجہ  یہ ہے  اس وقت  مسلمانوں  کی اکثریت  عرب ہی تھے  اور   جو فتنہ  پیدا ہونے والا  تھا  اس کا زیادہ  اثر عرب  ہی ہر ہونے  والا تھا ،  اس فتنے  سے مراد  شاید  حضرت عثمان  بن عفان  رضی اللہ عنہ کی شہادت  کے  نتیجے  میں پیدا ہونے   والے فتنے ہیں  جس کی وجہ  سے جنگ  جمل  و صفین  وجود میں آئیں،  ان جنگوں میں بہت بڑی تعداد میں مسلمان کام آئے  اور پھر  اس کے بعد  سے امت میں اختلاف  کی شکل میں  ، فرقوں کی شکل میں اور حکومت  کے لئے  ایک دوسرے  پر غلبے کی شکل میں  فتنوں  کے ظہور  کا  سلسلہ جب شروع   ہوا تو آج  تک رکنے  کا نام   نہیں  لے  رہا ہے  ، اسی فتنے کا نتیجہ  ہے کہ حضرت  عثمان کی شہادت  کے بعد  سے آج تک  مسلمان  ایک پلیٹ  فارم پر جمع  نہیں  ہوسکے  حتی کہ  صورت حال اس حدتک   پہنچ  گئی  ہے کہ دوسری  قوموں  کو ہم  پر ہنسنے  کا  موقعہ  ہاتھ  آگیا ہے ۔  واللہ المستعان ۔

[۲] یاجوج ماجوج  کا خروج : آدم علیہ السلام  کی ذریت  میں سے  دو  وحشی قبیلے  ہیں جنہیں  یاجوج  وماجوج  کہا  جاتا  ہے ، چونکہ  یہ اپنی  آبادی سے نکل کر عام  قریبی بستیوں  پر حملہ  آور  ہوکر  فساد  مچاتے  تھے، لہذا   جب ذو القرنین  بادشاہ  کا گزر  اس طرف  سے ہوا تو وہاں  کے لوگوں کے کہنے پر ان کے درمیان  اور یاجوج  ماجوج  کے درمیان  ایک  آہنی  دیوار  کھڑی  کردی، یہی وہ دیوار  ہے جس کا ذکر سورۃ الکہف میں ہے  ، اس دیوار کی  وجہ سے  وہ ان کی خونی  حملوں  سے  محفوظ ہوگئے ،  یاجوج و ماجوج  اس وقت سے اس  دیوار  کو توڑنے  اور اس میں شگاف  ڈالنے  کی کوشش  میں لگے  ہیں، لیکن  آج تک  کامیاب  نہ ہوسکے  ، ان کی  اس کوشش  سے متعلق  نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا  کہ اس دیوار  میں آج معمولی  سوراخ  کرنے میں  کامیاب  ہوگئے  ہیں ، لیکن  اللہ تعالی نے اپنے فضل وکرم  سے کچھ ایسا نظام رکھا  ہے کہ جس وقت  سے وہ  اس دیوار  میں  سوراخ  کرنے  میں کامیاب  ہوئے ہیں  آج تک اس میں اضافہ  نہیں کرسکے  بلکہ صبح سے  شام تک  کی کوشش  میں  وہ صرف سوراخ  کرپاتے  ہیں اور جب  دوسرے دن  کا ارادہ  کرکے  وہ چھوڑ دیتے  ہیں توہ سوراخ  پھر پر ہوجاتا ہے یہاں  تک کہ  جب وہ وقت  آئے گا  کہ ان کا خروج  ہو تو  ایک دن  وہ  کہیں  گے آج  اس  سوراخ  کو اسی حالت  میں چھوڑ دو کل” ان شاء اللہ”  اسے پورا  کریں گے  ، پھر جب وہ دوسرے  دن آئیں گے  تو  ” ان شاء اللہ ”  کہنے کہ برکت  سے اس  سوراخ  کو اپنی حالت  پر پائیں  گے ، جسے  مزید  وسعت  دے کر  وہ انسانی آبادی  پر ٹوٹ پڑیں گے  اور پوری  دنیا  کو تہس  نہس  کردیں گے  ، صرف انسانوں  ہی کو  نہیں بلکہ  وہ اس  معمورہ کی  اشیائے خرد ونوش اور دریاوں  و چشموں  کے پانی   کا بھی صفایا  کردیں گے، چنانچہ   ایک حدیث  میں ہے کہ وہ  ہر اونچی  جگہ سے امڈ  پڑیں گے [ ان کی کثرت  اور وحشیت  کا اندازہ  اس سے  لگاو کہ ] ان کے پہلے   لوگ  بحیرہ  طبریہ  سے گزریں  گے اور اس میں جو پانی  ہوگا اسے پی  جائیں  گے ، پھر  جب ان کی آخری  جماعت  ادھر سے گزرے  گی تو  کہے گی  کہ کبھی  اس بحیرہ  میں بھی پانی  رہا ہوگا ۔ الحدیث {صحیح مسلم  : 2937 } ۔ اللہ تعالی نے ان کے  اسی واقعہ  کی طرف اشارہ  فرمایا ہے  : حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (96)الأنبیاء یہاں تک  کہ یاجوج  و ماجوج  کھول  دیئے  جائیں گے  اور وہ  ہر بلند ی سے نیچے  کو دوڑتے  آئیں گے  ۔

[۳] امت کی ہلاکت  کا فتنہ : نبی کریم ﷺ کا یہ بیان  سن کر حضرت  ام المومنین  زینب  پریشان  ہوگئیں  ، کیونکہ  انہوں  نے سن  رکھا تھا کہ یاجوج و ماجوج غیر معمولی تباہی  مچائیں گے  اور ان  سے مقابلہ  کی  طاقت  مسلمانوں  میں نہ ہوگی  تو انہوں  نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ہمارے  اندر نیک لوگوں  کا وجود ہوگا پھر بھی   ہم ہلاک و برباد  ہوں گے ؟ آپ ﷺ  نے جواب  میں فرمایا :جب  بدی  اور  بدکرداروں  کی کثرت  ہوگی تو  ہلاکت  واقع  ہوگی  ، جب زنا  ، اولاد زنا  بڑھیں  گے تو اللہ کی رحمت  رکے گی  ، جب اہل فسق  وفجور کا غلبہ  ہوگا تو زمین  میں فساد  مچے گا ۔

فوائد :

  • نبی ﷺ کا معجزہ کہ آپ نے  جیسی پیشین  گوئی  کی ویسے  ہی ہوا  اور ہورہا ہے ۔
  • بروں  کے ساتھ  نیک اور بے گناہ  لوگ بھی مارے  جاتے ہیں ، جب کہ وہ برائی  سے نہ روکیں ، یا برائی  سے روکیں  لیکن  بروں  کی  کثرت  ہو اور وہ برائی  سے نہ رکیں ۔
  • کسی فساد ، زلزلہ  اور ہنگامی صورت حال سے نیک  اور بد سبھی  متاثر  ہوتے ہیں  ، البتہ  قیامت  کے دن  ہر شخص  کو اس کی  نیت  اور عمل  کے مطابق  اٹھایا جائے گا ۔