فوٹو گرافی کے متعلق شیخ ابن عثیمین- رحمہ اللہ – کا فتوی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فوٹو گرافی کے متعلق شیخ ابن عثیمین- رحمہ اللہ – کا فتوی

از : شیخ ندیم اختر سلفی حفظہ اللہ

{ناشر:مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

جہاں تک انسان یاجانوروں کا مجسمہ بنانے کا تعلق ہے تو میرے علم کے مطابق اس کی حُرمت پر علما٫ کرام کا اتفاق ہے،چاہے وہ کسی بھی مقصد کےلئے ہو، اللہ کے علاوہ اس کی عبادت، یازینت اور تجارت کی غرض سے،یا بے مقصد بنایا گیا ہو،یا اس کا مقصد اللہ کی برابری،یا اس کےعلاوہ اور بھی کوئی مقصد ہو،جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ عز وجل فرماتاہے:”ومن اظلم ممن ذہب یخلق کخلقی "(کہ اس شخص سے بڑھ کر ظالم او رکون ہوگاجو میری مخلوق کی طرح پیدا کرنے چلا ہے)

(بخاری ح:5953،7559،مسلم ح:2111 بروایت ابو ہریرہ)

اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے”أشد الناس عذاباً یوم القیامۃ الذین یضاہئون بخلق اللہ”(کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب میں وہ لوگ گرفتار ہوں گےجو اللہ کی مخلوق کی طرح خود بھی بناتے ہیں)

(بخاری ح:5954 بروایت عائشہ)

اور اللہ کے بنی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے:” أشد الناس عذاباًیوم القیامۃالمصورون”(اللہ کے پاس قیامت کے دن تصویر بنانے والوں کو سخت سے سخت تر عذاب ہوگا)

(بخاری ح:5950،مسلم ح:2109 بروایت عبد اللہ بن مسعود)

کیونکہ کسی انسان یا جانور کے جسم کی تصویر بنانا بلا شبہ اللہ کے مخلوق کے مثل بنانا ہے،گرچہ اس کا یہ مقصد نہ ہو،جیسے کوئی شخص کسی شکل کا ایک دروازہ بنائے اور دوسرا بھی اسی کے مثل دوسرا دروازہ بنائے تو اس کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ یہ اس کے مثل ہے اگرچہ دوسرا پہلے کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا۔

٭ہاتھ سےتصویر بنانا:۔

اس میں زمانئہ قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے،لیکن راجح قول یہ ہے کہ وہ حرام ہے اورتصویر بنانے کی حُرمت میں داخل ہے،کیونکہ گذشتہ حدیثوں کے عُموم میں یہ عمل بھی شامل ہے،اسلئے کہ حضرت علی بن ابی طالب tنے اپنے زمانئہ خلافت میں حضرت ابو الہیاج اسدی رحمہ اللہ سے فرمایا:”ألا أبعثك على ما بعثني عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ أن لا تدع صورةً إلا طمستها، ولا قبراً مشرفاً إلا سويته”(کہ میں تم کو ایسے مشن پر روانہ کرتا ہوں جس پر امام کائنات نے مجھے بھیجا تھا،آپصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مشن دے کر بھیجاتھا کہ اے علی!اگر تجھے کوئی مجسمہ نظر آئے تو اسے مٹا دینا، اور اکوئی اونچی قبر نظر آئے تو اسے زمین کے برابر کردینا)

(م ح:969 بروایت علی بن ابی طالب)

٭آلات(کیمرہ) کے ذریعہ تصویر بنانا:۔

اگرایسی مشین کے ذریعہ فوٹو گرافی کی جائے جس میں رد وبدل اور دُھلائی وصفائی کی ضرورت پڑتی ہے تو یہ بھی میرے نزدیک حُرمت میں داخل ہے،کیونکہ اس میں بھی اللہ کی مخلوق کی طرح بنانے کا کچھ نہ کچھ حصہ موجود ہے،کیونکہ مُصوّر اس میں رد وبدل کرتا ہے،اس لئے احتیاط کا تقاضا اور بہتر یہی ہے کہ اس سے منع کیا جائے۔

٭فوٹو گرافی مشین کے ذریعہ تصویر بنانا:۔

اگر فوٹو گرافی ایسی مشین کے ذریعہ ہوجس میں مصور کے عمل کے بغیر فوٹو کارڈ فوراً باہر آجائے، تو یہ تصویر بنانے میں داخل نہیں اور نہ ہی اس پر حدیث فٹ ہوتی ہے،کیونکہ یہ خلق الہی کی طرح بنانا نہیں ہے،اس میں مصور کی کاریگری کا کوئی دخل نہیں،ایسا نہیں ہے کہ مُصور نے آنکھ ،ناک ،ہونٹ اور چہرے وغیرہ بنایا ہے،بلکہ اللہ کی بنائی ہوئی شکل کا عکس ہے،جیسا کہ اللہ تعالی کا یہ قول: "هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ” (آل عمران:6)(کہ وہ ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح کی چاہتا ہے بناتا ہے)([1])اس کی مثال قریب قریب ایسے ہی ہےجیسے کسی آدمی کو آئینے میں اپنے چہرے کا عکس نظر آتاہے،ہاں فرق صرف اتنا ہے کہ آئینے والی تصویر غیر ثابت ہوتی ہے اور کارڈ والی تصویر ثابت ہوتی ہے،لیکن کیا اس فرق میں کوئی تاثیر ہے؟ اسی لئے آدمی جب آئینہ دیکھتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ یہ تمھاری تصویر ہے،آئینے میں ظاہر ہونے والی صورت کو ہم تصویر کہتے ہیں،لیکن یہ بالاتفاق حرام نہیں۔

لیکن دیکھا جائے گا کہ اس فوٹو گرافی کا مقصد کیا ہے؟ کیونکہ مباح چیز کا مقصداگر کسی حرام شئ کا حصول ہے تو وہ شئ حرام ہے،جیسے کوئی شخص لذت اندوزی کی خاطر کسی خوبصورت لڑکی یا خوبصورت لڑکے کا فوٹ اتارے تو بلا شبہ وہ حرام ہے،یاشادی کے موقع پر عورتوں کی تصویریں بنانا کہ اسے لوگوں کو دکھلائے گا تو اس کے بھی حرام ہونے میں کوئی شک نہیں، اوراگر بغیرکسی مقصد کے ہو تو یہ ایک بیکار کام ہے،اور اس طرح کے بیکار کاموں میں مال اور وقت کا ضیاع ہے،اور کبھی انسان بطور یادگار تصویر کو محفوظ رکھتا ہےتو یہ عمل اس حدیث کے عموم میں داخل ہے جس میں اللہ کے نبیصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”لا تدخل الملائكة بيتاً فيه صورة”(فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر ہوتی ہے)

(بخاری ح:2105،3224،مسلم ح:2107)([2])

٭ویڈیو کی گئی تصویریں:۔

جن ویڈیو کیسٹوں میں تصویریں ہوتی ہیں وہ ظاہر نہیں رہتیں بلکہ وہ ٹیلیویژن کے اسکرین پر ہی ظاہر ہوتی ہیں،(گویا کہ)وہ ایک طرح کا آئینہ ہے،اس لئے علما٫ کے درمیان اس پر بحث ہوئی کہ مصلحت کے پیش نظر کیا مساجد میں تقریروں کی ویڈیو کیسٹ بنائی جاسکتی ہے؟ اکثر کی رائے یہی تھی کہ اس میں کوئی حرج نہیں،اور آج حرمیں شرفین میں خطبئہ جمعہ اور نمازوں کے لئے اسی ویڈیو کا استعمال کیا جاتا ہے۔

(ماخوذ:وصایا وتوجیہات لطلاب العلم ص:1/378،381)

ختم شدہ

[1] – خوبصورت یا بد صورت ،مذکر یا مؤنث،نیک بخت یا بد بخت،ناقص الخلقت یا تام الخلقت،جب رحم مادر میں یہ سارے تصرفات اللہ تعالی کرنے والا ہے ، تو حضرت عیسی علیہ السلام الٰہ کس طرح ہوسکتے ہیں جو خود بھی اس مرحلئہ تخلیق سے گذر کر دنیا میں آئے ہیں،جس کا سلسلہ اللہ نے رحم مادر میں قائم فرمایا ہے۔

[2] – واقعہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبیصلی اللہ علیہ وسلم کےلئے ایک تکیہ بھرا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں،وہ ایسا ہوگیا جیسے نقشی تکیہ ہوتا ہے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو دروازے پر کھڑے ہوگئے اور آپصلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا،ام المومنین فرماتی ہیں ،میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم ،ہم سے کیا غلطی ہوئی؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تکیہ کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا ،یہ تو میں نے آپ کےلئے بنایا ہےتاکہ آپصلی اللہ علیہ وسلم اس پر ٹیک لگا سکیں،اس پر آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ۔۔۔الحدیث